امام ابن جریر طبری کی مظلومیت

مولانا عبد المتین منیری

محترم اوریا مقبول جان، پاکستان میں سول سروس سے وابستہ ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے آپ کے کالم اردو کے بڑے اخبار ات میں چھپ کر وسیع پیمانے پر پڑھے جارہے ہیں ۔ چو نکہ اسلام اور مسلمانوں سے وابستہ مسائل پر لکھتے ہیں جن میں ہمدردی کا پہلو بھی نمایاں رہتا ہے اور پھر وہ اپنے وسیع المطالعہ ہونے کا بھی احساس دلاتے ہیں، اس لیے بڑے پیمانے پر ان کے یہ کالم سوشل میڈیا پر بھی پوسٹ ہورہے ہیں ۔ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا کے توسط سے آپ کے ۷ اور ۱۳ جولائی ۲۰۱۵ء کے دو کالم (روزنامہ ’ایکسرپس‘ لاہور) ہماری نظر سے گذرے جن میں آپ نے امت کے ایک جلیل القدر امام، مفسر اور مورخ ابن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ پر خامہ فرسائی کی ہے اور ان کے بارے میں نہایت ہی بھونڈے انداز میں اظہار خیال کیا گیا ہے جس سے خدشہ محسوس ہوتا ہے کہ موصوف بھی اب ان دانشوروں کی فہرست میں شامل نہ ہو رہے ہوں جو ابتدا میں اسلام اور مسلمانوں سے ہمدردی اور دل سوزی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور جب مقبولیت کے بام عروج کو پہنچتے ہیں اور ان پر پڑھے لکھے افراد اعتماد اور بھروسہ کرنے لگتے ہیں تو پھر اسلام کے تہذیبی ورثے اور اسلامی تاریخ کے پورے دفتر ہی کو قابل گردن زدنی قرار دینے میں لگ جاتے ہیں۔ اللہ کرے ایسا نہ ہو، لیکن کم از کم ان دو کالموں سے تو یہی لگتا ہے۔

ان کالموں کے پڑھنے سے محسوس نہیں ہوتا کہ ان کا لکھنے والا فرد اصل ماخذ سے باخبر فرد ہے ۔ ان کے لفظ لفظ سے زیر بحث موضوع پر ناواقفیت کا گمان گزرتا ہے۔ اس تحریر کے ایک ایک حصے کو لے کر رد کرنا علم وتحقیق کے وقار کے منافی محسوس ہوتا ہے، لیکن یہ مسئلہ اتنا آسان بھی نہیں ہے کیونکہ کالم نگار نے ایک ایسے امام کی کردار کشی کا ہے جن کی تفسیر اور تاریخ کی کتابوں پر بعد میں آنے والے علماء اور محققین نے اعتماد اور بھروسہ کیا ہے اور ان تصنیفات پر اپنی علمی تحقیقات کی بنیاد رکھی ہے۔ اگر اس بنیاد ہی کو ڈھا دیا جائے تو گزشتہ بارہ سو سال کے دوران منظر عام پر آنے والا پچاسوں نسلوں کا پورا علمی سرمایہ جس پر امت بجا طور پر فخر کرسکتی ہے، دھول کے مانند بیٹھ جائے گا ۔ لہٰذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کالم نگار کے ایک ایک الزام کا جواب دینے کے بجائے چند موٹی موٹی اصولی باتوں پر روشنی ڈالی جائے۔

امام ابو جعفر محمد بن جریر بن یزید طبری ف۳۱۰ھ کاشمار خیر القرون کے ان ائمہ مجتہدین میں ہوتا ہے جنھوں نے آنے والی نسلوں کے لیے تفسیر حدیث فقہ اور تاریخ کا ایک ایسا علمی ذخیرہ چھوڑا، جن سے قیامت تک امت مسلمہ سیراب ہوتی رہے گی ۔ آپ نے ایک ایسا دور پایا تھا جب کہ آئندہ نسلوں کے لیے حدیث و روایات کے ورثے کی من و عن، بلا کم و کاست منتقلی پر زیادہ توجہ دی جاتی تھی۔ آپ کے دور کے آتے آتے صحابہ تابعین اور تبع تابعین کا دور ختم ہورہا تھا اور ڈر تھا کہ کہیں اس طبقے کے افرادکی آنکھیں بند ہوتے ہی علم وروایت کے انمول ذخیرے بھی قبروں کی مٹی میں گھل نہ جائیں ، تو ان کی روایات اور آثار کی حفاظت پر توجہ زیادہ دی جانے لگی۔ چونکہ عہد رسالت و خلافت راشدہ تک راویوں کی کڑیاں مختصر اورسند عالی تھیں اور محدثین عظام نے حضرت عثمان رضی اللہ علیہ کے زمانے میں اٹھنے والے انتشار اور فتنے کے شروع ہو تے ہی علم سند و رجال کی تدوین کا سلسلہ شروع کردیا تھا اور صحابہ کرام سے مستفید ہونے والے تابعین نے محسوس کیا تھا کہ انتشار کے اس دور میں اپنے اپنے گروہ کی تائید میں مفاد پسند عناصر نے جھوٹی روایات گھڑنا شروع کردی ہیں۔ لہٰذا روایتوں کی اسناد نقل کرنے کا اہتمام والتزام کیا جائے اور ہرراوی کے حالات کے بارے میں معلومات جمع کی جائے۔ اس ضرورت علمی نے مسلمانوں کے ہاتھوں پرعلم اسناد ور جال کا ایک ایسا علم ایجاد کروا یا جس کی کوئی اور مثال کسی بھی دوسرے مذہب کے ماننے والوں میں نہیں ملتی۔اس طرح لاکھوں افراد کا بائیو ڈاٹا (کوائف نامہ) تیار ہوگیا ۔

آج کے زمانے میں سانس لینے والے قارئین کو شاید یہ جان کر حیرت ہو کہ وسائل کی کمی ، کاغذ کی عدم دستیابی کے باوجود ابتدائی چار صدیوں میں جتنی تعداد میں روایت نقل کرنے والے افراد کے حالات اس طرح جمع ہوئے کہ فلاں سے کس روای نے روایت کی، اس کے شاگرد کون کون تھے ، وفات کب پائی، اس کا مذہبی اور سیاسی رجحان کیا تھا ، اس کا تعلق کس گروہ سے تھا، اس مقدار میں تاریخی مواد تو بعد کی ترقی یافتہ گیارہ صدیوں میں بھی جمع نہ ہوسکا ۔چونکہ سند کے ساتھ روایت نقل کرنے کی صورت میں دودھ کادودھ اورپانی کا پانی الگ کرنے والے ماہرین بکثرت پائے جاتے تھے، اس لیے ان روایات کی تحقیق کے تعلق سے ان میں زیادہ خوف نہیں رہا تھا۔ اس زاویہ نگاہ سے اطمنان نہ ہونے کی وجہ سے اگر قرون اولیٰ کے ہمارے علماء و ائمہ کرام اپنے اسلاف سے علم اور روایت کو جمع کرنے کے لیے یکسو نہ ہوجاتے اور ہر ایک روایت کی جانچ پھٹک میں اپنی ساری توانیا ں لگا دیتے تو ہماری تاریخ باریک باریک جزئیات اور مختلف پہلؤوں کے ساتھ ہم تک نہیں پہنچ پاتی ، جن کے جانے بغیر واقعات کی حقیقتیں پوری رعنائی کے ساتھ ہم پرنہیں کھلتیں اور ہر حادثہ ہمارے سامنے آئینے کی طرح شفاف نظر نہیں آتا۔

علمائے حدیث کا اس پر اتفاق ہے کہ علامہ ابن الصلاحؒ کے مقدمہ کی حیثیت علم حدیث میں بنیاد کی ہے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ: مسند ابی داود طیالسیؒ ، مسند عبید اللہ بن موسی ؒ ، مسند احمد بن حنبلؒ ، مسند اسحق بن راہویہ ؒ ، مسند عبد بن حمیدؒ ، مسند الدارمی ،ؒ مسند ابی یعلی الموصلیؒ ، مسند الحسن بن سفیانؒ ،مسند البزار ابو بکرؒ اور اس جیسی جو کتابیں ہیں تو ان میں ان کا طریقہ یہ ہے کہ ہر صحابی کی مسند میں ان کی روایت کردہ حدیث لائیں۔ اس پابند ی کے بغیر کہ یہ حدیث حجت بنے گی یا نہیں(ص۳۸)

اس کی تشریح کرتے ہوئے قریبی دور کے عظیم محدث شیخ عبد الفتاح ابو غدہؒ رقم طراز ہیں کہ: ’’یہی قدیم محدثین اور مفسرین اور مورخین کا شیوہ رہاہے ۔ان کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ایک باب سے متعلق تمام حدیثیں اور اخبار اس کی سند کے تذکرے کا سہارا لے کر لاتے ہیں ،چاہے ان کی سند صحیح نہ ہو یا اس کی سند باطل ہونے کا انھیں علم ہو، کیونکہ سند کا ذکر ان روایات کے لانے پر مواخذہ سے انھیں بری کردیتا ہے بشرطیکہ اس کے زمانے میں علم الاسناد مکمل طور پر سینوں میں زندہ ہو۔‘‘ (الاجوبۃ الفاضلۃ،ص۹۱)

مشہور محقق اورعالم دین شیخ محب الدین الخطیبؒ جنھوں نے مصر و عالم عرب میں شیعی اثرات کو ختم کرنے کے لیے بیسویں صدی کے اوائل میں زبردست کوششیں کی تھیں ، آپ نے شیعیت کے رد میں اپنی مختصر سی کتاب الخطوط العریضۃ کے ذریعے بڑی شہرت پائی۔ وہ فرماتے ہیں کہ: امام طبری جیسے ان کے طبقے کے ثقہ اور ثبوت پیش کرتے والے علماء کی ضعیف روایات لانے کے سلسلے میں مثال آج کے دور میں عدالتی پروسیکوٹر کی ہوتی ہے۔ جب وہ کسی مقدمے کی تحقیق کر رہے ہوتے ہیں تو اس سے وابستہ دستیاب جملہ دلیلیں اور شواہد اکٹھا کرتے ہیں۔ حالانکہ انھیں ان میں سے بعض کے بودے اور ضعیف ہونے کا پورا علم بھی ہوتاہے۔ لیکن وہ اس اعتماد پر اسے نقل کرتے ہیں ، کہ ہر چیز کو اس کی قدر قیمت کے مطابق تولا جائے گا۔(ایضاً)

اس طرح طبریؒ جیسے ہمارے اسلاف میں سے بڑے بڑے روایتوں کے حاملین اس ڈر سے کہ ان تک پہنچنے والی کسی خبر کے بارے میں ضعف جاننے کے باوجود اس کی روایت میں اس وجہ سے تفریط نہیں کرتے تھے کہ اسے چھوڑ دینے سے علم کا کوئی پہلو پوشیدہ نہ رہ جائے ۔ مگر وہ ہر روایت کو اس کی سند کے ساتھ لاتے ہیں تاکہ قاری معتبر راویوں کی پہچان کی بنیاد پر اس روایت کی مضبوطی کو جان لے۔یا پھر غیر معتبر راویوں کی بنیاد پر اس کے ضعیف ہونے کا فیصلہ کرے۔ اس طرح وہ سمجھتے تھے کہ ان کے ہاتھوں تک جو کچھ پہنچا ہے، انھوں نے اپنے قاری تک دیانت داری سے پہنچادیا ہے۔ (مجلۃ الازہر، ج،۲۴،ص۲۱۴)

فن رجال میں حافظ شمس الدین احمد بن عثمان الذہبیؒ اور حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کا وہی مقام ہے جو فقہ حنفی کے فتاوی میں میں شامیؒ اور ابن الہما مؒ اور فقہ شافعی میں امام نوویؒ کا ہے ۔ حافظ ابن حجر ؒ نے امام سلیمان بن احمد طبرانی ؒ کے حالات میں لکھاہے کہ: قدیم حفاظ حدیث، موضوع احادیث کی روایت پر جب سکوت اختیار کرتے ہیں تو ان کا اعتماد حدیث کی سند کے ذکر پر ہوتا ہے ۔ کیونکہ ان کا اعتقاد ہوتا ہے کہ جب حدیث کو اس کی سند کے ساتھ لے آئے تو اپنی ذمہ داری سے عہدہ برا ہوگئے اور اس کی تحقیق کی ذمہ داری اس کی سند پرغور کرنے کے لیے چھوڑ دی ہے۔(لسان المیزان)

کسی بھی کتاب کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے دیباچے کو پہلے ایک نظر میں دیکھا جائے ، تاکہ مصنف کا انداز تحریر اور طریقہ معلوم ہوسکے ، ساتھ ہی ساتھ اس دور کے علمی ماحول اور پس منظر پر بھی نظر رکھی جائے ۔ ایسا لگتا ہے کالم نگار نے اسے ضروری نہیں سمجھا اور مقدمہ کی جس عبارت کو امت کے جلیل علماء و محققین نے طبریؒ کے دفاع اوران کے حق میں استعمال کیا ہے، آپ نے خلط مبحث کرکے اس کا الٹا مطلب پیش کیا ہے۔ غالباً کالم نگار کے سامنے طبری کا انگریزی ایڈیشن رہاہے ، کیونکہ کتاب کے عربی ایڈیشن میں امام طبری ؒ کی یہ صراحت موجود ہے کہ: اذ لم نقصد بکتابنا ھذا الاحتجاج بذلک (تاریخ الطبری، اول، ص۷) جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ انھوں نے یہ کتاب اس لیے نہیں مرتب کی تاکہ لوگ اس سے سند لیں اور حجت پکڑیں، بلکہ ان تک جو پہنچا، آئندہ نسل کے لیے اسے من و عن پیش کرکے علم و روایت کے حفاظت کی اپنی ذمہ داری ختم کردی ۔ اب تحقیق کے مرحلوں سے گذار کر اسے مستند بنانا آپ کا کام ہے ۔ تاریخ طبری کے اردو ترجمہ میں یہ عبارت ہمیں نظر نہیں آئی ۔ اس کے چند سطور بعد امام طبری نے اپنے کتاب کے اسلوب تحریر کے بارے میں یہ عبارت لکھی ہے:

’’لہٰذا ہماری اس کتاب میں کسی خبر وروایت کو پڑھنے والااجنبی سمجھے، یا سننے والا قبیح قراردے صرف اس بناء پر کہ وہ اس روایت کو درست نہیں سمجھتا تو اسے جان لینا چاہیے کہ ہم نے اپنی طرف سے کوئی ملمع سازی یا رنگ آمیزی نہیں کی، بلکہ بعض ناقلین سے وہ ہمیں اس طرح آپہنچی ہیں، پس ہم نے ان کو اسی طرح آگے لکھ دیا ، جس طرح وہ ہم تک پہنچی ہیں۔‘‘

ہمیں اس بات کا بہت رنج ہے کہ اوریا مقبول جان صاحب جیسے قابلِ احترام قلم کار نے جس پر ایک دنیا اعتبار کرتی ہے، طبری ؒ کے اسلوب کو سمجھے بغیر، جو عبارت ان کی براء ت کا چیخ چیخ کر اعلان کررہی تھی اسے تمسخر اڑانے کا ذریعہ بنایا ہے۔ امام صاحب کی شان میں افتراء پردازی کرکے ایک ایسی داستان کھڑی کی ہے، جس پر انھیں اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہیے اور غلطی کا اظہار علی الاعلان کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ اوپر امام طبری ؒ کی جو عبارت کالم نگار نے اردو میں نقل کی ہے، اس میں امام طبری کی اس عبارت: والآثار التی انا مسندھا الی رواتھا جس کا مطلب ہے کہ جن روایات و آثار کو اس کے راوی کی سند کے ساتھ ذکر کیا ہے چھوٹ گیا ہے جس کاسبب کالم نگار کی عربی سے لاعلمی ہے۔

اس سلسلے میں عثمان بن محمد الخمیس نے اس جانب توجہ دلائی ہے کہ: صر ف سند کے ذکر پر اکتفا کرنے کا جہاں تک تعلق ہے، تو اس پر اکثر محدثین کا عمل رہا ہے ، اگر آپ صحیحین کا استثناء کریں جنھوں نے صرف صحیح احادیث لانے کا عہد کیا ہے ،ان کے علاوہ اگر آپ جامع الترمذی یا سنن ابی داود یا دارقطنی یا دارمی یا مسند امام احمد اور دوسری حدیث کی کتابوں کو دیکھیں گے تو پائیں گے کہ انھوں نے صرف صحیح روایات کو لانے کا اہتمام نہیں کیا ہے، بلکہ انھوں نے سند کا ذکر کیا ہے اور یہ آپ پر لازم ٹھہرایا ہے کہ ان کی اسانید پر نظر ڈالیں ۔ اگر سند صحیح ہے تو اسے قبول کریں ۔ اگر سند صحیح نہیں ہے تو اسے ٹھکرادیں ، امام طبری ؒ نے بھی صرف صحیح روایات کو نقل کرنے کا عہد نہیں کیا ہے ۔ انھوں نے تو جن سے روایت ان تک پہنچی ہے ، اس کے ذکر کا وعدہ کیا ہے۔ (حقبہ من التاریخ مابین وفاۃ النبیؐ الی مقتل الحسین رضی اللّٰہ عنہ)

ہمارے خیال میں یہ صرف اوریا مقبول جان کا عقدہ نہیں ہے، بلکہ یہ برصغیر شمالی ہند وپاک کے علماء و دانشوران کا بھی مسئلہ ہے ، امام طبریؒ کے تعلق سے ہمارے بعض بڑے بڑوں سے بھی چوک ہوئی ہے ، اور اس کی وجہ غالبا یہ ہے کہ جیسا کہ ہمارے بزرگ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ جب ہمارے جنوبی ساحلی قصبے بھٹکل تشریف لاتے تھے تو ہمیشہ کہا کرتے: ’’یہاں کی سرزمین سے صحابہ و تابعین رضوان اللہ علیہم کے گزرنے کی خوشبو آتی ہے، آپ کے یہاں اسلام کا تروتازہ جھونکا ان حضرات کے قدموں کے ساتھ براہ راست آ یا لیکن ہمارے شمال میں اسلام سرزمین عجم ، ایران و طوران کی سرحدوں کو پار کرتا ہوا ملکوں ملکوں کی خاک چھانتا ہوا ،ہاتھ بدل بدل کر، گھوم پھر کر درۂ خیبر کے راستے سے سیکنڈ ہینڈ پہنچاہے۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ علمِ سند و رجال کی طرف ہمارے علمائے ہند کا ابتدا ہی سے رجحان نہیں رہا ، کیوں کہ شمالی ہند میں گیارہویں صدی ہجری کے اوائل میں شیخ عبد الحق محدث دہلوی ف ۱۰۵۲ھ کے ہاتھوں صحاح ستہ پہلی مرتبہ داخل ہوئی تھی ۔ اس سے قبل یہاں پر ساتویں صدی ہجری کے محدث شیخ حسن بن محمد صاغانی لاہوری ف ۶۵۰ھ کی دوہزار چھیالیس(۲۰۴۶) حدیثوں کا مجموعہ مشارق الانوار النبویہ فی صحاح الاخبار المصطفویہ رائج تھا۔ یہ ثانوی درجہ کا حدیث کامجموعہ اسناد سے معری تھا۔ علم اسناد کے عروج کے دور میں یہاں مسند کتابوں کا رواج نہیں رہا۔ لہٰذا یہاں پر علم اسناد سے اعتناء کی ضرورت کبھی محسوس نہیں کی گئی۔ برصغیر میں شیخ عبد الحی لکھنوی فرنگی محلیؒ ف ۱۳۰۴ھ سے قبل کے علماء کی علم الجرح و التعدیل کے موضوع پر مستقل کتابوں کا فقدان پایا جاتا ہے ۔ شیخ عبدالحی لکھنویؒ کی کتابوں کی پذیرائی بھی برصغیر کے بجائے عرب علماء میں زیادہ ہوئی۔ہاں اس دوران شیخ محمد طاہر فتنی ف ۹۸۰ھ کا نام آتا ہے جن کی کتاب المغنی فی اسماء الرجال دو جلدوں میں حیدرآباد دکن سے چھپ کر آئی ہے۔یہ بھی اپنے موضوع پر ثانوی درجے کی تصنیف شمار ہوتی ہے ۔ مولانا فرنگی محلی کی کتابوں کی طرح اسے قبولیت عامہ حاصل نہیں ہوئی۔ہماری کئی ایک محترم شخصیات کے امام طبریؒ کے تئیں غلط فہمی پر مبنی موقف اختیار کرنے کا سبب یہ ہے کہ چونکہ یہ علمی شخصیات مغربی سامراج کے دور عروج میں ابھریں، یہ لاکھ انکار کریں لیکن ان پر مستشرقین کے اسلوب نقد سے مرعوبیت جھلکتی ہے اور یہ فطری بات ہے کہ ان کے مخاطب یہی تو لوگ تھے ۔ انھیں کے اسلوب میں انھیں اعتراضات کا توڑ پیش کرنا تھا۔

کالم نگار چونکہ عربی زبان سے ناواقف دکھائی دیتے ہیں، اس لیے لازماً ان کے سامنے نفیس اکیڈمی،کراچی سے چھپا ہوا یا پھر تاریخ طبری کا انگریزی ترجمہ شدہ نسخہ ہی ہے(جس میں مستشرقین نے اپنی بدباطنی کا زہر گھول رکھا ہے)۔ نفیس اکیڈمی کے تحت جو علمی صخیم کتابوں کے ترجمے شائع ہوئے ہیں، ان کی تعریف ہونی چاہیے ۔ لیکن تعریف کا یہ مطلب نہیں کہ انھیں معیاری بھی قرار دیا جائے ۔ یا جن کتابوں کا ترجمہ کے لیے انھوں نے انتخاب کیا ہے اسے موزوں مانا جائے۔ اس سلسلے میں ان کی مطبوعات میں بڑا جھول پایا جاتا ہے۔ کئی ایک بڑی بڑی علمی کتابوں کا ترجمہ معیاری نہ ہونے کی وجہ سے بات کیا سے کیا ہوگئی ہے۔ دور حاضرکے ایک مایہ ناز مصنف مولانا محمد اسحاق بھٹی نے بزم ارجمندان میں اپنی ایک ایسے سینئر ساتھی کے بارے میں لکھا ہے کہ جو کہ بیک وقت صحافی، ناول نگارفلمی کہانی نگار بھی تھے ، اور نفیس اکیڈمی کے لیے انھوں نے درجنوں کتابوں کا ترجمہ بھی کیا کہ ان کے کسی عربی کتاب کے ترجمہ کا طریقہ یہ تھا ، ایک نظر میں عربی کی کتاب کا صفحہ دیکھتے اور اسے بند کردیتے اور یادداشت سے اس کا ترجمہ یا خلاصہ لکھ دیتے ، اسی طرح انھوں نے بھٹی صاحب کو رقم دے ایک کتاب کا ترجمہ بھی کروایا تھا ، جسے انھوں نے بھٹی صاحب کے بجائے اپنے نام سے چھاپ دیا۔

تاریخ طبری کے اردو ترجمہ کے ساتھ بھی کچھ اسی قسم کی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا گیا ہے ۔ طبری کی روح روایتوں کی اسانید میں پوشیدہ ہے ۔ اس کے بغیر تفسیر ہویا تاریخ کی کتاب، ان کی علمی حیثیت علماء کے نزدیک نہ ہونے کے برابر ہے ۔ شاید ناشرین نے یہ سمجھ کر کہ ناموں کی تکرار سے اردو قاری بوریت محسوس کرنے لگے گا ، اسانید کوحذف کردیا ہے جس کے بعد ہر کوئی طبری کی نقل کردہ روایتوں کو آپ کی طرف منسوب کرکے، کالم نگار ہی کی طرح ان کا مذاق اڑا سکتا ہے۔ کالم نگار نے بہت برا کیا ہے جو امام طبریؒ کو ایک سڑک چھاپ بازار قصہ خوانی کے داستان گو کی حیثیت سے پیش کردیا ہے ۔ آئیے امام طبری ؒ کے بارے میں چند ائمہ حدیث کے اقوال و آراء جاننے کی کوشش کرتے ہیں:

  • محمد ابن جریر الطبری فقیہ عالم ۔(امام ابو العباس محمد بن سریج ؒ ف ۳۰۶)
  • میں اپنے دور میں اس دھرتی پر محمد بن جریر سے بڑے عالم سے واقف نہیں ہوں ۔ حنابلہ نے ان کے ساتھ بڑا ظلم کیا(امام الائمہ محمد ابن اسحاق بن خزیمۃؒ )
  • میں نے ابن جریر کے بعد علم اور علماء کی کتابوں ، فقہاء کے اختلاف رائے اور علمی اور علوم کا ایسا ماہر نہیں دیکھا ( احمد بن کامل القاضیؒ )
  • طبری علماء کے اماموں میں سے ایک تھے۔ آپ کی رائے پر فیصلہ دیا جاتا تھا۔ اور آپ کی علمی معرفت اور فضیلت کی وجہ سے آپ کی رائے کو ترجیح دی جاتی تھی ۔ آپ نے اتنے علوم حاصل کئے تھے کہ جتنے آپ کے دور کے کسی ایک شخص میں جمع نہیں ہوئے ۔آپ کتاب اللہ کے حافظ تھے ،علم قراء ت قرآن کے معانی کی پہچان رکھتے تھے ، احکام قرآن کے فقیہ تھے ، سنن کے راستوں ، ان کے صحیح یا سقیم ہونے کا اور ناسخ و منسوخ کا علم رکھتے تھے ، صحابہ و تابعین اور ان کے بعد آنے والوں کے بیان کردہ احکام فقہیہ اور مسائل حلال و حرام سے متعلق اقوال کے جاننے والے تھے ، لوگوں کے دنوں اور ان کے اخبار کے عارف تھے ۔ ( خطیب بغدادیؒ )
  • وہ ثقہ صادق اور حافظ تھے ، تفسیر کے سردار ، فقہ و اجماع و اختلاف کے امام ، تاریخ اور دنوں کے، قراء ت ، لغت وغیر ہ میں علامہ تھے ( امام الذھبیؒ )
  • وہ امام مجتہد، علم و دین کی دنیا کے ایک امام تھے ( تاج الدین السبکی ؒ )
  • وہ عابدوں اور زاہدوں اور پرہیز گاروں میں سے تھے ، انھیں حق بات سے کسی کی ملامت روک نہیں سکتی تھی ، اور بڑے صالحین میں تھے ( حافظ ابن کثیرؒ )
  • امام محمد بن عبد الوہاب نجدی ؒ نے امام ذہبیؒ ، ابن کثیرؒ ، ابن عبد البرؒ ، خطابیؒ ، امام شافعیؒ ، ابن جریرؒ ، ابن قتیبہؒ ، اور ابو عبیدؒ جیسے علماء کے تذکرہ کے بعد فرمایا کہ یہ وہ ہیں جن کی طرف اللہ اور اس کے کلام اور کلام سلف کے بارے میں رجوع کیا جاتا ہے۔
    ام القری یونیورسٹی مکہ مکرمہ میں عقیدہ کے شعبہ سے ۱۹۸۳ء میں ڈاکٹر احمدعوائشہ کو ان کے تحقیقی مقالہ الامام الطبری و دفاعہ عن عقیدہ السلف پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی گئی ہے ۔ جس میں امام صاحب کے عقیدے کا دفاع کیا گیا ہے ۔ جس کے بعد مزید اس موضوع پر بحث کی ضرورت باقی نہیں ہے ۔ کالم نگارنے امام طبری ؒ کے عقیدے اور حنابلہ کی آپ سے ناچاقی اور آپ کی وفات کے سلسلے میں مبالغہ آمیز اور من گھڑت کہانیاں تخلیق کی ہیں ، اس بارے میں مکمل تحقیق اس ڈاکٹریٹ کے مقالہ میں موجود ہے ۔ افادیت کے خاطر اس سلسلہ میں ائمہ حدیث و تاریخ کے چند اقوال کا ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے ۔
  • شیعہ حضرات نے اس لیے آپ کے شیعہ ہونے کی تشہیر کی تاکہ حدیث و روایت کے ایک ستون پرسے اعتبار اٹھ جائے اور ایک اہم امام حدیث و فقہ کی صورت مسخ ہوجائے ۔ 

امام الذہبیؒ کا قول ہے کہ: ابن جریر اور ابن ابی داؤد میں اختلافات ہوئے ، یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ انصاف نہیں کرتے تھے ، حنابلہ ابو بکر بن ابی داؤد کی حکمران پارٹی سے تھے ، تو انھوں نے بات کا بتنگڑ بنادیااور ابن جریر ؒ کے یہاں توڑ پھوڑ کی اور انھیں تکلیفیں پہنچائیں ، تو ابن جریر ؒ نے اپنا گھر پکڑ لیا ، ابو بکر ابن ابی داؤ د نے حاجب کی شکل میں حکومت وقت سے مد د لی اور ابن جریرؒ کو اپنی آراء سکھانے سے روک دیا۔(سیر اعلام النبلاء)

ڈاکٹر احمد عوائشہ کی رائے ہے کہ امام ابن جریر پر حنابلہ کے تشدد کی جن تفصیلات کا ذکر کتابوں میں آیا ہے، ان میں حنابلہ کو شدت پسند ثابت کرنے کے لیے کافی رنگ بھرا گیا ہے ۔ لہٰذا امام سبکی ؒ نے امام ذہبی ؒ کے قول کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امام ابن جریر ؒ کو حنابلہ نے گھر سے نکلنے سے روکا نہیں تھا، بلکہ امام صاحب نے خود سے گھر کا کوناپکڑ لیا تھا۔

آپ کی وفات کے وقت آپ کے جو شاگرد موجود تھے، ان میں سے ابو بکر بن کامل اور دوسرے لوگوں نے روایت کی ہے کہ آپ کی روح کے قبض ہونے سے کچھ پہلے آپ سے دریافت کیا گیا کہ ابو جعفر !آپ اللہ اور ہمارے درمیان حجت ہیں، آپ ہمیں کس بات کا حکم دیتے ہیں ، کیا ہمارے دین کے تعلق سے کسی چیز کی وصیت کریں گے؟ اور کوئی ایسی بات بتائیں گے جو ہماری آخرت میں نجات کا ذریعہ بنے ، تو آپ نے کچھ اس طرح بیان فرمایا کہ میں جس اللہ کی فرماں برداری کرتا ہوں ۔ اور جو باتیں اپنی کتابوں میں بیان کی ہیں ۔ ان پر عمل کرو۔ پھر تشہد اور اللہ کے ذکرکی کثرت شروع کردی اور اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا ، پھر اپنے ہاتھ سے آنکھیں بند کیں اور انھیں پھیلادیا ،پھر آپ کی روح پرواز کرگئی۔ (تاریخ ابن عساکر)

امام خطیب بغدادیؒ اور ابن عساکرؒ اور جمہور مورخین کی رائے ہے کہ آپ کو چاشت کے وقت دفن کیا گیا تھا ، آپ کے جنازے میں لوگوں کی تعداد اتنی بڑی تھی جسے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ حالانکہ اس کی کسی نے منادی نہیں کی تھی ۔

ڈاکٹر احمد عواشہ کہتے ہیں کہ آپ کی وفات اور تدفین کے بارے میں جو اختلافی باتیں بیان ہوئی ہیں ، ان کی کوئی بڑی علمی اہمیت نہیں ہے ۔ کیونکہ جب امام ابن جریرؒ کی وفات ہوئی تو لوگ سارے بغداد کے نواح و اطراف سے امنڈ پڑے تھے ۔ آپ کے گھر میں بھی نماز جنازہ ادا کی گئی ، کئی مہینوں تک لوگ آپ کی قبر پر جاتے رہے اور نماز جنازہ پڑھتے رہے ۔ اور ان کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہے ۔ دین علم اور ادب سے وابستہ بہت ساری شخصیات نے آپ کے لیے مرثیے لکھے ، ڈاکٹر صاحب نے اپنے تحقیقی مقالے میں کئی ایک ایسے مرثیوں کا تذکرہ کیا ہے۔

امام ابن جریر نے اپنی تفسیر اور تاریخ کی کتاب کے علاوہ بھی کئی ایک اہم کتابیں یاد گار چھوڑی ہیں ۔ ان میں سے ایک کتاب تہذیب الآثار بھی ہے ۔ جس کے نامکمل ہونے کے باوجود اس میں عشرہ مبشرہ اور اہل بیت اور ان کے موالی سے مسند روایات ، ان سے مروی فقہی مسائل ، ان کے الفاظ کے معنی درج ہیں ، اس کے بارے میں علماء کی رائے ہے کہ اگر یہ مکمل ہوتی تو اپنی مثال آپ ہوتی ۔

شیخ عثمان الخمیس جنھوں نے امام محمد بن سعود یونیورسٹی ۔ قصیم سے جید سعودی علماء سے تعلیم حاصل کی ہے اور دور حاضر میں ٹیلی ویژن پر شیعوں سے مناظرے میں کافی شہرت حاصل کی ہے اور جن کی کتاب کا تذکرہ پہلے آچکا ہے کہتے ہیں کہ تاریخ طبری اسلامی تاریخ کے موضوع پر سب سے اہم کتاب ہے ۔ اس سے بہت کچھ لیا جاتا ہے ، اہل سنت اور اہل بدعت دونوں اس سے نقل کرتے ہیں اور اس سے حجت لیتے ہیں تو پھر کیوں اسے تاریخ کی دوسری کتابوں پر ترجیح دی جائے ؟ تو عرض ہے کہ امام طبریؒ کی تاریخ کو بہت سارے امور میں دوسری کتابوں پر سبقت حاصل ہے ۔ جن میں سے چند یہ ہیں:

۱۔ امام طبریؒ کا زمانہ ان واقعات سے قریب ترین ہے۔

۲۔ امام طبری ؒ سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔

۳۔ امام طبری ؒ کی جلالت شان اور علمی مقام۔

۴۔ زیادہ تر تاریخ کی کتابیں آپ ہی سے نقل ہوئی ہیں۔

اگر بات یہ ہے تو اگر ہم براہ راست امام طبری ؒ سے کوئی بات لینا چاہیں تو کیا کریں؟ کیونکہ جیسا کہ بیان ہوچکا اہل سنت اور اہل بدعت دونوں جو رائے ان کے مذہب کے مطابق ہوتی ہے نقل کرتے ہیں ، تو کس طرح اس میں توافق پیدا کیا جائے ۔تو جیسا کہ میں نے بیان کیا، تاریخ طبری کا اہم امتیاز یہ ہے کہ وہ بغیر سند کوئی چیز نہیں لاتے ۔ اہل سنت امام طبری ؒ کی صحیح سند سے آئی ہوئی روایتیں لیتے ہیں اور اہل بدعت صحیح اور موٹی دبلی ہر ہر رطب و یابس چیز لیتے ہیں۔ (حقبہ من التاریخ مابین وفاۃ النبیؐ الی مقتل الحسین رضی اللہ عنہَ ۔ ص ۳۲)

اس لیے جہاں آپ نے ابو مخنف لوط بن یحیی ، واقدی ، سیف بن عمر التمیمی ، کلبی وغیرہ روایتیں بیان کرنے والے افراد جن کے بارے میں ائمہ جرح و تعدیل ضعیف اور جھوٹے ہونے کا فیصلہ دیتے ہیں ، ان کی روایتیں نہیں لیں گے۔

امام طبری کی کتابوں کی تحقیق اور اس کی اسانید کی صحت پر علمی دنیا میں کافی تحقیقی کام ہوا ہے ۔ان میں سے جو کتابیں ہمارے آرکائیوز میں محفوظ ہیں، ان میں سے چند کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے: 

۱۔تحقیق مواقف الصحابہ فی الفتنۃ من روایات الامام الطبری و المحدثین، تصنیف : ڈاکٹر امحزون، صفحات : ۶۹۴/ اس کتاب میں صحابہ کے مابین دور فتنہ سے متعلق امام طبری کی جملہ روایات کا دیگر محدثین کی نقل کردہ روایات سے موازنہ کرکے ایک ایک راوی اور واقعہ سے بحث کی گئی ہے۔

۲۔ مرویات ابی مخنف فی تاریخ الطبری،تصنیف : یحییٰ بن ابراہیم بن علی الیحییٰ، صفحات : ۲۵۸/اس میں طبری کے اہم ضعیف راوی ابی مخنف کی ایک ایک روایت کی تحقیق کی گئی ہے ۔

۳۔ رجال تفسیرا لطبری جرحا و تعدیلا،تصنیف : محمد صبحی بن حسن الحلاق،صفحات: ۶۰۸/ اس میں تفسیر طبری میں جن راویں سے روایتیں لی گئی ہیں ، ان کے بارے میں فردا فردا تحقیق کی گئی ہے۔ اور اس سلسلے میں دو عظیم علمائشیخ احمد شاکر اور محمود شاکر کی رائے بیان کی گئی ہے۔

۴۔ صحیح تاریخ الطبری و ضعیف تاریخ الطبری،تصنیف : محمد طاہر البرزنجی، اشراف : محمد صبحی حسن حلاق،۱۳ جلدوں میں مطبوعہ اس کتاب میں طبری کی ایک ایک روایت کے بارے میں صحیح یا ضعیف ہونے کے تعلق سے تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔

اس طرح طبری کی سند کے ایک ایک راوی اور روایت کردہ واقعات کی تحقیق کی گئی ہے اور ان کا موازنہ مستند محدثین کی روایتوں سے کیا گیا ہے ۔ خاص طو پر سعودیہ کی یونیورسٹیوں میں ان موضوعات پر ڈاکٹریٹ کے لیے تحقیقی مقالات تیار ہوئے ہیں ۔ جن کا عشر عشیر ابھی اردو میں نہیں آیا ہے ۔

اردو میں امت اسلامیہ کے عظیم محسن اور ان کی علمی وراثت بنیادی امین امام طبریؒ کے تعلق سے باقاعدہ تحقیقی کتاب کی ضرورت ہے ۔ یہ چند باتیں سر سری طور پر یاد آگئیں ، امید کے ان کے ذریعے تحقیق اور جستجو کے نئے دروازے کھلیں گے ۔ اللہ کی توفیق ہمارے ساتھ ہو۔

شخصیات