ستمبر ۲۰۲۱ء

مدرسہ ڈسکورسز : ایک مرحلے کی تکمیل

― ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

مدرسہ ڈسکورسز کے سمر انٹنسو کا یہ اختتامی سیشن ہے۔ یہ پانچ سال کا پروگرام تھا جس کا پہلا مرحلہ آج مکمل ہو رہا ہے ۔ میں اپنے شرکاء کی یاد دہانی اور اپنے مہمان علماء کی معلومات کے لیے اس پراجیکٹ کی ابتدا ، مختلف مراحل اور اس کے مقاصد کے بارے میں اختصار سے کچھ معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اس پروگرام کی ابتدا 2016 کے آخر اور 2017 کے اوائل میں ڈاکٹر ابراہیم موسی نے کی جو بنیادی طور پر جنوبی افریقہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان کی دینی تعلیم ہندوستان کے بعض بڑے مدارس جیسے دار العلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء میں ہوئی ۔ اب وہ تقریبا ربع صدی سے امریکی جامعات میں...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۰)

― ڈاکٹر محی الدین غازی

(266) وَمَا آتَیْتُم مِّن رِّبًا: وَمَا آتَیْتُم مِّن رِّبًا لِّیَرْبُوَ فِی اََمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُو عِندَ اللَّہِ وَمَا آتَیْتُم مِّن زَکَاۃٍ تُرِیدُونَ وَجْهَ اللَّہِ فَاَُولَئِکَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ ۔ (الروم: 39)۔ ’’جو سُود تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں شامل ہو کر وہ بڑھ جائے، اللہ کے نزدیک وہ نہیں بڑھتا، اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے ارادے سے دیتے ہو، اسی کے دینے والے در حقیقت اپنے مال بڑھاتے ہیں‘‘۔ (سید مودودی)۔ ’’اور جو تم سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں افزائش ہو تو خدا کے نزدیک اس میں افزائش نہیں...

مطالعہ جامع ترمذی (۴)

― ادارہ

مطیع سید : کھڑے ہوکر پانی پینے کے متعلق مختلف اور متضاد روایات آتی ہیں۔ اس میں درست بات کیا ہے؟ عمار ناصر : جی روایات مختلف ہیں۔ بعض میں تو بہت سخت ناپسندیدگی ظاہر کی گئی ہے جو سمجھ میں بھی نہیں آتی۔ مثلا صحیح مسلم میں روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ اگر کھڑا ہو کر پانی پینے والے کو پتہ چل جائے کہ اس نے کیا پیا ہے تو وہ قے کردے۔ مطیع سید : حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں ایک جگہ پڑھا تھا کہ وہ خاص طورپر کھڑے ہو کر پانی اس لیے پیتے تھے کہ لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ اس طرح بھی درست ہے۔تو پھر اس کی کیا توجیہ کریں؟ عمار ناصر : احناف کے ہاں یہ رائے ہے کہ آپ...

علم ِرجال اورعلمِ جرح و تعدیل (۲)

― مولانا سمیع اللہ سعدی

2۔ کتب رجال انواع ا قسام۔ ہر دو مکاتب ِ فکر کے علم رجال کی ابتدائی تاریخ کے تقابل کے بعد دوسری بحث یہ دیکھنے کی ہے کہ دونوں کے ہاں موجود رجالی تراث کا انواع اقسام کے اعتبار سے کیا تقابل بنتا ہے؟اہل علم جانتے ہیں کہ علم رجال کی کتب متنوع اقسام و انواع پر مشتمل ہیں ،جن میں مختلف زاویوں سے رواۃِ حدیث پر بحث کی گئی ہے ، ذیل میں ہم دونوں گروہوں کے علم رجال کی کتب کا اس اعتبار سے ایک جائزہ لیتے ہیں: سنی رجالی تراث :انواع و اقسام۔ اہل سنت کے پاس جو رجالی سرمایہ موجود ہے ،وہ بہت سی انواع پر مشتمل ہے ،ذیل میں ان انواع اور اس کی نمائندہ کتب کا مختصرا...

مسائل حسن و قبح پر معتزلہ و تنویری فلاسفہ کے موقف کا فرق

― ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل

تحریر کا مقصد اسلامی تاریخ کے گروہ "معتزلہ" سے متعلق ہماری تحریر و تقریر میں درآنے والی ایک عمومی غلط فہمی کی نشاندہی کرنا ہے۔ معتزلہ کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ شاید اسی قبیل کے افکار کا حامل گروہ تھا جیسے کہ جدید مغربی فلاسفہ یا ان سے متاثر جدید مسلم مفکرین کے افکار ہیں۔ یہ تاثر غلط بھی ہے اور غیرمفید بھی ۔ اس کی غلطی اور غیر افادیت دونوں کو مختصرا چند نکات کی صورت واضح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ غلطی کی نوعیت: معتزلہ کے بارے میں جس بنا پر درج بالا تاثر قائم کیا جاتا ہے، وہ مسئلہ حسن و قبح (good and bad) پر ان کی خاص رائے ہے ۔ اسلامی تاریخ...

قرآن پر اجماع اور اس کا تواتر، ایمان بالغیب اور متشکک ذہن

― ڈاکٹر عرفان شہزاد

اصطلاحات بعض اوقات بڑے بڑے حقائق کے لیے حجاب بن جاتی ہیں۔ خصوصاً ان لوگوں کے لیے جن کی نظر بیان حقائق کی بجائے الفاظ کی نامکمل تفہیم تک محدود رہ جاتی ہے۔ اجماع، تواتر اور ایمان بالغیب، مذہبی حلقوں میں استعمال ہونے والی یہ اصطلاحات محض مذہبی علم و عقائد کی ترسیل و تسلیم کے ذرائع نہیں ہیں جن کا دار و مدار تسلیمِ محض پر ہو۔ حقیقت اس کے برعکس ہے، یہ انسانی ذرائع علم کا بیان ہوتا ہے۔ مذہب ، کسی بھی دوسرے علم کی طرح انسان کی انھیں فیکلٹیز سے مخاطب ہوکر ان حقائق کی طرف متوجہ کرتا ہے جو ان ذرائع علم کا نتیجہ ہوسکتے ہیں۔ ان اصطلاحات کو جدید علم پر منطبق...

افغانستان کی موجودہ صورت حال اور ہماری ذمہ داری

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

آج کل افغانستان کی صورتحال دینی اور سیاسی حلقوں میں، تقریباً ہر جگہ زیر بحث ہے اس مناسبت سے دو تین گزارشات میں عرض کرنا چاہوں گا۔ پہلی بات یہ کہ افغان قوم کی عظمت اور حریت پسندی کو سلام ہو کہ اس نے بیرونی دخل اندازی اور غیر ملکی تسلط کو ہمیشہ کی طرح اب بھی مسترد کر دیا ہے۔ افغانستان پر برطانیہ نے قبضہ کی کوشش کی تھی جب انہوں نے متحدہ ہندوستان پر قبضہ کیا تھا تو برطانیہ کو ناکامی ہوئی تھی۔ پھر روسی فوجیں آئیں، یہ تو ہمارے سامنے کا معاملہ ہے، اور اپنا پورا زور صرف کیا مگر افغانستان نے بحیثیت افغان قوم قبول نہیں کیا، سوویت یونین کی افواج کو ناکام...

مدرسہ ڈسکورسز کی اختتامی نشست کا احوال

― ڈاکٹر حافظ محمد رشید

مدرسہ ڈسکورسز کا سمر انٹینسو 14 جولائی تا 17 جولائی بھوربن مری میں منعقد کیا گیا ۔ ورکشاپ کا عنوان " فلسفہ، کلام اور جدیدیت" تھا۔ ان عنوانات پر ملک کے چنیدہ اہل علم کو اظہار خیال کے لیے مدعو کیا گیا جن میں ڈاکٹر سید محسن نقوی ، ڈاکٹر محمد خالد مسعود ، ڈاکٹر زاہد صدیق مغل ، ڈاکٹر حسن الامین اور خورشید احمد ندیم شامل ہیں۔ ۱۴ جولائی کو پہلے سیشن میں ڈاکٹر سید محسن نقوی کی گفتگو کا عنوان تھا Philosophy in Shi’i Intellectual Tradition ۔ اسی دن ظہر کے بعد کے سیشن میں Goodness and Badness in Human Actions کے عنوان پر مولانا ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر، مولانا زید حسن اور ڈاکٹر زاہد صدیق مغل...

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter