اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۵۵)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(165) جواب امر پر عطف یا مستقل جملہ؟

درج ذیل دونوں آیتوں پر غور کریں،

قَاتِلُوہُم یُعَذِّبہُمُ اللَّہُ بِایدِیکُم وَیُخزِھِم وَیَنصُرکُم عَلَیھم وَیَشفِ صُدُورَ قَومٍ مُومِنِینَ۔ وَیُذہِب غَیظَ قُلُوبِہِم وَیَتُوبُ اللَّہُ عَلَی مَن یَشَاء وَاللَّہُ عَلِیم حَکِیم۔(التوبة: 14، 15)

قَاتِلُوھُم کے بعد جواب امر ہے، اور اس کے بعد چار جملے ہیں جو جواب امر پر معطوف ہیں، ان کی ہیئت ان کی اعرابی حالت پر واضح دلالت کررہی ہے۔ ان پانچ جملوں کے بعد ایک اور جملہ آتا ہے، وَیَتُوبُ اللَّہُ عَلَی مَن یَشَاء، اس کے ساتھ بھی واو لگا ہوا ہے، لیکن اس کی ہیئت ایسی نہیں ہے کہ اسے جواب امر مانا جائے۔ یہاں یتوب فعل مضارع اصلی ہے۔ جواب امر ہوتا تو یتب ہوتا، مزید برآں اس جملے میں اللہ کے نام کا ذکر ہے ، اس سے پہلے چار جملوں میں ضمیر کا استعمال ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ایک مستقل جملہ ہے، اس لیے اس کا ترجمہ اس طرح ہونا چاہیے کہ یہ مستقل جملہ معلوم ہو۔ چونکہ یہ مستقل جملہ ہے، اس لیے اس کے فعل مضارع کا ترجمہ بنا قرینے کے مستقبل والا کرنا مناسب نہیں ہے۔ جملے کی ہیئت اور معنی کی وسعت دونوں کا تقاضا ہے کہ یتوب کا ترجمہ “مہربانی کرے گا“ کے بجائے “مہربانی کرتا ہے” کیا جائے۔جب فعل اپنی اصلی حالت میں ہے اور تمام زمانوں کا احاطہ کررہاہے تو اسے صرف مستقبل میں محدود کیوں کیا جائے؟

نیچے چھ ترجمے ذکر کیے گئے ہیں جن میں سے پہلے تینوں میں یہ غلطی موجود ہے، اور بعد کے تین ترجمے اس غلطی سے خالی ہیں۔

“ان سے لڑو، اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے گا اور انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے گا اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا اور ان کے قلوب کی جلن مٹا دے گا، اور جسے چاہے گا توبہ کی توفیق بھی دے گا”۔(سید مودودی)

“ان سے (خوب) لڑو۔ خدا ان کو تمہارے ہاتھوں سے عذاب میں ڈالے گا اور رسوا کرے گا اور تم کو ان پر غلبہ دے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا بخشے گا اور ان کے دلوں سے غصہ دور کرے گا اور جس پر چاہے گا رحمت کرے گا”۔ (فتح محمد جالندھری)

“ان سے لڑو، اللہ تعالی کا وعدہ ہے کہ ان کو تمھارے ہاتھوں سزا دے گا اور ان کو ذلیل (وخوار) کرے گا اور تم کو ان پر غالب کرے گا اور بہت سے (ایسے) مسلمانوں کے قلوب کو شفا دے گا اور ان کے قلوب کے غیظ (وغضب) کو دور کرے گا اور جس پر منظور ہوگا اللہ تعالی توجہ بھی فرمادے گا” (اشرف علی تھانوی)

“لڑو ان سے تاعذاب کرے اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں اور رسوا کرے اور تم کو ان پر غالب کرے اور ٹھنڈے کرے دل کتنے مسلمان لوگوں کے اور نکالے ان کے دل کی جلن اور اللہ توبہ دے گا جس کو چاہے گا” (شاہ عبدالقادر، اس میں زیر بحث غلطی تو نہیں ہے البتہ آخری جملے کا مستقبل کا ترجمہ زیادہ مناسب نہیں لگتاہے)

“ان سے تم جنگ کرو اللہ تعالیٰ انہیں تمہارے ہاتھوں عذاب دے گا، انہیں ذلیل ورسوا کرے گا، تمہیں ان پر مدد دے گا اور مسلمانوں کے کلیجے ٹھنڈے کرے گا اور ان کے دل کا غم وغصہ دور کرے گا، اور وہ جس کی طرف چاہتا ہے رحمت سے توجہ فرماتا ہے”۔ (محمد جوناگڑھی، ترجمہ درست ہے مگر اللہ کی جگہ وہ ضمیرذکر کرنا درست نہیں ہے)

“تو ان سے لڑو اللہ انہیں عذاب دے گا تمہارے ہاتھوں اور انہیں رسوا کرے گا اور تمہیں ان پر مدد دے گا اور ایمان والوں کا جی ٹھنڈا کرے گا،اور ان کے دلوں کی گھٹن دور فرمائے گا اور اللہ جس کی چاہے توبہ قبول فرمائے”۔ (احمد رضا خان)

درج ذیل ترجموں میں اول الذکرتین ترجموں میں ایسا لگتا ہے کہ آخری جملہ بھی جواب امر ہی ہے۔ جبکہ آخر الذکرتینوں ترجموں میں آخری جملے کا ترجمہ الگ طرح سے کیا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری جملہ جواب امر نہیں بلکہ اللہ کی مستقل سنت کا بیان ہے۔

درج ذیل دونوں انگریزی ترجموں میں اول الذکر ترجمے میں الفاظ کی بھرپور رعایت کی گئی ہے۔

Fight them! Allah will chastise them at your hands, and He will lay them low and give you victory over them, and He will heal the breasts of folk who are believers. And He will remove the anger of their hearts. Allah relenteth toward whom He will.(Pickthall)
Make war on them. Allah will chastise them through you and will humiliate them. He will grant you victory over them, and will soothe the bosoms of those who believe, and will remove rage from their hearts, and will enable whomsoever He wills to repent. (Maududi)

توجہ طلب امر یہ بھی ہے کہ زیر نظر مقام پرجملے کے معطوف ہونے کا احساس ایسا غالب رہا کہ لوگوں نے ترجمے میں لفظ اللہ کی جگہ اس کی ضمیراستعمال کی۔ حالانکہ چار معطوف جملوں میں ضمیر ہے اور پانچویں مستقل جملے میں ضمیر کے بجائے اللہ کا لفظ مذکور ہے، ترجمے میں بھی اس کی رعایت ضروری تھی جو بعض مترجمین سے نہیں ہوسکی۔

یہ تفصیل پیچھے گزر چکی ہے کہ تاب علی کا بہتر ترجمہ مہربانی اور رحمت کرنا ہے، نہ کہ توبہ کی توفیق دینا اور معاف کرنا۔

(166) ذو العرش المجید کا ترجمہ

درج ذیل تینوں مقامات پر الکریم اور العظیم، العرش کی صفتیں ہیں، ان پر اعراب کی علامت وہی ہے جو العرش پر ہے، اور اسی لحاظ سے ان کا ترجمہ بھی کیا گیا ہے۔

(1) رَبُّ العَرشِ الکَرِیمِ۔ (المومنون: 116)

“عزت والے عرش کا مالک”۔ (احمد رضا خان)

(2) رَبُّ العَرشِ العَظِیمِ۔ (النمل: 26)

“وہ بڑے عرش کا مالک ہے”۔ (احمد رضا خان)

(3) وَرَبُّ العَرشِ العَظِیمِ۔ (المومنون: 86)

“اور مالک بڑے عرش کا”۔(احمد رضا خان)

لیکن درج ذیل آیت میں المجید عرش کی صفت نہیں ہے، دونوں کی اعرابی حالت مختلف ہے، المجید حالت رفع میں ہے، اس لیے عرش کی صفت نہیں ہوسکتا ، بلکہ ذو العرش یعنی اللہ کی صفت ہے۔ لگتا ہے بعض مترجمین کو اول الذکر تینوں آیتوں سے یہ مغالطہ ہوگیا کہ یہاں بھی عرش کی صفت مذکورہے۔

ذُو العَرشِ المَجِیدُ۔ (البروج: 15)

“مالک تخت کا بڑی شان والا ” (شاہ عبدالقادر)

“عرش کا مالک ہے، بزرگ و برتر ہے”۔ (سید مودودی)

“عرش کا مالک بڑی شان والا”۔ (فتح محمد جالندھری)

“عرش کا مالک عظمت والاہے”۔ (محمد جوناگڑھی)

“عزت والے عرش کا مالک”۔ (احمد رضا خان)

“عرش بریں کا مالک ” (وحید الدین خان)

آخری دونوں ترجمے غلط ہیں۔

انگریزی تراجم میں بھی بہت سے ترجمے اسی غلطی کا شکار ہوئے، بلکہ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ سید مودودی کے ترجمہ کے انگریزی ترجمے میں بھی یہ غلطی آگئی۔

Master of the Honourable Throne.(Ahmad Raza Khan)
- the Lord of the Glorious Throne,(Maududi)
Lord of the Throne of Glory(pickthall)
The Lord of the Glorious Throne,(Wahiduddin Khan)
Lord of the Throne of Glory,(Yusuf Ali)
Lord of the Throne, the Glorious,(Daryabadi)

مذکورہ بالا انگریزی تراجم میں آخری ترجمہ درست ہے۔

فارسی ترجموں میں بھی یہ غلطی کثرت سے نظر آتی ہے۔ ذیل کے ترجمے ملاحظہ کریں:

“صاحب ارجمند عرش”۔ (بہرام پور، خرمشاہی، فولادوند)

“خداوند بزرگوار عرش”۔ (مجتبوی)

“صاحب عرش و دارای مجد و عظمت است”۔ (مکارم شیرازی)

“او خداوند عرش است گرامی قدر” (شاہ ولی اللہ)

آخری دونوں ترجمے درست ہیں۔

ترجمہ کی مذکورہ غلطی کے حق میں یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ایک قراءت المجید میں دال پر زیر کی بھی ہے، کیونکہ یہ تمام ترجمے امت میں رائج مصحف کو سامنے رکھ کر کیے گئے ہیں جس میں دال پر پیش کے ساتھ المجید ہے۔

(167) شقاق بعید کا ترجمہ

قرآن مجید میں ضلال بعید کی تعبیر متعدد مقامات پر آئی ہے، اور سلسلے میں یہ تفصیل گزر چکی ہے کہ ضلال بعید کا ترجمہ“ دور کی گمراہی” درست نہیں ہے بلکہ “گمراہی میں دور نکل جانا” درست ترجمہ ہے۔ اسی طرح شقاق بعید کی تعبیر بھی قرآن مجید میں تین جگہ آئی ہے، اور اس کے مختلف طرح سے ترجمے کیے گئے ہیں، مولانا امانت اللہ اصلاحی کے نزدیک اس کا صحیح ترجمہ مخالفت میں دور نکل جانا ہے۔ذیل کے ترجموں کو دیکھ کر اندازہ ہوگا کہ ایک ہی مترجم نے اس تعبیر کا الگ الگ مقام پر مختلف طرح سے ترجمہ کیا ہے۔

(1) وَانَّ الَّذِینَ اختَلَفُوا فِی الکِتَابِ لَفِی شِقَاقٍ بَعِیدٍ۔ (البقرة: 176)

“اور جن لوگوں نے اس کتاب کے معاملے میں اختلاف کیا ہے وہ مخالفت میں بہت دور نکل گئے”۔ (امین احسن اصلاحی)

“وہ ضرور پرلے سرے کے جھگڑالو ہیں”۔ (احمد رضا خان)

“وہ اپنے جھگڑوں میں حق سے بہت دور نکل گئے”۔ (سید مودودی، دوسرے دونوں مقامات پر اس سے بہتر ترجمہ کیا ہے)

“وہ ضد میں (آکر نیکی سے) دور (ہوگئے) ہیں”۔ (فتح محمد جالندھری)

“یقینا دور کے خلاف میں ہیں”۔ (محمد جوناگڑھی)

(2) وَانَّ الظَّالِمِینَ لَفِی شِقَاقٍ بَعِیدٍ۔ (الحج: 53)

“اور بے شک یہ ظالم اپنی مخاصمت میں بہت دور نکل گئے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی، یہ تلخیص میں ہے ، تدبر میں اس طرح ہے: بہت دور کے جھگڑے میں پڑچکے ہیں)

“بیشک ظالم لوگ گہری مخالفت میں ہیں”۔ (محمد جوناگڑھی)

“حقیقت یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ عناد میں بہت دور نکل گئے ہیں”۔ (سید مودودی)

“اور بیشک ستمگار دُھرکے (پرلے درجے کے) جھگڑالو ہیں”۔ (احمد رضا خان)

“بےشک ظالم پرلے درجے کی مخالفت میں ہیں” (فتح محمد جالندھری)

(3) مَن اَضَلُّ مِمَّن ھُوَ فِی شِقَاقٍ بَعِیدٍ۔ (فصلت: 52)

“تو اس سے بڑھ کر گمراہ کون ٹھہرے گا جو ایک نہایت دور رس مخالفت میں جاپڑا”۔ (امین احسن اصلاحی)

“تو اُس شخص سے بڑھ کر بھٹکا ہوا اور کون ہوگا جو اِس کی مخالفت میں دور تک نکل گیا ہو؟” (سید مودودی)

“تو اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو دور کی ضد میں ہے”۔ (احمد رضا خان)

“تو اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو (حق کی) پرلے درجے کی مخالفت میں ہو”۔ (فتح محمد جالندھری)

“بس اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہوگا جو مخالفت میں (حق سے) دور چلا جائے”۔ (محمد جوناگڑھی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی تینوں آیتوں میں فی شقاق بعید کا ترجمہ کرتے ہیں : “مخالفت میں دور نکل گئے”

(168) نُزُل کا ترجمہ

نُزُل  کا لفظ قرآن مجید میں جنت کے لیے بھی آیا ہے اور جہنم کے لیے بھی آیا ہے۔لغت کی کتابوں میں یہ لفظ مطلق مہمانوں کے لیے پیش کردہ سامان ضیافت کے معنی میں ذکر کیا جاتا ہے، کلام عرب کے شواہد سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ ابو الشعر الضبی، موسی بن سحیم کہتا ہے:

وکنا اذا الجبار بالجیش ضافنا
جعلنا القنا والمرھفات لہ نزلا

 مولانا امین احسن اصلاحی کا عام مترجمین سے جدا خیال یہ ہے کہ نزل اس پہلے سامان ضیافت کے لیے ہوتا ہے جو مہمان کی آمد پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس خیال کی تائید میں وہ کلام عرب سے کوئی تائید نہیں پیش کرتے ہیں۔ خود قرآن مجید میں اس لفظ کے استعمالات کو جمع کرکے دیکھیں تو اس خیال کی تردید ہوتی ہے، کیوں کہ جنت اور جہنم کو نزل کہا گیا ہے، اور ان دونوں کو ہمیشہ رہنے کی جگہ بھی بتایا گیا ہے، پھراسے پہلی میزبانی کیسے کہا جائے، اگر جنت یا جہنم کے بعد بھی کہیں اور جانا ہوتا تو جنت یا جہنم کو پہلی میزبانی کہا جاتا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ خود مولانا اصلاحی نے قرآن کے ایسے آٹھ مقامات میں سے اگر تین مقامات پر پہلی میزبانی ترجمہ کیا ہے تو پانچ مقامات پر صرف میزبانی ترجمہ کیا ہے۔

(1) لَکِنِ الَّذِینَ اتَّقَوا رَبَّہُم لَہُم جَنَّات تَجرِی مِن تَحتِہَا الانہَارُ خَالِدِینَ فِیہَا نُزُلًا مِن عِندِ اللَّہِ وَمَا عِندَ اللَّہِ خَیر لِلابرَارِ ۔ (آل عمران: 198)

“البتہ وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لیے ایسے باغ ہوں گے جن میں نہریں بہتی ہوں گی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کی طرف سے ان کے لیے پہلی میزبانی ہوگی”۔ (امین احسن اصلاحی)

“لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ مہمانی ہے اللہ کی طرف سے اور نیک کاروں کے لیے جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہت ہی بہتر ہے”۔ (محمد جوناگڑھی)

(2) انَّا اَعتَدنَا جَہَنَّمَ لِلکَافِرِینَ نُزُلًا ۔ (الکہف: 102)

“ہم نے کافروں کے لیے جہنم بطور ضیافت تیار کر رکھی ہے”۔ (امین احسن اصلاحی، جہنم کی ضیافت زیادہ مناسب ہے)

(3) انَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ کَانَت لَہُم جَنَّاتُ الفِردَوسِ نُزُلًا۔ (الکہف: 107)

“بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے ان کے لیے فردوس کے باغوں کی ضیافت ہے”۔ (امین احسن اصلاحی)

(4) امَّا الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَہُم جَنَّاتُ المَاوَی نُزُلًا بِمَا کَانُوا یَعمَلُونَ۔ (السجدة: 19)

“جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، ان کے لیے راحت کے باغ ہیں، جو ان کو ان کے اعمال کے صلہ میں، اولین سامان ضیافت کے طور پر، حاصل ہوں”۔ (امین احسن اصلاحی،الماوی کا ترجمہ راحت نہیں ہوگا،ٹھیرنے کے باغات درست ترجمہ ہے)

“جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور نیک اعمال بھی کیے ان کے لیے ہمیشگی والی جنتیں ہیں، مہمانداری ہے ان کے اعمال کے بدلے جو وہ کرتے تھے”۔ (محمد جوناگڑھی، الماوی کا ترجمہ ہمیشگی کرنا درست نہیں ہے)

“جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے بسنے کے باغ ہیں، ان کے کاموں کے صلہ میں مہمانداری”۔ (احمد رضا خان)

(5) اَذَلِکَ خَیر نُزُلًا اَم شَجَرَةُ الزَّقُّومِ۔ (الصافات: 62)

“ضیافت کے لیے یہ بہتر ہے یا درخت زقوم؟ ”۔(امین احسن اصلاحی)

“ یہ ضیافت اچھی ہے یا زقوم کا درخت؟ ”۔(سید مودودی، دونوں میں یہ دوسرا ترجمہ زیادہ فصیح ہے)

(6) نُزُلًا مِن غَفُورٍ رَحِیمٍ۔ (فصلت: 32)

“رب غفور رحیم کی طرف سے سامان ضیافت کے طور پر”۔ (امین احسن اصلاحی)

(7) ثُمَّ انَّکُم اَیُّہَا الضَّالُّونَ المُکَذِّبُونَ۔ لَآکِلُونَ مِن شَجَرٍ مِن زَقُّومٍ۔ فَمَالِئُونَ مِنہَا البُطُونَ۔ فَشَارِبُونَ عَلَیہِ مِنَ الحَمِیمِ۔ فَشَارِبُونَ شُربَ الہِیمِ۔ ہَذَا نُزُلُہُم یَومَ الدِّینِ۔ (الواقعة: 51 - 56)

“پھر تم لوگ، اے گمراہو اور جھٹلانے والو زقوم کے درخت میں سے کھاؤ گے اور اسی سے اپنے پیٹ بھروگے پھر اس پر کھولتا ہوا پانی تونسے ہوئے اونٹوں کی طرح پیو گے۔ یہ جزا کے دن ان کی پہلی ضیافت ہوگی۔” (امین احسن اصلاحی)

“جزا کے دن یہ ان کی ضیافت ہوگی۔” (فتح محمد جالندھری)

(8) فَنُزُل مِّن حَمِیمٍ۔ وَتَصلِیَةُ جَحِیمٍ۔ (الواقعة:94-93)

“تو اس کے لیے گرم پانی کی ضیافت اور جہنم کا داخلہ ہے” (امین احسن اصلاحی)


قرآن / علوم قرآن

Flag Counter