جنوری ۲۰۲۳ء

’’فرد “ اور ’’حق “ کے سیاسی تصور کا تجزیہ

― محمد عمار خان ناصر

جدید دانش نے غالب تہذیب کی جارحیت کو اخلاقی اور فکری جواز دینے کے لیے ایک فریب کاری یہ اختیار کی ہے کہ ’’فرد “ اور ’’حق “ کے ایک خاص تصور کو آفاقی تصورات کی حیثیت سے پیش کیا جائے۔ مقدمہ یہ ہے کہ فرد، اجتماع سے مقدم ہے اور اس کے کچھ ’’حقوق’’ ہیں جو فرد کی حیثیت سے اس کو معاشرے سے پہلے حاصل ہیں۔ چنانچہ معاشرہ اور اجتماع پابند ہے کہ ’’فرد “ کے ان ’’حقوق“ کو لازمی طور پر تسلیم کرے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ یہ فلسفہ تاریخی اور منطقی، دونوں اعتبار سے بے بنیاد ہے۔ تاریخی اعتبار سے تو واضح ہے کہ تاریخ کا کوئی ایسا مرحلہ ہمارے علم یا تخیل...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۶)

― ڈاکٹر محی الدین غازی

(383) لیل اور لیلة میں فرق: لیلة ایک رات کے لیے جب کہ لیل رات کے لیے آتا ہے۔ درج ذیل آیت میں لَیْلًا ہے جس کا ترجمہ ایک رات نہیں بلکہ راتوں رات کیا جائے گا۔ سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَی بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی الْمَسْجِدِ الْأَقْصَی الَّذِی بَارَکْنَا حَوْلَہُ۔ (الاسراء: 1) ”پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو لے گئی ایک شب مسجد حرام سے اس دور والی مسجد تک جس کے ارد گرد کو ہم نے برکت بخشی“۔ (امین احسن اصلاحی) ”پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اُس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے“۔ (سید مودودی)...

صنف و جنس اور اس میں تغیر (۱)

― مولانا مشرف بيگ اشرف

آپ فیروز اللغات کھول کے"جنس" کے مادے کے تحت دیے گئے معانی شمار کیجیے تو اس میں آپ کو یہ الفاظ ملیں گے: "ذات، نوع، صنف، جماعت" اور اگر آپ صفحے پلٹاتے ہوئے "صنف" کے مادے کے تحت مذکور الفاظ تک پہنچیں تو آپ کو یہ الفاظ ملیں گے: "نوع، جنس، قسم"۔ جنس، نوع وصنف یہ سب الفاظ ہماری زبان میں ایک ہی معنے کے لیے برتے گئے ہیں۔ اس میں آپ کو کوئی ایسا فرق نہیں ملے گا کہ ان میں سے ایک انسانی کی جسمانی خصائص کی طرف اشارہ ہے اور دوسرا اس کے سماجی مظاہر کی طرف۔ اسی طرح، انگریزی زبان میں gender and sex دو نوں کلمات کو ۱۹۵۰ تک ایک ہی شمار کیا جاتاتھا۔ لیکن اسی صدی میں جنسی انقلا...

سودی نظام کے خاتمے کی جدوجہد

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ’’مرکز الاقتصاد الاسلامی‘‘ اور ’’وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان‘‘ کا شکرگزار ہوں کہ ایک اہم ترین قومی و دینی مسئلہ پر تمام مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام اور تاجر طبقہ کے راہنماؤں کے اس اجتماع کا اہتمام کیا، بالخصوص شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم اور ان کے رفقاء کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر سے نوازیں۔ میں دو تین باتیں سودی نظام کے حوالے سے عرض کرنا چاہوں گا: پہلی بات یہ کہ سودی نظام سے نجات پوری نسلِ انسانی کی ضرورت ہے، سودی نظام نے دنیا میں کیا کردار ادا کیا...

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقیؒ: زندگی کے کچھ اہم گوشے (۲)

― سید ابو الاعلٰی سبحانی

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم نے علمی دنیا میں کارہائے نمایاں انجام دینے کے ساتھ ساتھ ایک بھرپور اجتماعی زندگی بھی گزاری اور خاص طور پر ہندوستان کی اسلامی تحریک میں ایک نمایاں کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر صدیقی ملت اسلامیہ ہند کی تعمیر وترقی کے سلسلہ میں نہ صرف فکرمند رہا کرتے تھے بلکہ ملت کو درپیش اہم مسائل اور چیلنجز پر بہت ہی واضح اور جرأتمندانہ موقف بھی رکھتے تھے۔ ڈاکٹر صدیقی ملت اسلامیہ ہند کی تعمیر وترقی سے متعلق ایک واضح پروگرام اور نقشہ کار رکھتے تھے، اور اس کا اظہار مختلف مواقع پر بہت ہی شدومد کے ساتھ کیا کرتے...

علامہ یوسف قرضاویؒ کا سانحہ وفات

― مفتی حبیب حسین

حقیقت یہ ہے کہ اس ناکارہ کا فکری ہیکل جن شخصیات کی کتب کے زیر اثر رہ کر پروان چڑھا ، اورجن کے علمی افکار، فقہی اتجاہات اور سماجی وادبی آراء ونزاعات نے اس کے دل ودماغ پر بے پناہ اثر ڈالا، ان میں علامہ یوسف القرضاویؒ نمایاں ہیں۔ سن 1997ء میں ان کی کتاب "فقه الزکاۃ" مطالعہ میں آئی تو عربی زبان وادب کے اس مبتدی طالب علم کو ان کی قوت استدلال، اسلوب استنتاج اور طرز تحریر نے اپنے سحر میں اس طرح جکڑے رکھا کہ اسباق کے رسمی دوانیے کے کئی دن اس کی ورق گردانی کی نذر ہوگئے۔اس کتاب کا ہر مبحث قاری کو فکر ونظر کی نئی جہات سے روشناس کراتا ہے اور اسے یہ محسوس ہوتا...

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۳)

― ڈاکٹر شیر علی ترین

اب میں بدعت اور اس کی حدود کی تعیین کے لیے چند کلیدی تعبیری پہلوؤں کی طرف متوجہ ہوتا ہوں، لیکن جنوبی ایشیا کی طرف جانے سے پہلےمیں کچھ لمحات کے لیے الشاطبی کے ساتھ رکوں گا۔ بدعت کی تعبیر وتشریح کے اصول: بدعت بطور تقلیدی/جعلی مذہب: بدعت کی تعریف میں بنیادی نکتہ انسانی فرد کے لیے یہ گنجائش ماننا ہے کہ ایک حاکمِ مطلق ذات کی حیثیت سے اس کے الٰہی اقتدار کے مقابلے میں شریعت کے ایک متوازی نظام کو بڑھاوا دیا جائے۔دراصل اختیار کا یہی وہ اساسی گناہ ہے جو بدعت کو وجود میں لاتا ہے: انسانی ارادے کو دین کی ایک جعلی عمارت کھڑی کرنے کے لیے استعمال کرنا ہی اسلام...

تلاش کریں

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter