اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۶)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(383) لیل اور لیلة میں فرق

لیلة ایک رات کے لیے جب کہ لیل رات کے لیے آتا ہے۔ درج ذیل آیت میں لَیْلًا ہے جس کا ترجمہ ایک رات نہیں بلکہ راتوں رات کیا جائے گا۔

سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَی بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی الْمَسْجِدِ الْأَقْصَی الَّذِی بَارَکْنَا حَوْلَہُ۔ (الاسراء: 1)

”پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو لے گئی ایک شب مسجد حرام سے اس دور والی مسجد تک جس کے ارد گرد کو ہم نے برکت بخشی“۔ (امین احسن اصلاحی)

”پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اُس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے“۔ (سید مودودی)

”وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجدالحرام یعنی (خانہ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس کے ارد گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”پاک ذات ہے جو لے گیا اپنے بندے کو راتی رات ادب والی مسجد سے پرلی مسجد تک جس میں ہم نے خوبیاں رکھیں ہیں“۔ (شاہ عبدالقادر)

”پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو، راتوں رات لے گیا مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے اردگرد ہم نے برکت رکھی“۔ (احمد رضا خان)

آخری دونوں ترجموں میں لیلًا کا درست ترجمہ کیا گیا ہے۔ دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ سبحان پاکی بیان کرنے کے لیے بھی آتا ہے، لیکن اصل میں عظمت بیان کرنے کے لیے آتا ہے۔ پاکی عظمت کا لازمہ ہے۔ بطور خاص اس آیت میں تو عظمت کا محل معلوم ہوتا ہے۔ ترجمہ کریں گے: ’باعظمت ہے وہ ذات‘۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ درج ذیل آیت میں لیلا کا ترجمہ تقریبا سبھی نے راتوں رات کیا ہے۔  غالبا اس لیے کہ إِنَّکُمْ مُتَّبَعُونَ کہنے کی وجہ سے ایک رات کہنے کی گنجائش ہی نہیں رہی۔ بہرحال لیلا کا دونوں جگہ یہی ترجمہ ہونا چاہیے۔

فَأَسْرِ بِعِبَادِی لَیْلًا إِنَّکُمْ مُتَّبَعُونَ۔ (الدخان: 23)

”(جواب دیا گیا) اچھا تو راتوں رات میرے بندوں کو لے کر چل پڑ، تم لوگوں کا پیچھا کیا جائے گا“۔ (سید مودودی)

”(خدا نے فرمایا کہ) میرے بندوں کو راتوں رات لے کر چلے جاؤ“۔(فتح محمد جالندھری)

”(حکم ہوا کہ) میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ“۔(امین احسن اصلاحی)

(384)  وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ

درج ذیل جملے میں خود جھکنے کی بات نہیں کہی گئی ہے بلکہ خاکساری کے بازو جھکانے کی بات کہی گئی ہے۔ یہ بہت خوب صورت تعبیر ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ والدین کے ساتھ کمال درجے کی خاکساری کے ساتھ پیش آؤ۔ پر بچھانے اور جھک جانے میں فرق ہے۔ من الرحمۃ  کا مطلب ہے کہ یہ خاکساری رحمت کے جذبے کے ساتھ ہو۔ یعنی رحم دلی اور ہم دردی کے سارے تقاضے پورے کرو۔

وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ۔ (الاسراء: 24)

”اور عجزو نیاز سے ان کے آگے جھکے رہو“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور نرمی و رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو“۔ (سید مودودی)

”اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا“۔ (اشرف علی تھانوی)

مذکورہ بالا یہ تینوں ترجمے درست نہیں ہیں، کیوں ان کے سامنے جھکنے کا حکم نہیں دیا جارہا ہے۔

”اور ان کے لیے رحم دلانہ اطاعت کے بازو جھکائے رکھو“۔ (امین احسن اصلاحی، الذل کا مطلب اطاعت نہیں ہوتا، پھر رحم دلانہ اطاعت بھی معنوی لحاظ سے مضبوط بات نہیں لگتی۔)

”اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا“۔ (محمد جوناگڑھی، یہاں من الرحمۃ کا ترجمہ درست نہیں ہوسکا۔ رحمۃ کا مطلب عاجزی اور محبت نہیں ہوتا ہے)

”اور بچھا واسطے ان دونوں کے بازو ذلت کا مہربانی سے“۔(شاہ رفیع الدین، یہاں ذل کا ترجمہ تواضع و خاکساری ہوگا، ذلت نہیں)

”اور جھکا ان کے آگے کندھے عاجزی کرکر نیاز سے“۔ (شاہ عبدالقادر، جناح کا مطلب کندھے نہیں ہوتا، بازو ہوتا ہے۔اور رحمۃ کا مطلب نیاز نہیں ہوتا)

درج ذیل ترجمہ درست ہے:

”اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے“۔ (احمد رضا خان)

مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:

”اور ان کے لیے رحمت کے جذبے سے خاکسارانہ بازو جھکائے رکھو“۔

(385) نہر کا مطلب

نھر کا معنی جھڑکنا ہوتا ہے، یہ ضروری نہیں ہے کہ جھڑک کر جواب دیا جائے، ابتدا سے جھڑکنا بھی اس میں شامل ہے۔ اس لحاظ سے ذیل کے ترجموں میں دوسرا ترجمہ درست ہے۔

وَلَا تَنْہَرْہُمَا۔ (الاسراء: 23)

”نہ انہیں جھڑک کر جواب دو“۔ (سید مودودی)

”اور نہ ان کو جھڑکو“۔ (امین احسن اصلاحی)

(386)  ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّکَ تَرْجُوہَا

درج ذیل آیت کے ترجموں پر غور کریں:

وَإِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْہُمُ ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّکَ تَرْجُوہَا فَقُلْ لَہُمْ قَوْلًا مَیْسُورًا۔ (الاسراء: 28)

”اگر اُن سے (یعنی حاجت مند رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں سے) تمہیں کترانا ہو، اس بنا پر کہ ابھی تم اللہ کی اُس رحمت کو جس کے تم امیدوار ہو تلاش کر رہے ہو، تو انہیں نرم جواب دے دو“۔ (سید مودودی)

”اور اگر تمھیں اپنے رب کے فضل کے انتظار میں، جس کے تم متوقع ہو، ان سے اعراض کرنا پڑجائے تو تم ان سے نرمی کی بات کہہ دو“۔ (امین احسن اصلاحی)   

”اور اگر تو ان سے منہ پھیرے اپنے رب کی رحمت کے انتظار میں جس کی تجھے امید ہے تو ان سے آسان بات کہہ“۔ (احمد رضا خان)

ان ترجموں سے جو بات نکلتی ہے وہ یہ کہ انسان کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں ہے اس لیے وہ حاجت مندوں سے کترا رہا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس کترانے والے کو اللہ کی طرف سے دولت آنے کا انتظار، توقع یا امید بھی ہے۔

لیکن اشکال یہ ہے کہ جب انسان کے پاس کچھ ہے نہیں تو اسے کترانے کی کیا ضرورت ہے؟ وہ صاف صاف کہہ سکتا ہے کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ دوسرا اشکال یہ ہے کہ کیا ضروری ہے کہ تنگ حالی میں آدمی خوش حالی کا انتظار کرے۔ پھر خوش حالی کا انتظار صرف وہی کیوں کرے، حاجت مند بھی کیوں نہ کریں۔ غرض یہ کہ تعبیر کی معنویت واضح نہیں ہوپاتی ہے۔ اس پر مزید یہ کہ ابتغاء کا مطلب انتظار یا تلاش نہیں ہوتا ہے۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہ آیت اس کیفیت کو بتارہی ہے کہ آدمی کے پاس مال ہے، لیکن وہ اسے ان حاجت مندوں کو دینے کے بجائے کسی ایسی جگہ دینا چاہتا ہے جہاں اسے اللہ کی رحمت کی خاص امید ہے۔ یعنی موقع اللہ کے دین کی نصرت کے لیے خرچ کرنے کا ہو، اور اسی لیے مذکورہ حاجت مندوں سے اعراض کرکے وہ ان سے زیادہ اہم مد یعنی نصرتِ دین کی راہ میں خرچ کرنا چاہتا ہو اور اسے امید ہو کہ اس راہ میں خرچ کرکے وہ اللہ کی خاص رحمت کا سزاوار ہوگا۔ وہ ترجمہ کرتے ہیں:  

”اگر تم ان سے اعراض کرو اپنے رب کی رحمت کی طلب میں جس کی تم توقع رکھتے ہو۔“

(387)  نفور کا مطلب

عربی میں نفور کا اصل مطلب بدکنا ہے۔ اور اس کا اصل استعمال جانوروں کے لیے ہوتا ہے۔

فیروزآبادی لکھتے ہیں: نَفَرَتِ الدَّابَّةُ تَنْفِرُ وتَنْفُرُ نُفوراً ونِفاراً، فہی نافِرٌ ونَفورٌ: جَزِعَتْ، وتَباعَدَتْ، والظَّبْیُ نَفْراً ونَفَراناً، محرکةً: شَرَدَ،کاسْتَنْفَرَ.

اس کا اردو ترجمہ نفرت نہیں ہے۔ نفرت کے لیے عربی میں بغض آتا ہے۔ درج ذیل آیتوں میں بہت سے مترجمین نے نفور کا ترجمہ نفرت کیا ہے، جب کہ بیزار ہونا اور بدکنا درست ترجمہ ہے۔

(۱) وَإِذَا ذَکَرْتَ رَبَّکَ فِی الْقُرْآنِ وَحْدَہُ وَلَّوْا عَلَی أَدْبَارِہِمْ نُفُورًا۔  (الاسراء: 46)

”اور جب تم قرآن میں اپنے ایک ہی رب کا ذکر کرتے ہو تو وہ نفرت سے منہ موڑ لیتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”اور جب تم قرآن میں اپنے اکیلے رب کی یاد کرتے ہو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہیں نفرت کرتے“۔ (احمد رضا خان)

”اور جب تم قرآن میں تنہا اپنے رب ہی کا ذکر کرتے ہو تو وہ نفرت کے ساتھ پیٹھ پھیرلیتے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی، تنہا پہلے لانے سے شبہہ ہوتا ہے کہ رسول کا تنہائی میں ذکر کرنا مراد ہے، اس لیے تنہا کو بعد میں ذکر کرنا بہتر ہے، اپنے رب کا تن تنہا)

”اور جب تم قرآن میں اپنے پروردگار یکتا کا ذکر کرتے ہو تو وہ بدک جاتے اور پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

آخری ترجمے میں نفورا کا درست ترجمہ کیا گیا ہے۔

(۲)  وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِی ہَذَا الْقُرْآنِ لِیَذَّکَّرُوا وَمَا یَزِیدُہُمْ إِلَّا نُفُورًا۔ (الاسراء: 41)

”اور بیشک ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے بیان فرمایا کہ وہ سمجھیں اور اس سے انھیں نہیں بڑھتی مگر نفرت“۔ (احمد رضا خان)

”ہم نے اِس قرآن میں طرح طرح سے لوگوں کو سمجھایا کہ ہوش میں آئیں، مگر وہ حق سے اور زیادہ دور ہی بھاگے جا رہے ہیں“۔ (سید مودودی)

”اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں گے۔ مگر وہ اس سے اور بدک جاتے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

آخری دونوں ترجموں میں نفورا کا درست ترجمہ کیا گیا ہے۔

(۳) وَإِذَا قِیلَ لَہُمُ اسْجُدُوا لِلرَّحْمَنِ قَالُوا وَمَا الرَّحْمَنُ أَنَسْجُدُ لِمَا تَأْمُرُنَا وَزَادَہُمْ نُفُورًا۔  (الفرقان: 60)

”اِن لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ اس رحمان کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں ”رحمان کیا ہوتا ہے؟ کیا بس جسے تو کہہ دے اسی کو ہم سجدہ کرتے پھریں؟“ یہ دعوت ان کی نفرت میں الٹا اور اضافہ کر دیتی ہے“۔ (سید مودودی)

”اور اس (تبلیغ) نے ان کی نفرت میں مزید اضافہ کردیا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور یہ چیز ان کی نفرت کو اور بڑھاتی ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور اس سے بدکتے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور اس حکم نے انہیں اور بدکنا بڑھایا“۔ (احمد رضا خان)

آخری دونوں ترجموں میں نفورا کا درست ترجمہ کیا گیا ہے۔

(۴)  وَأَقْسَمُوا بِاللَّہِ جَہْدَ أَیْمَانِہِمْ لَئِنْ جَاءَہُمْ نَذِیرٌ لَیَکُونُنَّ أَہْدَی مِنْ إِحْدَی الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَہُمْ نَذِیرٌ مَا زَادَہُمْ إِلَّا نُفُورًا۔  (فاطر: 42)

”اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی ہدایت کرنے والا آئے تو ہر ایک اُمت سے بڑھ کر ہدایت پر ہوں۔ مگر جب ان کے پاس ہدایت کرنے والا آیا تو اس سے ان کو نفرت ہی بڑھی“۔ (فتح محمد جالندھری)

”پھر جب ان کے پاس ایک پیغمبر آ پہنچے تو بس ان کی نفرت ہی میں اضافہ ہوا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”پھر جب ان کے پاس ڈر سنانے والا تشریف لایا تو اس نے انہیں نہ بڑھایا مگر نفرت کرنا“۔ (احمد رضا خان)

”مگر جب خبردار کرنے والا ان کے پاس آگیا تو اس کی آمد نے اِن کے اندر حق سے فرار کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کیا“۔ (سید مودودی)

آخری ترجمے میں نفورا کا درست ترجمہ کیا گیا ہے۔

(۵)  أَمَّنْ ہَذَا الَّذِی یَرْزُقُکُمْ إِنْ أَمْسَکَ رِزْقَہُ بَلْ لَجُّوا فِی عُتُوٍّ وَنُفُورٍ۔ (الملک: 21)

”بھلا اگر وہ اپنا رزق بند کرلے تو کون ہے جو تم کو رزق دے؟ لیکن یہ سرکشی اور نفرت میں پھنسے ہوئے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”بلکہ وہ سرکشی اور نفرت میں ڈھیٹ بنے ہوئے ہیں“۔ (احمد رضا خان)

”بلکہ یہ لوگ سرکشی اور حق بیزاری پر اڑ گئے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

”دراصل یہ لوگ سرکشی اور حق سے گریز پر اڑے ہوئے ہیں“۔ (سید مودودی)

”بلکہ (کافر) تو سرکشی اور بدکنے پر اڑگئے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

آخری تینوں ترجموں میں نفورا کا درست ترجمہ کیا گیا ہے۔

(388)  حجابا مستورا

وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ الَّذِینَ لَا یُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَۃِ حِجَابًا مَسْتُورًا۔  وَجَعَلْنَا عَلَی قُلُوبِہِمْ أَکِنَّةً أَنْ یَفْقَہُوہُ وَفِی آذَانِہِمْ وَقْرًا۔ (الاسراء: 45، 46)

”اور جب قرآن پڑھا کرتے ہو تو ہم تم میں اور ان لوگوں میں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے حجاب پر حجاب کر دیتے ہیں اور ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کر دیتے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری، حجاب پر حجاب نہیں بلکہ نظر نہ آنے والا حجاب، حجاب ایک ہی ہے مگر وہ پوشیدہ ہے)

”جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارے اور آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کے درمیان ایک پردہ حائل کر دیتے ہیں۔ اور ان کے دلوں پر ایسا غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سمجھتے، اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کر دیتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”اور جب تم قرآن سناتے ہو تو ہم تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ایک مخفی پردہ حائل کردیتے ہیں، اور ان کے دلوں پر حجاب اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کردیتے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

یہاں دو باتیں قابل توجہ ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ صرف حجابا نہیں کہا گیا ہے بلکہ حجابا مستورا کہا گیا ہے۔ اس لیے ترجمے میں صرف حجاب یا پردہ کہنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ پوشیدہ پردہ یا مخفی حجاب کہنے سے پورا مفہوم ادا ہوگا۔ دوسری بات یہ ہے کہ وَجَعَلْنَا عَلَی قُلُوبِہِمْ پچھلی آیت کے جواب شرط یعنی جعلنا پر عطف نہیں ہے، بلکہ مستقل جملہ ہے۔ یعنی پہلی آیت میں تو یہ کہا گیا کہ جب نبی ان کو قرآن سناتے ہیں تو پوشیدہ پردہ حائل کردیا جاتا ہے، جب کہ دوسری آیت میں بتایا گیا کہ مستقل طور پر ان کے دلوں میں حجاب اور کانوں میں ثقل پیدا کردیا گیا ہے۔ چوں کہ ان کی مستقل کیفیت یہ ہے، اس لیے جب انھیں قرآن سنایا جاتا ہے تو ایک پوشیدہ پردہ حائل ہوجاتا ہے۔ اس لحاظ سے دوسری آیت کا ترجمہ ماضی سے کیا جائے گا۔ ’پردے ڈال دیتے ہیں‘کی بجائے ’پردے ڈال دیے ہیں‘۔ اس سے پردے ڈالنے والی بات کی تکرار نہیں رہے گی اور یہ بھی معلوم ہوگا کہ پردہ صرف اس خاص وقت میں نہیں ڈالا جاتا ہے بلکہ ان کے دلوں پر تو مستقل پردہ پڑا ہوا ہے، جس کی وجہ سے یہ نبی کی بات بھی نہیں سنتے۔

مذکورہ بالا دونوں پہلوؤں سے درج ذیل ترجمہ درست ہے۔

”تو جب قرآن پڑھتا ہے ہم تیرے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ایک پوشیدہ حجاب ڈال دیتے ہیں۔ اور ان کے دلوں پر ہم نے پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ اسے سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ“۔ (محمد جوناگڑھی)

(389) تحویلا کا مطلب

قرآن کی درج ذیل آیت میں تبدیل اور تحویل دونوں تعبیریں ایک ساتھ آئی ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں کے درمیان فرق ہے۔ اس فرق کو علامہ طاہر بن عاشور اس طرح بیان کرتے ہیں کہ تبدیل کا مطلب ہے کسی چیز کو بدل دینا اور تحویل کا مطلب ہے کسی چیز کو اس کی جگہ سے دوسری جگہ منتقل کردینا۔

والتبدیل: تغییر شیء... والتحویل: نقل الشیء من مکان إلی غیرہ، وکأنہ مشتق من الحول وہو الجانب. والمعنی: أنہ لا تقع الکرامة فی موقع العقاب، ولا یترک عقاب الجانی. وفی ہذا المعنی قول الحکماء: ما بالطبع لا یتخلف ولا یختلف. (التحریر والتنویر)

درج ذیل آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے کچھ مترجمین نے یہ فرق ملحوظ رکھا ہے کہ تبدیلا کا ترجمہ تو تبدیلی کیا ہے اور تحویلا کا ترجمہ ٹلنا کیا ہے۔

(۱) فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّہِ تَبْدِیلًا وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّہِ تَحْوِیلًا۔ (فاطر: 43)

”تو تم سنت الٰہی میں نہ کوئی تبدیلی پاؤ گے اور تم سنت الٰہی کو ٹلتے ہوئے ہی پاؤ گے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”سو تو نہ پاوے گا اللہ کا دستور بدلنا اور نہ پاوے گا اللہ کا دستور ٹلنا“۔ (شاہ عبدالقادر)

”سو آپ اللہ کے دستور کو کبھی بدلتا ہوا نہ پائیں گے، اور آپ اللہ کے دستور کو کبھی منتقل ہوتا ہوا نہ پائیں گے“۔ (محمد جوناگڑھی، اردو محاورے کے لحاظ سے ’منتقل ہوتا ہوا‘ کے بجائے ’ٹلتا ہوا‘ کہنا چاہیے۔)

”یہی بات ہے تو تم اللہ کے طریقے میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے اور تم کبھی نہ دیکھو گے کہ اللہ کی سنت کو اس کے مقرر راستے سے کوئی طاقت پھیر سکتی ہے“۔(سید مودودی، ”کوئی طاقت پھیر سکتی ہے“ کہنے کا محل نہیں ہے، کہنا تو یہ ہے کہ خود اللہ کی طرف سے نہ کوئی تبدیلی ہوگی اور نہ اسے ٹالا جائے گا۔)

”سو تم خدا کی عادت میں ہرگز تبدل نہ پاؤ گے۔ اور خدا کے طریقے میں کبھی تغیر نہ دیکھو گے“۔ (فتح محمد جالندھری)

آخری ترجمے میں تبدیل اور تحویل دونوں کا ایک ہی ترجمہ کردیا گیا۔

(۲)  قُلِ ادْعُوا الَّذِینَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِہِ فَلَا یَمْلِکُونَ کَشْفَ الضُّرِّ عَنْکُمْ وَلَا تَحْوِیلًا۔ (الاسراء: 56)

”کہہ دو کہ ان کو پکار دیکھو جن کو تم نے اس کے سوا معبود گمان کر رکھا ہے، نہ وہ تم سے کسی مصیبت کو دفع ہی کر سکیں گے نہ اس کو ٹال ہی سکیں گے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”کہہ دیجیے کہ اللہ کے سوا جنہیں تم معبود سمجھ رہے ہو انہیں پکارو لیکن نہ تو وہ تم سے کسی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں اور نہ بدل سکتے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اِن سے کہو، پکار دیکھو اُن معبودوں کو جن کو تم خدا کے سوا (اپنا کارساز) سمجھتے ہو، وہ کسی تکلیف کو تم سے نہ ہٹا سکتے ہیں نہ بدل سکتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”کہو کہ (مشرکو) جن لوگوں کی نسبت تمہیں (معبود ہونے کا) گمان ہے ان کو بلا کر دیکھو۔ وہ تم سے تکلیف کے دور کرنے یا اس کے بدل دینے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے“۔ (فتح محمد جالندھری)

آخری تینوں ترجموں میں تحویلا کا ترجمہ بدلنا کیا ہے، حالاں کہ ٹالنا ہونا چاہیے۔ اس لحاظ سے پہلا ترجمہ بہتر ہے۔

(۳)  سُنَّةَ مَنْ قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنْ رُسُلِنَا وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیلًا۔ (الإسراء: 77)

”یہ ہمارا مستقل طریق کار ہے جو اُن سب رسولوں کے معاملے میں ہم نے برتا ہے جہیں تم سے پہلے ہم نے بھیجا تھا، اور ہمارے طریق کار میں تم کوئی تغیر نہ پاؤ گے“۔ (سید مودودی)

”جو پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے تھے ان کا (اور ان کے بارے میں ہمارا یہی) طریق رہا ہے اور تم ہمارے طریق میں تغیروتبدل نہ پاؤ گے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”ہم نے تم سے پہلے اپنے جو رسول بھیجے، ان کے باب میں ہماری سنت کو یاد رکھو۔ اور تم ہماری سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے“۔ (امین احسن اصلاحی)

یہاں عام طور سے تحویلا کا ترجمہ تبدیلی کیا گیا ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:

”ہم نے تم سے پہلے اپنے جو رسول بھیجے، ان کے باب میں یہ رویہ رہا ہے، اور تم یہ نہیں پاؤ گے کہ ہماری سنت ٹل جائے۔“

(390) فَاسْأَلْ بَنِی إِسْرَاءِیلَ إِذْ جَاءَہُمْ

وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوسَی تِسْعَ آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ فَاسْأَلْ بَنِی إِسْرَاءِیلَ إِذْ جَاءَہُمْ فَقَالَ لَہُ فِرْعَوْنُ إِنِّی لَأَظُنُّکَ یَامُوسَی مَسْحُورًا۔ (الاسراء: 101)

”ہم نے موسیٰؑ کو تو نشانیاں عطا کی تھیں جو صریح طور پر دکھائی دے رہی تھیں اب یہ تم خود بنی اسرائیل سے پوچھ لو کہ جب وہ سامنے آئیں تو فرعون نے یہی کہا تھا نا کہ ”اے موسیٰؑ، میں سمجھتا ہوں کہ تو ضرور ایک سحر زدہ آدمی ہے“۔ (سید مودودی)

یہاں لگتا ہے مترجم سے سہو ہوگیا ہے اور جاء ھم کا فاعل آیات یعنی نشانیوں کو مان لیا ہے، اگر نشانیوں کے آنے کی بات ہوتی تو جاء تھم ہوتا۔ ظاہر ہے کہ جب جاء ھم مذکر کا صیغہ ہے تو فاعل نشانیاں نہیں بلکہ خود موسی علیہ السلام ہیں۔ درج ذیل ترجمہ درست ہے:

”اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دیں تو بنی اسرائیل سے دریافت کرلو کہ جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ موسیٰ میں خیال کرتا ہوں کہ تم پر جادو کیا گیا ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

(جاری)


قرآن / علوم القرآن

(جنوری ۲۰۲۳ء)

تلاش کریں

Flag Counter