اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۱۰)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۶۵) ترجمہ میں تفسیری اضافہ

قرآن مجید کے مختلف ترجموں کو پڑھتے ہوئے کہیں کہیں معلوم ہوتا ہے کہ مترجم نے ترجمہ کرتے ہوئے بعض ایسے اضافے کردئے جن کا محل ترجمہ نہیں بلکہ تفسیر ہے، ایسے اضافے اگر قوسین کے اندر کئے جاتے ہیں تو قابل اعتراض نہیں ہوتے ہیں کیونکہ قاری یہ سمجھتا ہے کہ قوسین کے اضافے دراصل تفسیری اور توضیحی نوعیت کے ہوتے ہیں، البتہ جب قوسین کے بغیر ایسے اضافے ہوں تو وہ قابل اعتراض ٹھہرتے ہیں، کیونکہ قاری ان کو عین الفاظ قرآنی کا ترجمہ سمجھتا ہے۔اس کو حسب ذیل مثالوں سے سمجھا جا سکتا ہے:

(۱) وَبَشِّرِ الَّذِیْن آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَہُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ کُلَّمَا رُزِقُواْ مِنْہَا مِن ثَمَرَۃٍ رِّزْقاً قَالُواْ ہَذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِن قَبْلُ وَأُتُواْ بِہِ مُتَشَابِہاً وَلَہُمْ فِیْہَا أَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ وَہُمْ فِیْہَا خَالِدُون۔ (البقرۃ:۲۵)

’’اور اے پیغمبر، جو لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئیں اور (اس کے مطابق) اپنے عمل درست کر لیں، انہیں خوش خبری دے دو کہ اْن کے لیے ایسے باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان باغوں کے پھل صورت میں دنیا کے پھلوں سے ملتے جلتے ہونگے جب کوئی پھل انہیں کھانے کو دیا جائے گا، تو وہ کہیں گے کہ ایسے ہی پھل اس سے پہلے دنیا میں ہم کو دیے جاتے تھے ان کے لیے وہاں پاکیزہ بیویاں ہونگی، اور وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے‘‘۔(سید مودودی)

آیت کے آئینے میں ترجمہ دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ترجمہ میں دو مقامات پر دنیا کا تذکرہ ہے جبکہ آیت میں ایسا کوئی لفظ نہیں ہے جس کا ترجمہ دنیا سے کیا جائے، یہ ایک تفسیری اضافہ ہے جس کو قوسین میں مذکور ہونا چاہئے تھا۔ 

اس کے بالمقابل مذکورہ ذیل ترجمے میں الفاظ کی بھر پور رعایت کی گئی ہے:

’’اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، ان کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے لیے (نعمت کے) باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جب انہیں ان میں سے کسی قسم کا میوہ کھانے کو دیا جائے گا تو کہیں گے، یہ تو وہی ہے جو ہم کو پہلے دیا گیا تھا۔ اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے اور وہاں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور وہ بہشتوں میں ہمیشہ رہیں گے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)

یہ ترجمہ آیت کے الفاظ کے مطابق ہے۔ الفاظ کی رو سے یہ بات زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے کہ آیت میں جنت کے پھلوں کی باہم مشابہت کو بیان کیا گیا ہے، اور اس باہمی مشابہت سے پھلوں کے انواع کی کثرت مراد ہے، کہ ہر نئے پھل کو دیکھ کر لگے گا کہ اس طرح کا پھل پہلے بھی مل چکا ہے۔ 

سید مودودی اور دیگر مفسرین نے جو مفہوم اختیار کیا ہے اس کی گنجائش ہوسکتی تھی اگرآیت میں کُلَّمَا  کی جگہ لفظ لما  ہوتا، کیونکہ کُلَّمَا  کے اندر استمرار کا مفہوم ہوتا ہے اور اس کا ترجمہ ہوتا ہے جب جب اور جب کبھی ، اب ظاہر ہے کہ جنت کی طویل ابدی زندگی میں ہمیشہ ہر پھل کو دیکھ کر دنیا کی مختصر زندگی کے پھلوں کو یاد کرنا قرین قیاس نہیں لگتا، اس لئے لفظ اور صورت حال کے مناسب مفہوم یہی لگتا ہے کہ وہ جنت کے پھلوں کو ان کی بے پناہ کثرت کی وجہ سے ایک دوسرے کے مشابہ قرار دیں گے۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ آیت میں پھلوں کے لئے لفظ ما کے بجائے الذی استعمال کیا گیا ہے، جس سے مفہوم یہ نکلتا ہے کہ وہ ہر نیا پھل شوق کے ساتھ لیں گے، اورکسی پھل کے سلسلے میں ناپسندیدگی یا اُکتاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔

(۲) فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ مِنْہُمْ قَوْلاً غَیْْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَہُمْ فَأَرْسَلْنَا عَلَیْْہِمْ رِجْزاً مِّنَ السَّمَاءِ بِمَا کَانُواْ یَظْلِمُون۔ (الاعراف:۱۶۲)

’’تو ان میں سے ان لوگوں نے جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے، اس کو بدل دیا کہی ہوئی بات سے مختلف بات سے۔ تو ہم نے ان پر ایک آفت سماوی بھیجی بوجہ اس کے کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

اس ترجمہ میں دو باتیں قابل توجہ ہیں ایک تو آیت کے الفاظ میں مطلق ظلم کا ذکر ہے، ’’اپنی جانوں پر‘‘ دونوں مقامات پر مترجم قرآن کا اضافہ ہے، جسے اگر ذکر کرنا تھا تو قوسین میں کرنا چاہئے تھا۔

دوسری بات یہ کہ ’’اس کو بدل دیا کہی ہوئی بات سے مختلف بات‘‘ غلط ترجمہ ہے، کیونکہ کسی اور چیز کو بدلنے کی بات نہیں ہے بلکہ جو بات کہی گئی تھی اس کو دوسری بات سے بدل دینے کا ذکر ہے۔یہ سادہ سی بات ترجمہ کی غلطی سے گنجلک ہوگئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس آیت سے ملتی جلتی ذیل کی آیت کے ترجمہ میں مترجم نے ان دونوں پہلوؤں کی پوری رعایت کی ہے:

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ قَوْلاً غَیْْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَہُمْ فَأَنزَلْنَا عَلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ رِجْزاً مِّنَ السَّمَاء بِمَا کَانُواْ یَفْسُقُون۔ (البقرۃ:۵۹)

’’تو جنھوں نے ظلم کیا انھوں نے بدل دیا اس بات کو جو ان سے کہی گئی تھی دوسری بات سے۔ پس ہم نے ان لوگوں پر جنھوں نے ظلم کیا، ان کی نافرمانی کے سبب سے آسمان سے عذاب اتارا‘‘۔(امین احسن اصلاحی)

(۳) أَلَیْْسَ اللَّہُ بِکَافٍ عَبْدَہُ وَیُخَوِّفُونَکَ بِالَّذِیْنَ مِن دُونِہِ وَمَن یُضْلِلِ اللَّہُ فَمَا لَہُ مِنْ ہَادٍ۔ (الزمر: ۳۶)

’’کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہے؟ اور یہ تم کو ان سے ڈراتے ہیں جو اس کے سوا انھوں نے بنا رکھے ہیں۔ اور جس کو خدا گمراہ کردے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں بن سکتا ہے‘‘۔(امین احسن اصلاحی)

اس ترجمہ میں (بِالَّذِیْنَ مِن دُونِہِ) کا ترجمہ ’’جو اس کے سوا انھوں نے بنا رکھے ہیں‘‘ کیا ہے، اس میں ’’انھوں نے بنا رکھے ‘‘ زائد ہے، درست ترجمہ ہوگا’’جو اس کے سوا ہیں‘‘۔

’’اور یہ (کفّار) آپ کو اللہ کے سوا اُن بتوں سے (جن کی یہ پوجا کرتے ہیں) ڈراتے ہیں‘‘۔(طاہر القادری، اس ترجمہ میں ’’ان بتوں سے‘‘ زائد ہے جس کا آیت کے الفاظ میں ذکر نہیں ہے)

آیت کا درست ترجمہ یوں ہے:

’’(اے نبی) کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے؟ یہ لوگ اْس کے سوا دوسروں سے تم کو ڈراتے ہیں حالانکہ اللہ جسے گمراہی میں ڈال دے اْسے کوئی راستہ دکھانے والا نہیں"(سید مودودی)

(۶۶) معجزین کا ترجمہ

معجزکا لفظی ترجمہ ہے، بے بس کردینے والا، اور جب سیاق کلام میں اللہ کی پکڑ کے تذکرہ کاہو، تو اس کا مطلب ہوگا اللہ کے قابو سے باہر نکل جانا والا۔وجہ واضح ہے کہ کلام میں اس کی نفی نہیں کی جارہی ہے کہ وہ اللہ کو بے بس کردیں گے، بلکہ یہ بتایا جارہا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی پکڑ سے اور اس کے عذاب کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے۔ عام طور سے مترجمین نے عاجز کرنے، تھکادینے اور بے بس کرنے کا مفہوم لیا ہے، جو لفظ کے مفہوم سے قریب ہے، البتہ بعض مقامات پر بعض مترجمین نے ہرانے اور مغلوب کرنے کا ترجمہ کیا ہے، یہ ترجمہ درست نہیں ہے، کیونکہ ہرادینے اور مغلوب کردینے میں جس مقابلہ آرائی کا تصور پایا جاتا ہے اس کا یہاں ذکر نہیں ہورہا ہے۔ حسب ذیل مثالوں میں اس فرق کو محسوس کیا جاسکتا ہے:

(۱) إِنَّ مَا تُوعَدُونَ لآتٍ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِیْن۔ (الانعام :۱۳۴)

’’کچھ شک نہیں کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ (وقوع میں) آنے والا ہے اور تم (خدا کو) مغلوب نہیں کر سکتے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)

’’جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے وہ آکے رہے گی، اور تم (ہمارے) قابو سے باہر نہیں جاسکتے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

(۲) وَیَسْتَنبِئُونَکَ أَحَقٌّ ہُوَ قُلْ إِیْ وَرَبِّیْ إِنَّہُ لَحَقٌّ وَمَا أَنتُمْ بِمُعْجِزِیْن۔ (یونس :۵۳)

’’پھرپوچھتے ہیں کیا واقعی یہ سچ ہے جو تم کہہ رہے ہو؟ کہو ‘‘میرے رب کی قسم، یہ بالکل سچ ہے اور تم اتنا بل بوتا نہیں رکھتے کہ اسے ظہور میں آنے سے روک دو‘‘۔(سید مودودی)

’’اور وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بات واقعی ہے؟ کہہ دو کہ ہاں ، میرے رب کی قسم، یہ شدنی ہے۔ اور تم قابو سے باہر نہیں نکل سکو گے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی، چونکہ ما جملہ حالیہ پر لگتا ہے، اس لئے نہیں نکل سکتے ، درست ترجمہ ہے، سورہ انعام والی آیت میں مترجم نے اس کی رعایت کی ہے۔)

(۳) أُولَئِکَ لَمْ یَکُونُواْ مُعْجِزِیْنَ فِیْ الأَرْضِ۔ (ہود : ۲۰)

’’یہ لوگ زمین میں (کہیں بھاگ کر خدا کو) نہیں ہرا سکتے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)

’’نہ یہ لوگ دنیا میں اللہ کو ہرا سکے‘‘۔(محمد جوناگڑھی)

’’یہ زمین میں خدا کے قابو سے باہر نہیں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

(۴) قَالَ إِنَّمَا یَأْتِیْکُم بِہِ اللّٰہُ إِن شَاءَ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِیْنَ۔ (ہود:۳۳)

’’نوح نے جواب دیا:’’وہ تو اللہ ہی لائے گا، اگر چاہے گا، اور تم اتنا بل بوتا نہیں رکھتے کہ اسے روک دو‘‘۔(سید مودودی)

’’جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالیٰ ہی لائے گااگروہ چاہے اورہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو‘‘۔(محمد جوناگڑھی)

’’نوح نے کہا کہ اس کو خدا ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔ اور تم (اُس کو کسی طرح) ہرا نہیں سکتے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)

’’اس نے جواب دیا کہ اس کو تو تم پر اللہ ہی لائے گا اگر وہ چاہے گا اور تم اس کے قابو سے باہر نہ نکل سکو گے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی، یہاں بھی ما کی وجہ سے حال کا ترجمہ کرنا چاہئے ، درست ترجمہ ہے،تم اس کے قابو سے باہر نہیں نکل سکتے)

(۵) لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوا مُعْجِزِیْنَ فِیْ الْأَرْضِ وَمَأْوَاہُمُ النَّارُ وَلَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۔ (النور:۵۷)

’’اور ایسا خیال نہ کرنا کہ تم پر کافر لوگ غالب آجائیں گے (وہ جا ہی کہاں سکتے ہیں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)

’’یہ خیال آپ کبھی بھی نہ کرنا کہ منکر لوگ زمین میں (ادھر ادھر بھاگ کر) ہمیں ہرا دینے والے ہیں، ان کا اصلی ٹھکانا تو جہنم ہے جو یقیناًبہت ہی برا ٹھکانا ہے‘‘۔(محمد جوناگڑھی)

’’ان کافروں کی نسبت یہ گمان نہ کرو کہ یہ زمین میں ہمارے قابو سے باہر نکل جائیں گے۔ اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بے شک نہایت ہی برا ٹھکانا ہے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

(۶) فَأَصَابَہُمْ سَیِّئَاتُ مَا کَسَبُوا وَالَّذِیْنَ ظَلَمُوا مِنْ ہَؤُلَاء سَیُصِیْبُہُمْ سَیِّئَاتُ مَا کَسَبُوا وَمَا ہُم بِمُعْجِزِیْنَ۔ (الزمر :۵۱)

’’پھر ان کی تمام برائیاں ان پر آ پڑیں، اوران میں سے بھی جو گناہ گار ہیں ان کی کی ہوئی برائیاں بھی اب ان پر آ پڑیں گی، یہ (ہمیں) ہرا دینے والے نہیں‘‘۔(محمد جوناگڑھی)

’’تو ان پر پڑ گئیں ان کی کمائیوں کی برائیاں اور وہ جو ان میں ظالم ہیں عنقریب ان پر پڑیں گی ان کی کمائیوں کی برائیاں اور وہ قابو سے نہیں نکل سکتے‘‘۔(احمد رضا خان)

(۷) وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِیْنَ فِیْ الْأَرْضِ وَمَا لَکُم مِّن دُونِ اللَّہِ مِن وَلِیٍّ وَلَا نَصِیْرٍ۔ (الشوریٰ: ۳۱)

’’اورتم زمین میں (پناہ لے کراس کو) ہرا نہیں سکتے اور خدا کے سوا تمہارا کوئی بھی حامی ومددگار نہیں‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

’’اور تم زمین میں قابو سے نہیں نکل سکتے اور نہ اللہ کے مقابل تمہارا کوئی دوست نہ مددگار‘‘۔(احمد رضا خان)

(۸) قَدْ قَالَہَا الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِمْ فَمَا أَغْنَی عَنْہُم مَّا کَانُوا یَکْسِبُونَ۔ فَأَصَابَہُمْ سَیِّئَاتُ مَا کَسَبُوا وَالَّذِیْنَ ظَلَمُوا مِنْ ہَؤُلَاءِ سَیُصِیْبُہُمْ سَیِّئَاتُ مَا کَسَبُوا وَمَا ہُم بِمُعْجِزِیْنَ۔ (الزمر:۵۰۔۵۱)

’’ان سے پہلے والوں نے بھی یہ بات کہی تو ان کی کمائی ان کے کچھ کام آنے والی نہ بنی، پس ان کے اعمال کے برے نتائج ان کے سامنے آئے اور ان لوگوں میں سے بھی جنھوں نے شرک کیا ہے، ان کے سامنے ان کے اعمال کے برے نتائج جلد آکے رہیں گے۔اور یہ ہم کو ہرانے والے نہیں بن سکتے‘‘۔(امین احسن اصلاحی، ظَلَمُوا کا ترجمہ شرک کیا کرنا درست نہیں ہے۔)

’’ان سے اگلے بھی یہی بات کہہ چکے ہیں پس ان کی کارروائی ان کے کچھ کام نہ آئی ،پھر ان کی تمام برائیاں ان پر آ پڑیں، اوران میں سے بھی جو گناہ گار ہیں ان کی کی ہوئی برائیاں بھی اب ان پر آ پڑیں گی، یہ (ہمیں) ہرا دینے والے نہیں‘‘۔ (محمد جوناگڑھی، وَالَّذِیْنَ ظَلَمُوا کا ترجمہ گناہ گار کرنا درست نہیں ہے)

’’ان سے اگلے بھی ایسے ہی کہہ چکے تو ان کا کمایا ان کے کچھ کام نہ آیا،تو ان پر پڑ گئیں ان کی کمائیوں کی برائیاں اور وہ جو ان میں ظالم ہیں عنقریب ان پر پڑیں گی ان کی کمائیوں کی برائیاں اور وہ قابو سے نہیں نکل سکتے‘‘۔(احمد رضا خان)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ (وَالَّذِیْنَ ظَلَمُوا مِنْ ہَؤُلَاء) میں مِنْ تبعیض کا نہیں بلکہ بیانیہ ہے، ’’ان میں جنھوں نے ظلم کیا‘‘ کی بجائے ترجمہ ہوگا ’’اور یہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا‘‘آیتوں کا ترجمہ ہوگا:

’’ان سے پہلے والوں نے بھی یہ بات کہی تو ان کی کمائی ان کے کچھ کام آنے والی نہ بنی، پس ان کے اعمال کے برے نتائج ان کے سامنے آئے اوریہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا ، ان کے سامنے بھی ان کے اعمال کے برے نتائج جلد آکے رہیں گے۔اور یہ ہمارے بس سے نہیں نکل سکتے‘‘۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(۶۷) فعل ماضی کا ترجمہ حال یا مستقبل سے

أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّہَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَلَکَہُ یَنَابِیْعَ فِیْ الْأَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِہِ زَرْعاً مُّخْتَلِفاً أَلْوَانُہُ ثُمَّ یَہِیْجُ فَتَرَاہُ مُصْفَرّاً ثُمَّ یَجْعَلُہُ حُطَاماً إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَذِکْرَی لِأُوْلِیْ الْأَلْبَابِ۔ (الزمر:۲۱)

آیت مذکورہ میں پہلے دو افعال ماضی کے صیغے میں ہیں، جبکہ بعد کے تمام افعال مضارع کے صیغے میں ہیں، اس کی رعایت ترجمہ میں ہونا چاہئے تھی، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ بعض مترجمین نے اس فرق کی رعایت نہیں کی ہے، اور تمام افعال کا استمراری حال کا ترجمہ کیا ہے مندرجہ ذیل دو مثالیں ملاحظہ ہوں:

’’کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اسے زمین کی سوتوں میں پہنچاتا ہے، پھر اسی کے ذریعہ سے مختلف قسم کی کھیتیاں اگاتا ہے پھر وہ خشک ہو جاتی ہیں اور آپ انہیں زرد رنگ دیکھتے ہیں پھر انہیں ریزہ ریزہ کر دیتا ہے، اس میں عقل مندوں کے لئے بہت زیادہ نصیحت ہے‘‘۔(محمد جونا گڑھی)

’’دیکھتے نہیں کہ اللہ ہی اتارتا ہے آسمان سے پانی، پس اس کے چشمے جاری کردیتا ہے زمین میں۔ پھر اس سے پیدا کرتا ہے کھیتیاں مختلف قسموں کی، پھر وہ خشک ہونے لگتی ہیں اور تم ان کو زرد دیکھتے ہو، پھر وہ ان کو ریزہ ریزہ کردیتا ہے، بے شک اس کے اندر اہل عقل کے لئے بڑی یاددہانی ہے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

جبکہ مندرجہ ذیل ترجمہ میں صیغوں کے اس فرق کی پوری رعایت کی گئی ہے:

’’کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کو سوتوں اور چشموں اور دریاؤں کی شکل میں زمین کے اندر جاری کیا، پھر اس پانی کے ذریعہ سے وہ طرح طرح کی کھیتیاں نکالتا ہے جن کی قسمیں مختلف ہیں، پھر وہ کھیتیاں پک کر سوکھ جاتی ہیں، پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد پڑ گئیں، پھر آخرکار اللہ اْن کو بھس بنا دیتا ہے در حقیقت اِس میں ایک سبق ہے عقل رکھنے والوں کے لیے"(سید مودودی)

(جاری)

قرآن / علوم قرآن