اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۶۹)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(218) اذا  الفجائیۃ والے جملے کا ترجمہ

اذا کی ایک قسم وہ ہے جسے اذا فجائیہ کہا جاتا ہے، یہ درست ہے کہ اس کا نام فجائیہ ہے، اذا میں ایک طرح کا تحیر کا عنصر تو پایا جاتا ہے، لیکن اس کے مفہوم میں ضروری نہیں ہے کہ اچانک واقع ہوجانے کا مفہوم بھی ہو۔ شاعر کہتا ہے:

کم تمنیت لی صدیقا صدوقا
فاذا انت ذلک المتمنی

(میں نے ایک سچے دوست کی کتنی تمنا کی تھی، تو ایسا ہوا کہ تم وہ ہوئے جس کی میں نے تمنا کی تھی)

یہاں تحیر آمیز مسرت ہے تو ہے، مگر یکایک ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔

کبھی اذا کے بعد مذکور بات یکایک اور فورا پیش آنے والی بات بھی ہوسکتی ہے، ایسی صورت میں ترجمے میں اس کا اظہار بھی ہوسکتا ہے لیکن یہ ہمیشہ ضروری نہیں ہے۔تراجم کا جائزہ لیتے وقت ہم دیکھتے ہیں کہ بعض مترجمین یکایک، دفعة ، فورا ، جبھی، ایک دم اور جھٹ سے جیسے الفاظ وہاں استعمال کرتے ہیں جہاں ان کا محل ہی نہیں ہوتا ہے، اس کی وجہ شاید یہ تصور ہے کہ اذا فجائیہ میں بغتۃ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ لیکن ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ وہی مترجمین بعض دوسرے مقامات پر اس کی رعایت بھی کرتے ہیں۔مثال کے طور پر نیچے دی گئی مثالوں میں سے پہلی مثال میں یکایک کا کوئی محل نہیں ہے، پھر بھی یکایک کا ذکر کردیا گیا، دوسری مثال میں بھی اس کا محل نہیں ہے اور وہاں ذکر نہیں کیا گیا۔دراصل گنجائش ہوتے ہوئے ذکر نہ کرنے سے کوئی معنوی خرابی پیدا نہیں ہوتی ہے، لیکن جہاں محل نہ ہو وہاں اس طرح کے الفاظ ذکر کرنے سے معنوی خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔اس کا اندازہ پہلی مثال کے دونوں ترجموں میں موازنہ کرنے سے ہوجاتا ہے۔ذیل میں دی گئی باقی مثالوں میں بھی اس پہلو سے دونوں طرح کے ترجموں میں موازنہ کیا جاسکتا ہے۔ایک اور امر قابل توجہ ہے وہ یہ کہ اذا فجائیہ کا ترجمہ مستقبل کا نہیں کیا جاتا ہے، بلکہ حال کا کیا جاتا ہے، مستقبل کا ترجمہ اذا شرطیہ کا کیا جاتا ہے، نیچے مثال نمبر چھ اور سات میں مستقبل کا ترجمہ کردیا گیا ہے جو درست نہیں ہے۔

(1)  الَّذِي جَعَلَ لَكُم مِّنَ الشَّجَرِ الْأَخْضَرِ نَارًا فَإِذَا أَنتُم مِّنْہُ تُوقِدُونَ (یس: 80)

”وہی جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کر دی جس سے تم یکایک آگ سلگاتے ہو“۔ (محمد جوناگڑھی)

”وہی جس نے تمہارے لیے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کر دی اور تم اس سے اپنے چولہے روشن کرتے ہو“۔ (سید مودودی)

(2) حَتَّی إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاھُم بَغْتَۃً فَإِذَا ھُم مُّبْلِسُونَ  (الانعام: 44)

” یہاں تک کہ جب وہ اُن بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں خوب مگن ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ وہ ہر خیر سے مایوس تھے“۔ (سید مودودی)

”یہاں تک کہ جب ان چیزوں پر جو کہ ان کو ملی تھیں وہ خوب اترا گئے ہم نے ان کو دفعتاً پکڑ لیا، پھر تو وہ بالکل مایوس ہوگئے“۔ (محمد جوناگڑھی)

(3) إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّھُمْ طَائِفٌ مِّنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا ھُم مُّبْصِرُونَ  (الاعراف: 201)

”حقیقت میں جو لو گ متقی ہیں اُن کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال اگر انہیں چھو بھی جاتا ہے تو وہ فوراً چوکنے ہو جاتے ہیں اور پھر انہیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ ان کے لیے صحیح طریق کار کیا ہے“۔ (سید مودودی)

”یقیناً جو لوگ خدا ترس ہیں جب ان کو کوئی خطرہ شیطان کی طرف سے آجاتا ہے تو وہ یاد میں لگ جاتے ہیں، سو یکایک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”جو لوگ خدا ترس ہیں جب ان کو کوئی شیطانی چھوت لاحق ہونے لگتی ہے وہ خدا کا دھیان کرتے ہیں اور دفعة ان کو دکھائی دینے لگتا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

(4) وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَی ثَمُودَ أَخَاھُمْ صَالِحًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـہَ فَإِذَا ھُمْ فَرِيقَانِ يَخْتَصِمُونَ (النمل: 45)

”یقیناً ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ تم سب اللہ کی عبادت کرو پھر بھی وہ دو فریق بن کر آپس میں لڑنے جھگڑنے لگے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور ثمود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالح کو (یہ پیغام دے کر) بھیجا کہ اللہ کی بندگی کرو، تو یکایک وہ دو متخاصم فریق بن گئے“۔ (سید مودودی)

(5) وَآيَۃٌ لَّھُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْہُ النَّھَارَ فَإِذَا ھُم مُّظْلِمُونَ (یس: 37)

”اِن کے لیے ایک اور نشانی رات ہے، ہم اُس کے اوپر سے دن ہٹا دیتے ہیں تو اِن پر اندھیرا چھا جاتا ہے“۔ (سید مودودی)

”اور ان کے لیے ایک نشانی رات ہے جس سے ہم دن کو کھینچ دیتے ہیں تو وہ یکایک اندھیرے میں رہ جاتے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور ان کے لیے ایک بہت بڑی نشانی رات ہے۔ ہم اس سے دن کو کھینچ لیتے پس وہ دفعتا اندھیرے میں رہ جاتے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

(6) وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَإِذَا ھُم مِّنَ الْأَجْدَاثِ إِلَی رَبِّھِمْ يَنْسِلُونَ (یس: 51)

”پھر ایک صور پھونکا جائے گا اور یکایک یہ اپنے رب کے حضور پیش ہونے کے لیے اپنی قبروں سے نکل پڑیں گے“۔ (سید مودودی)

”اور پھونکا جائے گا صور جبھی وہ قبروں سے اپنے رب کی طرف دوڑتے چلیں گے“۔ (احمد رضا خان)

”پھر ایک صور پھونکا جائے گا اوریہ اپنے رب کے حضور پیش ہونے کے لیے اپنی قبروں سے نکل پڑے“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(7) إِن كَانَتْ إِلَّا صَيْحَۃً وَاحِدَۃً فَإِذَا ھُمْ جَمِيعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُونَ (یس: 53)

”ایک ہی زور کی آواز ہو گی اور سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کر دیے جائیں گے“۔ (سید مودودی)

”یہ نہیں ہے مگر ایک چیخ کہ یکایک سارے کے سارے ہمارے سامنے حاضر کر دیئے جائیں گے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”ایک ہی زور کی آواز ہو گی اور سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کر دیے گئے“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(8) خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَۃٍ فَإِذَا ھُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ (النحل: 4)

”(اس نے) آدمی کو ایک نِتھری بوند سے بنایا تو جبھی کھلا جھگڑالو ہے“۔ (احمد رضا خان، یہاں جبھی کا لفظ بے محل معلو م ہوتا ہے)

”اس نے انسان کو نطفے سے پیدا کیا پھر وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اس نے انسان کو نطفہ (پانی کی ایک بوند) سے پیدا کیا پھر وہ ایک دم کھلم کھلا جھگڑالو بن گیا“۔(محمد حسین نجفی)

(9) أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاہُ مِن نُّطْفَۃٍ فَإِذَا ھُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ (یس: 77)

”کیا انسان کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا ہے؟ پھر یکایک وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”کیا انسان دیکھتا نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ صریح جھگڑالو بن کر کھڑا ہو گیا؟“۔ (سید مودودی)

”اور کیا آدمی نے نہ دیکھا کہ ہم نے اسے پانی کی بوند سے بنایا جبھی وہ صریح جھگڑالو ہے“۔ (احمد رضا خان، یہاں جبھی کا لفظ بے محل معلوم ہوتا ہے)

(10) فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْھُمُ الرِّجْزَ إِلَی أَجَلٍ ھُم بَالِغُوہُ إِذَا ھُمْ يَنكُثُونَ (الاعراف: 135)

”مگر جب ہم ان پر سے اپنا عذاب ایک وقت مقرر تک کے لیے، جس کو وہ بہرحال پہنچنے والے تھے، ہٹا لیتے تو وہ یکلخت اپنے عہد سے پھر جاتے“۔ (سید مودودی)

”پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے تو وہ عہد کو توڑ ڈالتے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”پھر جب ان سے اس عذاب کو ایک خاص وقت تک کہ اس تک ان کو پہنچنا تھا ہٹا دیتے، تو وہ فوراً ہی عہد شکنی کرنے لگتے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”تو جب ہم ان سے دور کردیتے آفت کو کچھ مدت کے لیے جس تک وہ پہنچنے والے ہوتے تو وہ دفعة عہد توڑ دیتے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”تو جب ہم نے ان سے عذاب کو ہٹادیا کچھ مدت کے لیے جس کو انھیں پورا کرنا تھا تو ایسا ہوا کہ وہ عہد توڑنے لگے“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(11) وَمِنْھُم مَّن يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ فَإِنْ أُعْطُوا مِنْھَا رَضُوا وَإِن لَّمْ يُعْطَوْا مِنْھَا إِذَا ھُمْ يَسْخَطُونَ (التوبۃ: 58)

”ان میں وہ بھی ہیں جو خیراتی مال کی تقسیم کے بارے میں آپ پر عیب رکھتے ہیں، اگر انہیں اس میں سے مل جائے تو خوش ہیں اور اگر اس میں سے نہ ملا تو فوراً بگڑ کھڑے ہوئے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اے نبی، ان میں سے بعض لوگ صدقات کی تقسیم میں تم پر اعتراضات کرتے ہیں اگر اس مال میں سے انہیں کچھ دے دیا جائے تو خو ش ہو جائیں، اور نہ دیا جائے تو بگڑنے لگتے ہیں“۔ (سید مودودی)

(12) فَلَمَّا أَنجَاھُمْ إِذَا ھُمْ يَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ (یونس: 23)

”پھر جب اللہ تعالیٰ ان کو بچالیتا ہے تو فوراً ہی وہ زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”مگر جب وہ ان کو بچا لیتا ہے تو پھر وہی لوگ حق سے منحرف ہو کر زمین میں بغاوت کرنے لگتے ہیں“۔ (سید مودودی)

(13) فَلَمَّا نَجَّاھُمْ إِلَی الْبَرِّ إِذَا ھُمْ يُشْرِكُونَ (العنکبوت: 65)

”پھر جب وہ اِنہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو یکایک یہ شرک کرنے لگتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”لیکن جب وہ اُن کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو جھٹ شرک کرنے لگے جاتے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”پس جب وہ ان کو خشکی کی طرف نجات دے دیتا ہے تو پھر وہ اس کے شریک ٹھیرانے لگتے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

(14) وَإِن تُصِبْھُمْ سَيِّئَۃً بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيھِمْ إِذَا ھُمْ يَقْنَطُونَ (الروم: 36)

” اور جب ان کے اپنے کیے کرتوتوں سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یکایک وہ مایوس ہونے لگتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”اور اگر اُن کے عملوں کے سبب جو اُن کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں کوئی گزند پہنچے تو نااُمید ہو کر رہ جاتے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور اگر ان کے اعمال کے سبب سے ان کو کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو وہ فورا مایوس ہوجاتے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

(15) فَإِذَا أَصَابَ بِہِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِہِ إِذَا ھُمْ يَسْتَبْشِرُونَ  (الروم: 48)

”یہ بارش جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے برساتا ہے تو یکایک وہ خوش و خرم ہو جاتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”پھر جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے اُسے برسا دیتا ہے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

(16) وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِہِ إِذَا ھُمْ يَسْتَبْشِرُونَ۔ (الزمر: 45)

”اور جب اُس کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو یکایک وہ خوشی سے کھل اٹھتے ہیں“۔ (سید مودودی)

” اور جب اس کے سوا (اور کا) ذکر کیا جائے تو ان کے دل کھل کر خوش ہو جاتے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

(17) فَلَمَّا جَاءَھُم بِآيَاتِنَا إِذَا ھُم مِّنْھَا يَضْحَكُونَ (الزخرف: 47)

”پھر جب اُس نے ہماری نشانیاں ان کے سامنے پیش کیں تو وہ ٹھٹھے مارنے لگے“۔ (سید مودودی)

(18) فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْھُمُ الْعَذَابَ إِذَا ھُمْ يَنكُثُونَ (الزخرف: 50)

”پھر جب ہم نے وہ عذاب ان سے ہٹالیا انہوں نے اسی وقت اپنا قول وقرار توڑ دیا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”سو جب ہم نے ان سے عذاب کو دور کردیا تو وہ عہد شکنی کرنے لگے“۔ (فتح محمد جالندھری)

(جاری)

قرآن / علوم قرآن