اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۳۷)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۲۴) لأول الحشر کا ترجمہ

یہ لفظ قرآن مجید میں مندرجہ ذیل ایک مقام پر آیا ہے:

ہُوَ الَّذِیْ أَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ مِن دِیَارِہِمْ لِأَوَّلِ الْحَشْرِ۔ (الحشر: 2)

مفسرین ومترجمین کو اس کا مفہوم متعین کرنے میں الجھن پیش آئی ہے، اس کا اندازہ مندرجہ ذیل ترجمے دیکھ کر کیا جاسکتا ہے:

’’وہی ہے جس نے اہل کتاب کافروں کو پہلے ہی حملے میں اْن کے گھروں سے نکال باہر کیا‘‘ (سید مودودی،’’پہلے ہی حملے‘‘ اس وقت درست ہوتا جب اول حشر یا الحشر الاول ہوتا، اس کی بجائے ’’حملہ کے آغاز ہی میں‘‘ درست ترجمہ ہوسکتا ہے)

’’وہی ہے جس نے ان کافر کتابیوں کو ان کے گھروں سے نکالا ان کے پہلے حشر کے لیے‘‘ (احمد رضا خان، ’’پہلے حشر‘‘ اول الحشر کا ترجمہ نہیں ہوگا)

’’وہی ہے جس نے اہلِ کتاب کے کافروں کو ان کے گھروں سے پہلا لشکر جمع کرنے کے وقت نکال دیا ‘‘(احمد علی، ’’پہلا لشکر‘‘ اس وقت درست ہوتا جب الحشر الاول ہوتا)

’’وہی ہے جس نے نکالا ان لوگوں کو جنھوں اہل کتاب میں سے کفر کیا، ان کے گھروں سے حشر اول کے لیے‘‘ (امین احسن اصلاحی، لام کو برائے تعلیل ماننے سے ترجمہ کمزور ہوگیا، اول الحشر کا ترجمہ ’’حشر اول‘‘ یعنی موصوف وصفت والا ترجمہ کرنا بھی غلط ہے)

’’وہی ہے جس نے (ان) کفار اہل کتاب (یعنی بنی نظیر) کو ان کے گھروں سے پہلی ہی بار اکٹھا کرکے نکال دیا ‘‘(اشرف علی تھانوی، یہ ترجمہ لغت کے اعتبار سے درست نہیں ہے)

مذکورہ بالا ترجموں میں کچھ لوگوں نے لام کو برائے تعلیل مانا ہے، جس سے انہیں صحیح ترجمے تک پہونچنے میں دشواری ہوئی ہے، یہاں لام کو تعلیل کے بجائے ظرف و توقیت کے لئے مان لیں تو مفہوم تک پہونچنا آسان ہوجاتا ہے۔

ایک دوسری غلطی یہ ہوئی کہ اول الحشر جو مضاف اور مضاف الیہ ہے، اس کا ترجمہ انہوں نے موصوف وصفت والا کیا ہے، یعنی پہلا حشر۔ اس مفہوم کے لیے یا تو الحشر الاول ہوتا، یا پھر مضاف اور مضاف الیہ ہوتا مگر اول حشر (حشر نکرہ) ہوتا۔ اول الحشر والی ترکیب کا مفہوم ہے حشر کے آغاز میں۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے ہے کہ لاول الحشر میں لام ظرف کے لیے ہے نہ کہ تعلیل کے لیے، اور اول الحشر کا مطلب ہے لشکر کا جماوڑا ہوتے ہی۔اس کے مطابق ترجمہ ہوگا: ’’وہی ہے جس نے اہل کتاب کافروں کو لشکر کا جماوڑا ہوتے ہی اْن کے گھروں سے نکال باہر کیا‘‘

مطلب یہ ہوا کہ ان کے ساتھ جنگ لڑنے کی نوبت ہی نہیں آئی، جیسے ہی وہ جنگ لڑنے کے لیے جمع ہوئے، اللہ نے انہیں نکال دئے جانے کا فیصلہ نافذ کردیا۔ اس مفہوم کو اختیار کرنے سے کلام کی معنویت بہت بڑھ جاتی ہے، اللہ کی قدرت کا بھرپور مشاہدہ ہوتا ہے کہ انہوں نے حملہ کرنے کے لیے لشکر جمع کیا مگر اللہ نے جماوڑے کی ابتدا ہی میں ان کے دلوں میں ہیبت ڈال کر انہیں نکلنے پر مجبور کردیا۔ اس سے اللہ کے فیصلے کے سامنے اللہ کے دشمنوں کی بے بسی کا بھرپور اظہار ہوتا ہے، اور الفاظ کا پورا پورا حق بھی ادا ہوجاتا ہے۔ 

(۱۲۵) قعید کا ترجمہ

قعید کا لفظ قرآن مجید میں ایک جگہ مندرجہ ذیل آیت میں آیا ہے:

إِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّیَانِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ۔ (ق: 17)

قعید، قعد سے مشتق ہے، قاعد بھی اسی سے مشتق ہے، قاعد کا لفظ قرآن مجید میں کئی جگہ آیا ہے، اور ہر جگہ اس کا مفہوم ’’بیٹھا ہوا‘‘ ہے، سوال یہ ہے کہ کیا قاعد اور قعید کے مفہوم میں کوئی فرق ہے، اردو تراجم کو دیکھیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ عام طور سے لوگوں نے قعید کا ترجمہ ’’بیٹھے‘‘ کیا ہے۔

’’(اور ہمارے اس براہ راست علم کے علاوہ) دو کاتب اس کے دائیں اور بائیں بیٹھے ہر چیز ثبت کر رہے ہیں‘‘(سید مودودی)

’’اور جب اس سے لیتے ہیں دو لینے والے ایک داہنے بیٹھا اور ایک بائیں‘‘(احمد رضا خان)

’’جب کہ ضبط کرنے والے دائیں اوربائیں بیٹھے ہوئے ضبط کرتے جاتے ہیں‘‘ (احمد علی)

’’جب (وہ کوئی کام کرتا ہے تو) دو لکھنے والے جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں، لکھ لیتے ہیں‘‘(فتح محمدجالندھری)

’’جس وقت دو لینے والے جا لیتے ہیں ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا ہے ‘‘(محمد جوناگڑھی)

’’(دھیان رکھو) جبکہ دو اخذ کرنے والے اخذ کرتے رہتے ہیں، ایک دائیں بیٹھا اور دوسرا بائیں بیٹھا ‘‘(امین احسن اصلاحی)

لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ قاعد کے بجائے قعید کیوں کہا، اور کیا فرشتوں کے لیے بھی بیٹھنے کا لفظ استعمال ہوتا ہے؟

عربی لغات اور تفاسیر دیکھیں تو قعید کے مختلف مفہوم سامنے آتے ہیں، البتہ علامہ ابن عاشور نے اس لفظ کا بہت مناسب مفہوم ذکر کیا ہے، 

وَالقَعید مُستَعاَارٌ لِلمُلَازِمِ الَّذِی لَا یَنفَکُّ عَنہُ کَمَا أَطلَقُوا القَعیدَ عَلَی الحَافِظِ لِأَنَّہ یُلَازِمُ الشّیء َ المُوکَّلَ بِحِفظہ۔ (التحریروالتنویر : 26/ 302) 

دوسری جگہ مزید وضاحت کرتے ہیں:

وَالقعُود کِنَایَۃٌ عَنِ المُلَازَمَۃِ،کَمَا فِی قَول النَّابِغَۃِ: قْعْودًا لَدَی أَبیَاتِھِم یَثمِدُونَھُمْ ... رَمی اللّہُ فِی تِلکَ الأکُفِّ الکَوَانِعِ اَی مُلَازِمِینَ أبیاتا لغَیرھمْ یرد الجُلُوسَ، اِذْ قَد یَکُونُونَ یَسأَلُونَ وَاقِفِینَ، وَمَاشِینَ، وَوَجہُ الکِنَایۃِ ھُوَأَنَّ مُلَازَمَۃَ المَکَانِ تَستَلزِمُ الاِعیَاءَ مِنَ الوُقُوفِ عِندَہُ، فیَقعُدُ المُلَازِمُ طَلَبًا لِلرَّاحَۃِ، وَمِن ثَمَّ أُطلِقَ عَلَی المُستَجِیرِ اسمُ القَعِیدِ، وَمِن اِطلَاقِ القَعیدِ عَلَی المُلَازِمِ قَولُہُ تَعَالَی: إِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّیَانِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ۔ (ق: 17) أی مُلَازِمٍ اِذِ المَلَکُ لاَ یُوصَفُ بِقُعُودٍ وَلَاقِیامٍ. (التحریروالتنویر: 8/47)

ابن عاشور کی توجیہ کے مطابق ترجمہ ہوگا’’ ہر وقت ساتھ لگے ہوئے‘‘۔

علامہ ابوحیان نے بھی ایک رائے یہ ذکر کی ہے کہ قاعد کے مقابلے میں قعید میں مبالغہ پایا جاتا ہے، جس طرح عالم کے مقابلہ میں علیم میں مبالغہ ہے۔ 

وأنْ یکونَ عَدلٌ مِنْ فَاعِلٍ اِلی فَعِیلٍ لِلمُبَالَغَۃِ،کَعَلِیمٍ. (البحرالمحیط فی التفسیر: 9/ 534)

ایک بات تو یہ ہے کہ فاعل کے مقابلے میں فعیل میں مبالغہ ہوتا ہے، دوسری بات یہ بھی ہے کہ فعیل میں دوام واستمرار کا مفہوم بھی نمایاں طور سے پایا جاتا ہے، اس کے پیش نظر ابن عاشور کی رائے وزنی ہے، مولانا امانت اللہ اصلاحی قعید کا ترجمہ بیٹھے ہوئے کے بجائے ڈٹے ہوئے کرتے ہیں:

’’عین اس وقت جبکہ دو وصول کرنے والے وصول کرتے رہتے ہیں، ایک دائیں اور ایک بائیں ڈٹے ہوئے‘‘

(۱۲۶) اخذ عزیز مقتدر کا ترجمہ

آیت کے مندرجہ ذیل ٹکڑے میں فَأَخَذْنَاہُمْ أَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِر کا ترجمہ توجہ طلب ہے:

کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا کُلِّہَا فَأَخَذْنَاہُمْ أَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ۔ (القمر: 42)

مترجمین نے اس کا ترجمہ مختلف طرح سے کیا ہے:

’’انہوں نے ہماری تمام نشانیوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو اس طرح پکڑ لیا جس طرح ایک قوی اور غالب شخص پکڑ لیتا ہے‘‘(فتح محمد جالندھری)

’’مگر انہوں نے ہماری ساری نشانیوں کو جھٹلا دیا آخر کو ہم نے انہیں پکڑا جس طرح کوئی زبردست قدرت والا پکڑتا ہے‘‘(سید مودودی)

’’انہوں نے ہماری تمام نشانیاں جھٹلائیں پس ہم نے انہیں بڑے غالب قوی پکڑنے والے کی طرح پکڑ لیا‘‘(محمد جوناگڑھی)

مذکورہ بالا ترجموں میں ایک کمزوری ہے، ان ترجموں سے لگتا ہے کہ اللہ کے علاوہ بھی کوئی عزیز اور مقتدر ہے جو پکڑتا ہے، اور گویا اللہ اس کی طرح پکڑتا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی اور نہ عزیز (زبردست) ہے اور نہ مقتدر (قدرت والا) ہے، کہ جس کی پکڑ سے اللہ کی پکڑ کو تشبیہ دی جائے۔ درست بات یہ ہے کہ یہاں اللہ کی پکڑ کی صفت اور نوعیت بیان کی گئی ہے کہ اس نے پکڑا زبردست اور قدرت والے کی پکڑ۔ ایک ضعف اور کمزوری والے کی پکڑ ہوتی ہے، جس سے چھوٹ جانے کا امکان رہتا ہے، اور ایک عزیز اور مقتدر کی پکڑہوتی ہے کہ جس سے چھوٹنے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ مندرجہ ذیل ترجمہ اس مفہوم کو صحیح طور سے ادا کررہا ہے:

’’جھٹلایا انہوں نے نشانیوں ہماری کوسب کو پس پکڑا ہم نے ان کو پکڑنا غالب قدرت والے کا‘‘ (شاہ رفیع الدین)

ذیل میں درج دوسرے مزید ترجموں میں مذکورہ بالا کمزوری تو نہیں ہے، البتہ عزیز مقتدر کے الفاظ کی مکمل اور صحیح ترجمانی نہیں ہو پارہی ہے:

’’انہوں نے ہماری سب نشانیوں کو جھٹلایا پھر ہم نے انہیں بڑی زبردست پکڑ سے پکڑا‘‘(احمد علی، عزیز اور مقتدر پکڑ کی صفت نہیں پکڑنے والے کی صفت ہے)

’’جھٹلائیں ہماری نشانیاں ساری پھر پکڑی ہم نے ان کو پکڑ زبردست کی قابو میں لے کر‘‘ (شاہ عبدالقادر، مقتدر کا ترجمہ ’’قابو میں لے کر‘‘ درست نہیں ہے)

’’سو ہم نے ان کو زبردست قدرت کا پکڑنا پکڑا‘‘ (اشرف علی تھانوی، عزیز مقتدر کا ترجمہ ’’زبردست قدرت‘‘ کیا ہے جو درست نہیں ہے)

(۱۲۷) تواصی کا ترجمہ

تواصوا کا لفظ قرآن مجید میں تین مقامات پر آیا ہے، سورہ بلد اور سورہ عصر میں جملہ خبریہ ہے جب کہ سورہ ذاریات میں جملہ استفہامیہ ہے۔ اول الذکر دونوں مقامات پر سب نے ملتا جلتا ترجمہ کیا ہے، اور کوئی قابل ذکر اختلاف نظر نہیں آتا ہے۔البتہ مذکورہ ذیل تیسرے مقام پر ترجمے مختلف طرح سے ہوئے ہیں۔ 

أَتَوَاصَوْا بِہِ بَلْ ہُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ۔ (الذاریات: 53)

’’کیا ایک دوسرے کو نصیحت کرتے آئے ہیں ساتھ اس کے، بلکہ وہ ایک قوم ہیں سرکش ‘‘(شاہ رفیع الدین) 

’’کیایہ اس بات کی ایک دوسرے کو وصیت کرتے گئے ہیں‘‘(محمد جوناگڑھی)

’’کیا یہ کہ ایک دوسرے کو اسی بات کی وصیت کرتے آئے ہیں بلکہ یہ شریر لوگ ہیں‘‘(فتح محمد جالندھری)

’’کیا آپس میں ایک دوسرے کو یہ بات کہہ مرے ہیں بلکہ وہ سرکش لوگ ہیں‘‘ (احمد رضا خان)

’’کیا ایک دوسرے سے یہی کہ مرے تھے نہیں بلکہ وہ خود ہی سرکش ہیں ‘‘(احمد علی)

’’کیا یہی کہہ مرے ایک دوسرے کو، کوئی نہیں، پر یہ لوگ شریر ہیں‘‘ (شاہ عبدالقادر)

’’کیا اِن سب نے آپس میں اِس پر کوئی سمجھوتہ کر لیا ہے؟ نہیں، بلکہ یہ سب سرکش لوگ ہیں ‘‘(سید مودودی)

پہلے تینوں ترجموں میں ایک دوسرے کو نصیحت کرنے کی بات ہے، اس کے بعد کے تینوں ترجموں میں ایک دوسرے کو کہہ مرنے کی بات ہے، اور آخری ترجمے میں سمجھوتہ کرنے کی بات ہے۔

اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ تواصی میں مرنے کا مفہوم شامل نہیں ہے، سورہ بلد اور سورہ عصر میں تواصوا آیا ہے اور مرنے کے مفہوم کے بغیر آیا ہے۔ اس لیے ’’کہہ مرے‘‘ ترجمہ کرنا محل نظر ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ آخر الذکر ترجمہ میں تواصوا کا ترجمہ ’’سمجھوتہ کرنا‘‘ کیا گیا ہے، لغت کے لحاظ سے یہ درست نہیں ہے، تواصی کا مطلب ایک دوسرے کو نصیحت کرنا ہے، سمجھوتہ کرنا اس لفظ کے مفہوم میں شامل نہیں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ صاحب تفہیم کو بعض مفسرین کے تفسیری بیان سے غلط فہمی ہوگئی۔

(۱۲۸) سرر مصفوفۃ کا ترجمہ

مندرجہ ذیل آیت کا ترجمہ ملاحظہ کریں:

مُتَّکِئِیْنَ عَلَی سُرُرٍ مَّصْفُوفَۃٍ۔ (الطور: 20)

’’تختوں پر تکیہ لگائے جو قطار لگا کر بچھے ہیں‘‘(احمد رضا خان)

’’تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے جو قطاروں میں بچھے ہوئے ہیں‘‘(احمد علی)

’’تختوں پر جو برابر برابر بچھے ہوئے ہیں تکیہ لگائے ہوئے‘‘(فتح محمد جالندھری)

’’برابر بچھے ہوئے شاندار تختے پر تکیے لگائے ہوئے‘‘(محمد جوناگڑھی)

’’وہ آمنے سامنے بچھے ہوئے تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے‘‘(سید مودودی)

آخر الذکر ترجمے میں ’’آمنے سامنے‘‘ اضافہ ہے، مصفوفۃ صف سے ہے اور اس کا مطلب ’ ’قطار میں بچھے ہوئے ‘‘ہوتا ہے، لگتا ہے مترجم کے ذہن میں مُتَّکِئِیْنَ عَلَیْْہَا مُتَقَابِلِیْن۔ (الواقعۃ: 16) والی آیت تھی، جس کی وجہ سے ترجمہ میں وہ اضافہ ہوگیا۔

(جاری)

قرآن / علوم قرآن

Flag Counter