اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۲)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(280)    خاطؤون کا ترجمہ

خطأ کے معنی غلطی کے ہوتے ہیں، ایک فیصلے اور تدبیر کی غلطی ہوتی ہے جسے چوک کہا جاتا ہے۔ اور ایک گناہ اور جرم والی غلطی ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں چوک ہوجانے کے لیے باب افعال سے أخطأ آیا ہے۔ جیسے وَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ فِیمَا أَخْطَأْتُم بِہِ وَلَٰکِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُکُمْ (الاحزاب: 5) ”تم سے بھول چوک میں جو کچھ ہو جائے اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں“۔(محمد جوناگڑھی)

قرآن مجید میں لفظ خطأ ثلاثی مجرد سے اسم فاعل جمع مذکر کی صورت میں پانچ جگہ آیا ہے۔ چار جگہ لوگوں نے خطاکار اور گناہ گار ترجمہ کیا ہے، جب کہ پانچویں جگہ پر کئی لوگوں نے چوک ہوجانے کا ترجمہ کیا ہے۔

(۱) لَا یَأْکُلُہُ إِلَّا الْخَاطِؤُونَ۔ (الحاقۃ: 37)

”جسے گناہ گاروں کے سوا کوئی نہیں کھائے گا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”یہ کھانا صرف گناہ گار ہی کھائیں گے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اسے نہ کھائیں گے مگر خطاکار“۔ (احمد رضا خان)

(۲) وَاسْتَغْفِرِی لِذَنبِکِ إِنَّکِ کُنتِ مِنَ الْخَاطِئِینَ۔ (یوسف: 29)

”تو اپنے گناہ سے توبہ کر، بیشک تو گنہگاروں میں سے ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”تو اپنے قصور کی معافی مانگ، تو ہی اصل میں خطا کار تھی“۔ (سید مودودی)

”اور تو اپنے گناہ کی معافی مانگ، بے شک تو ہی خطاکار ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

آخری دونوں ترجموں میں تو ہی کے بجائے صرف تو ہونا چاہیے کیوں کہ یہاں حصر کی کوئی علامت نہیں ہے۔

(۳) قَالُوا تَاللَّہِ لَقَدْ آثَرَکَ اللَّہُ عَلَیْنَا وَإِن کُنَّا لَخَاطِئینَ۔ (یوسف: 91)

”وہ بولے خدا کی قسم، اللہ نے آپ کو ہم پر برتری بخشی اور بے شک ہم ہی غلطی پر تھے“۔ (امین احسن اصلاحی، ہم ہوگا ہم ہی نہیں۔ یہاں حصر کی نہ علامت ہے نہ اس کا محل ہے، ہم ہی سے تو یہ اشارہ نکلتا ہے کہ لوگ کسی اور کو غلطی پر سمجھ رہے تھے۔)

(۴) قَالُوا یَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا کُنَّا خَاطِئینَ۔ (یوسف: 97)

”انھوں نے درخواست کی کہ ہمارے باپ، ہمارے گناہوں کی مغفرت کے لیے دعا کیجیے، بے شک ہم ہی قصور وار ہوئے“۔ (امین احسن اصلاحی، یہاں بھی ہم ہی کے بجائے ہم ہونا چاہیے۔)

”سب بول اٹھے، ابا جان، آپ ہمارے گناہوں کی بخشش کے لیے دعا کریں، واقعی ہم خطا کار تھے“۔ (سید مودودی)

(۵) فَالْتَقَطَہُ آلُ فِرْعَوْنَ لِیَکُونَ لَہُمْ عَدُوًّا وَحَزَنًا إِنَّ فِرْعَوْنَ وَہَامَانَ وَجُنُودَہُمَا کَانُوا خَاطِئینَ۔ (القصص: 8)

”آ خرکار فرعون کے گھر والوں نے اسے (دریا سے) نکال لیا تاکہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے سببِ رنج بنے، واقعی فرعون اور ہامان اور اس کے لشکر (اپنی تدبیر میں) بڑے غلط کار تھے“۔ (سید مودودی)

”بے شک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر چوکنے والے تھے“۔ (شاہ عبدالقادر)

”بے شک فرعون وہامان اور ان کے لشکر سے بڑی چوک ہوئی“۔ (امین احسن اصلاحی)

”بے شک فرعون اور ہامان اور اُن کے لشکر چوک گئے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان کے تابعین (اس بارے میں) بہت چوکے“۔ (اشرف علی تھانوی)

یہاں خَاطِئینَ کا مطلب اپنی تدبیر میں غلط کار ہونا یا چوک جانا نہیں ہے۔ موسی علیہ السلام کو دریا سے نکالنے والے فرعون کے اہل خانہ تھے، اس میں ہامان اور فرعون وہامان کے لشکر کا کوئی کردار تھا ہی نہیں۔ اور پھر بچے کو دریا سے نکال کر پال لینے میں چوک کی بات کیا ہے۔ دراصل یہاں خَاطِئینَ گناہ گاروں کے معنی میں ہے۔ اور بتایا یہ جارہا ہے کہ یہ سب گناہ گار تھے اور ان گناہ گاروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے اللہ کی طرف سے ایسا انتظام ہوا کہ فرعون کے گھر والوں نے موسی کو اٹھا کر پالا پوسا اور پھر وہی موسی ان سب کے دشمن اور ان کے لیے سبب رنج بنے۔ اور یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کیوں کہ وہ سب گناہوں میں لت پت تھے۔

درج ذیل ترجمہ درست ہے:

”بے شک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر خطا کار تھے“۔ (احمد رضا خان)

(281) عَلَا فِی الْأَرْضِ

(۱) إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْأَرْضِ۔ (القصص: 4)

”واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی“۔ (سید مودودی)

”بے شک فرعون نے زمین میں غلبہ پایا تھا“۔ (احمد رضا خان)

پہلا ترجمہ درست ہے دوسرا درست نہیں ہے، کیوں کہ عَلَا فِی الْأَرْضِ غلبہ پانے کے لیے نہیں بلکہ زمین میں سرکشی کرنے کے لیے آتا ہے۔ قرآن میں اس تعبیر کے دیگر استعمالات سے یہ مفہوم اور زیادہ واضح ہوجاتا ہے۔ فرعون ہی کے بارے میں دوسری جگہ یہ تعبیر اختیار کی گئی تو اس کا ترجمہ غلبہ پانا نہیں کیا گیا:

(۲) وَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْأَرْضِ وَإِنَّہُ لَمِنَ الْمُسْرِفِینَ۔ (یونس: 83)

”اور بے شک فرعون زمین پر سر اٹھانے والا تھا، اور بے شک وہ حد سے گزر گیا“۔ (احمد رضا خان)

اسی طرح درج ذیل آیت میں بھی غلبہ پانے کا ترجمہ نہیں کیا گیا:

(۳) تِلْکَ الدَّارُ الْآخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِینَ لَا یُرِیدُونَ عُلُوًّا فِی الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا۔ (القصص: 83)

اس آیت میں علو فی الارض کا ترجمہ ظلم اور تکبر وغیرہ کیا گیا ہے، غلبہ پانا اس کا ترجمہ نہیں ہوسکتا ہے۔

(282)  شِیَعًا

شیعا جمع ہے، اس کا واحد شیعۃ ہے، اس کے متعدد معانی میں تابع کا معنی بھی ملتا ہے، قرآن مجید میں یہ لفظ یعنی شیعا کئی جگہ آیا ہے اور عام طور سے فرقوں کے معنی میں آیا ہے، پہلی تین آیتوں کے ترجمے دیکھیں:

(۱) أَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا۔ (الانعام: 65)

”یا تمہیں بھڑا دے مختلف گروہ کرکے“۔ (احمد رضا خان)

(۲) إِنَّ الَّذِینَ فَرَّقُوا دِینَہُمْ وَکَانُوا شِیَعًا۔ (الانعام: 159)

”وہ جنہوں نے اپنے دین میں جُدا جُدا راہیں نکالیں اور کئی گروہ ہوگئے“۔ (احمد رضا خان)

(۳) مِنَ الَّذِینَ فَرَّقُوا دِینَہُمْ وَکَانُوا شِیَعًا۔ (الروم: 32)

”ان میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور ہوگئے گروہ گروہ“۔ (احمد رضا خان)

درج ذیل چوتھی آیت کے ترجمے میں بعض لوگوں سے غلطی ہوئی:

(۴) وَجَعَلَ أَہْلَہَا شِیَعًا۔ (القصص: 4)

”اور کر رکھے تھے وہاں کے لوگوں کے کئی جتھے“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اور وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کر دیا“۔ (سید مودودی)

”اور اس کے لوگوں کو اپنا تابع بنایا“ (احمد رضا خان)

یہاں آخری ترجمہ درست نہیں ہے۔اول الذکر تینوں مقامات پر شیعا کا ترجمہ گروہ کرکے چوتھی آیت میں اس کا ترجمہ تابع کردیا۔ حالاں کہ یہاں بھی گروہ گروہ بنادینا درست ترجمہ ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اگر تابع کا معنی ہوتا تو شیعا نہیں بلکہ شیعۃ (واحد کا صیغہ) آتا اور اس کی اضافت اس کی طرف ہوتی یعنی شیعتہ ہوتا۔فیروزابادی  لکھتے ہیں: شیعۃ  الرجل أتباعہ وأنصارہ، والفرقۃ علی حدۃ۔ (القاموس المحیط)

(283) استضعاف

استضعاف ضعف سے ہے، اس کا مطلب ہے کم زور بنانا، دبا کر رکھنا۔ بعض لوگوں نے اس کا ترجمہ کہیں کہیں ذلیل کرنا کیا ہے، لیکن انھوں نے ہی دوسرے مقام پر کم زور کرنا بھی کیا ہے۔ اس لفظ میں ذلیل کرنے کا مفہوم نہیں ہے۔

(۱) یَسْتَضْعِفُ طَائِفَۃً‌ مِّنْہُمْ۔ (القصص: 4)

”ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا“۔ (سید مودودی)

”ان میں سے ایک فرقہ کو کمزور کر رکھا تھا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”ان میں ایک گروہ کو کمزور دیکھتا“۔ (احمد رضا خان، کم زور دیکھنا نہیں بلکہ کم زور بنانا درست ترجمہ ہے، جیسا کہ دوسرے مقامات پر کیا ہے۔)

(۲) وَنُرِیدُ أَن نَّمُنَّ عَلَی الَّذِینَ اسْتُضْعِفُوا فِی الْأَرْضِ۔ (القصص: 5)

”اور ہم یہ ارادہ رکھتے تھے کہ مہربانی کریں ان لوگوں پر جو زمین میں ذلیل کر کے رکھے گئے تھے“۔ (سید مودودی)

”پھر ہماری چاہت ہوئی کہ ہم ان پر کرم فرمائیں جنہیں زمین میں بے حد کمزور کر دیا گیا تھا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کر دیئے گئے ہیں اُن پر احسان کریں“۔ (فتح محمد جالندھری)

(۳) وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِینَ کَانُوا یُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَہَا الَّتِی بَارَکْنَا فِیہَا۔ (الاعراف: 137)

”اور اُن کی جگہ ہم نے اُن لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے، اُس سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جسے ہم نے برکتوں سے مالا مال کیا تھا“۔ (سید مودودی)

”اور ہم نے اس قوم کو جو دبا لی گئی تھی اس زمین کے پورب پچھم کا وارث کیا جس میں ہم نے برکت رکھی“۔ (احمد رضا خان)

(284) وَیَسْتَحْیِی نِسَاءَہُمْ

فرعون اور اس کی قوم کے سلسلے میں جگہ جگہ یہ آیا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرتے اور عورتوں کو قتل نہیں کرتے۔ اس کے لیے استحیاء کا لفظ آیا ہے۔ استحیاء کا مطلب زندہ رہنے دینا ہے، نہ کہ زندہ رکھنا۔ ظاہر ہے زندہ رکھنا تو ان کے بس میں نہیں ہے اور ان آیتوں میں وہ مفہوم مقصود بھی نہیں ہے۔ مقصود تو یہی ہے کہ وہ عورتوں کو قتل نہیں کرتے تھے، بلکہ زندہ رہنے دیتے تھے۔ اس وضاحت کے بعد درج ذیل آیتوں کے مختلف ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

(۱) یُذَبِّحُ أَبْنَاءَہُمْ وَیَسْتَحْیِی نِسَاءَہُمْ۔ (القصص: 4)

”ان کے بیٹوں کو ذبح کر چھوڑتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا“۔ (امین احسن اصلاحی)

”ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا“۔ (احمد رضا خان)

”اُن کے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتا اور اُن کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا“۔ (فتح محمد جالندھری)

(۲) یُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَکُمْ وَیَسْتَحْیُونَ نِسَاءَکُمْ۔ (البقرۃ: 49)

”تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے“۔ (احمد رضا خان)

”تمہارے بیٹوں کو تو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے“۔ (فتح محمد جالندھری)

(۳) یُقَتِّلُونَ أَبْنَاءَکُمْ وَیَسْتَحْیُونَ نِسَاءَکُمْ۔ (الاعراف: 141)

”تمہارے بیٹے ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیاں باقی رکھتے“۔ (احمد رضا خان)

(۴) وَیُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَکُمْ وَیَسْتَحْیُونَ نِسَاءَکُمْ۔ (إبراہیم: 6)

”اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیاں زندہ رکھتے“۔ (احمد رضا خان)

”تمہارے لڑکوں کو قتل کرتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ چھوڑتے تھے“۔ (محمد جوناگڑھی)

(۵) قَالُوا اقْتُلُوا أَبْنَاءَ الَّذِینَ آمَنُوا مَعَہُ وَاسْتَحْیُوا نِسَاءَہُمْ۔ (غافر: 25)

”اس کے ساتھ جوایمان والے ہیں ان کے لڑکوں کو تو مار ڈالو اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھو“۔ (محمد جوناگڑھی)

”بولے جو اس پر ایمان لائے ان کے بیٹے قتل کرو اور عورتیں زندہ رکھو“۔ (احمد رضا خان)

”تو کہنے لگے کہ جو اس کے ساتھ (خدا پر) ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دو“۔ (فتح محمد جالندھری)

قرآن / علوم قرآن

(نومبر ۲۰۲۱ء)

نومبر ۲۰۲۱ء

جلد ۳۲ ۔ شمارہ ۱۱

Flag Counter