اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۱۳)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۷۱) تاثیم کا مطلب

لفظ تاثیم قرآن مجید میں دو مقامات پر آیا ہے، جبکہ لفظ اثم کئی جگہ آیا ہے۔ اثم کا مطلب گناہ ہے۔ اکثر ائمہ لغت نے تاثیم کو بھی اثم کا ہم معنی بتایا ہے۔ (والتَّأثِیمُ: الاثم) مزید برآں انہوں نے باب افعال سے ایثام کا مطلب کسی کو گناہ میں ڈالنا، اور باب تفعیل سے تاثیم کا مطلب کسی پر گناہ کو چسپاں کرنا بتایا ہے، (وآثمہ بالمد: أوقعہ فی الاثم. وأثمَہُ بالتشدید،أی قال لہ: أَثِمْتَ) جبکہ ایک جدید لغت معجم اللغۃ العربیۃ المعاصرۃ میں تاثیم کا مطلب لکھا ہے: ایسا کام جو گناہ کا موجب بنے (عمل یوجب اثمًا)۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ تاثیم کا مطلب مبالغہ اور تکرار کے مفہوم کے اضافے کے ساتھ وہی ہے جو اہل لغت نے ایثام کا بتایا ہے، یعنی گناہ پر اکسانا اور گناہ میں ڈالنا۔ قرآن مجید کے دونوں مقامات پر اس مفہوم کے ساتھ ترجمہ کرنے سے لفظ کی معنویت بڑھ جاتی ہے، اور اثم کی جگہ تاثیم کے استعمال کی حکمت بھی نمایاں ہوجاتی ہے۔

(۱) یَتَنَازَعُونَ فِیْہَا کَأْساً لَّا لَغْوٌ فِیْہَا وَلَا تَأْثِیْمٌ۔ (الطور: ۲۳)

’’ان کے درمیان (ایسی شراب کے) پیالوں کے تبادلے ہورہے ہوں گے جو لغویت اور گناہ سے پاک ہوگی‘‘ (امین احسن اصلاحی)

’’وہاں وہ ایک دوسرے سے جام شراب لپک لپک کر لے رہے ہوں گے جس میں نہ یاوہ گوئی ہوگی نہ بد کرداری‘‘ (سید مودودی)

’’ایک دوسرے سے لیتے ہیں وہ جام جس میں نہ بیہودگی اور نہ گنہگاری‘‘ (احمد رضا خان)

’’وہاں وہ ایک دوسرے سے جام شراب جھپٹ لیا کریں گے جس (کے پینے) سے نہ ہذیان سرائی ہوگی نہ کوئی گناہ کی بات‘‘(فتح محمد جالندھری)

مذکورہ بالا ترجموں میں آخر الذکر ترجمہ کسی حد تک تاثیم کے مفہوم کو ادا کررہا ہے۔

شاہ عبدالقادر کے درج ذیل ترجمہ میں تاثیم کے مفہوم کو بالکل صحیح ادا کیا گیا ہے: ’’جھپٹتے ہیں وہاں پیالہ، نہ بکنا ہے اس شراب میں نہ گناہ میں ڈالنا‘‘۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی نے ترجمہ کیا ہے ’’ان کے درمیان جام کے تبادلے ہورہے ہوں گے جس سے نہ لغویت ہوگی نہ گناہ پر اکساہٹ ہوگی۔‘‘

مذکورہ ذیل انگریزی ترجمہ بھی یہی مفہوم ادا کرتا ہے۔

There they pass from hand to hand a cup wherein is neither vanity nor cause of sin.(Pickthall)

(۲) لَا یَسْمَعُونَ فِیْہَا لَغْواً وَلَا تَأْثِیْماً ۔ (الواقعۃ: ۲۵)

’’اس میں وہ کوئی لغو اور گناہ کی بات نہیں سنیں گے‘‘ (امین احسن اصلاحی)

’’وہاں وہ کوئی بیہودہ کلام یا گناہ کی بات نہ سنیں گے‘‘(سید مودودی)

’’اس میں نہ سنیں گے نہ کوئی بیکار با ت نہ گنہگاری‘‘(احمد رضا خان)

’’وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے اور نہ گالی گلوچ‘‘(فتح محمد جالندھری)

مذکورہ بالا ترجموں سے اثم اور تاثیم کے مفہوم کا فرق ظاہر نہیں ہوتا، مولانا امانت اللہ اصلاحی تاثیم کے مفہوم کو ظاہر کرتے ہوئے ترجمہ کرتے ہیں:’’اس میں وہ کوئی لغو اور گناہ گار کرنے والی بات نہیں سنیں گے‘‘۔

پکتھال نے سورہ طور والی آیت کے ترجمے میں لفظ تاثیم کے لیے ’’گناہ کا سبب بننے‘‘ کا مفہوم اختیار کیا ہے، لیکن یہاں اس مفہوم کو چھوڑ کر ’’گناہ کا الزام عائد کرنے‘‘ کا مفہوم لیا ہے۔ 

There hear they no vain speaking nor recrimination (Pickthall)

شاہ عبدالقادر نے بھی یہاں سورہ طور والی آیت سے مختلف ترجمہ کیا ہے: ’’نہیں سنتے وہاں بکنا اور نہ جھوٹ لگانا‘‘۔

(۷۲) الأخری کا مفہوم

أَفَرَأَیْْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّی۔ وَمَنَاۃَ الثَّالِثَۃَ الْأُخْرَی۔ (النجم:۱۹،۲۰)

شاہ ولی اللہ دہلوی نے الْأُخْرَی  سے درجے میں پیچھے رہ جانے والا مراد لیا ہے، وہ ترجمہ کرتے ہیں ’’آیا دیدید لات را وعزیٰ را ومنات سومی بیقدر را‘‘

صاحب تدبر قرآن نے مذکورہ دونوں آیتوں کا ترجمہ اس طرح کیا:

’’بھلا، کبھی غور کیا ہے لات اور عزیٰ اور منات پر جو تیسری (اور درجہ کے اعتبار سے) دوسری ہے؟‘‘ (امین احسن اصلاحی)

اس ترجمہ میں الْأُخْرَی  کا ترجمہ دوسری اور وہ بھی درجے کے اعتبار سے دوسری کیا ہے۔ یہاں مترجم کو الْأُخْرَی  کا مفہوم طے کرنے میں غلط فہمی ہوگئی۔ لفظ الْأُخْرَی  مؤنث ہے، اس لفظ کا مذکرخ پر زبر کے ساتھ آخَر  بھی ہوتا ہے اور خ پر زیر کے ساتھ آخِر  بھی ہوتا ہے۔ آخَر  خ پر زیر کے ساتھ ہو تو وہ اول کا مقابل ہوتا ہے اور اس کا مطلب ہوتا ہے: بعد والا، اور آخَر  خ پر زبر کے ساتھ ہو تو اس لفظ کے دو محل ہیں۔ اگر دو چیزیں ہوں تو ان میں سے ہر ایک اپنے مقابل کے لحاظ سے آخَر یعنی دوسرا ہے۔ سورہ حجرات میں ہے:

وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَیْْنَہُمَا فَإِن بَغَتْ إِحْدَاہُمَا عَلَی الْأُخْرَی۔ (الحجرات: ۹) 

’’اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں جنگ کریں تو ان کے درمیان صلح کرادو، تو اگر ان میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے‘‘۔۔ یہاں دو گروہ ہیں جن میں سے ہر کوئی دوسرے کے مقابلے میں دوسرا گروہ ہے۔

اس کے علاوہ آخَر غیر کے معنی میں بھی آتا ہے، یعنی مذکورہ چیزوں کے علاوہ ایک اورچیز۔زبیدی لکھتا ہے:

(و) الآخَر: (بفَتْحِ الخاءِ) : أَحَدُ الشّیئین، وَھُوَ اسمٌ علی أَفْعَلَ اِلَّا أَن فِیہِ معْنَی الصِّفَۃِ؛ لأَنّ أَفْعَلَ مِن کَذَا لَا یکُونُ اِلّا فِی الصِّفۃ، کَذَا فِی الصّحاح. (والآخَرُ) بِمَعْنی غَیْرٍ، (کقولکَ: رجلٌ) آخَرُ، وثَوْبٌ آخَرُ. (تاج العروس)

درجے کے اعتبار سے دوسری کے لیے آخَر نہیں بلکہ الثانیۃ آتا ہے۔ زیر نظر آیت میں محل غیر کا ہے، یعنی اس کے سوا ایک اور۔

زیر نظر مقام پر الأخری کو غیر کے معنی میں لیا جائے تو مذکورہ آیتوں کا درست ترجمہ یہ ہے:

’’اب ذرا بتاؤ، تم نے کبھی اِس لات، اور اِس عزیٰ اور تیسری ایک اور دیوی منات کی حقیقت پر کچھ غور بھی کیا؟‘‘ (سید مودودی)

بعض لوگوں نے الأخری کا ترجمہ پچھلا کیا ہے۔

’’بھلا تم دیکھو تو لات اور عزیٰ کو اور منات تیسرا پچھلا‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

’’کیا تم نے لات اور عزیٰ کو دیکھا، اور منات تیسرے پچھلے کو‘‘(محمد جوناگڑھی)

اس ترجمہ میں غالباً الأخری کو خ پر زیر کے ساتھ آخر کا مؤنث مانا ہے، اس کی مثالیں بھی قرآن مجید میں موجود ہیں، جیسے:

قَالَتْ أُخْرَاہُمْ لأُولاَہُمْ (الاعراف: ۳۸) 

’’ان کے پچھلوں نے ان کے اگلوں کے بارے میں کہا‘‘ لیکن زیر نظر آیت میں یہ مفہوم مراد لینا ترجمہ کو پرتکلف اور دشوار بنادیتا ہے۔ 

واقعہ یہ ہے کہ اس تکلف کی ضرورت نہیں ہے۔ الأخری  کو غیر کے مفہوم میں لیں تو ترجمہ بہت سادہ اور واضح ہوجاتا ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی نے ترجمہ یوں کیا ہے:

’’بھلا کبھی تم نے دیکھا ہے لات کو اور عزی کو اور ان کے سوا تیسری منات کو‘‘۔

شیرازی کے فارسی ترجمہ میں بھی یہی مفہوم بیان کیا گیا ہے:

’’آیا خبر دہید مرا بہ لات وعزی ومنات بت سوم دیگر‘‘ (شیرازی)

ربیعہ بن مکدم کا ایک شعر ہے، جو اس آیت کے اسلوب سے بہت قریب ہے:

وَلَقَدْ شَفَعْتُھُمَا بِآخَرَ ثَالِثٍ
وَأَبَی الْفِرَارَ لِیَ الْغَدَاۃَ تَکَرُّمِی

دلچسپ بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے لفظ الأخری  سے مرتبہ کا مفہوم لینے کی کوشش کی، ان میں یہ اختلاف ہوگیا کہ اس لفظ سے مرتبہ کی بلندی مراد ہے یا مرتبہ کی پستی۔ چنانچہ ابن عطیہ نے کہا کہ اس لفظ کو لاکر مناۃ کے باقی دونوں بتوں سے زیادہ بلند رتبہ ہونے کو بتایا گیا ہے، جبکہ زمخشری نے کہا کہ مناۃ کے بے قدرہونے کا بیان ہے۔

’’والأخری ذمّ،وھی المتأخرۃ الوضیعۃالمقدار،کقولہ تعالی قالَتْ أُخْراھُمْ لِأُولاھُم أی وضعاؤھم لرؤساءھم وأشرافھم.‘‘ (تفسیر زمخشری)

وأما مَناۃَ فکانت بالمشلل من قدید، وذلک بین مکۃ والمدینۃ، وکانت أعظم ھذہ الأوثان قدرا وأکثرھا عابدا، وکانت الأوس والخزرج تھل لھا، ولذلک قال تعالی: الثَّالِثَۃَ الأُخْری فأکدھا بھاتین الصفتین،کما تقول رأیت فلانا وفلانا ثم تذکر ثالثا أجل منھما۔ (تفسیر ابن عطیہ)

(۷۳) ذْوالْجَلَالِ وَالاکرَام کا مفہوم

سورہ رحمن میں ایک جگہ ذوالْجَلَالِ وَالاکْرَام (ذو، وجہ کی صفت کے طور پر مرفوع) اور ایک جگہ ذی الْجَلَالِ وَالاِکْرَام (ذی، ربک کی صفت کے طور پر مجرور) آیا ہے۔ اکرام کے معنی نوازش کرنا اور عزت دینا ہوتا ہے،

وَمَن یُہِنِ اللَّہُ فَمَا لَہُ مِن مُّکْرِمٍ (الحج: ۱۸) 

’’جسے اللہ رسوا کرے، اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا ہے۔‘‘ اس طرح ذُوَ الاکْرَام کا مطلب عزت دینے والا ہوگا، لیکن بہت سارے مترجمین نے عزت والا ترجمہ کیا ہے۔

(۱) وَیَبْقَی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ۔ (الرحمن: ۲۷)

’’اور تیرے رب کی عظمت وعزت والی ذات باقی رہنے والی ہے‘‘ (امین احسن اصلاحی)

’’صرف تیرے رب کی ذات جو عظمت اور عزت والی ہے باقی رہ جائے گی‘‘ (محمد جوناگڑھی)

’’اور تمہارے پروردگار ہی کی ذات (بابرکات) جو صاحب جلال وعظمت ہے باقی رہے گی‘‘ (جالندھری)

’’اور باقی ہے تمہارے رب کی ذات عظمت اور بزرگی والا‘‘(احمد رضا خان)

There remaineth but the Countenance of thy Lord of Might and Glory. (Pickthall)

مذکورہ بالا ترجموں میں لفظ اکرام کا حقیقی مفہوم نہیں پیش کیا گیا ہے، جبکہ ذیل کے ترجموں میں اس کی رعایت کی گئی ہے:

’’اور (صرف) آپ کے پروردگار کی ذات جو کہ عظمت (والی) اور احسان والی ہے باقی رہ جاوے گی۔‘‘ (اشرف علی تھانوی)

And there will remain the countenance of thine Lord, Owner of Majesty and Beneficence. (Daryabadi)

’’اور تیرے رب کی عظمت والی اور رحم وکرم فرمانے والی ذات باقی رہنے والی ہے‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)

شاہ رفیع الدین نے زیر بحث لفظ کا ترجمہ صاحب انعام کیا ہے جو درست ہے جبکہ شاہ عبدالقادر نے صاحب تعظیم کیا ہے جو موزوں نہیں ہے۔

(۲) تَبَارَکَ اسْمُ رَبِّکَ ذِیْ الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ (الرحمن: ۷۸)

’’بڑا ہی بابرکت ہے نام تیرے عظمت والے اور سزاوار تکریم رب کا‘‘ (امین احسن اصلاحی)

’’(اے محمدؐ) تمہاراپروردگارجوصاحب جلال وعظمت ہے اس کانام بڑا بابرکت ہے‘‘(فتح محمد جالندھری)

’’بڑی برکت والا ہے تمہارے رب کا نام جو عظمت اور بزرگی والا‘‘(احمد رضا خان)

’’تیرے پروردگار کا نام بابرکت ہے جو عزت وجلال والا ہے‘‘(محمد جوناگڑھی)

Blessed be the name of thy Lord, Mighty and glorious! (Pickthall)

مذکورہ بالا تمام ترجموں میں لفظ اکرام کا حق ادا نہیں کیا گیا ہے، جبکہ ذیل کے تینوں ترجموں میں اس کی رعایت کی گئی ہے۔

’’بڑا بابرکت نام ہے آپ کے رب کا جو عظمت والا اور احسان والا ہے۔‘‘ (اشرف علی تھانوی)

Blest be the name of thine Lord, Owner Of Majesty and Beneficence! (Daryabadi)
Blessed be the name of thy Lord, full of Majesty, Bounty and Honour. (Yousuf Ali)

یہاں شاہ رفیع الدین نے ترجمہ صاحب بخشش کیا ہے، جبکہ شاہ عبدالقادر نے تعظیم والا کیا ہے، اول الذکر ترجمہ درست ہے۔

علامہ ابن عاشور نے یہاں ایک نکتہ بیان کیا ہے کہ ذوالجلال یعنی عظمت والا جس کا تقاضا ہے کہ اس کی تعریف کی جائے، اور ذوالاکرام یعنی نوازشوں والا، جس کا تقاضا ہے کہ اس کا شکر ادا کیا جائے۔ گویا ذات باری تعالی ثنا اور شکر دونوں کی سزاوار ہے۔

(جاری)

قرآن / علوم قرآن

دسمبر ۲۰۱۵ء

جلد ۲۶ ۔ شمارہ ۱۲

دینی قوتوں کے باہمی انتشار کو کم کرنے کی ضرورت
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۱۳)
ڈاکٹر محی الدین غازی

عدالتِ عالیہ لاہور کے ایک فیصلے کا تنقیدی جائزہ
محمد مشتاق احمد

حجۃ اللہ البالغہ میں شاہ ولی اللہ کا منہج و اسلوب (۲)
غازی عبد الرحمن قاسمی

فرانس نہیں، اسلام پر حملہ
رعایت اللہ فاروقی

ممتاز قادری کی سزا ۔ تحفظِ شریعت کا نفرنس کے فیصلے پر ایک نظر
ڈاکٹر محمد شہباز منج

سید احمد شہید کی تحریکِ جہاد: ایک مطالعہ
ڈاکٹر عرفان شہزاد

عسکریت پسند گروہ اور ہماری قومی پالیسی
محمد عامر رانا

شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ ۔ مولانا عبد اللطیف انورؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مجلس مذاکرہ ۔ ’’فضلاء مدارس دینیہ کا معاشی مستقبل‘‘
مولانا محمد عبد اللہ راتھر

فضلائے مدارس کا معاشی مستقبل ۔ چند تاثرات اور تجاویز
ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

ایک سفر کی روداد
محمد بلال فاروقی

پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس
ادارہ

گوجرانوالہ کی دینی جماعتوں اور تاجر برادری کا اجلاس
ادارہ