اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۸)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(324) عَمَّا أَرْضَعَتْ کا ترجمہ

درج ذیل جملے میں عَمَّا أَرْضَعَتْ کا ترجمہ ’اپنے دودھ پیتے بچے‘ کیا گیا ہے، لیکن اس نکتے کی طرف عام طور سے دھیان نہیں گیا کہ أَرْضَعَتْ فعل ماضی ہے مضارع نہیں ہے، اس لیے اس کا ترجمہ ماضی کا ہونا چاہیے:

یَوْمَ تَرَوْنَہَا تَذْہَلُ کُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ. (الحج: 2)

”جس روز تم اسے دیکھو گے، حال یہ ہو گا کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہو جائے گی“۔ (سید مودودی)

”جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی“۔ (احمد رضا خان)

”جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی“۔ (محمد جوناگڑھی)

درج ذیل ترجمے عبارت کے مطابق ہیں:

”جس دن دیکھیں گے اس کو بھول جاوے گی ہر دودھ پلانے والی جس کو دودھ پلایا تھا“۔(شاہ رفیع الدین)

”جس دن اس کو دیکھو گے بھول جاوے گی ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پلائے کو“۔ (شاہ عبدالقادر)

عبارت کے مطابق ترجمہ کرنے سے مفہوم کی وسعت بڑھ جاتی ہے، اس میں وہ تمام بچے شامل ہوجاتے ہیں جنھیں اس نے دودھ پلایا ہو۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جارہا ہے کہ ہر ماں اپنے بچوں سے غافل ہوجائے گی۔

(325) کُتِبَ عَلَیْهِ کا ترجمہ

درج ذیل آیتوں کا ترجمہ کرتے ہوئے کُتِبَ عَلَیْهِ کا ترجمہ بعض لوگوں نے درست نہیں کیا ہے:

وَمِنَ النَّاسِ مَن یُجَادِلُ فِی اللَّہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَیَتَّبِعُ کُلَّ شَیْطَانٍ مَّرِیدٍ۔ کُتِبَ عَلَیْہِ أَنَّہُ مَن تَوَلَّاہُ فَأَنَّہُ یُضِلُّہُ وَیَہْدِیہِ إِلَیٰ عَذَابِ السَّعِیرِ۔ (الحج: 3و4)

”بعض لوگ ایسے ہیں جو علم کے بغیر اللہ کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں اور ہر شیطان سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ اُس کے تو نصیب ہی میں یہ لکھا ہے کہ جو اس کو دوست بنائے گا اسے وہ گمراہ کر کے چھوڑے گا اور عذاب جہنم کا راستہ دکھائے گا۔(سید مودودی، شیطان کے نصیب میں یہ لکھا ہے، اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے)

”جس کی یہ ڈیوٹی ہی مقرر ہے کہ جو اس کو دوست بنائے گا وہ اس کو گم راہ کر کے رہے گا اور اس کی رہنمائی وہ عذاب دوزخ کی طرف کرے گا“۔(امین احسن اصلاحی، شیطان کی یہ ڈیوٹی تو نہیں ہے)

دراصل یہاں نہ تو شیطان کے نصیب کی بات ہے اور نہ ہی اس کی ڈیوٹی کی بات ہے، بلکہ اس کے بارے میں اللہ کے فیصلے کا ذکر ہے۔ اس پہلو سے درج ذیل ترجمہ زیادہ مناسب ہے:

”جس کی نسبت (خدا کے یہاں سے) یہ بات لکھی جاچکی ہے“۔ (اشرف علی تھانوی)

”جس کے بارے میں خدا کا یہ فیصلہ ہوچکا ہے“ (امانت اللہ اصلاحی)

(326) وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاہِیمَ مَکَانَ الْبَیْتِ

بوّأ کا معنی ہے بسانا، ٹھکانا دینا۔ جوہری لکھتے ہیں: وبوَّأت للرجل منزلاً وبوّأتہ منزلاً بمعنی، أی ہیَّأتہ ومکَّنت لہ فیہ. (الصحاح)

قرآن مجید میں یہ لفظ کئی مقامات پر آیا ہے اور عام طور سے اس کا یہی ترجمہ کیا گیا ہے۔ البتہ درج ذیل آیت میں اس کا ترجمہ جگہ بتانا، تجویز کرنا یا مقرر کرنا وغیرہ کیا گیا ہے۔ اس سے ایک تو لفظ کا پورا حق ادا نہیں ہوپاتا ہے، دوسرے یہ کہ آگے محذوف ماننا پڑتا ہے کہ جب انھوں نے وہاں گھر بنالیا تو انھیں لوگوں میں حج کی منادی کا حکم دیا گیا۔ جب کہ اگر بوّأ کا حقیقی مفہوم بغیر کسی تاویل کے لیا جائے تو محذوف ماننے اور بعد کی آیتوں کو کسی اور زمانے سے متعلق ماننے کے تکلف کی ضرورت نہیں رہ جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ابراہیم پر جو لام ہے اس کی وجہ سے یہ مفہوم لیا گیا ہے، حالاں کہ وہ تاکید کے لیے ہے، جیسے شکرتہ اور شکرت لہ۔ ترجمے ملاحظہ کریں:

وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاہِیمَ مَکَانَ الْبَیْتِ أَن لَّا تُشْرِکْ بِی شَیْئًا وَطَہِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّائِفِینَ وَالْقَائِمِینَ وَالرُّکَّعِ السُّجُودِ۔ (الحج: 26)

”یاد کرو وہ وقت جب ہم نے ابراہیم ؑ کے لیے اِس گھر (خانہ کعبہ) کی جگہ تجویز کی تھی (اِس ہدایت کے ساتھ) کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھو“۔ (سید مودودی)

”اور جب کہ ہم نے ابراہیم کو اس گھر کا ٹھکانا ٹھیک بتادیا“۔ (احمد رضا خان)

”اور جبکہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو کعبہ کے مکان کی جگہ مقرر کر دی“۔ (محمد جوناگڑھی)

درج ذیل ترجمے میں بوّأ کا حقیقی مفہوم اختیار کیا گیا ہے:

”اور (یاد کرو) جب کہ ہم نے ابراہیم کے لیے ٹھکانا بنایا بیت اللہ کی جگہ کو“۔ (امین احسن اصلاحی)

”یاد کرو وہ وقت جب کہ ہم نے ابراہیم کو اس گھر کی جگہ بسایا تھا“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(327) مکان سحیق

وَمَن یُشْرِکْ بِاللَّہِ فَکَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ أَوْ تَہْوِی بِہِ الرِّیحُ فِی مَکَانٍ سَحِیقٍ۔ (الحج: 31)

”اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گر گیا، اب یا تو اسے پرندے اُچک لے جائیں گے یا ہوا اُس کو ایسی جگہ لے جا کر پھینک دے گی جہاں اُس کے چیتھڑے اڑ جائیں گے“۔ (سید مودودی)

یہاں سحیق کا ترجمہ درست نہیں ہے۔ سحیق اگر کسی چیز کے لیے کہا جائے گا تو اس سے مراد یہ ہوگا کہ وہ چیز تباہ ہوگئی اور اگر جگہ کے لیے کہا جائے تو دور دراز جگہ مراد ہوگی۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ سحیق مکان کی صفت ہو اور اس سے مراد ایسی جگہ ہو جہاں انسان کے چیتھڑے اڑجائیں۔ کیوں کہ سحیق جب تباہی کے لیے آتا ہے تو تباہ کرنے والی چیز کے لیے نہیں بلکہ تباہ ہونے والی چیز کے لیے آتا ہے، اس وقت وہ اس چیز کی صفت ہوتا ہے نہ کہ جگہ کی صفت۔

بہرحال درست ترجمہ وہی ہے جو عام طور سے کیا گیا ہے:

”اب یا تو اسے پرندے اچک لیتے ہیں، یا ہوا اس کو دور دراز مقام پر ڈال دیتی ہے“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(328) أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً

السماء کا ترجمہ آسمان ہونا چاہیے، لیکن صاحب تدبر نے ایک مقام پر اس کا ترجمہ آسمانوں اور ایک دوسرے مقام پر بادلوں کردیا ہے:

أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّہَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً۔ (الحج: 63)

”دیکھتے نہیں کہ اللہ ہی ہے جو آسمانوں سے پانی برساتا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی، ہی کا اضافہ بھی درست نہیں ہے)

وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً۔ (إبراہیم: 32)

”اور بادلوں سے پانی اتارا“۔ (امین احسن اصلاحی)

وَاللَّہُ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً۔ (النحل: 65)

”اور اللہ ہی نے آسمان سے پانی اتارا“۔ (امین احسن اصلاحی، یہ ترجمہ درست ہے البتہ یہاں ہی کا اضافہ درست نہیں ہے)

(329) وَالْقَاسِیَةِ قُلُوبُہُمْ

قسا القلب کا مطلب دل کا سخت ہونا ہے۔ یہ تعبیر مختلف صیغوں سے قرآن میں کئی جگہ آئی ہے۔ جیسے:

فَوَیْلٌ لِّلْقَاسِیَةِ قُلُوبُہُم مِّن ذِکْرِ اللَّہِ۔ (الزمر: 22)

”تباہی ہے اُن لوگوں کے لیے جن کے دل اللہ کی نصیحت سے اور زیادہ سخت ہو گئے“۔ (سید مودودی)

وَجَعَلْنَا قُلُوبَہُمْ قَاسِیَةً۔ (المائدۃ: 13)

”اور ان کے دل سخت کر دیے“۔ (سید مودودی)

درج ذیل الفاظ کا بھی یہی ترجمہ ہونا چاہیے تھا، لیکن صاحب تفہیم نے اس کا مختلف ترجمہ کیا:

وَالْقَاسِیَةِ قُلُوبُہُمْ۔ (الحج: 53)

”اور جن کے دل کھوٹے ہیں“۔ (سید مودودی)

ایک بات تو یہ ہے کہ دل کھوٹا نہیں ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ قاسیۃ کا مطلب کھوٹا ہونا نہیں بلکہ سخت ہونا ہوتا ہے۔ درست ترجمہ وہی ہے جو دوسروں نے کیا ہے اور خود صاحب تفہیم نے درج بالا مقامات پر کیا ہے۔

(330) ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ

ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوب کے ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

یَا أَیُّہَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِینَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّہِ لَن یَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِن یَسْلُبْہُمُ الذُّبَابُ شَیئًا لَّا یَسْتَنقِذُوہُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ۔ (الحج: 73)

”لوگو، ایک مثال دی جاتی ہے، غور سے سنو جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ سب مِل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے، مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور“۔ (سید مودودی)

”بڑا بودا ہے طلب کرنے والا اور بڑا بودا ہے وہ جس سے طلب کیا جا رہا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”عابد اور معبود دونوں ہی عاجز ہیں“۔ (احمد علی)

”عابد بھی لچر اور ایسا معبود بھی لچر“۔ (اشرف علی تھانوی)

اس آیت میں الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ کے مختلف معنی لیے گئے ہیں، کچھ لوگوں نے عابد ومعبود ترجمہ کیا ہے، جو الفاظ کے مطابق نہیں ہے۔ کچھ نے مدد چاہنے والے اور جن سے مدد چاہی جائے ترجمہ کیا ہے، یہ بھی الفاظ سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ مطلوب اسے کہتے ہیں جسے طلب کیا جائے نہ کہ وہ جس سے طلب کیا جائے۔ عام طور سے لوگوں نے طالب سے مراد غیر اللہ کو پکارنے والے اور مطلوب سے مراد وہ اصنام لیے ہیں جنھیں وہ پکارتے ہیں۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہاں طالب سے مراد اصنام اور مطلوب سے مراد وہ مکھی ہے جو ان سے کچھ لے بھاگی ہے۔ یہ ایک بلیغ منظر کشی ہے کہ گویا مکھی مطلوب اور وہ اصنام اس کے طالب ہیں۔ ضعف تعجب کا صیغہ ہے، مطلب یہ ہے کہ مکھی تو کم زور ہے ہی یہ اصنام اس مکھی سے بھی زیادہ کم زور ہیں۔

درج ذیل ترجمہ الفاظ کے مطابق ہے:

”بودا ہے چاہنے والا اور جو چاہتا ہے“۔ (شاہ عبدالقادر)

(331) لَا یَسْتَنقِذُوہُ مِنْهُ کا ترجمہ

درج بالا آیت کے جملے میں لَا یَسْتَنقِذُوہُ مِنْهُ کا یہ ترجمہ دیکھیں:

”اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے تو وہ اس سے اس کو بچا بھی نہیں پائیں گے۔ طالب اور مطلوب دونوں ہی ناتواں!“۔ (امین احسن اصلاحی)

یہاں لَا یَسْتَنقِذُوہُ مِنْهُ کا ترجمہ کیا ہے ’وہ اس سے اس کو بچا بھی نہیں پائیں گے‘ یہ درست نہیں ہے، بلکہ جو عام طور سے کیا گیا ہے وہ درست ہے، جیسے:

”چھڑا نہ سکیں وہ اس سے‘‘۔(شاہ عبدالقادر)

(332) ہُوَ سَمَّاکُمُ الْمُسْلِمِینَ مِن قَبْلُ

اس آیت میں ضمیر ھو کا مرجع ابراہیم ہے یا اللہ، اس میں اختلاف ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی اس رائے کو ترجیح دیتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام نے یہ نام رکھا۔ بہرحال ’ہُو‘ کا ترجمہ ’اس نے‘ ہونا چاہیے، تاکہ قاری اس کا مرجع متعین کرنے میں آزاد رہے۔ بعض لوگوں نے ہُو کا ترجمہ ’اللہ‘ کیا ہے۔

مِّلّةَ أَبِیکُمْ إِبْرَاہِیمَ ہُوَ سَمَّاکُمُ الْمُسْلِمِینَ مِن قَبْلُ وَفِی ہَٰذَا۔ (الحج: 78)

”قائم ہو جاؤ اپنے باپ ابراہیم ؑ کی ملت پر اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام”مسلم“ رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے)“۔ (سید مودودی)

”تمہارے باپ ابراہیم کا دین، اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے اگلی کتابوں میں اور اس قرآن میں“۔ (احمد رضا خان)

دین اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا قائم رکھو، اسی اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔ اس قرآن سے پہلے اور اس میں بھی“۔ (محمد جوناگڑھی)

درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:

”دین تمہارے باپ ابراہیم کا، اس نے نام رکھا تمہارا مسلمان حکم بردار پہلے سے اور اس قرآن میں“۔ (شاہ عبدالقادر)

(333) مِّلّةَ أَبِیکُمْ إِبْرَاہِیمَ

درج بالا آیت میں مِّلّةَ أَبِیکُمْ إِبْرَاہِیمَ کے مختلف ترجمے کیے گئے ہیں، عام طور سے لوگ مِلّةَ سے پہلے کوئی فعل محذوف مانتے ہیں۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی ھذہ مبتدا محذوف مانتے ہیں اور ترجمہ کرتے ہیں: ”یہ تمارے باپ ابراہیم کا طریقہ ہے“ قرآن مجید میں یہ اسلوب متعدد مقامات پر آیا ہے۔

(334) فِی اللَّہِ کا ترجمہ

قرآن مجید میں ’فی سبیل اللّٰہ‘ کی تعبیر تو کثرت سے آئی ہے، جس کا معنی ’اللہ کے راستے میں‘ ہے، البتہ کہیں کہیں ’فی اللّٰہ‘ کی تعبیر بھی ہے، اس کا ترجمہ ’اللہ کی خاطر‘ ہونا چاہیے۔

(۱) وَجَاہِدُوا فِی اللَّہِ حَقَّ جِہَادِہِ۔ (الحج: 78)

”اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے“۔ (سید مودودی)

”اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا حق ہے جہاد کرنے کا“۔ (احمد رضا خان)

”اور اللہ کی راہ میں ویسا ہی جہاد کرو جیسا جہاد کا حق ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

یہاں ’فی سبیل اللّٰہ‘ نہیں بلکہ ’فی اللّٰہ‘ ہے، اس لیے اس کا ترجمہ ’اللہ کی راہ میں‘ کرنے کے بجائے ’اللہ کی خاطر‘ کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔ زمخشری لکھتے ہیں: فِی اللَّہِ أی فی ذات اللہ ومن أجلہ۔ (تفسیر الکشاف)

درج ذیل ترجمہ زیادہ مناسب ہے:

”اور محنت کرو اللہ کے واسطے جو چاہیے اس کی محنت“۔ (شاہ عبدالقادر)

(۲) وَالَّذِینَ ہَاجَرُوا فِی اللَّہِ مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُوا۔ (النحل: 41)

”جن لوگوں نے ظلم برداشت کرنے کے بعد اللہ کی راہ میں ترک وطن کیا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

یہاں بھی اللہ کے واسطے یا خاطر زیادہ مناسب ہے۔ زمخشری لکھتے ہیں: فِی اللَّہِ: فی حقہ ولوجہہ۔ (تفسیر الکشاف)

”جو لوگ ظلم سہنے کے بعد اللہ کی خاطر ہجرت کر گئے ہیں“۔ (سید مودودی)

”اور جنھوں نے گھر چھوڑا اللہ کے واسطے بعد اس کے کہ ظلم اٹھایا“۔ (شاہ عبدالقادر)

(335) لِیَشْہَدُوا مَنَافِعَ لَہُمْ

درج ذیل جملے کے ترجمے ملاحظہ کریں:

لِیَشْہَدُوا مَنَافِعَ لَہُمْ۔ (الحج: 28)

”تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں اُن کے لیے رکھے گئے ہیں“۔ (سید مودودی)

”کہ پہنچیں اپنے بھلے کی جگہوں پر“۔ (شاہ عبدالقادر)

”تاکہ اپنے فائدے کے کاموں کے لیے حاضر ہوں“۔ (فتح محمد جالندھری)

یہاں شھد کا ترجمہ دیکھنا، پہنچنا، اور حاضر یا موجود ہونا کیا گیا ہے، اسی طرح منافع کا ترجمہ فائدے، فائدے کے کام اور فائدے کی جگہیں کیا گیا ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ تجویز کرتے ہیں:

”تاکہ وہ شریک رہیں ان فائدوں میں جو یہاں اُن کے لیے رکھے گئے ہیں“۔


قرآن / علوم قرآن

(مئی ۲۰۲۲ء)

تلاش کریں

Flag Counter