اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۱)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۶۸) مَقَام اور مُقَام میں فرق

مَقَام  (میم پر زبر کے ساتھ) کی اصل قیام ہے، یہ فعل قام ثلاثی مجرد لازم سے اسم ظرف ہوتا ہے یا مصدر میمی ہوتا ہے۔ مُقَام (میم پر پیش کے ساتھ) کی اصل اقامۃ ہے، یہ فعل أَقَامَ کا ظرف ہوتا ہے یا مصدر میمی یا اسم مفعول ہوتا ہے۔ قیام کا صلہ اگر باء ہو تو اس کے معنی کسی کام کو کرنایا کسی سرگرمی کو انجام دینا ہوتاہے، جبکہ اقامۃ اگر فی کے صلے کے ساتھ لازم ہو تو اس کے معنی کسی جگہ رہائش اختیار کرنا ہے۔ اور اگر مفعول بہ مراد ہو تومتعدی ہوتا ہے جیسے أقام الدین اور فأقامہ۔

اس وضاحت کی روشنی میں لفظ مَقام اور لفظ مُقام کے مفہوم میں فرق واضح ہوتا ہے، لفظ مَقَام کا مطلب سرگرمی ہوگا یا سرگرمی سے انجام دینے کی جگہ یا مطلق حالت،جبکہ لفظ مُقَام کا مطلب رہائش یا رہائش کی جگہ ہوگا۔ گویا مَقَام کے معنی رہائش گاہ کے نہیں ہوں گے، جبکہ مُقَام کے معنی رہائش گاہ کے ہوں گے۔

دونوں لفظوں کے اس فرق کی وضاحت کے بعد ہم جائزہ لیں گے کہ قرآن مجید کے مترجمین نے اس فرق کی کس حد تک رعایت کی۔

وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَیْْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَأَمْناً وَاتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبْرَاہِیْمَ مُصَلًّی۔ (البقرۃ : ۱۲۵)

’’اور (یاد کرو) جبکہ ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لئے مرکز اور امن کی جگہ بنایا اور (حکم دیا کہ) مسکن ابراہیم میں ایک نماز کی جگہ بناؤ ‘‘۔(امین احسن اصلاحی، مَقَام کا ترجمہ مسکن درست نہیں ہے۔)

’’اور یہ کہ ہم نے اس گھر (کعبے) کو لوگوں کے لیے مرکز اور امن کی جگہ قرار دیا تھا اور لوگوں کو حکم دیا تھا کہ ابراہیمؑ جہاں عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے، اس مقام کو مستقل جائے نماز بنا لو‘‘۔ (سید مودودی)

’’اور (یاد کرو) جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لئے مرجع اور امان بنایا اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ‘‘۔ (احمد رضا خان)

فِیْہِ آیَاتٌ بَیِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاہِیْمَ وَمَن دَخَلَہُ کَانَ آمِناً۔ (آل عمران:۹۷)

’’وہاں واضح نشانیاں ہیں: مسکن ابراہیم ہے۔ جو اس میں داخل ہوجائے وہ مامون ہے‘‘۔(امین احسن اصلاحی، مَقَام کا ترجمہ مسکن درست نہیں ہے۔)

’’اس میں کھلی نشانیاں ہیں (ان میں سے ایک) ابراہیم (علیہ السلام) کی جائے قیام ہے، اور جو اس میں داخل ہوگیا امان پا گیا‘‘۔ (طاہر القادری، مَقَام کا ترجمہ جائے قیام بھی درست نہیں ہے۔)

’’اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں، ابراہیمؑ کا مقام عبادت ہے، اوراس کا حال یہ ہے کہ جو اِس میں داخل ہوا مامون ہو گیا‘‘۔(سید مودودی)

مذکورہ بالا دونوں آیتوں میں مولانا امانت اللہ اصلاحی نے مَقَام ابراہیم کا ترجمہ ’’ابراہیم کی سرگرمیوں اور جدوجہد کا مرکز‘‘ کیا ہے۔ اس ترجمہ سے مکہ کی اس پہلو سے خصوصیت واضح ہوجاتی ہے۔

وَمَا مِنَّا إِلَّا لَہُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ۔ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ۔ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُون۔ (الصافات:۱۶۴ ۔۱۶۶)

’’(فرشتوں کا قول ہے کہ) ہم میں سے تو ہر ایک کی جگہ مقرر ہے، اور ہم تو (بندگئ الٰہی میں) صف بستہ کھڑے ہیں اور اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں‘‘۔ (محمد جوناگڈھی)

’’اور ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقام مقرر ہے، اور ہم صف بستہ خدمت گار ہیں، اور تسبیح کرنے والے ہیں‘‘۔(سید مودودی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی نے ترجمہ کیا:

’’اور ہم میں سے ہر ایک کے لئے ایک متعین ذمہ داری ہے، اور ہم تو خدا کے حضور صف بستہ رہنے والے ہیں، اور ہم تو اس کی تسبیح کرتے رہنے والے ہیں‘‘۔

اس سلسلے میں اسی سورہ کے آغاز کی آیتیں بھی سامنے رہیں، تو نظم قرآن سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بڑی دلچسپ بات سامنے آتی ہے۔

وَالصَّافَّاتِ صَفّاً۔ فَالزَّاجِرَاتِ زَجْراً۔ فَالتَّالِیَاتِ ذِکْراً۔ (الصافات:۱ ۔۳)

ترجمہ ہے: ’’شاہد ہیں صفیں باندھے، حاضر رہنے والے۔ پھر رب کا حکم نافذ کرنے والے۔ پھر ذکر کرنے والے۔‘‘

مولانا کے نزدیک یہ تینوں صفتیں فرشتوں کی ہیں، اور ان تینوں صفات کا ذکر بالفاظ دیگر سورہ کے آخر میں دوبارہ کیا گیا ہے۔

وَالصَّافَّاتِ صَفّاً کے ہم معنی ہے وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ۔ فَالزَّاجِرَاتِ زَجْراکی دوسری تعبیر ہے وَمَا مِنَّا إِلَّا لَہُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ۔ اور فَالتَّالِیَاتِ ذِکْراً کے ہم معنی ہے وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُون۔

إِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ أَمِیْنٍ۔ (الدخان :۵۱)

’’خدا ترس لوگ امن کی جگہ میں ہوں گے‘‘۔ (سید مودودی)

’’بیشک پرہیزگار لوگ امن کے مقام میں ہوں گے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہاں مقام مصدر میمی ہے، نہ کہ اسم ظرف، اور اس صورت میں پوزیشن کے معنی میں ہے یا خوش حالی کے معنی میں۔

وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَان۔ (الرحمن:۴۶)

’’اور جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اس کے لئے دو باغ ہیں‘‘۔(فتح محمد جالندھری)

’’اور ہر اُس شخص کے لیے جو اپنے رب کے حضور پیش ہونے کا خوف رکھتا ہو، دو باغ ہیں‘‘۔(سید مودودی)

وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوَی۔ (النازعات:۴۰)

’’ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا‘‘۔(محمد جوناگڈھی)

’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا‘‘۔(احمد رضا خان)

فَأَخْرَجْنَاہُم مِّن جَنَّاتٍ وَعُیُون۔ وَکُنُوزٍ وَمَقَامٍ کَرِیْمٍ۔ (الشعراء :۵۷،۵۸)

’’تو ہم نے انہیں باہر نکالا باغوں اور چشموں، اور خزانوں اور عمدہ مکانوں سے‘‘۔(احمد رضا خان)

’’اِس طرح ہم انہیں ان کے باغوں اور چشموں، اور خزانوں اور ان کی بہترین قیام گاہوں سے نکال لائے‘‘۔(سید مودودی)

’’تو ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا، اور خزانوں اور نفیس مکانات سے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)

’’بالآخر ہم نے انہیں باغات سے اور چشموں سے، اور خزانوں سے۔ اور اچھے اچھے مقامات سے نکال باہر کیا‘‘۔(محمد جوناگڈھی)

مذکورہ ترجموں میں مقام کے لئے مکانات اور قیام گاہ کا ترجمہ درست نہیں ہے، حالت اور مرتبہ درست ترجمہ ہے۔

کَمْ تَرَکُوا مِن جَنَّاتٍ وَعُیُونٍ۔ وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ کَرِیْمٍ۔ (الدخان:۲۵،۲۶)

’’کتنے ہی باغ اور چشمے، اور کھیت اور شاندار محل تھے جو وہ چھوڑ گئے‘‘۔(سید مودودی)

’’کتنے چھوڑ گئے باغ اور چشمے، اورکھیت اور عمدہ مکانات‘‘۔(احمد رضا خان)

’’وہ کتنے ہی باغات اور چشمے چھوڑ گئے،اور زراعتیں اور عالی شان عمارتیں‘‘۔ (طاہر القادری)

’’وہ بہت سے باغات اور چشمے چھوڑ گئے، اور کھیتیاں اور راحت بخش ٹھکانے‘‘۔ (محمد جوناگڈھی)

مذکورہ ترجموں میں مَقَام کے لیے محل، مکانات، ٹھکانے اور عمارتیں درست نہیں ہے۔ حالت اور مرتبہ درست ترجمہ ہے۔

وَمِنَ اللَّیْْلِ فَتَہَجَّدْ بِہِ نَافِلَۃً لَّکَ عَسَی أَن یَبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَاماً مَّحْمُوداً۔ (الاسراء :۷۹)

’’اور رات کے کچھ حصہ میں تہجد کرو یہ خاص تمہارے لیے زیادہ ہے قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں‘‘۔(احمد رضا خان)

’’اور رات کو تہجد پڑھو، یہ تمہارے لیے نفل ہے، بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہیں مقام محمود پر فائز کر دے‘‘۔(سید مودودی)

وَإِذَا تُتْلَی عَلَیْْہِمْ آیَاتُنَا بَیِّنَاتٍ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا لِلَّذِیْنَ آمَنُوا أَیُّ الْفَرِیْقَیْْنِ خَیْْرٌ مَّقَاماً وَأَحْسَنُ نَدِیّاً۔ (مریم:۷۳)

’’اِن لوگوں کو جب ہماری کھُلی کھُلی آیات سنائی جاتی ہیں تو انکار کرنے والے ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں: بتاؤ ہم دونوں گروہوں میں سے کون بہتر حالت میں ہے اور کس کی مجلسیں زیادہ شاندار ہیں؟‘‘۔(سید مودودی)

’’اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جاتی ہیں کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں کون سے گروہ کا مکان اچھا اورمجلس بہتر ہے‘‘۔(احمد رضا خان)

’’اور جب ان لوگوں کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ دونوں فریق میں سے مکان کس کے اچھے اور مجلسیں کس کی بہتر ہیں‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

’’جب ان کے سامنے ہماری روشن آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں بتاؤ ہم تم دونوں جماعتوں میں سے کس کا مرتبہ زیادہ ہے؟ اور کس کی مجلس شاندار ہے؟‘‘(محمد جوناگڈھی)

مذکورہ ترجموں میں مَقَاما کے لیے مکان کا ترجمہ درست نہیں ہے، البتہ حالت اور مرتبہ کا ترجمہ درست ہے۔

قَالَ عِفْریْتٌ مِّنَ الْجِنِّ أَنَا آتِیْکَ بِہِ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِکَ وَإِنِّیْ عَلَیْْہِ لَقَوِیٌّ أَمِیْنٌ۔ (النمل:۳۹)

’’جنوں میں سے ایک قوی ہیکل نے عرض کیا: میں اسے حاضر کر دوں گا قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کی طاقت رکھتا ہوں اور امانتدار ہوں‘‘۔(سید مودودی)

’’ایک بڑا خبیث جن بولا کہ میں وہ تخت حضور میں حاضر کردوں گا قبل اس کے کہ حضور اجلاس برخاست کریں اور میں بیشک اس پر قوت والا امانتدار ہوں‘‘۔(احمد رضا خان)

وَاتْلُ عَلَیْْہِمْ نَبَأَ نُوحٍ إِذْ قَالَ لِقَوْمِہِ یَا قَوْمِ إِن کَانَ کَبُرَ عَلَیْْکُم مَّقَامِیْ وَتَذْکِیْرِیْ بِآیَاتِ اللّہِ فَعَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ۔ (یونس:۷۱)

’’اِن کو نوحؑ کا قصہ سناؤ، اُس وقت کا قصہ جب اُس نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ’’اے برادران قوم، اگر میرا تمہارے درمیان رہنا اور اللہ کی آیات سنا سنا کر تمہیں غفلت سے بیدار کرنا تمہارے لیے ناقابل برداشت ہو گیا ہے تو میرا بھروسہ اللہ پر ہے‘‘۔(سید مودودی)

’’اور ان کو نوح کا قصہ پڑھ کر سنادو۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم! اگر تم کو میرا تم میں رہنا اور خدا کی آیتوں سے نصیحت کرنا ناگوار ہو تو میں خدا پر بھروسہ رکھتا ہوں‘‘۔(فتح محمد جالندھری)

’’اور ان پر نوح (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمائیے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم (اولادِ قابیل!) اگر تم پر میرا قیام اور میرا اللہ کی آیتوں کے ساتھ نصیحت کرنا گراں گزر رہا ہے تو (جان لو کہ) میں نے تو صرف اللہ ہی پر توکل کرلیا ہے‘‘۔ (طاہر القادری)

مذکورہ ترجموں میں (میرا رہنا)، اور (میرا قیام) درست نہیں ہے، بلکہ درست ترجمہ ہے، میری سرگرمی۔ 

وَلَنُسْکِنَنَّکُمُ الأَرْضَ مِن بَعْدِہِمْ ذَلِکَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَخَافَ وَعِیْدِ۔ (ابراہیم:۱۴)

’’اور اُن کے بعد تمہیں زمین میں آباد کریں گے یہ انعام ہے اُس کا جو میرے حضور جواب دہی کا خوف رکھتا ہو اور میری وعید سے ڈرتا ہو‘‘۔ (سید مودودی)

إِنَّہَا سَاءَتْ مُسْتَقَرّاً وَمُقَاماً۔ (الفرقان:۶۶)

’’اور دوزخ ٹھیرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)

’’بے شک وہ ٹھہرنے اور رہنے کے لحاظ سے بدترین جگہ ہے‘‘۔(محمد جوناگڈھی)

’’وہ بڑا ہی برا مستقر اور مقام ہے‘‘ (سید مودودی)

’’بیشک وہ (عارضی ٹھہرنے والوں کے لئے) بُری قرار گاہ اور (دائمی رہنے والوں کے لئے) بُری قیام گاہ ہے‘‘۔(طاہر القادری)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ مستقر مستقل قیام کو کہا گیا ہے، اور مقام عارضی قیام گاہ کو کہا گیا ہے، اس کی تائید اسی سورہ کی ایک دوسری آیت سے بھی ہوتی ہے:

أَصْحَابُ الْجَنَّۃِ یَوْمَءِذٍ خَیْْرٌ مُّسْتَقَرّاً وَأَحْسَنُ مَقِیْلاً (الفرقان:۲۴) 

اس میں مستقر کے ساتھ مقیل کا لفظ آیا ہے جس کے معنی دوپہر کی استراحت کی جگہ کے ہیں۔ ’’اس دن اہل جنت کا ٹھکانا بھی بہتر ہوگا اور مقام استراحت بھی‘‘ (فتح محمد جالندھری) اس آیت میں مقیل کا عارضی قیام گاہ ہونا واضح ہے، پس مستقر تینوں مقامات پر مستقل قیام گاہ کے معنی میں ہے۔

خَالِدِیْنَ فِیْہَا حَسُنَتْ مُسْتَقَرّاً وَمُقَاماً۔ (الفرقان:۷۶)

’’وہ ہمیشہ ہمیشہ وہاں رہیں گے کیا ہی اچھا ہے وہ مستقر اور وہ مقام‘‘۔(سید مودودی)

’’ہمیشہ اس میں رہیں گے، کیا ہی اچھی ٹھہرنے اور بسنے کی جگہ‘‘۔(احمد رضا خان)

’’اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور وہ ٹھیرنے اور رہنے کی بہت ہی عمدہ جگہ ہے‘‘(فتح محمد جالندھری)

الَّذِیْ أَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَۃِ مِن فَضْلِہِ لَا یَمَسُّنَا فِیْہَا نَصَبٌ وَلَا یَمَسُّنَا فِیْہَا لُغُوبٌ۔ (فاطر: ۳۵)

’’جس نے ہم کو اپنے فضل سے ہمیشہ کے رہنے کے گھر میں اُتارا۔ یہاں نہ تو ہم کو رنج پہنچے گا اور نہ ہمیں تکان ہی ہوگی‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

’’وہ جس نے ہمیں آرام کی جگہ اتارا اپنے فضل سے، ہمیں اس میں نہ کوئی تکلیف پہنچے، نہ ہمیں اس میں کوئی تکان لاحق ہو‘‘۔ (احمد رضا خان)

(جاری)

قرآن / علوم قرآن

(ستمبر ۲۰۱۵ء)

Flag Counter