اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۶٠)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۳۸۱)    ارسال کا ایک مفہوم

ارسال کے ایک سے زیادہ معنی آتے ہیں، فیروزابادی لکھتے ہیں:

والارسالُ: التَّسلیطُ، والطلاقُ، والاِہمالُ، والتَّوجِیہُ۔ (القاموس المحیط)

راغب اصفہانی لکھتے ہیں:

وقد یکون ذلک بالتّخلیۃ، وترک المنع۔ (المفردات فی غریب القرآن، ص: 353)

گویا ارسال کے معنی بھیجنے کے تو آتے ہی ہیں، آزاد کردینے، پابندی ہٹانے اور چھوڑ دینے کے بھی آتے ہیں۔

قرآن مجید میں یہ لفظ بھیجنے کے معنی میں تو بہت استعمال ہوا ہے، عام طور سے اس وقت اس کے ساتھ الی لگتا ہے، سیاق کلام سے بھی وہ مطلب واضح ہوتا ہے۔ تاہم بعض مقامات پر سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ بھیجنے کے بجائے پابندی ہٹانے اور چھوڑ دینے کا مفہوم اختیار کرنازیادہ مناسب ہے ۔ یہاں اسی حوالے سے کچھ آیتوں پر گفتگو کی جائے گی۔

ذیل کی آیتوں میں اس مطالبے کا ذکر ہے جو موسی علیہ السلام نے فرعون کے سامنے بنی اسرائیل کے تعلق سے کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ وہ مطالبہ بنی اسرائیل کو کہیں بھیجنے کا نہیں تھا، بلکہ انہیں غلامی کے طوق سے آزاد کرنے، ان پر لگی پابندیوں کو ہٹانے، اور وہ جہاں جانا چاہیں جانے کی اجازت دینے کا تھا۔

ایک دوسرے مقام پر یہ بات دوسرے لفظوں میں کہی گئی ہے، وہاں: ان ادُّوا اِلَیَّ عِبَادَ اللَّہِ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔

وَلَقَدفَتَنَّا قَبلَہُم قَومَ فِرعَونَ وَجَاءہُم رَسُول کَرِیم ۔ ان ادُّوا اِلَیَّ عِبَادَ اللَّہِ اِنِّی لَکُم رَسُول امِین۔ (الدخان: 17، 18)

”ہم اِن سے پہلے فرعون کی قوم کو اِسی آزمائش میں ڈال چکے ہیں اُن کے پاس ایک نہایت شریف رسول آیا، اور اس نے کہا اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو، میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں“۔ (سید مودودی)

اس آیت میں بہت واضح طور پر موسی علیہ السلام کے مطالبے کو بیان کردیا ہے، کہ وہ بنی اسرائیل کو آزادی دینے کا تھا۔

اہل ترجمہ کے یہاں مذکورہ ذیل مقامات پر ملے جلے ترجمے ملتے ہیں۔ ایک ہی مترجم نے مختلف مقامات پر مختلف ترجمے کیے ہیں۔ بہرحال سیاق کلام صاف بتارہا ہے یہاں پر ارسال کا معنی آزادی دینے اور پابندی ہٹادینے کے ہیں، اس پر مزید یہ کہ ان مقامات پر الی نہیں ہے۔

فَارسِل مَعِیَ بَنِی اِسرَائِیلَ۔ (الاعراف: 105)

”پس بھیج دے ساتھ میرے بنی اسرائیل کو“۔ (شاہ رفیع الدین)

”لہٰذا تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے “۔(سید مودودی)

”سو تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے“ ۔(اشرف علی تھانوی)

”سو تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے “۔(محمد جوناگڑھی)

”تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ چھوڑ دے “۔(احمد رضا خان)

وَلَنُرسِلَنَّ مَعَکَ بَنِی اِسرَائِیلَ۔ (الاعراف: 134)

”اور البتہ بھیج دیں گے ہم ساتھ تیرے بنی اسرائیل کو“۔ (شاہ رفیع الدین)

”اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے“۔ (سید مودودی)

”اور ہم بنی اسرائیل کو بھی رہا کرکے آپ کے ہم راہ کردیں گے“۔ (اشرف علی تھانوی)

”اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ جانے (کی اجازت) دیں گے“۔ (فتح محمد جالندھری)

فَارسِل مَعَنَا بَنِی اِسرَائِیلَ وَلَا تُعَذِّبہُم۔ (طہ: 47)

”سو بھیج دے ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو اور نہ ستا ان کو“۔ (شاہ عبدالقادر)

”تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے، ان کی سزائیں موقوف کر“۔ (محمد جوناگڑھی)

”بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لیے چھوڑ دے اور ان کو تکلیف نہ دے“۔ (سید مودودی)

”تو اولاد یعقوب کو ہمارے ساتھ چھوڑ دے اور انہیں تکلیف نہ دے “۔(احمد رضا خان)

ان ارسِل مَعَنَا بَنِی اِسرَائِیلَ۔ (الشعراء: 17)

”کہ بھیج دے ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو“۔ (شاہ عبدالقادر)

”کہ تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو روانہ کردے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے“۔ (سید مودودی)

”کہ تو ہما رے ساتھ بنی اسرائیل کو چھوڑ دے “۔(احمد رضا خان)

علاوہ ازیں درج ذیل آیت میں بھی ارسال بھیجنے کے معنی میں نہیں بلکہ پابندی اور رکاوٹ ہٹانے کے معنی میں ہے، کیوں کہ اس کے بالمقابل امساک یعنی روک لگانے کا ذکر ہے۔

مَا یَفتَحِ اللَّہُ لِلنَّاسِ مِن رَحمَۃ فَلَا مُمسِکَ لَہَا وَمَا یُمسِک فَلَا مُرسِلَ لَہُ مِن بَعدِہِ۔ (فاطر: 2)

”جو کچھ کھول دیوے اللہ واسطے لوگوں کے رحمت سے پس نہیں بند کرنے والا واسطے اس کے اور جو کچھ بند کر لیوے پس نہیں چھوڑ دینے والا واسطے اس کے“۔ (شاہ رفیع الدین)

”اور جو روک رکھے تو کوئی نہیں اس کو بھیجنے والا“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اور جسے وہ بند کر دے اسے اللہ کے بعد پھر کوئی دوسرا کھولنے والا نہیں “۔(سید مودودی)

”اور جس کو روک دے اس کا کوئی بھیجنے والا نہیں ہے“۔ (جوادی)

”اور جو کچھ روک لے تو اس کی روک کے بعد اس کا کوئی چھوڑنے والا نہیں“۔ (احمد رضا خان)

(۴۸۱)    ذرا  کا معنی

ذرا کا ترجمہ بہت سے لوگ بہت سے مقامات پر پیدا کرنا کرتے ہیں، اور اسے خلق کا ہم معنی سمجھتے ہیں، بہت سی عربی تفسیروں سے بھی یہی خیال ظاہر ہوتا ہے۔ تاہم اگر اس لفظ کا جائزہ لیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مطلب صرف پیدا کردینا نہیں بلکہ پیدا کرکے بکھیردینا اور پھیلادینا ہے۔ ابن عطیہ لکھتے ہیں:

وذَرَا معناہ خلق وانشا وبث فی الارض۔ (المحرر الوجیز)

زمخشری لکھتے ہیں:

یَذرَوکُم یکثرکم، یقال: ذرا اللہ الخلق: بثہم وکثرہم. والذر، والذرو، والذرء: اخوات۔ (الکشاف)

دوسری جگہ لکھتے ہیں:

ذَرَاکُم خلقکم وبثکم بالتناسل۔ (الکشاف)

ابن عاشور لکھتے ہیں:

معنی: ذراانشا شیئا وکثرہ۔ (التحریر والتنویر)

ذرا مختلف ہے خلق سے، یہ حقیقت قرآن مجید میں دونوں لفظوں کے استعمال سے بھی ملتی ہے۔

قرآن مجید میں خلق کے ساتھ کہیں بھی فی الارض نہیں آیا ہے، جب کہ ذرا کے ساتھ زیادہ تر فی الارض آیا ہے۔ فی الارض درج ذیل تین مقامات پر بث کے ساتھ بھی آیا ہے:

وَمَا بَثَّ فِیہِمَا مِن دَابَّۃ۔ (الشوری: 29)

وَبَثَّ فِیہَا مِن کُلِّ دَابَّۃ۔ (البقرة: 164)

وَبَثَّ فِیہَا مِن کُلِّ دَابَّۃ۔ (لقمان: 10)

اس سے واضح ہوتا ہے کہ خلق کے مقابلے میں ذرا زیادہ قریب بثّ سے ہے، اور بثّ کے معنی تو سب کے نزدیک پھیلانے کے ہوتے ہیں۔

بہرحال ،ذیل کے ترجموں کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی مترجمین نے ملا جلا رویہ اختیار کیا ہے:

وَجَعَلُوا لِلَّہِ مِمَّا ذَرَا مِنَ الحَرثِ وَالانعَامِ نَصِیبًا۔ (الانعام: 136)

”اور کیا انہوں نے واسطے اللہ کے اس چیز سے کہ پیدا کیا ہے کھیتیوں سے اور جانوروں سے ایک حصہ“۔ (شاہ رفیع الدین)

”اور ٹھیراتے ہیں اللہ کا اس کے لیے پیدا کی کھیتی اور مواشی میں ایک حصہ“ ۔(شاہ عبدالقادر)

”اِن لوگوں نے اللہ کے لیے خود اُسی کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے“۔ (سید مودودی)

اس مقام پر سب نے پیدا کرنا ترجمہ کیا ہے، جب کہ لفظ کی رعایت کرتے ہوئے یہاں ذرا کا ترجمہ پھیلانا کیا جاسکتا ہے۔

”اِن لوگوں نے اللہ کے لیے خود اُسی کی پھیلائی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے“۔

قُل ہُوَ الَّذِی ذَرَاکُم فِی الارضِ وَاِلَیہِ تُحشَرُونَ۔ (الملک: 24)

”کہ وہ ہی ہے جن نے پھیلایا تم کو بیچ زمین کے اور طرف اسی کے اکٹھے کیے جاؤ گے“۔ (شاہ رفیع الدین)

”تو کہ وہی ہے جس نے کہنڈایا تم کو زمین میں اور اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤگے “۔(شاہ عبدالقادر)

”اِن سے کہو، اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے “۔(سید مودودی)

سابقہ مقام کے برعکس یہاں سب نے پھیلانا یا اس سے قریب تر لفظ سے ترجمہ کیا ہے۔

جَعَلَ لَکُم مِن انفُسِکُم ازوَاجًا وَمِنَ الانعَامِ ازوَاجًا یَذرَوکُم فِیہِ  (الشوری: 11)

”پھیلاتا ہے تم کو بیچ اسی کارخانے کے“۔ (شاہ رفیع الدین)

”بکھیرتا ہے تم کو اسی طرح“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اور اِس طریقہ سے وہ تمہاری نسلیں پھیلاتا ہے“ ۔(سید مودودی)

یہاں بھی سب لوگ پھیلانا یا اس سے قریب تر لفظ سے ترجمہ کرتے ہیں۔

جب کہ درج ذیل مقامات پر ملے جلے ترجمے ملتے ہیں، کبھی تو ایک ہی مترجم کے یہاں ایک جیسے دو مقامات پر الگ الگ ترجمے ملتے ہیں:

وَمَا ذَرَا لَکُم  فِی الارضِ مُختَلِفًا الوَانُہُ۔ (النحل: 13)

”اور جو کچھ پھیلادیا ہے واسطے تمہارے بیچ زمین کے“۔ (شاہ رفیع الدین)

”اور جو بکھیرا ہے تمہارے واسطے زمین میں“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اور یہ جو بہت سی رنگ برنگ کی چیزیں اس نے تمہارے لیے زمین میں پیدا کر رکھی ہیں“۔ (سید مودودی)

”اور وہ جو تمہارے لیے زمین میں پیدا کیا رنگ برنگ “۔(احمد رضا خان)

”اور جو طرح طرح کے رنگوں کی چیزیں اس نے زمین میں پیدا کیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور بھی بہت سی چیزیں طرح طرح کے رنگ روپ کی اس نے تمہارے لیے زمین پر پھیلا رکھی ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

وَھُوَ الَّذِی ذَرَاکُم فِی الارضِ وَاِلَیہِ تُحشَرُونَ۔ (المومنون: 79)

”اور وہ ہے جس نے پھیلایا تم کو بیچ زمین کے اور طرف اسی کے اکھٹے کیے جاؤ گے “۔(شاہ رفیع الدین)

”اور اس نے تم کو بکھیر رکھا ہے زمین میں اور اسی کی طرف جمع ہوکر جاؤ گے“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اور وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں پیدا کیا اور اسی کی طرف تم جمع ہو کر جاؤ گے“۔ (فتح محمد جالندھری)

وَلَقَد ذَرَانَا لِجَہَنَّمَ کَثِیرًا مِنَ الجِنِّ وَالاِنسِ۔ (الاعراف: 179)

”اور البتہ تحقیق پیدا کیے ہم نے واسطے دوزخ کے بہت جنوں سے اور آدمیوں سے“۔ (شاہ رفیع الدین)

”اور ہم نے پھیلا رکھے ہیں دوزخ کے واسطے بہت جن اور آدمی “۔(شاہ عبدالقادر)

”اور ہم نے ایسے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیدا کیے ہیں“۔ (اشرف علی تھانوی)

”اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے “۔(سید مودودی)

”اور بیشک ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیے بہت جن اور آدمی“۔ (احمد رضا خان)

”اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیدا کیے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

دراصل ذرا کے اندر خلق سے زائد مفہوم پایا جاتا ہے، یعنی پیدا کرنا اور پھر زمین میں پھیل جانے کا نظم وانتظام کرنا۔زمین میں مخلوقات کا اللہ کے انتظام کے تحت پھیلنا اللہ کی قدرت کا ایک ایمان افروز مظہر ہے، جس پر غور کرنے کی طرف ذرا کا لفظ خصوصی طور سے متوجہ کرتا ہے۔ ترجمے میں اس کا اظہار کرنا ہی مناسب ہے۔

(جاری)

قرآن / علوم قرآن

Flag Counter