اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۸)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(259) سلفًا اور آخِرین کا ترجمہ

فَجَعَلنَاہُم سَلَفاً وَمَثَلاً لِلآخِرِینَ۔ (سورة الزخرف: 56)

”اور ان کو ماضی کی ایک داستان اور دوسروں کے لیے ایک نمونہ عبرت بنادیا“۔ (امین احسن اصلاحی)

خ پر زبر کے ساتھ آخَر کا مطلب ہے: دوسرا، جب کہ خ کے نیچے زیر والے آخِر کا مطلب ہوتا ہے: پچھلا یا بعد والا۔ عام طور سے حضرات مترجمین نے اس کا لحاظ کیا ہے۔ البتہ مذکورہ بالا آیت میں صاحب تدبر نے آخِرین کا ترجمہ دوسروں کردیا ہے جو غلط ہے۔ دیگر مترجمین نے درست ترجمہ کیا ہے خود صاحب تدبر نے دوسرے مقامات پر اس لفظ کا درست ترجمہ کیا ہے۔

سلف کا مطلب عام طور سے ماضی کی داستان، قصہ ماضی یا گیا گزرا کیا گیا ہے، ظاہر ہے جس قوم کو غرقاب کردیا گیا ہو، وہ ماضی کی داستان تو بن ہی جائے گی۔ البتہ کسی کے لیے کسی کے سلف ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جس راستے سے وہ گزر رہا ہے، اس راستے سے اس سے پہلے کوئی اور گزر چکا ہے۔ یہاں آیت کا منشا یہ ہے کہ بعد میں آنے والوں کو معلوم ہو کہ ان سے پہلے ایک قوم عذاب کے راستے پر چل کر اپنے کیفر کردار کو پہنچ چکی ہے۔ تو اگر وہ اس راستے پر چلیں گے تو وہ اس پر چلنے والے پہلے لوگ نہیں ہوں گے۔ لفظ سلف کی یہ تشریح اس لفظ کو آیت میں بہت معنی خیز بنادیتی ہے۔

کئی مترجمین نے اس طرح ترجمہ کیا ہے کہ گویا آخرین کا تعلق صرف مثلا سے ہے۔ سلف کا مطلب سامنے رہے تو یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ اس آیت میں لفظ آخرین کا تعلق سلفا اور مثلا دونوں سے ہے۔ کچھ ترجمے ملاحظہ ہوں:

”پس ہم نے انہیں گیا گزرا کردیا اور پچھلوں کے لیے مثال بنادی“۔ (محمد جونا گڑھی، اس ترجمے میں آخرین کا تعلق صرف مثلا سے ہے۔)

”اور بعد والوں کے لیے پیش رو اور نمونہ عبرت بنا کر رکھ دیا“۔ (سید مودودی)

”اور ان کو بعد میں آنے والوں کے لیے پیشوا اور نمونہ عبرت بنادیا“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(260) لَجَعَلنَا مِنکُم مَّلَائِکَۃً کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں ’منکم‘ آیا ہے۔ بعض لوگوں نے من کو ابتدائیہ مانا ہے، یعنی انسانوں سے فرشتوں کو پیدا کرنا، بعض نے تبعیضیہ مانا ہے، یعنی کچھ انسانوں کو فرشتہ بنادینا، بعض نے بدلیہ کے معنی میں لیا ہے، یعنی تمھارے بدلے فرشتے بنادیتے، مولانا امانت اللہ اصلاحی کے نزدیک یہاں من برائے تجرید ہے، یعنی تمھیں فرشتے بنادیتے۔ یہ مفہوم کسی طرح کی پیچیدگی سے خالی ہے۔

درج ذیل آیت کے ترجمے میں ایک بات اور یاد دلانا مناسب ہے کہ لو ماضی کا مفہوم دیتا ہے۔ اس لیے لَو نَشَاء لَجَعَلنَا کا صحیح ترجمہ ہوگا: اگر ہم چاہتے تو بنادیتے، نہ کہ اگر ہم چاہیں تو بنادیں۔ اس وضاحت کی روشنی میں درج ذیل تراجم کو دیکھیں:

وَلَو نَشَاء لَجَعَلنَا مِنکُم مَّلَائِکَۃً فِی الاَرضِ یَخلُفُونَ۔ (سورة الزخرف:60)

”ہم چاہیں تو تم سے فرشتے پیدا کردیں جو زمین میں تمہارے جانشین ہوں“۔ (سید مودودی، لفظ ’تمہارے‘ زائد ہے، اور یہ مستقبل کا ترجمہ ہے ماضی کا ہونا چاہیے۔)

”اور اگر ہم چاہتے تو زمین میں تمہارے بدلے فرشتے بساتے“۔ (احمد رضا خان)

”اور اگر ہم چاہتے تو تم میں سے فرشتے بنا دیتے جو تمہاری جگہ زمین میں رہتے“۔ (فتح محمد جالندھری، ’تمہاری جگہ‘ زائد ہے)

”اگر ہم چاہتے تو تمہارے عوض فرشتے کردیتے جو زمین میں جانشینی کرتے“۔ (محمد جوناگڑھی، تمہارے عوض کا کیا مطلب ہے؟؟)

”اور اگر ہم چاہیں تو تمہارے اندر سے فرشتے بنادیں جو زمین میں خلافت کریں“۔ (امین احسن اصلاحی، یخلفون کا ترجمہ خلافت کرنا درست نہیں ہے۔)

بعض حضرات نے ترجمہ کیا ہے: زمین میں تمہارے جانشین ہوتے، یا تمہاری جگہ زمین میں رہتے۔ جب کہ آیت میں یخلفونکم نہیں ہے صرف یخلفون ہے، یعنی جانشین ہوتے۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:

”اور اگر ہم چاہتے ہوتے تو تمھیں فرشتے بنادیتے جو زمین میں جانشین ہوتے“۔ (لو کے بعد فعل مضارع نشاء ہے، اس لیے ’چاہتے ہوتے‘ ترجمہ کیا ہے)

(261) وَقِیلِہِ کا مفہوم و اعراب

درج ذیل آخری آیت میں وَقِیلِہِ کا مفہوم متعین کرنے میں مفسرین ومترجمین کو حیرانی ہوئی ہے۔ بعض لوگوں نے اسے تین آیتوں قبل مذکور علم الساعۃ پر عطف کیا ہے۔ لیکن زمخشری نے اس پر تنقید کی ہے کہ معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان فاصلہ زیادہ ہے اور مفہوم کچھ خاص نہیں بنتا ہے۔ کچھ لوگوں نے واو کو برائے قسم لیا اور قسم کا مفہوم بیان کیا ہے، یہ مفہوم بھی لفظی اور معنوی تکلف سے بھرپور ہے، کچھ لوگوں نے واو کو رُبَّ کے معنی میں لے کر بسا اوقات ترجمہ کیا ہے۔ یہاں بھی معنوی تکلف موجود ہے۔ ہر طرح کے تکلف سے خالی اور معنی کے لحاظ سے بہتر صورت یہ ہے کہ وَقِیلِہِ کو شَہِدَ بِالحَقِّ پر معطوف مانا جائے۔ نیز درمیان والی آیت کو جملہ معترضہ مانا جائے۔ درج ذیل تینوں آیتوں کا مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:

وَلَا یَملِکُ الَّذِینَ یَدعُونَ مِن دُونِہِ الشَّفَاعَۃَ اِلَّا مَن شَہِدَ بِالحَقِّ وَہُم یَعلَمُونَ۔ وَلَئِن سَاَلتَہُم مَّن خَلَقَہُم لَیَقُولُنَّ اللَّہُ فَاَنَّی یُوفَکُونَ۔ وَقِیلِہِ یَارَبِّ اِنَّ ہَوُلَاء قَوم لَّا یُومِنُونَ۔ (سورة الزخرف: 86-88)

”اُس کو چھوڑ کر یہ لوگ جنہیں پکارتے ہیں وہ کسی شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے، الا یہ کہ کوئی علم کی بنا پر حق کی شہادت دے۔ اور اگر تم اِن سے پوچھو کہ اِنہیں کس نے پیدا کیا ہے تو یہ خود کہیں گے کہ اللہ نے پھر کہاں سے یہ دھوکا کھا رہے ہیں۔ اور وہ یہ کہے کہ اے رب، یہ وہ لوگ ہیں جو مان کر نہیں دیتے تھے“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

دیگر تراجم ملاحظہ ہوں:

”قسم ہے رسول کے اِس قول کی کہ اے رب، یہ وہ لوگ ہیں جو مان کر نہیں دیتے“۔ (سید مودودی)

”مجھے رسول کے اس کہنے کی قسم کہ اے میرے رب! یہ لوگ ایمان نہیں لاتے“۔ (احمد رضا خان)

”اور (بسااوقات) پیغمبر کہا کرتے ہیں کہ اے پروردگار یہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور ان کا (پیغمبر کا اکثر) یہ کہنا کہ اے میرے رب! یقینا یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لاتے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور اسی (اللہ) کو رسول(ص) کے اس قول کا عِلم ہے کہ اے میرے پروردگار! یہ لوگ ایمان نہیں لاتے“۔(محمد حسین نجفی)

”اور (حق کی گواہی دینے والوں کا) قول یہ ہوگا کہ اے رب یہ لوگ خود ایمان لانے والے نہ بنے“۔ (امین احسن اصلاحی، یہ ترجمہاوپر بیان کی گئی تاویل کے مطابق ہے)

(262) منہ کا ایک خاص استعمال

درج ذیل آیت میں مِنہ کا کیا مفہوم ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

وَسَخَّرَ لَکُم مَّا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الاَرضِ جَمِیعاً مِّنہُ۔ (سورة الجاثیۃ:13)

عام طور سے لوگوں نے مِنہُ کو سخّر سے متعلق مانا ہے۔ یعنی اپنے پاس سے، اپنی طرف سے، اپنے حکم سے یا اپنے فضل سے مسخر کیا ہے۔ چنانچہ حسب ذیل ترجمے کیے گئے ہیں:

”اس نے زمین اور آسمانوں کی ساری ہی چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا، سب کچھ اپنے پاس سے اِس میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں“۔ (سید مودودی)

”اور تمہارے لیے کام میں لگائے جو کچھ آسمان میں ہیں اور جو کچھ زمین میں اپنے حکم سے“۔ (احمد رضا خان)

”اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنے (حکم) سے تمہارے کام میں لگا دیا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور آسمان وزمین کی ہر ہر چیز کو بھی اس نے اپنی طرف سے تمہارے لیے تابع کر دیا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور اسی نے تمہاری خدمت میں لگارکھا ہے ان چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، سب کو اپنی طرف سے“۔ (امین احسن اصلاحی)

غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جب اللہ نے بتایا کہ اس نے مسخّر کیا ہے تو پھر مزید ”اپنی طرف سے یا اپنے پاس سے یا اپنے حکم سے“ کہنے کی خاص معنویت کیا رہ جاتی ہے۔ قرآن مجید میں متعدد جگہ تسخیر کا ذکر آیا ہے لیکن یہ اضافہ اور کہیں نہیں آیا ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے ہے کہ مِنہُ میں ضمیر کا مرجع مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الاَرضِ میں موجود ما موصولہ ہے۔ اور یہ جمیعا کی تاکید کے لیے آیا ہے۔ یعنی آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ سب تمہارے لیے مسخّر کیا ہے۔ اس تاویل کے بعد مِنہُ کا الگ سے ترجمہ کرنے کی ضرورت نہیں رہ جاتی ہے۔ درج ذیل ترجمہ اس رائے کے مطابق ہے:

”اور اس نے آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے“۔ (محمد حسین نجفی)

قرآن / علوم قرآن

(جولائی ۲۰۲۱ء)

Flag Counter