اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۹)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(336) فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَیْہِ

درج ذیل آیت کا مفہوم متعین کرنے میں مفسرین کو بڑی دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کا اثر ترجموں میں بھی نظر آتا ہے۔

وَذَا النُّونِ إِذ ذَّہَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَیْہِ۔ (الانبیاء: 87)

”اور مچھلی والے کو جب چلا گیا غصے سے لڑکر پھر سمجھا کہ ہم نہ پکڑ سکیں گے“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اور مچھلی والے پیغمبر (یعنی یونس علیہ السلام) کا تذکرہ کیجیے، جب وہ اپنی قوم سے خفا ہوکر چل دیے اور انھوں نے یہ سمجھا کہ ہم ان پر اس چلے جانے میں کوئی دار و گیر نہ کریں گے“۔ (اشرف علی تھانوی، دار و گیر کرنا اس کا معنی نہیں ہے)

”اور مچھلی والے کو بھی ہم نے نوازا، یاد کرو جبکہ وہ بگڑ کر چلا گیا تھا اور سمجھا تھا کہ ہم اس پر گرفت نہ کریں گے“۔ (سید مودودی،  گرفت کرنا اس کا معنی نہیں ہے)

”اور ذوالنون، کو (یاد کرو) جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے“۔ (احمد رضا خان، تنگی کرنا اس کا معنی نہیں ہے)

”اور ذوالنون (کو یاد کرو) جب وہ (اپنی قوم سے ناراض ہو کر) غصے کی حالت میں چل دیے اور خیال کیا کہ ہم ان پر قابو نہیں پاسکیں گے“۔ (فتح محمد جالندھری)

قرآن مجید کے استعمالات کی روشنی میں دیکھیں تو قدر علیہ کا مطلب کسی پر قابو پانا ہوتا ہے۔ درج ذیل مثالوں سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے:

(۱)  وَأُخْرَیٰ لَمْ تَقْدِرُوا عَلَیْہَا۔ (الفتح: 21)

”اور تمہیں اور (غنیمتیں) بھی دے جن پر اب تک تم نے قابو نہیں پایا“۔ (محمد جوناگڑھی)

(۲)  أَیَحْسَبُ أَن لَّن یَقْدِرَ عَلَیْہِ أَحَدٌ۔ (البلد: 5)

”کیا وہ خیال رکھتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہ پائے گا“۔ (فتح محمد جالندھری)

(۳)  إِلَّا الَّذِینَ تَابُوا مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُوا عَلَیْہِمْ۔ (المائدۃ:34)

”مگر جو لوگ توبہ کر لیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پاؤ“۔ (سید مودودی)

لیکن اس مفہوم کو اختیار کرنے میں مفسرین کے سامنے دشواری یہ تھی کہ ایک نبی کے سلسلے میں یہ کیسے کیا مانا جاسکتا ہے کہ وہ یہ گمان کرلے کہ اللہ اسے اپنے قابو میں نہیں کرسکتا ہے۔ کیوں کہ یہ گمان کرنے والا تو اسلام کے دائرے سے خارج ہوجائے گا۔

اس لیے بعض مفسرین نے کہا یہاں تنگی میں ڈالنے کا مفہوم ہے۔ اور اس کے لیے قرآن کی ان آیتوں سے استشہاد کیا جن میں روزی تنگ کرنے کی بات آئی ہے، جیسے:

وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاہُ فَقَدَرَ عَلَیْہِ رِزْقَہُ۔ (الفجر: 16)

”اور جب (دوسری طرح) آزماتا ہے کہ اس پر روزی تنگ کر دیتا ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

لیکن اس توجیہ کی کم زوری یہ ہے کہ قدر علیہ اور قدر علیہ الرزق دو الگ الگ اسلوب ہیں۔ یہ دونوں ہم معنی نہیں ہیں۔ قدر الرزق کا مطلب تو رزق کم کرنا ہے، لیکن صرف قدر علیہ کا مطلب یہ نہیں ہے، جیسا کہ قرآن کے استعمالات سے ظاہر ہے۔

بعض مفسرین نے اس جملے کو سزا کا فیصلہ کرنے کے معنی میں لیا لیکن وہ بھی تکلف سے بھرپور توجیہ ہے۔ قرآن مجید میں تو اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے یہ ہے کہ ظن کا مطلب یہاں سمجھنا یا گمان کرنا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس طرح بھاگے تھے جیسے وہ بھاگتا ہے جسے یہ گمان ہو کہ وہ قابو میں نہیں آئے گا۔ ہم روز مرہ میں یہ اسلوب استعمال کرتے ہیں، مثال کے طور پر کسی مفرور کو پکڑ کر کہا جاتا ہے: ”تم سمجھ رہے تھے کہ ہمارے ہاتھ نہیں آؤ گے۔“ حالاں کہ یہ ضروری نہیں کہ وہ ایسا سمجھ رہا ہو، بس یہ ہے کہ اس کے عمل سے ایسا لگ رہا تھا۔

اس طرح ترجمہ ہوگا:   

”اور مچھلی والے کو بھی ہم نے نوازا جبکہ وہ بگڑ کر چلا گیا تھا گویا کہ ہم اس پر قابو نہیں پاسکیں گے۔“

(337) اذا ماضی کے لیے نہیں ہوتا

وَتَرَی الْأَرْضَ ہَامِدَۃً فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَیْہَا الْمَاءَ اہْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنبَتَتْ مِن کُلِّ زَوْجٍ بَہِیجٍ۔ (الحج: 5)

”اور تو زمین کو دیکھے مرجھائی ہوئی پھر جب ہم نے اس پر پانی اتارا تر و تازہ ہوئی اور ابھر آئی اور ہر رونق دار جوڑا اُگا لائی“۔ (احمد رضا خان)

”اور تم دیکھتے ہو کہ زمین سوکھی پڑی ہے، پھر جہاں ہم نے اُس پر مینہ برسایا کہ یکایک وہ پھبک اٹھی اور پھول گئی اور اس نے ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگلنی شروع کردی“۔ (سید مودودی، ’اگانے لگتی ہے‘ أَنبَتَتْ کا درست ترجمہ ہے)

”اور (اے دیکھنے والے) تو دیکھتا ہے (کہ ایک وقت میں) زمین خشک (پڑی ہوتی ہے) پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو شاداب ہوجاتی اور ابھرنے لگتی ہے اور طرح طرح کی بارونق چیزیں اُگاتی ہے“۔(فتح محمد جالندھری)

آخری ترجمہ درست ہے، یعنی زمانہ حال کا بیان ہے نہ کہ زمانہ ماضی کا۔

(338)  وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِیقِ  کا ترجمہ

ذوقوا کا ترجمہ دیگر مقامات پر تو چکھو کرنا درست ہے، لیکن درج ذیل مقام کا تقاضا ہے کہ ’چکھتے رہو‘ ترجمہ کیا جائے، کیوں کہ وہ پہلے سے جہنم میں تھے، نکلنے کی کوشش کرتے اور دوبارہ لوٹائے جاتے اور ان سے یہ کہا جاتا۔

کُلَّمَا أَرَادُوا أَن یَخْرُجُوا مِنْہَا مِنْ غَمٍّ أُعِیدُوا فِیہَا وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِیقِ۔ (الحج: 22)

”جب کبھی وہ گھبرا کر جہنّم سے نکلنے کی کوشش کریں گے پھر اُسی میں دھکیل دیے جائیں گے کہ چکھو اب جلنے کی سزا کا مزا“۔ (سید مودودی، وہ تو پہلے سے جہنم کا مزا چکھ رہے ہیں، پھر ’چکھو اب‘ کیوں کہا جائے گا)

”جب وہ چاہیں گے کہ اس رنج (وتکلیف) کی وجہ سے دوزخ سے نکل جائیں تو پھر اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے۔ اور (کہا جائے گا کہ) جلنے کے عذاب کا مزہ چکھتے رہو“۔ (فتح محمد جالندھری)

آخری ترجمے میں اس پہلو کی رعایت کی گئی ہے۔

(339) وَنُقِرُّ فِی الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ

وَنُقِرُّ فِی الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ إِلَیٰ أَجَلٍ مُّسَمًّی۔ (الحج: 5)

”اور ہم جس (نطفے) کو چاہتے ہیں ایک مقررہ مدت تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں“۔ (محمد حسین نجفی)

”ہم جس (نطفے) کو چاہتے ہیں ایک وقت خاص تک رحموں میں ٹھیرائے رکھتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”اور ہم جسے چاہیں ایک ٹھہرائے ہوئے وقت تک رحم مادر میں رکھتے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

یہاں صرف نطفے کا ذکر نہیں ہے، بلکہ پل رہے انسان کا ذکر ہے، خواہ وہ نطفہ ہو یا مضغہ ہو یا علقہ ہو۔ اس پہلو سے آخری ترجمہ درست ہے۔

(340) مفعول بہ کا ترجمہ جس کا فعل محذوف ہو

(سورۃ الانبیاء کے کچھ مقامات)

سورۃ الانبیاء میں بہت سے نبیوں کا تذکرہ ہے، شروع میں کچھ نبیوں کا ذکر اس طرح کیا ہے کہ ان سے پہلے یا بعد میں آتینا کہہ کر بتایا ہے کہ انھیں کیا عطا کیا۔ جیسے:  وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوسَیٰ وَہَارُونَ الْفُرْقَانَ وَضِیَاءً۔ اس کے بعد پھر بہت سے نبیوں کے ناموں کو ذکر کیا۔

جن نبیوں کا صرف نام ذکر کیا ہے انھیں نصب کی حالت میں رکھا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہاں کوئی فعل محذوف ہے۔ وہ محذوف فعل کیا ہے؟ اس پر سیاق کلام سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔

ترجمہ کرنے والوں نے یہاں تین طریقے اختیار کیے، بعض نے فعل کو محذوف رکھتے ہوئے ہی ترجمہ کیا۔ اکثر نے اذکر یعنی یاد کرو محذوف مان کر ترجمہ کیا۔ اور صاحب تدبر وصاحب تفہیم نے فضل و نعمت سے نوازنے کا مفہوم محذوف مانتے ہوئے ترجمہ کیا۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی نے اسی آخری طریقے کو ترجیح دی ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ یہ پورا سیاق اللہ کے اس خاص فضل وکرم کے بیان کا ہے جو اس نے اپنے چنندہ بندوں پر کیا۔ شروع میں کچھ کے ساتھ اس کا ذکر کرکے سیاق کلام متعین کردیا اور پھر صرف ناموں کو نصب کی حالت میں ذکر کرکے قاری کو خود وہ مفہوم اخذ کرنے کا موقع دیا گیا۔ صاحب تدبر وصاحب تفہیم دونوں سے محذوف فعل کے علاوہ مفعول ثانی کو بیان کرنے میں کہیں کہیں کچھ فروگذاشت ہوگئی ہے، ذیل میں اس کی نشان دہی بھی کردی گئی ہے۔  

وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوسَیٰ وَہَارُونَ الْفُرْقَانَ وَضِیَاءً وَذِکْرًا لِّلْمُتَّقِینَ۔ (الانبیاء: 48)

”پہلے ہم موسیٰؑ اور ہارونؑ کو فرقان اور روشنی اور ’ذکر‘ عطا کر چکے ہیں اُن متقی لوگوں کی بھَلائی کے لیے“۔ (سید مودودی)

وَلَقَدْ آتَیْنَا إِبْرَاہِیمَ رُشْدَہُ مِن قَبْلُ۔ (الأنبیاء: 51)

”اُس سے بھی پہلے ہم نے ابراہیمؑ کو اُس کی ہوش مندی بخشی تھی اور ہم اُس کو خوب جانتے تھے“۔(سید مودودی)

”اس سے پہلے ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت عطا فرمائی“۔ (امین احسن اصلاحی، رشد کا مطلب ہدایت نہیں ہوتا ہے، بلکہ سمجھ بوجھ ہوتا ہے)

وَلُوطًا آتَیْنَاہُ حُکْمًا وَعِلْمًا۔ (الأنبیاء: 74)

”اور لوطؑ کو ہم نے حکم اور علم بخشا“۔(سید مودودی)

”اور لوط (کا قصہ یاد کرو) جب ان کو ہم نے حکم (یعنی حکمت ونبوت) اور علم بخشا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور لوط کو بھی ہم نے قوت فیصلہ اور علم کی نعمت عطا فرمائی“۔ (امین احسن اصلاحی، یہاں ’بھی‘ کا محل نہیں ہے)

وَنُوحًا۔ (الأنبیاء: 76)

”اور نوح (کا قصہ بھی یاد کرو)“۔ (فتح محمد جالندھری)

”نوح کے اس وقت کو یاد کیجئے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور یہی نعمت ہم نے نوحؑ کو دی“۔ (سید مودودی، ’یہی‘ غیر ضروری ہے۔ اور ہم نے نوح کو نعمت دی)

”اور نوح کو بھی“۔ (امین احسن اصلاحی، ہم نے اپنی ہدایت بخشی۔ یاد کرو، پہلے جملے کا محل نہیں ہے اور دوسرے جملے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور ’ہم نے نوح پر اپنا فضل کیا‘ مناسب ہے۔)

وَدَاوُودَ وَسُلَیْمَانَ۔ (الأنبیاء: 78)

”اور داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کو یاد کیجئے“۔(محمد جوناگڑھی)

”اور اِسی نعمت سے ہم نے داؤدؑ اورسلیمانؑ کو سرفراز کیا“۔ (سید مودودی، ’اسی‘ کی ضرورت نہیں ہے۔ ’اور ہم نے داؤدؑ اورسلیمانؑ کو نعمت سے سرفراز کیا‘)

”اور داؤد اور سلیمان پر بھی ہم نے اپنا فضل کیا“۔ (امین احسن اصلاحی)

وَأَیُّوبَ۔ (الأنبیاء:83)

”ایوب (علیہ السلام) کی اس حالت کو یاد کرو“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور یہی (ہوش مندی اور حکم و علم کی نعمت) ہم نے ایّوبؑ کو دی تھی“۔ (سید مودودی، یہاں بھی یہی کی ضرورت نہیں ہے۔ نعمت متعین کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ ’اور ہم نے ایّوبؑ کو نعمت دی تھی‘)

”اور ایوب پر بھی (ہم نے رحمت کی)“۔ (امین احسن اصلاحی)

وَإِسْمَاعِیلَ وَإِدْرِیسَ وَذَا الْکِفْلِ۔ (الأنبیاء: 85)

”اور اسمٰعیل اور ادریس اور ذوالکفل (کو بھی یاد کرو) یہ سب صبر کرنے والے تھے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور یہی نعمت اسماعیلؑ اور ادریسؑ اور ذوالکفلؑ کو دی کہ یہ سب صابر لوگ تھے“۔ (سید مودودی، یہی کی ضرورت نہیں ہے۔ ’اوراسماعیلؑ اور ادریسؑ اور ذوالکفلؑ کو بھی نعمت دی‘)

”اور اسماعیل، ادریس اور ذوالکفل پر بھی (ہم نے فضل کیا)“۔(امین احسن اصلاحی)

وَذَا النُّونِ۔ (الأنبیاء: 87)

”اور مچھلی والے کو بھی ہم نے نوازا“۔ (سید مودودی)

”مچھلی والے (حضرت یونس علیہ السلام) کو یاد کرو!“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور ذوالنون پر بھی ہم نے (رحم کیا)“۔ (امین احسن اصلاحی، ’فضل کیا‘ بہتر ہے، جیسا کہ دیگر مقامات پر کیا ہے)

وَزَکَرِیَّا۔ (الأنبیاء: 89)

”اور زکریا (علیہ السلام) کو یاد کرو“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور زکریّاؑ کو“۔ (سید مودودی، یہاں بھی نوازنے کا ذکر کرنا مناسب تھا)

”اور زکریا پر بھی (فضل کیا)“۔(امین احسن اصلاحی)

وَالَّتِی أَحْصَنَتْ فَرْجَہَا فَنَفَخْنَا فِیہَا مِن رُّوحِنَا وَجَعَلْنَاہَا وَابْنَہَا آیَۃً لِّلْعَالَمِینَ۔ (الأنبیاء: 91)

”اور وہ خاتون جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تھی“۔ (سید مودودی، یہ بھی اسی سیاق میں ہے، اس لیے نوازنے کا ذکر ہونا چاہیے تھا)

”اور وہ پاک دامن بی بی جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور اس (پاک دامن بی بی) پر بھی اپنا فضل کیا“۔ (امین احسن اصلاحی)

(341) اعتصام بِاللَّہ کا مفہوم

عاصم کا مطلب ہوتا ہے بچانے والا۔ اعتصم کا مطلب ہوتا ہے بچنے کے لیے کسی چیز کو مضبوطی سے پکڑ لینا: نابغۃ کا شعر ہے:

یظَلّ، من خوفہِ، المَلاحُ مُعتصِمًا
بالخیزرانۃِ، بعدَ الأینِ والنجدِ

”ڈر کے مارے ملاح کشتی کا پچھلا حصہ تھامے رہتا ہے، جب کہ وہ تھکا ہارا عاجز و درماندہ ہوچکا ہوتا ہے۔“

پکڑنے والی چیز کے علاوہ جب یہ کسی بچانے والی ہستی کے لیے استعمال ہوتا ہے تو پکڑنے کا معنی نہیں ہوتا ہے بلکہ سہارا لینا اور رشتہ تھام لینا ہوتا ہے۔ اعتصام بحبل اللہ کا مطلب تو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لینا ہے لیکن اعتصام باللہ کا ترجمہ اللہ کو مضبوطی سے پکڑنا نہیں بلکہ اس کا سہارا لینا اور اس کا رشتہ تھام لینا کیا جائے گا۔ اس وضاحت کے بعد درج ذیل ترجموں پر نظر ڈالیں:

(۱)  وَمَن یَعْتَصِم بِاللَّہِ فَقَدْ ہُدِیَ إِلَیٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِیمٍ۔ (آل عمران: 101)

”جو اللہ کا دامن مضبوطی کے ساتھ تھامے گا وہ ضرور راہ راست پالے گا“۔ (سید مودودی)

”اور جس نے اللہ کا سہارا لیا تو ضرور وہ سیدھی راہ دکھایا گیا“۔ (احمد رضا خان)

”جو شخص اللہ تعالیٰ (کے دین) کو مضبوط تھام لے تو بلاشبہ اسے راہ راست دکھادی گئی“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور جس نے خدا (کی ہدایت کی رسی) کو مضبوط پکڑ لیا وہ سیدھے رستے لگ گیا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور جو اللہ کو مضبوطی سے پکڑے گا تو وہی ہے جس کو صراط مستقیم کی ہدایت ملی“۔ (امین احسن اصلاحی، ’وہی ہے‘ نہیں رہے گا۔ ’اس کو‘ رہے گا)

(۲)   وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّہِ جَمِیعًا۔ (آل عمران: 103)

”اور سب مل کر خدا کی (ہدایت کی رسی) کو مضبوط پکڑے رہنا“۔(فتح محمد جالندھری)

”سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو“۔ (سید مودودی)

”اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو“۔ (محمد جوناگڑھی)

(۳)  وَاعْتَصِمُوا بِاللَّہِ۔ (النساء: 146)

”اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھیں“۔ (محمد جوناگڑھی، اعتصام کا مطلب کامل یقین رکھنا نہیں ہے)

”اور اللہ کا دامن تھام لیں“۔ (سید مودودی)

”اور خدا (کی رسی) کو مضبوط پکڑا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور اللہ کی رسی مضبوط تھامی“۔ (احمد رضا خان)

(۴)  فَأَمَّا الَّذِینَ آمَنُوا بِاللَّہِ وَاعْتَصَمُوا بِہِ۔ (النساء: 175)

”اب جو لوگ اللہ کی بات مان لیں گے اور اس کی پناہ ڈھونڈیں گے“۔ (سید مودودی، پناہ ڈھونڈنے کے لیے یہ لفظ نہیں آتا ہے، ’سہارا لیں گے‘ ہونا چاہیے۔)

”تو وہ جو اللہ پر ایمان لائے اور اس کی رسی مضبوط تھامی“۔(احمد رضا خان)

”پس جو لوگ خدا پر ایمان لائے اور اس (کے دین کی رسی) کو مضبوط پکڑے رہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”پس جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اسے مضبوط پکڑ لیا“۔ (محمد جوناگڑھی)

(۵)  وَاعْتَصِمُوا بِاللَّہِ۔ (الحج: 78)

”اور اللہ کو مضبوط پکڑو“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور اللہ سے وابستہ ہو جاؤ“۔ (سید مودودی)

”اور اللہ کو مضبوط تھام لو“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور اللہ کی رسی مضبوط تھام لو“۔ (احمد رضا خان)

”اور اللہ کا سہارا لیے رہو“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

ان تمام ترجموں میں اللہ کا سہارا لینا، اللہ کی رسی مضبوط تھامنا، اللہ سے وابستہ ہوجانا، اللہ کا دامن تھام لینا وغیرہ درست ترجمے ہیں۔

اللہ کو پکڑنا مناسب ترجمہ نہیں ہے۔

اسی طرح اللہ کے دین کو پکڑنا یا اللہ کی ہدایت کی رسی کو پکڑنا بھی اس لفظ کو محدود کردیتا ہے۔ دین و ہدایت اعتصام باللہ کا تقاضا ضرور ہے، لیکن اس لفظ کی خاص معنویت ہے۔ اس سے یہاں خطرات کو محسوس کرنا، اپنے بچاؤ کی فکر کرنا اور بچنے کے لیے اللہ کا سہارا لینا مراد ہے۔ انسان یہ سمجھے کہ اس دنیا میں اللہ کا سہارا ہی اصل سہارا ہے اور اس سے بے نیاز ہونا بڑی نادانی ہے۔


قرآن / علوم قرآن

(جون ۲۰۲۲ء)

تلاش کریں

Flag Counter