اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۱۸)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۸۵) سقی اور اسقاء کے درمیان فرق

سقی یسقي ثلاثی مجرد فعل ہے، جس کا مصدر سقي ہے، اور أسقی یسقي ثلاثی مزید فعل ہے جس کا مصدر اِسْقَاء ہے، قرآن مجید میں دونوں کا استعمال متعدد مرتبہ ہوا ہے، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے، جبکہ کچھ لوگوں نے دونوں کے درمیان یہ فرق بتایا ہے کہ سقی میں محنت شامل نہیں ہوتی ہے، اور اِسْقَاء میں محنت شامل ہوتی ہے، بعض لوگوں نے بتایا کہ سقی منہ سے پانی پلانے کے لیے اور اسقاء کھیتیاں وغیرہ سیراب کرنے کے لیے ہوتا ہے۔راغب اصفہانی نے قرآن مجید کے استعمالات کی روشنی میں دونوں کے درمیان بہت بلیغ فرق بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں:

السَّقيُ والسّْقاءُ: أن یعطیہ ما یشرب، والاِسْقَاءُ:أن یجعل لہ ذلک حتی یتناولہ کیف شاء، فالاسقاءُ أبلغ من السّقي، لأن الاسقاء ھوأن تجعل لہ ما یسقي منہ ویشرب۔ (المفردات فی غریب القرآن، ص: ۴۱۵)

مطلب یہ کہ سقي کے معنی مشروب کو پیش کرنے کے ہیں، جسے اردو میں پلانا کہتے ہیں، اور اسقاء کے معنی مشروب فراہم کرنا اور اس کا انتظام کرنا ہے، جس کو اردو میں پلانا نہیں کہتے ہیں، پانی فراہم کرنا اور پینے کا انتظام کرنا کہتے ہیں۔ اگر کسی نے نہر جاری کردی، یا پانی کی سبیل لگادی تو وہ پانی پلانا نہیں کہا جائے گا، ہاں کوئی اسی پانی کو گلاس میں بھر کر کسی کو پیش کرے تو وہ پانی پلانا ہوا۔

چونکہ قرآن مجید میں کہیں سقي آیا ہے اور کہیں اسقاء آیا ہے، اس لیے ہمیں ترجمہ کرتے ہوئے بھی اس کا خیال کرنا چاہیے کہ دونوں کے درمیان فرق کا حق ادا ہوسکے۔

ذیل کی آیتوں میں سقي آیا ہے، اور ترجمہ پانی پلانے کا ہے، انسانوں کو پانی پلانا، جانوروں کو پانی پلانا اور کھیتیوں کو سیراب کرنا : 

وَلَمَّا وَرَدَ مَاء مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْْہِ أُمَّۃً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُونَ وَوَجَدَ مِن دُونِہِمُ امْرَأتَیْْنِ تَذُودَانِ قَالَ مَا خَطْبُکُمَا قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتَّی یُصْدِرَ الرِّعَاء وَأَبُونَا شَیْْخٌ کَبِیْرٌ۔ فَسَقَی لَہُمَا۔ (القصص:۲۳، ۲۴)

’’اور جب وہ مدین کے کنویں پر پہنچا تو اس نے اس پر لوگوں کی ایک بھیڑ دیکھی جو (اپنے جانوروں کو) پانی پلارہے تھے اور ان سے دور دو عورتوں کو دیکھا جو اپنی بکریوں کو روکے کھڑی ہیں، اس نے ان سے پوچھا، تمھارا کیا ماجرا ہے؟ انھوں نے کہا: ہم اس وقت تک پانی نہیں پلاتے جب تک چرواہے اپنی بکریاں ہٹا نہ لیں اور ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں تو اس نے ان ددونوں کی خاطر پانی پلایا‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

اس ترجمہ میں جہاں جہاں بکریوں کا ذکر ہے وہاں مویشی یا ریوڑہونا چاہیے تھا)۔

قَالَتْ إِنَّ أَبِیْ یَدْعُوکَ لِیَجْزِیَکَ أَجْرَ مَا سَقَیْْتَ لَنَا۔ (القصص: ۲۵)

’’کہا کہ میرے باپ آپ کو بلاتے ہیں کہ آپ نے ہماری خاطر جو پانی پلایا، اس کا آپ کو صلہ دیں‘‘

وَسَقَاہُمْ رَبُّہُمْ شَرَاباً طَہُوراً۔ (الانسان: ۲۱)

’’اوران کا رب ان کو پاکیزہ مشروب پلائے گا‘‘ (امین احسن اصلاحی)

وَلاَ تَسْقِیْ الْحَرْثَ۔ (البقرۃ: ۷۱)

’’اور کھیتوں کو سیراب کرنے والی نہ ہو‘‘ (امین احسن اصلاحی)

أَمَّا أَحَدُکُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّہُ خَمْراً۔ (یوسف: ۴۱)

’’تم میں سے ایک تو اپنے آقا کو شراب پلائے گا‘‘ (امین احسن اصلاحی)

وَالَّذِیْ ہُوَ یُطْعِمُنِیْ وَیَسْقِیْنِ۔ (الشعراء :۷۹)

’’اور جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے‘‘ (امین احسن اصلاحی)

وَسُقُوا مَاء حَمِیْماً ۔ (محمد:۱۵)

’’اور جن کو اس میں گرم پانی پلایا جائے گا‘‘ (امین احسن اصلاحی)

جبکہ مذکورہ ذیل آیتوں میں فعل اسقاء کا استعمال ہوا ہے، اور تمام مقامات وہی ہیں، جہاں کچھ پلانے کی بات نہیں ہے، بلکہ پینے والی چیزوں کو فراہم اور مہیا کرنے کی بات ہے، اس لیے اسقاء کا لفظ دیکھ کر پلانے کا پرتکلف ترجمہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ انتظام کرنا اور فراہم کرناکہنے کی لفظ میں بھی خوب خوب گنجائش ہے، اور وہی موقع ومقام کے لحاظ سے زیادہ موزوں بھی ہے۔

(۱) وَجَعَلْنَا فِیْہَا رَوَاسِیَ شَامِخَاتٍ وَأَسْقَیْْنَاکُم مَّاءً ً فُرَاتاً۔ (المرسلات: ۲۷)

’’اور رکھے اس میں بوجھ کو پہاڑ اونچے، اور پلایا ہم نے تم کو پانی میٹھا پیاس بجھاتا ‘‘(شاہ عبدالقادر)

’’اور ہم نے اس میں اونچے اونچے لنگر ڈالے اور ہم نے تمہیں خوب میٹھا پانی پلایا ‘‘(احمد رضا خان)

’’اور گاڑے اس میں پہاڑ اونچے اونچے، اور تمہارے پینے کے لئے خوشگوار پانی فراہم کیا‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)

(۲) فَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَسْقَیْْنَاکُمُوہُ۔ (الحجر: ۲۲)

’’پھر آسمان سے پانی برساتے ہیں، اور اس پانی سے تمہیں سیراب کرتے ہیں‘‘(سید مودودی) 

’’پھر اتارا ہم نے آسمان سے پانی، پھر تم کو وہ پلایا‘‘ (شاہ عبدالقادر)

’’پھر ہم ہی آسمان سے پانی برساتے ہیں، پھر وہ پانی تم کو پینے کو دیتے ہیں‘‘ (اشرف علی تھانوی)

’’تو ہم نے آسمان سے پانی اتارا، پھر وہ تمہیں پینے کو دیا‘‘(احمد رضاخان)

’’پھر آسمان سے پانی برساتے ہیں تو تمہارے پینے کے لئے اسے مہیا کرتے ہیں‘‘(امانت اللہ اصلاحی)

(۳) وَإِنَّ لَکُمْ فِیْ الأَنْعَامِ لَعِبْرَۃً نُّسْقِیْکُم مِّمَّا فِیْ بُطُونِہِ مِن بَیْْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَّبَناً خَالِصاً سَآئِغاً لِلشَّارِبِیْن۔ (النحل: ۶۶)

’’اور بے شک تمہارے لیے چوپایوں میں بھی بڑا سبق ہے۔ ہم ان کے پیٹوں کے اندر کے گوبر اور خون کے درمیان سے تم کو خالص دودھ پلاتے ہیں، پینے والوں کے لیے نہایت خوشگوار‘‘۔ (امین احسن اصلاحی، یہاں ایک اور غلطی ہے، وہ یہ کہ گوبر اور خون کے درمیان سے دودھ پلانے کا ترجمہ کیا ہے، جبکہ دودہ اس چیز سے فراہم کرنے کی بات ہے جو پیٹ کے اندر ہے، اور جس سے کہ گوبر اور خون بھی بنتا ہے، مگر گوبر اور خون کے اثر سے دودھ محفوظ رہتا ہے)

’’ان کے پیٹ میں جو گوبر اور خون (کا مادہ) ہے اس کے درمیان میں سے صاف اور گلے میں آسانی سے اترنے والا دودھ (بناکر) ہم تم کو پینے کو دیتے ہیں‘‘۔(اشرف علی تھانوی، اوپر مذکور غلطی یہاں بھی موجود ہے)

’’ہم تمہیں پلاتے ہیں اس چیز میں سے جو ان کے پیٹ میں ہے گوبر اور خون کے بیچ میں سے خالص دودھ گلے سے سہل اترتا پینے والوں کے لیے ‘‘(احمد رضا خان، یہاں وہ غلطی نہیں ہے جس کی طرف اوپر کے ترجمے میں اشارہ کیا گیا۔)

’’ہم ان کے پیٹوں میں جو ہے اس سے گوبر اور خون کے درمیان سے تمہارے پینے کے لیے خالص دودھ فراہم کرتے ہیں، پینے والوں کے لیے نہایت خوشگوار‘‘۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(۴) وَإِنَّ لَکُمْ فِیْ الْأَنْعَامِ لَعِبْرَۃً نُّسقِیْکُم مِّمَّا فِیْ بُطُونِہَا۔ (المؤمنون: ۲۱)

’’اور بیشک تمہارے لیے چوپاؤں میں سمجھنے کا مقام ہے ہم تمہیں پلاتے ہیں، اس میں سے جو ان کے پیٹ میں ہے‘‘۔ (احمد رضا خان)

’’اور تمہارے لیے چوپایوں میں بھی بڑا درس آموزی کا سامان ہے، ہم ان چیزوں کے اندر سے جو ان کے پیٹوں میں ہیں، تمہیں (خوش ذائقہ دودھ) پلاتے ہیں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

’’ہم تم کو ان کے جوف میں کی چیز(یعنی دودھ) پینے کو دیتے ہیں‘‘ (اشرف علی تھانوی)

’’ہم ان چیزوں کے اندر سے، جو ان کے پیٹ میں ہیں، تمہیں پینے کے لیے (خوش ذائقہ دودھ ) فراہم کرتے ہیں۔‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)

(۵) وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَہُوراً۔ لِنُحْیِیَ بِہِ بَلْدَۃً مَّیْْتاً وَنُسْقِیَہُ مِمَّا خَلَقْنَا أَنْعَاماً وَأَنَاسِیَّ کَثِیْراً۔ (الفرقان: ۴۸،۴۹)

’’اور ہم آسمان سے پاکیزہ پانی اتارتے ہیں کہ اس سے مردہ زمین کو ازسر نو زندہ کردیں، اور اس کو پلائیں اپنی مخلوقات میں سے بہت سے چوپایوں اور انسانوں کو‘‘ (امین احسن اصلاحی، طہور کا ترجمہ پاکیزہ کے بجائے پاکیزگی بخشنے والا ہونا چاہئے، نسقیہ کا درست ترجمہ ہوگا: اور اسے پینے کے لیے فراہم کریں)

(۸۶)  اَلْبَلَدِ الْأمِیْنِ کا ترجمہ

قرآن مجید میں البلد الامین صرف ایک مقام پر آیا ہے، اور اس کا عام طور سے لوگوں نے ایک ہی ترجمہ کیا ہے، یعنی امن والا شہر۔

وَہَذَا الْبَلَدِ الْأمِیْنِ ۔ (التین:۳)

’’اور اس شہر امن والے کی‘‘ (شاہ رفیع الدین، شاہ عبدالقادر)

’’اور اس امن والے شہر کی‘‘ (اشرف علی تھانوی)

’’اور یہ پرامن سرزمین‘‘(امین احسن اصلاحی)

’’اور اس پرامن شہر (مکہ) کی‘‘ (سید مودودی)

’’اور اس امان والے شہر کی‘‘ (احمد رضا خان)

دیکھنے کی بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں لفظ امین متعدد مقامات پر آیا ہے، کچھ مثالیں یہاں ذکر کی جاتی ہیں،

إِنِّیْ لَکُمْ رَسُولٌ أَمِیْنٌ۔ (الشعراء : ۱۰۷)

بعینہ یہی جملہ قرآن مجید میں چھ مقامات پر آیا ہے۔

نَزَلَ بِہِ الرُّوحُ الْأَمِیْنُ۔ (الشعراء : ۱۹۳)

إِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ أَمِیْنٍ۔ (الدخان:۵۱)

تمام ہی جگہوں پر امین امانت دار اور امانت کے پاسدار کے معنی میں آیا ہے، البتہ مذکورہ آخری آیت میں مقام امین کا ترجمہ امان کی جگہ یا حالت کیا گیا ہے، یہاں بھی یہ واضح رہے کہ مقام امین کے معنی اس جگہ کے نہیں ہیں جو خود پر امن یا محفوظ ہو، بلکہ اس جگہ کے ہیں جو دوسروں کی حفاظت کرے یعنی جو وہاں پہونچ جائے وہ محفوظ ہو ۔ آمن وہ ہے جو خود محفوظ ہو ،اور امین وہ ہے جو دوسروں کی حفاظت کرے۔ دوسری طرف قرآن مجید میں شہر مکہ اور حرم مکہ کے لیے پرامن شہر ہونے کی صفت کئی جگہ بیان کی گئی، اور ہر جگہ اس کے لیے آمن کا لفظ استعمال کیا گیا، کہیں امین کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا، ذیل میں ذکر کی گئی مثالیں ملاحظہ ہوں:

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاہِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ہََذَا بَلَداً آمِناً۔ (البقرۃ: ۱۲۶)

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاہِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ہَذَا الْبَلَدَ آمِناً۔ (ابراہیم: ۳۵)

أَوَلَمْ نُمَکِّن لَّہُمْ حَرَماً آمِناً۔ (القصص: ۵۷)

أَوَلَمْ یَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَماً آمِناً۔ (العنکبوت: ۶۷)

ان دونوں پہلووں کو سامنے رکھیں تو مناسب یہی معلوم ہوتا ہے کہ البلد الامین کا ترجمہ کرتے ہوئے امن کے بجائے امانت کا مفہوم لیا جائے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں، ’’اور اس شہر کی قسم جس کو امین بنایا گیا، یعنی جس میں امانت رکھی گئی‘‘۔ امانت سے مراد یہ ہے کہ یہاں خانہ کعبہ ہے، اور آخری رسول کی بعثت کا مقام اس کو بنایا گیا ہے، اور اس آخری رسول سے متعلق بہت ساری نشانیاں یہاں موجود اورمحفوظ ہیں۔ البلد الامین کا یہ ترجمہ سیاق کلام کے لحاظ سے بھی معنی خیز ہے۔

(جاری)

قرآن / علوم قرآن