جانباز مرزا ۔۔۔۔۔۔ عظیم مرزا

محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ

ایک دفعہ کا ذکر ہے جب برصغیر میں انگریز کے عروج کا زمانہ تھا۔ دور دور تک کوئی ریاست اس کے ہم پلہ نہ تھی اور نہ کوئی طاقت۔ محاورہ تھا کہ انگریز سرکار میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا۔ دوسری جنگ عظیم بھی ابھی شروع نہیں ہوئی تھی کہ انگریز سرکار کے کمزور ہونے کا کوئی امکان ہوتا۔ نہ ہی ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے الگ ملک کی کوئی قرارداد منظور ہوئی تھی۔ چہار سو اندھیرا تھا۔ برطانوی سامراج اپنے ہندوستانی فرزندوں کی مدد سے حکمران تھا۔ گنگا جمنا کی لہروں سے لے کر راوی جہلم کے کناروں تک اس کی ہیبت کے نشان کندہ تھے۔ ’’انقلاب‘‘ زندہ باد کی آواز پر نوجوانوں کو گولیوں سے بھون دیا جاتا یا چونے کی بھٹی میں ڈال کر زندہ جلا دیا جاتا۔ کاسہ لیسوں کوخطابات اور مخبروں کو انعامات دیے جاتے، اور سیاسی کارکنوں کو داد و رسن کے قصائی خانوں میں تختہ مشق بنا کر ان کے خون اور گوشت کا تماشہ دیکھا جاتا۔ اس اندھیرے میں بھی نوجوان حریت پسندوں کا قافلہ نیم جاں اپنے گریباں کے چاک سے آزادی کا پھریرا بنا کر لہراتا رہا۔ 1857ء سے پہلے اور بعد میں آزادی کی جتنی بھی تحریکیں چلیں ان میں مسلمان نوجوان کا نام اور کام ہمیشہ نمایاں رہا۔ جو لوگ زبان و قلم سے آزادی کی جنگ لڑے ان میں ایک بڑا نام مرزا غلام نبی جانباز کا تھا۔ جانباز کا پیدائشی تعلق امرتسر اور سیاسی تعلق سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی جماعت ’’مجلس احرار‘‘ سے تھا۔ زندگی بھر انگریز سرکار کے خلاف اس کی زبان و قلم شعلے اگلتی رہی۔ باقی زندگی میں جو الفاظ بچے وہ شاہ صاحب کی محبت میں صرف کر دیے۔ ’’حیات امیر شریعت‘‘ کے نام سے شاہ صاحب کی سوانح عمری کی کئی جلدیں مرتب کر ڈالیں۔ 1935ء میں گورداسپور جیل میں ’’آتش کدہ‘‘ کے نام سے اعلیٰ پائے کا شعری مجموعہ تخلیق کیا۔ ایک شعر ملاحظہ ہو:

بہاروں کے پسِ پردہ خزاں ہے ہم نہ کہتے تھے
چمن کی خاک میں آتش فشاں ہے ہم نہ کہتے تھے

اب آپ کو ’’آتش کدہ‘‘ کے نام سے کسی بھی لائبریری یا کتب خانے سے جانباز مرزا کا کوئی کلام نہیں ملے گا۔ ایک نسخہ مرزا صاحب نے جیل سے رہائی کے بعد مجھے دیا تھا۔ مگر یہ ہندوستان کی گورداسپور جیل اور انگریز سرکار نہیں بلکہ یہ پاکستان کی ’’کوٹ لکھپت‘‘ جیل سے رہائی کا موقع تھا اور ایوب خان کی سرکار تھی جب 1969ء میں ہم دونوں جمہوریت اور عوام کے حقوق کے لیے پابند سلاسل تھے۔ دار و رسن کے اس معرکہ میں اپنے دور کے ولی مولانا عبید اللہ انور ہماررے قافلہ سالار تھے۔ اس قافلے میں شیخ رشید (بانی رکن پاکستان پیپلز پارٹی وفاقی وزیر) اور شیخ رفیق مرحوم (سابق گورنر و اسپیکر پنجاب اسمبلی) بھی ہمارے ساتھ تھے۔ شیخ رفیق مرحوم تب نیشنل عوامی پارٹی میں تھے۔ جاڑوں کے مہینے تھے، دن دھوپ سے لطف اندوز ہوتے ہوتے اور رات جیل کے غلیظ کمبلوں میں گزر جاتی۔ ایک روز میں نے جانباز مرزا صاحب سے پوچھا کہ آپ کتنی بار جیل گئے ہیں۔ پانچ چھ بار ہی جانا ہوا مگر کل ملا کر سزا 14 برس بنتی ہے، مرزا صاحب نے جواب دیا۔ مشقت بڑی سخت ہوا کرتی تھی۔ کولہو میں بیل کی جگہ جت کر کئی کئی گھنٹے اسے چلانا، سخت سردیوں میں ٹھنڈے پانی میں ردی کاغذوں کو ہاتھوں اور پیروں سے مسل مسل کر ان کا گودہ بنانا، اور راہداریوں کا پوچا کرنا تو عام سی مشقت تھی۔ جیل کے ہیڈ وارڈ کا عذاب مشقت سے بھی بڑا تھا۔ ساری ساری رات ہوا میں گالیاں بکتا رہتا اور آزادی کے متوالوں کے نام لے لے کر، کبھی عطاء اللہ شاہ بخاری اور کبھی بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کی شان میں غلیظ الفاظ استعمال کرتا۔ جانباز مرزا کے مجموعہ کلام ’’آتش کدہ‘‘ کا انتساب بھی اسی جلاد ہیڈوارڈ کے نام ہے۔ ملاحظہ ہو:

’’اس سید زادے کے نام جو 1935ء میں گورداسپور ڈسٹرکٹ جیل کا ہیڈ وارڈ تھا اور جس کے تعدی آمیز تشدد کی یاد اب بھی ایام رفتہ میں تلخی بھر دیتی ہے۔‘‘

جانباز مرزا نے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ اسے ان مصیبتوں اور کلفتوں کا کبھی غم نہیں رہا، صرف ایک بات نے ہمیشہ زندگی بھر کا دکھ دیا کہ جب بھی میں رہا ہو کر گھر آتا تو لوگ کہتے کہ ’’یار مرزا کہاں رہے تم آج کئی سالوں کے بعد ملے ہو‘‘۔ یہ الفاظ ہمیشہ تیر بن کر سینے پر لگتے۔ ان کا درد آج تک محسوس ہوتا ہے۔ 

پھر اللہ نے آزادی دی اور پاکستان بن گیا۔ جانباز مرزا بھی لاہور آگیا۔ کچھ وقت گزارا، چند ماہ و سال بیتے تو معلوم ہوا کہ یہاں آزادئ فکر، آزادئ اظہار، آزادئ تقریر تو دور کی بات رزق تلاش کرنا بھی کاردار ہے۔ قلم و زبان اور آزادی کا نقشہ اترا اور بے کسی نے اپنا رنگ دکھایا۔ پیٹ کی بھوک چمکی تو آشکار ہوا کہ رزق حلال تو اپنی جگہ رزق حرام بھی بڑی مشکل سے دستیاب ہوتا ہے۔ پاکستان فلم انڈسٹری نے آغا جی اے گل کی بدولت بہت سے سیاسی کارکنوں کو سہارا دے رکھا تھا۔ تب فلم انڈسٹری کا رخ کیا۔ ایکسٹرا کردار ادا کیے، کچھ فلموں کے مکالمے لکھ کر اور کچھ رسائل و جرائد میں مضامین لکھ کر زندگی کی گاڑی کھینچتے رہے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ان کا ایک بیٹا روزنامہ ’’مشرق‘‘ لاہور کے شعبہ طباعت میں معمولی ملازم تھا۔ شاد باغ میں ایک چھوٹا سا گھر تھا جہاں سبھی اہل خانہ مشترکہ خاندانی نظام کی بدولت گزر بسر کر رہے تھے۔ زندگی بھر کھدر کا لباس اس لیے استعمال کیا کہ بغیر دھوئے ایک ہفتہ تک چل جاتا تھا۔ آخری بار میں نے انہیں ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ کے دفتر میں مسعود شورش کے پاس دیکھا۔ زندگی کی گاڑی کھینچتے کھینچتے، لاہور کی آدم خور مسافر ویگنوں پر سفر کرتے کرتے، رزق حلال کی تلاش کرتے کرتے، مکالمے لکھتے لکھتے ایک روز موت کے فرشتے سے پتہ نہیں کیا مکالمہ ہوا کہ اسی کے ساتھ روانہ ہوگئے۔ 

جانباز مرزا بلا کا جگر دار، غضب کا مقرر، صاحب اسلوب و صاحب دیوان شاعر تھا۔ اپنی جوانی کے 14 سال آزادی کے لیے دار و رسن اور طوق و سلاسل کی نذر کرنے والا جانباز مرزا جب اجل کے فرشتے کے ساتھ گیا تو لوگوں کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ اخبارات نے خبر دینا بھی گوارہ نہ کیا۔ خبر چھپی بھی ہوگی تو اندر کہیں منڈیوں کے بھاؤ کے ساتھ۔ عزرائیل نے بھی کہا ہوگا کہ ’’یار مرزا کہاں رہے، تم آج کئی سالوں بعد ملے ہو۔‘‘

حالات و واقعات