اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۳۳)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۱۵) مُلک کا ترجمہ

عربی میں مُلک کا مشہور معنی بادشاہت، اقتدار اور حکمرانی ہے، امام لغت جوہری کے الفاظ میں: والاسم المُلکُ، والموضع مَمْلکَۃ۔

اردو میں ملک کا مشہور معنی دیس اور سلطنت ہے، عربی کے لفظ ملک کا اردو میں بھی ملک ترجمہ کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا ہے، بلکہ بادشاہت ، اقتدار اور حکمرانی جیسی تعبیر مناسب معلوم ہوتی ہے۔

قرآن مجید میں ملک کا لفظ متعدد مقامات پر آیا ہے، اور اکثر وبیشتر مقامات پر اس کا ترجمہ بادشاہی اور حکمرانی کیا گیا ہے، لیکن بعض مقامات پر بہت سارے مترجمین نے ملک کا ترجمہ ملک کیا ہے۔ مشہور ومعروف استعمالات کا لحاظ کیا جائے تو ہر مقام پر ملک کا ترجمہ اقتدار، بادشاہی اور حکمرانی زیادہ مناسب ہے۔

ذیل میں ایسی کچھ آیتیں ذکر کی جاتی ہیں جہاں بعض مترجمین نے ملک کا ترجمہ ملک کیا ہے:

(۱) قُلِ اللّٰہُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِیْ الْمُلْکَ مَن تَشَاءُ وَتَنزِعُ الْمُلْکَ مِمَّن تَشَاءُ- (آل عمران: ۲۶)

’’کہہ یا اللہ مالک ملک کے، دیتا ہے تو ملک جس کو چاہے اور چھین لیتا ہے ملک جس سے چاہے‘‘۔ (شاہ رفیع الدین)

’’تو کہہ یا اللہ مالک سلطنت کے تو سلطنت دیوے جس کو چاہے اور چھین لیتا ہو ملک جس سے چاہے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

’’آپ اللہ تعالیٰ سے یوں کہئے کہ اے اللہ مالک تمام ملک کے آپ مالک جس کو چاہیں دے دیتے ہیں اور جس سے چاہیں ملک لے لیتے ہیں‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

’’کہو خدایا، ملک کے مالک، تو جسے چاہے، حکومت دے اور جس سے چاہے، چھین لے‘‘۔ (سید مودودی)

’یوں عرض کر، اے اللہ ملک کے مالک، تو جسے چاہے سلطنت دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے‘‘۔ (احمد رضا خان)

’’آپ کہہ دیجئے اے اللہ، اے تمام جہان کے مالک، تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

’’کہو کہ اے خدا (اے) بادشاہی کے مالک تو جس کو چاہے بادشاہی بخشے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

’’دعا کرو اے اللہ، بادشاہی کے مالک، توہی جس کو چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے بادشاہی چھینے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

زیر نظر آیت میں تین بار ملک کا لفظ آیا ہے، بعض لوگوں نے پہلے لفظ کا ترجمہ ملک کیا ہے اور بعض نے تینوں کا ترجمہ ملک کیا ہے۔ آخری دونوں ترجمے زیادہ مناسب ہیں، ان میں تینوں مقامات پر بادشاہی ترجمہ کیا گیا ہے۔

شیخ سعدی اور شاہ ولی اللہ نے بھی اپنے فارسی ترجموں میں تینوں جگہ بادشاہی ترجمہ کیا ہے۔

(۲) وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ إِنَّ اللّٰہَ قَدْ بَعَثَ لَکُمْ طَالُوتَ مَلِکاً، قَالُوا أَنَّی یَکُونُ لَہُ الْمُلْکُ عَلَیْْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْکِ مِنْہُ وَلَمْ یُؤْتَ سَعَۃً مِّنَ الْمَالِ، قَالَ إِنَّ اللّٰہَ اصْطَفَاہُ عَلَیْْکُمْ وَزَادَہُ بَسْطَۃً فِی الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ، وَاللّٰہُ یُؤْتِیْ مُلْکَہُ مَن یَّشَاءُ۔ (البقرۃ: ۲۴۷)

’’اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا بیشک اللہ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا کر بھیجا ہے بولے اسے ہم پر بادشاہی کیونکر ہوگی اور ہم اس سے زیادہ سلطنت کے مستحق ہیں اور اسے مال میں بھی وسعت نہیں دی گئی فرمایا اسے اللہ نے تم پر چن لیا اور اسے علم اور جسم میں کشادگی زیادہ دی اور اللہ اپنا ملک جسے چاہے دے‘‘۔ (احمد رضا خان)

’’اُن کے نبی نے ان سے کہا کہ اللہ نے طالوت کو تمہارے لیے بادشاہ مقرر کیا ہے یہ سن کر وہ بولے : "ہم پر بادشاہ بننے کا وہ کیسے حقدار ہو گیا؟ اُس کے مقابلے میں بادشاہی کے ہم زیادہ مستحق ہیں وہ تو کوئی بڑا ما ل دار آدمی نہیں ہے" نبی نے جواب دیا: ’’اللہ نے تمہارے مقابلے میں اسی کو منتخب کیا ہے اور اس کو دماغی و جسمانی دونوں قسم کی اہلیتیں فراوانی کے ساتھ عطا فرمائی ہیں اور اللہ کو اختیار ہے کہ اپنا ملک جسے چاہے دے‘‘۔ (سید مودودی)

’’اور انہیں ان کے نبی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا دیا ہے تو کہنے لگے بھلا اس کی ہم پر حکومت کیسے ہوسکتی ہے؟ اس سے تو بہت زیادہ حقدار بادشاہت کے ہم ہیں، اس کو تو مالی کشادگی بھی نہیں دی گئی۔ نبی نے فرمایا سنو، اللہ تعالیٰ نے اسی کو تم پر برگزیدہ کیا ہے اور اسے علمی اور جسمانی برتری بھی عطا فرمائی ہے بات یہ ہے کہ اللہ جسے چاہے اپنا ملک دے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

’’اور پیغمبر نے ان سے (یہ بھی) کہا کہ خدا نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے۔ وہ بولے کہ اسے ہم پر بادشاہی کا حق کیونکر ہوسکتا ہے، بادشاہی کے مستحق تو ہم ہیں اور اس کے پاس تو بہت سی دولت بھی نہیں۔ پیغمبر نے کہا کہ خدا نے اس کو تم پر فضیلت دی ہے اور (بادشاہی کے لیے) منتخب فرمایا ہے اس نے اسے علم بھی بہت سا بخشا ہے اور تن و توش بھی (بڑا عطا کیا ہے) اور خدا (کو اختیار ہے) جسے چاہے بادشاہی بخشے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

’’اور ان کے نبی نے ان کو بتایا کہ بے شک اللہ نے تمہارے لیے طالوت کو امیر مقرر کردیا ہے۔ وہ بولے کہ بھلا اس کی امارت ہمارے اوپر کیسے ہوسکتی ہے جب کہ اس سے زیادہ حق دار ہم اس امارت کے ہیں اور اسے تو مال کی وسعت بھی حاصل نہیں ہے؟ نبی نے کہا اللہ نے تمہاری سرداری کے لیے اسی کو چنا اور اس کو علم اور جسم دونوں میں کشادگی عطا فرمائی ہے، اللہ اپنی طرف سے جسے چاہے اقتدار بخشے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

زیر نظر آیت میں بھی ملک کا لفظ تین بار آیا ہے، آخری دونوں ترجموں میں تینوں جگہ ملک کا ترجمہ بادشاہی کیا گیا ہے، اور یہی مناسب ترجمہ ہے۔ جبکہ زیادہ تر لوگوں نے تیسری جگہ ملک کا ترجمہ ملک کیا ہے، ذیل کے کچھ اور ترجموں میں بھی یہی ترجمہ کیا گیا ہے۔

’’اور اللہ دیتا ہے ملک اپنا جس کو چاہتا ہے‘‘۔ (شاہ رفیع الدین)

اللہ تعالی اپنا ملک جس کو چاہیں دیں۔ (اشرف علی تھانوی)

شیخ سعدی اور شاہ ولی اللہ نے اپنے فارسی ترجموں میں تینوں جگہ بادشاہی ترجمہ کیا ہے۔

(۳) لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ۔ (التغابن: ۱)

’’اسی کا ملک ہے اور اسی کی تعریف‘‘۔ (احمد رضا خان)

’’اسی کی سلطنت ہے اور وہی تعریف کے لائق ہے‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

شیخ سعدی، شاہ ولی اللہ اور شاہ رفیع الدین وغیرہ نے پادشاہی ترجمہ کیا ہے۔

(۴) ذَلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُ۔ (فاطر: ۱۳)

’’وہی تمہارا پروردگار ہے اسی کے اختیار میں سارا ملک ہے ‘‘(جوادی)

’’جس کی یہ شان ہے تمہارا پروردگار ہے اس کی سلطنت ہے‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

شیخ سعدی، شاہ ولی اللہ، شاہ عبدالقادر اور شاہ رفیع الدین وغیرہ نے پادشاہی ترجمہ کیا ہے۔

ذَلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُ۔ (الزمر: ۶)

’’وہی اللہ تمہارا پروردگار ہے اسی کے قبضہ میں ملک ہے‘‘۔ (جوادی)

’’یہ ہے اللہ تمہارا رب اسی کی سلطنت ہے‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

شیخ سعدی، شاہ ولی اللہ اور شاہ رفیع الدین وغیرہ نے پادشاہی ترجمہ کیا ہے۔

(۵) فَقَدْ آتَیْْنَا آلَ إِبْرَاہِیْمَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَآتَیْْنَاہُم مُّلْکاً عَظِیْماً۔ (النساء: ۵۴)

’’پس تحقیق دی ہم نے اولاد ابراہیم کی کو کتاب اور حکمت اور دی ہم نے ان کو بادشاہی بڑی‘‘۔ (شاہ رفیع الدین)

’’تو ہم نے تو ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور انھیں بڑا ملک دیا‘‘۔ (احمد رضا خان)

’’تو انہیں معلوم ہو کہ ہم نے تو ابراہیمؑ کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ملک عظیم بخش دیا‘‘۔ (سید مودودی)

اردو میں شاہ رفیع الدین نے ’’بادشاہی بڑی‘‘ اور فارسی میں شاہ ولی اللہ دہلوی اور شیخ سعدی نے ’’بادشاہی بزرگ‘‘ ترجمہ کیا ہے۔

(۶) وَإِذَا رَأَیْْتَ ثَمَّ رَأَیْْتَ نَعِیْماً وَمُلْکاً کَبِیْراً۔ (الانسان: ۲۰)

’’اور جب دیکھے گا تو اس جگہ دیکھے گا تو نعمت اور بادشاہی بڑی‘‘۔ (شاہ رفیع الدین)

وہاں جدھر بھی تم نگاہ ڈالو گے نعمتیں ہی نعمتیں اور ایک بڑی سلطنت کا سر و سامان تمہیں نظر آئے گا۔ (سید مودودی)

’’اور جہاں دیکھو گے وہیں عظیم نعمت اور عظیم بادشاہی دیکھو گے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

’’اور وہاں جدھر بھی نظر ڈالو گے وہیں آرام وآسائش اور عظیم بادشاہی کے سازوسامان دیکھو گے‘‘۔ (امانت اللہ اصلاحی)

یہاں شیخ سعدی نے ’’ملکے بزرگ ‘‘ اور شاہ ولی اللہ نے ’’بادشاہی بزرگ‘‘ ترجمہ کیا ہے۔

بعض مترجمین نے مختلف مقامات پر مُلک کا ترجمہ سلطنت بھی کیا ہے، سلطنت کے لفظ میں وسعت ہے، اس لیے ملک کے لیے سلطنت کا ترجمہ بھی مناسب ہوسکتا ہے، اگر یہ بات واضح ہورہی ہو کہ اس سے مراد ملک ومملکت نہیں بلکہ بادشاہی اور اقتدار ہے۔

مذکورہ بالا آیتوں کے انگریزی ترجموں میں لفظ ملک کے لیے مندرجہ ذیل تعبیریں ملتی ہیں: authority, power, sovereignty, kingship

تحقیق طلب بات یہ ہے کہ کیا عربی کے لفظ ملک کا انگریزی ترجمہ Kingdom ہوسکتا ہے؟ بعض انگریزی تراجم قرآن میں ایسے کئی مقامات پر ملک کا ترجمہ Kingdom بھی کیا گیا ہے۔

(جاری)

قرآن / علوم قرآن