اردو تراجم قرآن پر ایک نظر - مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۲۷)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۰۷) القول علی اللہ کا مفہوم

قرآن مجید میں قول علی اللہ کی تعبیر مختلف صیغوں میں استعمال ہوئی ہے، اس تعبیرکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی طرف کسی بات کو منسوب کرکے یہ کہنا کہ اللہ نے یہ بات کہی ہے ، جب کہ کہی نہ ہو، یا یہ کہنا کہ اللہ ایسا کرتا ہے یا کرے گا، جب کہ ایسا نہ ہو۔ بعض مترجمین نے بعض مقامات پر اس کا ترجمہ اللہ پر تہمت لگانا اور بہتان باندھنا کیا ہے، یہ ترجمہ درست نہیں ہے۔ اس تعبیر کے اندر اللہ پر کسی طرح کی تہمت لگانے کا مفہوم نہیں پایا جاتا ہے۔ بعض مترجمین نے اللہ کی شان کے خلاف بات کہنے کا مفہوم بھی لیا ہے، وہ بھی اس لفظ کا اصل مفہوم نہیں ہے، اسی طرح بعض لوگوں نے اللہ کے ذمہ کوئی بات ڈالنے کا ترجمہ کیا ہے، یہ بھی الفاظ کے مطابق نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے اللہ کے بارے میں کہنے کا ترجمہ کیا ہے، یہ بھی موزوں نہیں ہے۔

(۱) وَقَالُواْ لَن تَمَسَّنَا النَّارُ إِلاَّ أَیَّاماً مَّعْدُودَۃً، قُلْ أَتَّخَذْتُمْ عِندَ اللّٰہِ عَہْداً فَلَن یُّخْلِفَ اللّٰہُ عَہْدَہُ أَمْ تَقُولُونَ عَلَی اللّٰہِ مَا لاَ تَعْلَمُون۔ (البقرۃ:۸۰)

’’اور وہ کہتے ہیں کہ ان کو دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی مگر صرف گنتی کے چند دن۔ پوچھو کیا تم نے اللہ کے پاس اس کے لیے کوئی عہد کرالیا ہے کہ اللہ اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرے گا یا تم اللہ پر ایک ایسی تہمت باندھ رہے ہو جس کے بارے میں تمہیں کچھ علم نہیں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

’’یا بات یہ ہے کہ تم اللہ کے ذمے ڈال کر ایسی باتیں کہہ دیتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ اس نے ان کا ذمہ لیا ہے‘‘۔ (سید مودودی، اللہ کی طرف منسوب کرکے کہ اس نے وہ باتیں کہی ہیں) 

’’یا اللہ تعالیٰ کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کی کوئی علمی سند اپنے پاس نہیں رکھتے ‘‘(اشرف علی تھانوی)

’’بلکہ تم خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہو جن کا تمہیں مطلق علم نہیں‘‘(فتح محمد جالندھری)

’’یا تم اللہ پر یونہی (وہ) بہتان باندھتے ہو جو تم خود بھی نہیں جانتے‘‘ (طاہر القادری)

درست ترجمہ ہوگا: ’’یا تم اللہ کی طرف منسوب کرکے وہ باتیں کہہ رہے ہو جن کاتم کو علم نہیں ہے‘‘ 

(۲) إِنَّمَا یَأْمُرُکُمْ بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَاءِ وَأَن تَقُولُواْ عَلَی اللّٰہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ۔ (البقرۃ: ۱۶۹)

’’اور یہ (بھی تعلیم کرے گا) کہ اللہ کے ذمہ وہ باتیں لگاؤ کہ جس کی سند ہی نہیں رکھتے ‘‘(اشرف علی تھانوی)

’’وہ تو بس تمہیں برائی اور بے حیائی (کی راہ) سجھائے گا اور اس بات کی کہ تم خدا کی طرف وہ باتیں منسوب کرو جن کے بارے میں تمہیں کوئی علم نہیں ہے‘‘ (امین احسن اصلاحی)

دوسرا ترجمہ زیاد ہ مناسب ہے۔

(۳) بِأَنَّہُمْ قَالُوا لَیْْسَ عَلَیْْنَا فِی الأُمِّیِّیْنَ سَبِیْلٌ وَیَقُولُونَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ وَہُمْ یَعْلَمُونَ۔ (آل عمران: ۷۵)

’’یہ اس وجہ سے کہ وہ کہتے ہیں کہ ان امیوں کے معاملے میں ہمارے اوپر کوئی الزام نہیں ہے۔ اور یہ جانتے بوجھتے اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں‘‘ (امین احسن اصلاحی)

(۴) وَیَقُولُونَ ہُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَمَا ہُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَیَقُولُونَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ وَہُمْ یَعْلَمُونَ۔ (آل عمران: ۷۸)

’’اور وہ دعوی کرتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے ہے حالانکہ وہ اللہ کے پاس سے نہیں ہے۔ اور وہ اللہ پر جانتے بوجھتے جھوٹ باندھتے ہیں‘‘ (امین احسن اصلاحی)

(۵) یَا أَہْلَ الْکِتَابِ لاَ تَغْلُوا فِی دِیْنِکُمْ وَلاَ تَقُولُوا عَلَی اللّٰہِ إِلاَّ الْحَقَّ۔ (النساء:۱۷۱)

’’اے اہل کتاب اپنے دین میں غلو نہ کرو اور اللہ پر حق کے سوا کوئی اور بات نہ ڈالو‘‘ (امین احسن اصلاحی)

’’اے اہل کتاب! تم اپنے دین میں حد سے زائد نہ بڑھو اور اللہ کی شان میں سچ کے سوا کچھ نہ کہو‘‘(طاہر القادری)

پہلا ترجمہ زیادہ مناسب ہے۔یہاں اللہ کی شان میں کہنا مراد نہیں بلکہ کسی بات کو جو اللہ نے نہیں کہی ہے اسے اللہ کی طرف منسوب کرکے کہنا مراد ہے۔

(۶) اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُونِ بِمَا کُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَی اللّٰہِ غَیْْرَ الْحَقِّ۔ (الانعام:۹۳)

’’آج تم ذلت کا عذاب دیے جاؤ گے، بوجہ اس کے کہ تم اللہ پر ناحق تہمت جوڑتے تھے‘‘ (امین احسن اصلاحی)

’’آج تمہیں ان باتوں کی پاداش میں ذلت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر ناحق بکا کرتے تھے‘‘ (سید مودودی)

’’ آج تم کو ذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی اس لئے کہ تم خدا پر جھوٹ بولا کرتے تھے‘‘ ( فتح محمد جالندھری)

یہاں تیسرا ترجمہ درست ہے، پہلے اور دوسرے ترجمہ میں تہمت جوڑنے اور رکھنے کا ترجمہ کیا گیا ہے جو درست نہیں ہے۔

(۷) وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَۃً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَیْْہَا آبَاءَ نَا وَاللّٰہُ أَمَرَنَا بِہَا قُلْ إِنَّ اللّٰہَ لاَ یَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ أَتَقُولُونَ عَلَی اللّٰہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ۔ (الاعراف:۲۸)

’’اور جب یہ لوگ کسی بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہیں، کہتے ہیں ہم نے اسی طریق پر اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور خدا نے ہمیں اسی کا حکم دیا ہے۔ کہہ دو اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا ہے۔ کیا تم لوگ اللہ پر وہ تہمت جوڑتے ہو جس کے باب میں تم کو کوئی علم نہیں‘‘ (امین احسن اصلاحی)

’’کیا خدا کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کی تم سند نہیں رکھتے ‘‘(اشرف علی تھانوی)

’’بھلا تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں ‘‘(فتح محمد جالندھری)

یہاں بھی اللہ پر تہمت جوڑنے یا اللہ کی نسبت کوئی بات کہنے کے بجائے کسی بات کو خدا کی طرف منسوب کرکے کہنا مراد ہے۔

(۸) قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ وَالإِثْمَ وَالْبَغْیَ بِغَیْْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِکُوا بِاللّٰہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ سُلْطَاناً وَّأَنْ تَقُولُوا عَلَی اللّٰہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ۔ (الاعراف: ۳۳)

’’کہہ دو میرے رب نے حرام تو بس بے حیائیوں کو ٹھہرایا ہے، خواہ کھلی ہوں خواہ پوشیدہ، اور حق تلفی اور ناحق زیادتی کو۔ اور اس بات کو حرام ٹھہرایا ہے کہ تم اللہ کا کسی چیز کو ساجھی ٹھہراؤ جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور یہ کہ تم اللہ پر کسی ایسی بات کا بہتان لگاؤ جس کا تم علم نہیں رکھتے ‘‘(امین احسن اصلاحی)

یہاں بھی اللہ پر بہتان لگانا غلط ترجمہ ہے، صحیح ترجمہ ہے: اور یہ کہ تم اللہ کی طرف منسوب کرکے وہ بات کہو جس کے بارے میں تم کو علم نہیں ہے۔

(۹) وَقَالَ مُوسَی یَا فِرْعَوْنُ إِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ حَقِیْقٌ عَلَی أَن لاَّ أَقُولَ عَلَی اللّٰہِ إِلاَّ الْحَقَّ۔ (الاعراف:۱۰۴،۱۰۵)

’’اور موسیٰ نے کہا: اے فرعون میں خداوند عالم کا فرستادہ ہوں سزاوار اور حریص ہوں کہ اللہ کی طرف حق کے سوا کوئی اور بات منسوب نہ کروں ‘‘(امین احسن اصلاحی، اس میں حریص کا لفظ زائد ہے)

’’مجھے یہی زیب دیتا ہے کہ اللہ کے بارے میں حق بات کے سوا (کچھ) نہ کہوں‘‘(طاہر القادری)

یہاں پہلا ترجمہ درست ہے۔

(۱۰) أَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْْہِم مِّیْثَاقُ الْکِتَابِ أَن لاَّ یِقُولُوا عَلَی اللّٰہِ إِلاَّ الْحَقَّ۔ (الاعراف: ۱۶۹)

’’کیا ان سے درباب کتاب یہ میثاق نہیں لیا گیا کہ وہ اللہ پر حق کے سوا کوئی اور بات نہ جوڑیں ‘‘(امین احسن اصلاحی)

’’کیا ان سے کتابِ (الٰہی) کا یہ عہد نہیں لیا گیا تھا کہ وہ اللہ کے بارے میں حق (بات) کے سوا کچھ اور نہ کہیں گے؟ ‘‘(طاہر القادری)

یہاں بھی پہلا ترجمہ درست ہے۔

(۱۱) قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَداً سُبْحَانَہُ ہُوَ الْغَنِیُّ لَہُ مَا فِی السَّمَاوَات وَمَا فِی الأَرْضِ إِنْ عِنْدَکُم مِّن سُلْطَانٍ بِہَذَا أَتقُولُونَ عَلَی اللّٰہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ۔ (یونس: ۶۸)

’’یہ کہتے ہیں کہ خدا کے اولاد ہے۔ وہ ایسی باتوں سے پاک ہے۔ وہ بے نیاز ہے۔ جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ تمھارے پاس اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ کیا تم اللہ پر وہ بات لگاتے ہو جس کا تم علم نہیں رکھتے‘‘ (امین احسن اصلاحی)

یہ ترجمہ درست ہے، البتہ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَداً کا ترجمہ یہ نہیں ہوگا کہ ’’ یہ کہتے ہیں کہ خدا کے اولاد ہے‘‘ بلکہ یہ ہوگا کہ ’’یہ کہتے ہیں کہ خدا نے کسی کو اولاد بنالیا ہے‘‘۔

(۱۲) وَأَنَّہُ کَانَ یَقُولُ سَفِیْہُنَا عَلَی اللّٰہِ شَطَطاً۔ وَأَنَّا ظَنَنَّا أَن لَّنْ تَقُولَ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَی اللّٰہِ کَذِباً۔ (الجن:۴،۵)

’’اور یہ کہ ہمارا بے وقوف (سردار) اللہ کے بارے میں حق سے بالکل ہٹی ہوئی باتیں کہتا رہا ہے اور یہ ہم نے گمان کیا کہ انسان اور جن خدا پر ہرگز کوئی جھوٹ نہیں باندھ سکتے‘‘(امین احسن اصلاحی۔ القول علی اللہ کی تعبیر دونوں آیتوں میں آئی ہے، دونوں آیتوں میں الگ الگ ترجمہ کیا گیا ہے، جب کہ دوسری آیت کا ترجمہ زیادہ صحیح ہے، ایک چوک مترجم سے یہ ہوگئی ہے کہ دوسری آیت میں لن کا ترجمہ مستقبل سے نہیں کیا ہے۔ صحیح ترجمہ ہوگا’’ہرگز کوئی جھوٹ نہیں باندھیں گے‘‘) 

’’اور ہم میں جو احمق ہوئے ہیں وہ اللہ کی شان میں حد سے بڑھی ہوئی باتیں کہتے تھے اور ہمارا (پہلے) یہ خیال تھا کہ انسان اور جنات کبھی خدا کی شان میں جھوٹ بات نہ کہیں گے‘‘(اشرف علی تھانوی)

’’اور یہ کہ ہم میں سے بعض بیوقوف خدا کے بارے میں جھوٹ افتراء کرتا ہے. اور ہمارا (یہ) خیال تھا کہ انسان اور جن خدا کی نسبت جھوٹ نہیں بولتے ‘‘( فتح محمد جالندھری، جھوٹ نہیں بولتے کے بجائے جھوٹ نہیں بولیں گے ہونا چاہئے، کیونکہ ’’لن‘‘ مستقبل کے لئے ہوتا ہے )

’’اور یہ کہ ہم میں سے کوئی اَحمق ہی اللہ کے بارے میں حق سے دور حد سے گزری ہوئی باتیں کہا کرتا تھا،اور یہ کہ ہم گمان کرتے تھے کہ انسان اور جن اللہ کے بارے میں ہر گز جھوٹ نہیں بولیں گے‘‘ (طاہر القادری)

اس آیت کے مذکورہ ترجموں میں خدا پر جھوٹ باندھنے کا ترجمہ زیادہ صحیح ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ بعض مترجمین کے یہاں ایک ہی لفظ کے مختلف مقامات پر مختلف ترجمے ملتے ہیں، یا تواسے تسامح سمجھا جائے،یا پھر ممکن ہے کہ ان کو ترجمے کے سلسلے میں تردد ہو، اور کسی ایک تعبیر پر اطمینان نہ ہو۔

(جاری)

قرآن / علوم قرآن

فروری ۲۰۱۷ء

جلد ۲۸ ۔ شمارہ ۲

اختلاطِ مرد وزن، پردہ اور سماجی حقوق و فرائض / دینی مدارس کا نصاب ونظام۔ قومی پالیسی وضع کرنے کی ضرورت
محمد عمار خان ناصر

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر - مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۲۷)
ڈاکٹر محی الدین غازی

’’سفر جمال: نبی مکرمؐ کی جمالیاتی مزاحمت کی پر عزم داستان‘‘
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

حضرت مولانا سلیم اللہ خانؒ ، حضرت مولانا عبد الحفیظ مکیؒ اور حضرت قاری محمد انورؒ کا انتقال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

معاصر اسلامی معاشروں کو درپیش فکری تحدیات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دینی مدارس کے فضلا کا یورپی ممالک کا مطالعاتی دورہ ۔ مختصر روداد اور تاثرات
مولانا محمد رفیق شنواری

دینی مدارس اور عصری رجحانات
غازی عبد الرحمن قاسمی

احمدی اور تصورِ ختم نبوت : ایک احمدی جوڑے سے گفتگو
ڈاکٹر محمد شہباز منج

مولانا محمد بشیر سیالکوٹیؒ ۔ چند یادیں، چند باتیں
محمد عثمان فاروق

فقہائے احناف اور فہم حدیث ۔ اصولی مباحث (مصنف: محمد عمار خان ناصر)
ڈاکٹر حافظ مبشر حسین

Flag Counter