اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۳۴) تَبَیَّنَتِ الجِنُّ کامطلب:

تَبَیَّنَ  کامطلب ہوتا ہے کسی چیز کا واضح ہوجانا۔ جو چیز واضح ہوتی ہے، وہ تَبَیَّنَ  فعل کا فاعل بنتی ہے، اور جس شخص پر وہ چیز واضح ہوتی ہے، اس کے لیے لام کا صلہ آتا ہے۔ جیسے: 

وَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْْطُ الأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ (البقرۃ:۱۸۷)

’’اور کھاؤ پیو، یہاں تک کہ فجر کی سفید دھاری (شب کی) سیاہ دھاری سے تمہارے لئے نمایاں ہوجائے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

قرآن مجید میں تَبَیَّنَ  زیادہ تر لام کے صلہ کے ساتھ آیا ہے، جو اس پر داخل ہوتا ہے جس پر کوئی بات واضح ہو جائے۔ جبکہ ذیل کی آیت میں وہ لام کے صلہ کے بغیر آیا ہے:

فَلَمَّا قَضَیْْنَا عَلَیْْہِ الْمَوْتَ مَا دَلَّہُمْ عَلَی مَوْتِہِ إِلَّا دَابَّۃُ الْأَرْضِ تَأْکُلُ مِنسَأَتَہُ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ أَن لَّوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ الْغَیْْبَ مَا لَبِثُوا فِیْ الْعَذَابِ الْمُہِیْنِ۔(سبا:۱۴)

اس آیت میں تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ  کے ترجمہ میں عام طور سے مترجمین قرآن نے جو مفہوم اختیار کیا ہے، وہ زبان کے قواعد سے میل نہیں کھاتا۔ چند ترجمے بطور مثال پیش کیے جاتے ہیں:

’’پس جب ہم نے اس پر موت کا فیصلہ نافذ کیا تو ان کو اس کی موت سے آگاہ نہیں کیا مگر زمین کے کیڑے نے جو اس کے عصا کو کھاتا تھا۔ پس جب وہ گرپڑا، تب جنو ں پر واضح ہوا کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں نہ پڑے رہتے۔‘‘(امین احسن اصلاحی)

’’اس طرح جب سلیمان گر پڑا تو جنوں پر یہ بات کھل گئی کہ اگر وہ غیب کے جاننے والے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے‘‘۔ (سید مودودی)

’’سو جب وہ گرپڑے، تب جنات کو حقیقت معلوم ہوئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلت کی مصیبت میں نہ رہتے‘‘۔(اشرف علی تھانوی)

اگرآیت میں تبین للجن ہوتا تب تو مذکورہ ترجمے یقیناًدرست ہوتے، لیکن تَبَیَّنَتِ الْجِنُّّْ  کا مطلب تو خود جنوں کا واضح ہونا، اور ان کی حقیقت کا سامنے آجانا ہے نہ کہ جنوں پر کچھ واضح ہونا ہے۔ جیسے قَد تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ (البقرۃ:۲۵۶) کا مطلب یہ ہے کہ صحیح بات واضح ہوگئی۔

گوکہ بعض مفسرین کے مطابق تبین، علم  کے معنی میں بھی آتا ہے اور اس کی تائید میں کلام عرب سے ایک شعر بھی مثال میں پیش کیا جاتا ہے، ملاحظہ ہو ابوحیان کی تفسیر البحر المحیط۔ لیکن یہ مشہور استعمال نہیں ہے، قرآن مجید میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اس کے علاوہ اگر ان مفسرین کی بات مان بھی لی جائے تو بھی آیت کا جو مفہوم سامنے آتا ہے، وہ اشکال سے خالی نہیں ہے۔ کیونکہ مطلب یہ سامنے آتا ہے کہ سلیمان علیہ السلام کے گرنے سے جنوں پر یہ حقیقت واضح ہوئی کہ وہ غیب کا علم نہیں رکھتے ہیں، لیکن واقعہ یہ ہے کہ جن تو اپنے بارے میں جانتے ہی ہیں کہ وہ غیب نہیں جانتے، جس طرح ہرانسان اپنے بارے میں جانتا ہے کہ وہ غیب نہیں جانتا۔ اصلاح کی ضروت تو ان لوگوں کوتھی جنہوں نے جنوں کے بارے میں یہ غلط مفروضہ قائم کررکھا تھا کہ وہ غیب جانتے ہیں، چنانچہ اس واقعہ کے بعد جنوں کے بارے میں یہ حقیقت سب پر واضح ہوگئی کہ وہ غیب نہیں جانتے ہیں۔

حقیقت واقعہ اور عربی کے قواعد دونوں کی رو سے صحیح ترجمہ اس طرح ہوگا:

’’پھر جب سلیمان زمین پر آیا، جنوں کی حقیقت کھل گئی۔ اگر غیب جانتے ہوتے تو اس خواری کے عذاب میں نہ ہوتے‘‘ (احمد رضا خان)

’’پس جب وہ گرپڑا، تب جنوں کی حقیقت واضح ہوگئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں نہ پڑے رہتے‘‘(امانت اللہ اصلاحی)

(۳۵) فعل مضارع کے زمانہ کے تعین کا مسئلہ:

فعل مضارع چونکہ حال اور مستقبل دونوں کے لئے آتا ہے، اور بسا اوقات دونوں میں سے کسی ایک کو متعین کرنے کے لئے درکار قرینہ بھی واضح طور سے موجود نہیں ہوتا، ایسے میں زمانہ متعین کرنے میں دشواری ہوتی ہے، حسب ذیل مثال سے اس دشواری کو سمجھا جاسکتا ہے:

وَتَرَی الْجِبَالَ تَحْسَبُہَا جَامِدَۃً وَہِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللَّہِ الَّذِیْ أَتْقَنَ کُلَّ شَیْْءٍ إِنَّہُ خَبِیْرٌ بِمَا تَفْعَلُون۔ (النمل : ۸۸)

اس آیت کے پہلے حصے میں تین باتیں ہیں، پہاڑوں کو دیکھنا، پہاڑوں کو جما ہو اسمجھنا، پہاڑوں کا بادلوں کی طرح اڑنا۔

بعض ترجموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تینوں باتیں زمانہ مستقبل یعنی روز قیامت کی ہیں، جیسے:

’’اور تو دیکھے گا پہاڑوں کو خیال کرے گا کہ وہ جمے ہوئے ہیں اور وہ چلتے ہوں گے بادل کی چال یہ کام ہے اللہ کا جس نے حکمت سے بنائی ہر چیز، بیشک اسے خبر ہے تمہارے کاموں کی‘‘۔(احمد رضا خان)

’’اور تم پہاڑوں کو دیکھ کر گمان کرو گے کہ وہ ٹکے ہوئے ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

یہ ترجمے کمزور ی سے خالی نہیں ہیں، کیونکہ آخرت میں پہاڑ کو دیکھ کر یہ گمان کرنا کہ وہ جمے ہوئے ہیں جبکہ وہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں ، تکلف سے بھر پور بات ہے کیوں کہ جب وہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے تو انہیں جما ہوا سمجھنے کی کیا وجہ ہوگی۔

بعض ترجموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اول دو باتیں زمانہ حال کی ہیں جبکہ آخری بات زمانہ مستقبل یعنی قیامت کی ہے، جیسے:

’’آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب جمے ہوئے ہیں، مگر اْس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے، یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہو گا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ تم لوگ کیا کرتے ہو‘‘۔ (سید مودودی)

’’اور تم پہاڑوں کو دیکھتے ہو تو خیال کرتے ہو کہ (اپنی جگہ پر) کھڑے ہیں مگر وہ (اس روز) اس طرح اْڑے پھریں گے جیسے بادل (یہ) خدا کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا، بیشک وہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

ان ترجموں میں سیاق کلام کا لحاظ نہیں رکھا گیا ، سیاق کلام کا تقاضا یہ ہے کہ وَتَرَی الْجِبَالَ  کو آخرت کی بات مانا جائے کیوں کہ گزشتہ آیت میں آخرت کا بیان ہے، مزید یہ کہ وَتَرَی الْجِبَالَ  کا حال اگر  وَہِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَاب  ہے اور وہ مستقبل سے متعلق ہے تو دونوں کو ایک ہی زمانہ کا ہونا چاہئے، یہ واو حالیہ کا تقاضا ہے۔ 

پکتھال کے ذیل کے ترجمہ سے لگتا ہے کہ وہ تینوں باتوں کو زمانہ حال یعنی دنیا سے متعلق مانتے ہیں:

And thou seest the hills thou deemest solid flying with the flight of clouds: the doing of Allah Who perfecteth all things. Lo! He is Informed of what ye do. (Pickthall)

مطلب یہ کہ تم اس دنیا میں جن پہاڑوں کو دیکھ کر جما ہوا سمجھتے ہو وہ بادلوں کی طرح اڑتے ہیں۔

لیکن یہ مفہوم ایک تو سیاق کلام سے مطابقت نہیں رکھتا، کیونکہ سیاق قیامت سے متعلق ہے، اس کے علاوہ اس دنیا میں پہاڑوں کو اس طرح متحرک ماننا جس طرح بادل اڑتے ہیں تکلف سے بھرپور بات ہے۔

ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ پہلی اور آخری بات مستقبل یعنی روز قیامت کی ہے، اور درمیان والی بات زمانہ حال کی ہے، اس کے لحاظ سے ترجمہ ملاحظہ ہو:

’’اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں، سب گھبرا اٹھیں گے۔ صرف وہی اس سے محفوظ رہیں گے جن کو اللہ چاہے گا۔ اور سب اس کے آگے سرفگندہ ہوکر حاضر ہوں گے۔ اور تم ان پہاڑو ں کو بادلوں کی طرح اڑتے ہوئے دیکھو گے جنہیں تم سمجھتے ہو کہ وہ جمے ہوئے ہوئے ہیں‘‘۔ (امانت اللہ اصلاحی) 

یعنی جن پہاڑوں کو دنیا میں جما ہو اسمجھتے ہو، انہیں آخرت میں بادلوں کی طرح اڑتے ہوئے دیکھو گے۔ یہ ترجمہ دیگر ترجموں کی کمزوریوں سے پاک ہے، اور اس ترجمہ میں جو قوت وجودت ہے وہ دوسرے ترجموں میں نہیں ہے۔

(۳۶) لَمَّا اور اِذَا کے درمیان فرق:

فَلَمَّا رَأَی الْقَمَرَ بَازِغاً قَالَ ہَذَا رَبِّیْ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ یَہْدِنِیْ رَبِّیْ لأکُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّیْنَ۔ (الانعام :۷۷) 

اس آیت میں دو مرتبہ لَمَّا آیا ہے، اور پوری آیت کا ترجمہ یہ ہے:

’’پھر جب اس نے چاند کو چمکتے دیکھا، بولا یہ میرا رب ہے، پھر جب وہ ڈوب گیا، اس نے کہا اگر میرے رب نے میری رہنمائی نہ فرمائی تو میں گمراہوں میں سے ہوکر رہ جاؤں گا‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

کسی جملے میں جب لَمّا  ظرفیہ آتا ہے تو اسی طرح ترجمہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی ترجمہ یوں کرے کہ ’’جب وہ چاند کو دیکھتا تو بولتا‘‘ تو غلط ہوگا۔ یعنی اس میں کسی عمل کے بار بار ہونے کا مفہوم نہیں بلکہ ماضی میں ایک بار ہونے کا مفہوم ہوتا ہے، فعل کے بار بار ہونے کا مفہوم اذا  سے ادا ہوتا ہے ، اورمزید تاکید مطلوب ہو تو کُلَّمَا کا استعمال کرتے ہیں،جبکہ جملہ پر لَمَّا داخل ہو تو’’ایسا ہوا‘‘ کامفہوم پیدا ہوتا ہے نہ کہ ’’ایسا ہوتا‘‘ کا مفہوم۔

البتہ لَمَّا کے اندر اذا کا مفہوم اس وقت پیدا ہوجاتا ہے جب اس سے پہلے اذا آیا ہو، جیسے :

وَإِذَا مَسَّکُمُ الْضُّرُّ فِیْ الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَّ إِیَّاہُ فَلَمَّا نَجَّاکُمْ إِلَی الْبَرِّ أَعْرَضْتُم۔ (الاسراء :۶۷)

’’اور جب تمہیں سمندر میں مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے سوا جن کو تم پکارتے ہو سب غائب ہوجاتے ہیں۔ پھر جب وہ تم کو خشکی کی طرف بچالاتا ہے تو تم اعراض کرنے لگتے ہو‘‘۔

لَمَّا کے سلسلے میں مذکورہ بالا ضوابط کا لحاظ عام طور سے مترجمین قرآن کے یہاں ملتا ہے، تاہم بعض مقامات پر متعدد مترجمین سے لَمَّا کے مفہوم کی ادائیگی کے سلسلے میں لغزش ہوگئی۔مثالیں ملاحظہ ہوں:

(۱) وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فِرْعَونَ بِالسِّنِیْنَ وَنَقْصٍ مِّن الثَّمَرَاتِ لَعَلَّہُمْ یَذَّکَّرُونَ۔ فَإِذَا جَاءَ تْہُمُ الْحَسَنَۃُ قَالُوا لَنَا ہَذِہِ، وَإِن تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ یَطَّیَّرُوا بِمُوسَی وَمَن مَّعَہُ، أَلاَ إِنَّمَا طَائِرُہُمْ عِندَ اللّٰہِ وَلَکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ، وَقَالُوا مَہْمَا تَأْتِنَا بِہِ مِن آیَۃٍ لِّتَسْحَرَنَا بِہَا فَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِیْنَ، فَأَرْسَلْنَا عَلَیْْہِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ آیَاتٍ مُّفَصَّلاَتٍ، فَاسْتَکْبَرُوا وَکَانُوا قَوْماً مُّجْرِمِیْنَ، وَلَمَّا وَقَعَ عَلَیْْہِمُ الرِّجْزُ قَالُوا یَا مُوسَی ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِندَکَ، لَئِن کَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَکَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَکَ بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ، فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُمُ الرِّجْزَ إِلَی أَجَلٍ ہُمْ بَالِغُوہُ إِذَا ہُمْ یَنکُثُونَ (الاعراف :۱۳۰ ۔ ۱۳۵)

’’اور ہم نے آل فرعون کو قحط سالی اور پیداوار کی کمی میں مبتلا کیا تاکہ ان کو تنبیہ ہو، تو جب خوش حال آتی ، کہتے یہ تو ہے ہی ہمارا حصہ اور اگر ان پر کوئی آفت آتی تو اس کو موسی اور اس کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے۔ سن رکھو کہ ان کی قسمت اللہ ہی کے پاس ہے لیکن ان میں کے اکثر نہیں جانتے۔ اور کہتے کہ خواہ تم کیسی ہی نشانی ہمیں مسحور کرنے کے لئے لاؤ ہم تو تمہاری بات باور کرنے کے نہیں، تو ہم نے ان پر بھیجے طوفان، ٹدیاں ، جوئیں، مینڈک اور خون۔تفصیل کی ہوئی نشانیاں۔ تو انہوں نے تکبر کیا اور یہ مجرم لوگ تھے۔ اور جب آتی ان پر کوئی آفت تو درخواست کرتے کہ اے موسی تم اپنے رب سے ، اس عہد کے واسطہ سے جو اس نے تم سے کررکھا ہے، ہمارے لیے دعا کرو۔ اگر تم نے ہم سے یہ آفت دور کردی تو ہم تمہاری بات ضرور مان لیں گے اور تمہارے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دیں گے۔ تو جب ہم ان سے دور کردیتے آفت کو کچھ مدت کے لیے جس تک وہ پہنچنے والے ہوتے تو وہ دفع عہد توڑدیتے‘‘۔(امین احسن اصلاحی)

فَإِذَا جَاءَ تْہُمُ الْحَسَنَۃُ قَالُوا لَنَا ہَذِہ کا ترجمہ کیا ہے: ’’ تو جب خوش حال آتی ، کہتے یہ تو ہے ہی ہمارا حصہ‘‘۔ چونکہ اس جملے میں اذا ہے اس لئے یہ ترجمہ درست ہے۔ لیکن وَلَمَّا وَقَعَ عَلَیْْہِمُ الرِّجْزُ قَالُواْ یَا مُوسَی کا ترجمہ کیا گیاہے: ’’اور جب آتی ان پر کوئی آفت تو درخواست کرتے کہ اے موسی‘‘۔ یہاں اِذَا نہیں ہے بلکہ لَمَّاہے، اس لیے درست ترجمہ ہوگا:’’اور جب آیا ان پر عذاب تو درخواست کی‘‘۔ مزید برآں الرِّجْزُ  معرفہ ہے۔ اس کے ترجمہ میں کوئی کا اضافہ صحیح نہیں ہے۔ اسی طرح فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُمُ الرِّجْزَ کا ترجمہ :’’تو جب ہم ان سے دور کردیتے آفت کو‘‘، درست نہیں ہے، بلکہ درست ترجمہ یوں ہوگا: ’’تو جب ہم نے ان سے عذاب کو ہٹادیا‘‘۔ 

یہی غلطی سید مودودی کے ترجمہ میں بھی نظر آتی ہے:’’جب کبھی اُن پر بلا نازل ہو جاتی تو کہتے: اے موسیٰ، تجھے اپنے رب کی طرف سے جو منصب حاصل ہے، اس کی بنا پر ہمارے حق میں دعا کر۔ اگر اب کے تو ہم پر سے یہ بلا ٹلوا دے تو ہم تیری بات مان لیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے۔ مگر جب ہم ان پر سے اپنا عذاب ایک وقت مقرر تک کے لیے، جس کو وہ بہرحال پہنچنے والے تھے، ہٹا لیتے تو وہ یکلخت اپنے عہد سے پھر جاتے‘‘۔ اس ترجمہ میں مذکورہ بالا غلطی کے علاوہ لفظ ’’جب کبھی‘‘ بھی درست نہیں ہے، اس کی جگہ صرف ’’جب‘‘ ہونا چاہیے۔

احمد رضا خان کے یہاں بھی یہ غلطی نظر آتی ہے:

’’جب ان پر عذاب پڑتا کہتے اے موسیٰ ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو اس عہد کے سبب جو اس کا تمہارے پاس ہے۔ بیشک اگر تم ہم پرسے عذاب اٹھادو گے تو ہم ضرور تم پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کردیں گے۔ پھر جب ہم ان سے عذاب اٹھالیتے ایک مدت کے لیے جس تک انہیں پہنچنا ہے جبھی وہ پھر جاتے‘‘۔ 

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَی بِآیَاتِنَا إِلَی فِرْعَوْنَ وَمَلَئِہِ فَقَالَ إِنِّیْ رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، فَلَمَّا جَاءَ ہُم بِآیَاتِنَا إِذَا ہُم مِّنْہَا یَضْحَکُونَ، وَمَا نُرِیْہِم مِّنْ آیَۃٍ إِلَّا ہِیَ أَکْبَرُ مِنْ أُخْتِہَا وَأَخَذْنَاہُم بِالْعَذَابِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُونَ، وَقَالُوا یَا أَیُّہَا السَّاحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِندَکَ إِنَّنَا لَمُہْتَدُونَ، فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُمُ الْعَذَابَ إِذَا ہُمْ یَنکُثُونَ (الزخرف:۴۶۔۵۰)

’’اور بے شک ہم نے موسی کو ۔اپنی نشانیوں کے ساتھ۔فرعون اور اس کے اعیان کے پاس بھیجا تو اس نے ان کو دعوت دی کہ میں تمہارے پاس عالم کے خداوند کا رسول ہوکر آیا ہوں تو جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیوں کے ساتھ آیا تو وہ ان نشانیوں کا مذاق اڑاتے۔ اور ہم ان کو ایک سے ایک بڑھ کر نشانیاں دکھاتے رہے اور ہم نے ان کو عذاب میں بھی پکڑا تاکہ وہ رجوع کریں۔ اور انہوں نے درخواست کی کہ اے ساحر اپنے رب سے اس عہد کی بنا پر، جو اس نے تم سے کررکھا ہے ، ہمارے لئے دعا کرو، اب ہم ضرور ہدایت پانے والے بن کر رہیں گے۔ تو جب ہم ان سے عذاب ٹال دیتے تو وہ اپنا عہد توڑ دیتے‘‘۔(امین احسن اصلاحی)

یہاں آیت نمبر ۴۷؍ کے ترجمہ میں لَمَّا کے مفہوم کی رعایت کی گئی ہے، لیکن آیت نمبر ۵۰ کے ترجمہ میں لَمَّا  کی رعایت نہیں ہوسکی، اس آیت کا درست ترجمہ یوں ہوگا: تو جب ہم نے ان سے عذاب ٹال دیا تو انہوں نے اپنا عہد توڑ دیا۔

یہی غلطی سید مودودی کے ترجمہ میں بھی نظر آتی ہے:’’مگر جوں ہی کہ ہم ان پر سے عذاب ہٹا دیتے وہ اپنی بات سے پھر جاتے تھے‘‘۔

عجیب بات یہ ہے کہ سورہ اعراف کی آیت ۱۳۴؍ اور ۱۳۵؍ اور سورہ زخرف کی آیت ۵۰؍کا اسلوب بھی ایک ہے اور ایک ہی واقعہ کی طرف اشارہ بھی ہے، اس کے باوجود بہت سارے مترجمین جیسے احمد رضا خان، فتح محمد جالندھری، محمد جونا گڑھی اور طاہر القادری وغیرہم نے سورہ زخرف کی آیت کا درست ترجمہ کیا ہے مگر اسی سے ملتی جلتی سورہ اعراف کی دونوں آیتوں کے ترجمہ میں لَمَّا کے بجائے اذا کاترجمہ کردیا ہے۔

غلطی کی وجہ غالبا یہ ہے کہ دونوں آیتوں میں ایک تو آیات کا ذکر ہے یعنی طوفان، ٹڈیاں ، جوئیں، مینڈک اور خون، اوراس کے بعد ایک مقام پر عذاب اور ایک مقام پر رجز کے نازل ہونے کا ذکر ہے، لگتا ایسا ہے کہ لوگوں نے عذاب اور رجز سے ان نشانیوں کو مراد لے لیا جو یکے بعد دیگرے آئیں، حالانکہ عذاب اور رجز سے وہ عذاب مراد ہے جو ان نشانیوں سے اعراض کرنے کے بعد نازل کیا گیا تھا، اور وہ ایک بار نازل کیا گیا تھا اور پھر ان کے قول و قرار کے بعدان پر سے اسے ہٹالیا گیا تھا۔

غلطی کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ دونوں مقامات پر إِذَا ہُمْ یَنکُثُون  مضارع کا صیغہ آیا ہے، جس کا ترجمہ بعض لوگوں نے کیا ہے : ’’ تبھی وہ وعدہ توڑڈالتے‘‘ (محمود الحسن) حالانکہ موقعہ کے لحاظ سے ترجمہ ہوگا ،’’ تو وہ لگے وعدہ توڑنے‘‘اس کی قریب ترین مثال سورہ زخرف میں ٹھیک اسی اسلوب کی آیت نمبر۴۷ ہے،  فَلَمَّا جَاءَ ہُم بِآیَاتِنَا إِذَا ہُمْ مِّنْہَا یَضْحَکُون (۴۷)  شیخ الہند نے یہاں ترجمہ کیا ہے، ’’پھر جب لایا ان کے پاس ہماری نشانیاں وہ تو لگے ان پر ہنسنے‘‘۔ یہ ترجمہ صحیح ہے اور اسی طرح سے ترجمہ آیت نمبر ۵۰؍ کا ہونا چاہئے تھا، لیکن شیخ الہند نے یہاں ترجمہ کیا: ’’پھر جب اٹھالی ہم نے ان پر سے تکلیف تبھی وہ وعدہ توڑ ڈالتے‘‘۔اس ترجمہ کی کمزوری صاف ظاہر ہے۔شیخ امین احسن اصلاحی سے یہی غلطی آیت نمبر ۴۷؍ میں ہوئی :’’تو جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیوں کے ساتھ آیا تو وہ ان نشانیوں کا مذاق اڑاتے‘‘۔ یہاں ’’مذاق اڑاتے‘‘ کے بجائے ’’لگے مذاق اڑانے‘‘ درست ہے۔

(۲) ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَجَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا لِیَسْکُنَ إِلَیْْہَا فَلَمَّا تَغَشَّاہَا حَمَلَتْ حَمْلاً خَفِیْفاً فَمَرَّتْ بِہِ فَلَمَّا أَثْقَلَت دَّعَوَا اللّہَ رَبَّہُمَا لَئِنْ آتَیْْتَنَا صَالِحاً لَّنَکُونَنَّ مِنَ الشَّاکِرِیْن۔ فَلَمَّا آتَاہُمَا صَالِحاً جَعَلاَ لَہُ شُرَکَاءَ فِیْمَا آتَاہُمَا فَتَعَالَی اللّٰہُ عَمَّا یُشْرِکُون۔ (الاعراف :۱۸۹۔ ۱۹۰)

’’وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا ایک ہی جان سے اور اسی سے پیدا کیا اس کا جوڑا کہ وہ اس سے تسکین پائے۔ تو جب وہ اس کو چھالیتا ہے تو وہ اٹھالیتی ہے ایک ہلکا سا حمل، پھر وہ اس کو لئے (کچھ وقت گزارتی ہے)۔ تو جب بوجھل ہوتی ہے، دونوں اللہ، اپنے رب ، سے دعا کرتے ہیں: اگر تونے ہمیں تندرست اولاد بخشی، ہم تیرے شکر گزاروں میں سے ہوں گے۔ تو جب اللہ ان کو تندرست اولاد دے دیتا ہے تو اس کی بخشی ہوئی چیز میں وہ اس کے لیے دوسرے شریک ٹھہراتے ہیں۔ اللہ برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں‘‘۔(امین احسن اصلاحی)

اس ترجمہ میں بھی لَمَّا کے استعمال کی رعایت نہیں کی جاسکی ہے۔ فتح محمد جالندھری کے ترجمہ میں بھی یہی غلطی ہے، البتہ اکثر مترجمین نے اس کا لحاظ کیا ہے۔ ذیل کا ترجمہ اس کی ایک مثال ہے:

’’وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی پھر جب وہ بوجھل ہو گئی تو دونوں نے مل کر اللہ، اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تو نے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے مگر جب اللہ نے ان کو ایک صحیح و سالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی اِس بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے اللہ بہت بلند و برتر ہے ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں‘‘۔(سید مودودی)

(۳۷) فعل ماضی کے ترجمہ میں غلطی:

کبھی کبھی بعض مترجمین بغیر کسی وجہ اور قرینہ کے فعل ماضی کا ترجمہ حال اور مستقبل کا کردیتے ہیں، مثالیں ملاحظہ ہوں۔

(۱) أَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُونَ السَّیِّئَاتِ أَن یَسْبِقُونَا سَاء مَا یَحْکُمُون۔ (العنکبوت:۴)

’’کیا جو لوگ برائیوں کا ارتکاب کررہے ہیں وہ گمان رکھتے ہیں کہ ہمارے قابو سے باہر نکل جائیں گے‘‘۔(امین احسن اصلاحی)

یَسْبِقُونَا فعل مضارع ہے اور اس کے لحاظ سے یہ ترجمہ درست ہے، تاہم ذیل کی آیت میں یہی فعل ماضی کے صیغہ میں آیا ہے اور اس کا ترجمہ ماضی کا ہونا چاہئے تھا مگر بعض مترجمین نے مستقبل کا ترجمہ کیا، جیسے:

(۲) وَلاَ یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ سَبَقُواْ إِنَّہُمْ لاَ یُعْجِزُون۔ (الانفال:۵۹)

’’اور یہ کافر یہ گمان نہ کریں کہ وہ نکل بھاگیں گے، وہ ہمارے قابو سے باہر نہیں جاسکیں گے‘‘۔(امین احسن اصلاحی)

درست ترجمہ یوں ہے:’’اور ہرگز کا فر اس گھمنڈ میں نہ رہیں کہ وہ ہاتھ سے نکل گئے بیشک وہ عاجز نہیں کرتے‘‘۔ (احمد رضاخان)

(۳) أَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقاً فَفَتَقْنَاہُمَا۔ (الانبیاء :۳۰)

’’کیا ان کفرکرنے والوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ آسمان اور زمین دونوں بند ہوتے ہیں، پھر ہم ان کو کھول دیتے ہیں‘‘۔(امین احسن اصلاحی)

اس آیت میں بھی فعل ماضی ہے لیکن اس کا ترجمہ حال کا کردیا ہے۔

صحیح ترجمہ یوں ہوگا: ’’کیا کافر لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمان وزمین باہم ملے جلے تھے پھر ہم نے انہیں جدا کیا‘‘۔ (محمد جونا گڑھی)

’’کیا ان کفرکرنے والوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ آسمان اور زمین دونوں باہم جڑے ہوئے تھے، پھر ہم نے ان کو جدا جدا کر دیا‘‘۔(امانت اللہ اصلاحی)

(۴) وَجَاءَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِکَ مَا کُنتَ مِنْہُ تَحِیْدُ۔ وَنُفِخَ فِیْ الصُّورِ ذَلِکَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ۔ وَجَاءَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّعَہَا سَائِقٌ وَشَہِیْد۔ (ق:۱۹؍تا۲۱)

’’اور موت کی غشی شدنی کے ساتھ آپہونچی، یہ ہے وہ چیز جس سے تو کتراتا رہا تھا۔ اور صور پھونکا جا ئے گا۔ وہ ہماری وعید کے ظہور کا دن ہوگا۔ اور ہر جان اس طرح حاضر ہوگی کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہوگا اور ایک گواہ‘‘۔(امین احسن اصلاحی)

’’اور موت کی بیہوشی حقیقت کھولنے کو طاری ہوگئی۔ (اے انسان) یہی (وہ حالت) ہے جس سے تو بھاگتا تھا۔اور صور پھونکا جائے گا۔ یہی (عذاب کے) وعید کا دن ہے۔ اور ہر شخص (ہمارے سامنے) آئے گا۔ ایک (فرشتہ) اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا اور ایک (اس کے عملوں کی) گواہی دینے والا‘‘۔(فتح محمد جالندھری)

یہاں تین آیتیں ہیں جن میں سے ہر ایک فعل ماضی سے شروع ہوئی ہے، مذکورہ ترجموں میں پہلی آیت کا ترجمہ تو ماضی سے کیا گیاہے مگر بعد کی دونوں آیتوں کا ترجمہ مستقبل کا کیا گیا ہے۔ حالانکہ تینوں آیتوں کا ماضی کا ترجمہ نہیں کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔محمدجوناگڑھی، اشرف علی تھانوی اور طاہر القادری کے ترجموں میں بھی یہی طرز اختیار کیا گیا ہے۔

جبکہ بعض لوگوں نے تینوں آیتوں کے ماضی کے افعال کا ترجمہ ماضی ہی کا کیا ہے اور یہی درست ہے جیسے:

’’اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا، اور صْور پھونکا گیا یہ ہے وعدہ عذاب کا دن۔ اور ہر جان یوں حاضر ہوئی کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا اور ایک گواہ‘‘(احمد رضا خان) سید مودودی اور شیخ الہند کے ترجموں میں بھی یہی انداز ہے۔

(۵) وَنُفِخَ فِی الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَن فِیْ الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاءَ اللّٰہُ، ثُمَّ نُفِخَ فِیْہِ أُخْرَی فَإِذَا ہُم قِیَامٌ یَنظُرُونَ۔ وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّہَا وَوُضِعَ الْکِتَابُ وَجِیْءَ بِالنَّبِیِّیْنَ وَالشُّہَدَاءِ وَقُضِیَ بَیْْنَہُم بِالْحَقِّ وَہُمْ لَا یُظْلَمُونَ۔ وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَہُوَ أَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُونَ۔ وَسِیْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا إِلَی جَہَنَّمَ زُمَراً، حَتَّی إِذَا جَاؤُوہَا فُتِحَتْ أَبْوَابُہَا وَقَالَ لَہُمْ خَزَنَتُہَا أَلَمْ یَأْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنکُمْ یَتْلُونَ عَلَیْْکُمْ آیَاتِ رَبِّکُمْ وَیُنذِرُونَکُمْ لِقَاءَ یَوْمِکُمْ ہَذَا، قَالُوا بَلَی وَلَکِنْ حَقَّتْ کَلِمَۃُ الْعَذَابِ عَلَی الْکَافِرِیْنَ۔ قِیْلَ ادْخُلُوا أَبْوَابَ جَہَنَّمَ خَالِدِیْنَ فِیْہَا، فَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ۔ وَسِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّہُمْ إِلَی الْجَنَّۃِ زُمَراً، حَتَّی إِذَا جَاؤُوہَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُہَا وَقَالَ لَہُمْ خَزَنَتُہَا سَلَامٌ عَلَیْْکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوہَا خَالِدِیْنَ۔ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَہُ وَأَوْرَثَنَا الْأَرْضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّۃِ حَیْْثُ نَشَاءُ، فَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِیْنَ۔ (الزمر:۶۸تا ۷۴)

’’اور صُور پھونکا جائے گا تو بے ہوش ہوجائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں مگر جسے اللہ چاہے پھر وہ دوبارہ پھونکا جائے گا جبھی وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے۔ اور زمین جگمگا اٹھے گی اپنے رب کے نور سے اور رکھی جائے گی کتاب اور لائے جائیں گے انبیاء اور یہ نبی اور اس کی امت کے ان پر گواہ ہوں گے اور لوگوں میں سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا، اور ہر جان کو اس کا کیا بھرپور دیا جائے گا اور اسے خوب معلوم جو وہ کرتے تھے ، اور کافر جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے گروہ گروہ یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے اس کے دروازے کھولے جائیں گے اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے وہ رسول نہ آئے تھے جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن سے ملنے سے ڈراتے تھے، کہیں گے کیوں نہیں مگر عذاب کا قول کافروں پر ٹھیک اترا ، فرمایا جائے گا جاؤ جہنم کے دروازوں میں اس میں ہمیشہ رہنے، تو کیا ہی برا ٹھکانا متکبروں کا، اور جو اپنے رب سے ڈرتے تھے ان کی سواریاں گروہ گروہ جنت کی طرف چلائی جائیں گی، یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھلے ہوئے ہوں گے اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے سلام تم پر تم خوب رہے تو جنت میں جاؤ ہمیشہ رہنے، اور وہ کہیں گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث کیا کہ ہم جنت میں رہیں جہاں چاہیں، تو کیا ہی اچھا ثواب کامیوں (اچھے کام کرنیوالوں) کا۔ (احمد رضا خان)

مذکورہ بالا آیتوں میں زیادہ تر افعال ماضی کے صیغہ میں آئے ہیں، اور ان کا ترجمہ ماضی کا ہونا چاہئے تھا، لیکن عام طور سے مترجمین نے ان کا ترجمہ مستقبل کا کیا ہے، یہ درست ہے کہ ان آیتوں میں جن واقعات اور مناظر کا بیان ہے ان کا تعلق مستقبل میں واقع ہونے والے قیامت کے دن سے ہے، لیکن ان کو ماضی کے صیغہ سے بیان کرنا بھی بلاسبب تو نہیں ہے کہ ترجمہ میں اس کا لحاظ نہ رکھا جائے۔دراصل جب اس طرح کی آیتوں کا ترجمہ مستقبل کا کردیا جاتا ہے تو ترجمہ پڑھتے وقت وہ حکمت ذہن میں آنہیں سکتی ہے جو ماضی کے صیغہ سے مستقبل کے واقعات کو بیان کرنے کے پیچھے موجود ہوا کرتی ہے۔

(۳۸) مفعول بہ موجود یا محذوف:

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کلام کے اندر مفعول بہ موجود ہوتا ہے لیکن مترجم کا دھیان ادھر نہیں جاتا اور وہ کسی محذوف کو مفعول بہ ماننے کی کوشش کرتا ہے۔ محذوف کو مقدر ماننے میں پھر اختلاف بھی ہوتا ہے۔ کسی کاذہن ایک چیز کی طرف جاتا ہے تو کسی کا ذہن کسی دوسری چیز کی طرف۔مثال ملاحظہ ہو:

وَتَرَکْنَا عَلَیْْہِ فِی الْآخِرِیْنَ۔ سَلَامٌ عَلَی نُوحٍ فِیْ الْعَالَمِیْن ۔ (الصافات : ۷۸۔۷۹)

سورہ صافات میں یہ آیت چار مقام پر آئی ہے، تین جگہوں پر واحد اور ایک جگہ مثنی کی ضمیر کے ساتھ۔ بعض مترجمین کو اس میں حیرانی ہوئی ہے کہ ان آیتوں میں ترکنا  کا مفعول بہ کیا ہے اور کس چیز کو چھوڑنے یا رہنے دینے کی بات کہی گئی ہے ۔ کسی نے مفعول بہ کی جگہ ایک گروہ کو مقدر مانا : ’’ اور ہم نے اس (کے طریقہ) پر پچھلوں میں (ایک گروہ کو) چھوڑا‘‘(امین احسن اصلاحی)۔کسی نے تعریف وتوصیف اور ذکر جمیل کو مقدر مانا: ’’اور بعد کی نسلوں میں اس کی تعریف و توصیف چھوڑ دی‘‘ (سید مودودی) ’’اور پیچھے آنے والوں میں ان کا ذکر (جمیل باقی) چھوڑ دیا‘‘ (فتح محمد جالندھری)

مفسرین ومترجمین کے ایک دوسرے گروہ نے مفعول بہ کو محذوف ماننے کے بجائے اگلی پوری آیت کو مفعول بہ قرار دیا۔

(۱) وَتَرَکْنَا عَلَیْْہِ فِیْ الْآخِرِیْنَ، سَلَامٌ عَلَی نُوحٍ فِی الْعَالَمِیْن (الصافات : ۷۸۔۷۹)

’’اور ہم نے ان کے لیے پیچھے آنے والے لوگوں میں یہ بات رہنے دی کہ نوح پر سلام ہو عالم والوں میں‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

(۲) وَتَرَکْنَا عَلَیْْہِ فِیْ الْآخِرِیْنَ۔ سَلَامٌ عَلَی إِبْرَاہِیْمَ۔ (الصافات : ۱۰۸۔۱۰۹؍)

’’اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں یہ بات ان کے لیے رہنے دی کہ ابراہیم پر سلام ہو‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

(۳) وَتَرَکْنَا عَلَیْْہِمَا فِیْ الْآخِرِیْن۔ سَلَامٌ عَلَی مُوسَی وَہَارُون۔ (الصافات : ۱۱۹۔۱۲۰)

’’اور ہم نے ان دونوں کے لئے پیچھے آنے والوں میں یہ بات رہنے دی کہ موسیٰ اور ہارون پر سلام ہو‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

(۴) وَتَرَکْنَا عَلَیْْہِ فِیْ الْآخِرِیْن، سَلَامٌ عَلَی إِلْ یَاسِیْن (الصافات : ۱۲۹۔۱۳۰)

’’اور ہم نے الیاس کے لئے پیچھے آنے والے لوگوں میں یہ بات رہنے دی کہ الیاسین پر سلام ہو‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

امام زمخشری لکھتے ہیں:

’’وَتَرَکْنَا عَلَیْْہِ فِی الْآخِرِیْن من الأمم ھذھ الکلمۃ، وھی: سَلَامٌ عَلَی نُوح یعنی یسلمون علیہ تسلیما، ویدعون لہ، وھو من الکلام المحکی، کقولک: قرأت سورۃ أنزلناھا‘‘۔

کسی محذوف کو مفعول بہ ماننے کے بجائے موجود کو مفعول بہ مان لینا زیادہ مناسب ہے، بطور خاص اگر کوئی مانع نہ ہو۔ مزید برآں یہاں سلام والی آیت کو ترکنا  کا مفعول بہ مان لینے کے لیے ایک مضبوط قرینہ یہ بھی ہے کہ سلام والی آیت بھی چار مرتبہ ہی آئی ہے اور چاروں مقامات پر وَتَرَکْنَا عَلَیْْہِ فِی الْآخِرِیْن  کے فوراً بعد آئی ہے۔نہ کہیں دونوں کے درمیان فصل ہوا ہے اور نہ ہی کہیں تقدیم وتاخیر ہوئی ہے۔ اس پر مزید یہ کہ اس نحوی ترکیب کے نتیجہ میں جو معنی سامنے آتا ہے، وہ خوب تر ہے۔

(۳۹) فعل اور مفعول بہ کے درمیان فصل کا اسلوب:

یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُبَیِّنَ لَکُمْ وَیَہْدِیَکُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِکُمْ۔ (النساء :۲۶؍)

اکثر مترجمین نے پہلے فعل یعنی لِیُبَیِّنَ لَکُمْ کے مفعول بہ کومحذوف مان کر اس طرح ترجمہ کیا ہے:

’’اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ تم پر (اپنی آیتیں ) واضح کردے اور تمہیں ان لوگوں کے طریقوں کی ہدایت بخشے جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

’’اللہ چاہتا ہے کہ اپنے احکام تمہارے لیے بیان کردے اور تمہیں اگلوں کی روشیں بتادے‘‘۔(احمد رضا خان)

بعض لوگوں نے سُنَنَ کو دونوں فعلوں کا مفعول بہ مان لیا ہے اور ترجمہ اس طرح کیا ہے:

’’اللہ چاہتا ہے کہ تم پر اْن طریقوں کو واضح کرے اور اْنہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے‘‘۔(سید مودودی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال یہ ہے کہ سُنَن  کو لِیُبَیِّنَ لَکُمْ  کا مفعول بہ مانا جائے، اور یہ مان لیا جائے کہَ یَہْدِیَکُمْ کے ذریعہ دونوں کے درمیان فصل ہوگیا ہے، مزید یہ کہَ یَہْدِیَکُمْ  کا ترجمہ مفعول بہ کے بغیر کیا جائے۔ اس طرح آیت کا مطلب بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تمہارے سامنے اگلوں کی روش بیان کرنا چاہتا ہے، مزید یہ کہ ہدایت سے بھی نوازنا چاہتا ہے۔ ہدایت سے مراد عمومی ہدایت ہے نہ کہ اگلوں کی روش کی ہدایت۔ دوسرے ترجموں پر اشکال یہ وارد ہوتا ہے کہ اگلوں کی روش کو بیان کرنا تو بخوبی سمجھ میں آتا ہے، البتہ ان کی روش کی ہدایت دینے کی بات تکلف سے خالی نہیں ہے۔

یہاں یہ بھی واضح رہے کہ فعل اور مفعول بہ کے درمیان ایک جملے کے ذریعہ فصل ہوسکتا ہے، اس کی مثال خود قرآن مجید میں ہے، جیسے:

فاغْسِلُوا وُجُوہَکُمْ وَأَیْْدِیَکُمْ إِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُواْ بِرُؤُوسِکُمْ وَأَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَیْن۔ (المائدۃ :۶)

بظاہر یہاں وَامْسَحُواْ بِرُؤُوسِکُمْ کے ذریعہ معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان فصل ہے، ابوالبقاء عکبری کے بقول: 

ھو معطوف علی الوجوہ والأیدی أی فاغسلوا وجوھکم وأیدیکم وأرجلکم وذلک جائز فی العربیۃ بلا خلاف۔ (التبیان فی اعراب القرآن)

لیکن درحقیقت یہاں وَامْسَحُوا بِرُؤُوسِکُمْ کے ذریعہ فاغْسِلُوا فعل اور اس کے ایک مفعول بہ یعنی وَأَرْجُلَکُمْ کے درمیان فصل کیا گیا ہے۔

(۴۰) مصدق لہ اور مصدق بہ میں فرق:

لفظ مُصَدِّقٌ  قرآن مجید میں متعدد مقامات پر آیا ہے، اور اکثر مقامات پر لام کے صلہ کے ساتھ آیا ہے۔ اس کا ترجمہ کسی خبر یا پیشین گوئی کا مصداق ہونا ہے جیسا کہ علامہ فراہیؒ کی مشہور تحقیق سے ثابت ہوتا ہے۔ صاحب تدبر قرآن نے عموماً ترجمہ کرتے ہوئے اس رائے کی پابندی کی ہے، البتہ سہواً کہیں کہیں تفسیر تدبر قرآن میں تصدیق کرنے کا ترجمہ کردیا ہے۔ ایسے بعض مقامات کی تصحیح بعد میں اس ترجمہ میں کردی گئی ہے جو نظر ثانی کے بعد خالد مسعود کی تلخیص کے ساتھ شائع ہوا ہے۔ (مثال کے لیے ملاحظہ ہو سورہ آل عمران کی آیت نمبر ۱۸؍ کا ترجمہ) اور بعض مقامات پر یہ غلطی ہنوز باقی ہے۔ (مثال کے لیے ملاحظہ ہو سورہ احقاف کی آیت نمبر ۳۰ کا ترجمہ)۔

قرآن مجید میں ایک مقام پر لفظ مُصَدِّقٌ  باء کے صلہ کے ساتھ آیا ہے، اور صاحب تدبر قرآن نے وہاں بھی مصداق والا مفہوم اختیار کیا ہے، ترجمہ ملاحظہ ہو:

فَنَادَتْہُ الْمَلآئِکَۃُ وَہُوَ قَائِمٌ یُصَلِّیْ فِیْ الْمِحْرَابِ أَنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکَ بِیَحْیَی مُصَدِّقاً بِکَلِمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَسَیِّداً وَحَصُوراً وَنَبِیّاً مِّنَ الصَّالِحِیْن۔ (آل عمران:۳۹)

’’تو فرشتوں نے اس کو ندا دی جبکہ وہ محراب میں نماز میں کھڑا تھا کہ اللہ تجھ کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے جو اللہ کے ایک کلمہ کے مصداق، سردار ، لذت دنیا سے کنارہ کش اور زمرہ صالحین سے نبی ہوں ہوں گے‘‘۔(امین احسن اصلاحی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے یہ ہے کہ مُصَدِّقٌ  جب لام صلہ کے ساتھ آتا ہے تب تو مصداق ہونے کا مفہوم ہوتا ہے، لیکن جب باء صلہ کے ساتھ آتا ہے تو مصداق ہونے کا مفہوم نہیں ہوتا ہے بلکہ تصدیق کرنے کا مفہوم ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے یہاں ترجمہ ہوگا: ’’اللہ کے ایک کلمہ کی تصدیق کرنے والا‘‘ اللہ کے ایک کلمہ سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں، جیسا کہ ان کے سلسلے میں خود قرآن مجید میں ذکر ہوا ہے: إِذْ قَالَتِ الْمَلآئِکَۃُ یَا مَرْیَمُ إِنَّ اللّہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنْہُ اسْمُہُ الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْہاً فِیْ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِیْن۔ (آل عمران:۴۵)

(جاری)

قرآن / علوم القرآن

(جنوری ۲۰۱۵ء)

جنوری ۲۰۱۵ء

جلد ۲۶ ۔ شمارہ ۱

تلاش

Flag Counter