اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۵۴)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۶۲) یعظکم بہ کا اسلوب

یہ جملہ ملتے جلتے اسلوب اور سیاق کلام میں دو مرتبہ آیا ہے، دونوں مرتبہ اللہ کی نصیحت ہے ، اور نصیحت کے اختتام پر اس جملے کا تذکرہ ہے، ایک جگہ صرف یَعِظُکُم بِہِ ہے، اور دوسری جگہ ان اللہ نعما یعظکم بہ ہے۔

درج ذیل آیت میں صرف یَعِظُکُم بِہِ ہے:

وَاذکُرُوا نِعمَتَ اللّہِ عَلَیکُم وَمَا انزَلَ عَلَیکُم مِّنَ الکِتَابِ وَالحِکمَۃ یَعِظُکُم بِہِ۔ (البقرة: 231)

اس آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے عام طور سے مترجمین نے یَعِظُکُم بِہِ کو صفت یا علت مان کر ترجمہ کیا ہے، اور بہ میں ضمیر کا مرجع وَمَا انزَلَ عَلَیکُم مِّنَ الکِتَابِ وَالحِکمَۃ یعنی کتاب اور حکمت کو بنایا ہے۔

“اور اللہ کا احسان جو تم پر ہے یاد کرو اور جو کچھ کتاب وحکمت اس نے نازل فرمائی ہے جس سے تمہیں نصیحت کر رہا ہے، اسے بھی”۔ (محمد جوناگڑھی)

“اور خدا نے تم کو جو نعمتیں بخشی ہیں اور تم پر جو کتاب اور دانائی کی باتیں نازل کی ہیں جن سے وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے ان کو یاد کرو”۔ (فتح محمد جالندھری)

مذکورہ بالا ترجموں میں یَعِظُکُم بِہِ کو صفت بنایا گیا ہے۔

“اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے اور و ہ جو تم پر کتاب اور حکمت اتاری تمہیں نصیحت دینے کو ”۔(احمد رضا خان)

“اور اپنے اوپر اللہ کے فضل کو یاد رکھو اور اس کتاب وحکمت کو یاد رکھو جو اس نے تمہاری نصیحت کے لیے اتاری” ۔(امین احسن اصلاحی، یہاں علیکم کا ترجمہ نہیں ہوا ہے)

مذکورہ بالا ترجموں میں یَعِظُکُم بِہِ کو علت بنایا گیا ہے۔

“بھول نہ جاؤ کہ اللہ نے کس نعمت عظمیٰ سے تمہیں سرفراز کیا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ جو کتاب اور حکمت اُس نے تم پر نازل کی ہے، اس کا احترام ملحوظ رکھو”۔ (سید مودودی)

اس ترجمے میں بھی زبان کے اسلوب کی رو سے تکلف پایا جاتا ہے۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی کے نزدیک یہ ایک مستقل جملہ ہے، اور بہ میں ضمیر کا مرجع گذشتہ نصیحت ہے یعنی وَاذکُرُوا نِعمَتَ اللّہِ عَلَیکُم وَمَا انزَلَ عَلَیکُم مِّنَ الکِتَابِ وَالحِکمَۃ۔ گویا پہلے ایک نصیحت کی اور پھر کہا: وہ تمہیں اس کی نصیحت کرتا ہے۔ اس لحاظ سے ترجمہ ہوگا:

“ اور اپنے اوپر اللہ کے فضل کو یاد رکھو اور اس کتاب وحکمت کو یاد رکھو جو اس نے تمہارے لیے اتاری، وہ تمہیں اس کی نصیحت کرتا ہے”۔

 اس اسلوب کی دوسری آیت سے بھی اس ترجمے کی تائید ہوتی ہے:

انَّ اللّہَ یَامُرُکُم اَن تُودُّوا الامَانَاتِ الَی اہلِہَا واذَا حَکَمتُم بَینَ النَّاسِ ان تَحکُمُوا بِالعَدلِ انَّ اللّہَ نِعِمَّا یَعِظُکُم بِہ۔ (النساء: 58)

“مسلمانو! اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو، اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے ”۔ (سید مودودی)

اول الذکر آیت کی طرح یہاں بھی پہلے نصیحتیں کیں، اور اس کے بعد کہا اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے۔

 ذیل کی آیت میں ”بہ“ کے بغیر یعظکم بالکل اسی اسلوب میں ہے، یعنی نصیحتوں کا بیان ہے، اس کے بعد یعظکم وہ تمہیں اس کی نصیحتیں کرتا ہے۔

انَّ اللّہَ یَامُرُ بِالعَدلِ وَالاحسَانِ وَایتَاء ذِی القُربَی وَیَنہَی عَنِ الفَحشَاء وَالمُنکَرِ وَالبَغیِ یَعِظُکُم لَعَلَّکُم تَذَکَّرُون (سورة النحل:90 )

لفظ وعظ کے اس استعمال کی قرآن مجید میں اور کئی نظیریں ہیں۔ سورہ مجادلہ کے آغاز میں ظہار کے احکام سنانے کے بعد فرمایا ذلکم توعظون بہ “ تمہیں اس کی نصیحت کی جاتی ہے۔ ”  قرآن مجید میں دو مقامات پر ذلک یوعظ بہ “اس کی نصیحت کی جاتی ہے” اسی انداز سے کچھ احکام دینے کے بعد آیا ہے ۔

(۱۶۳) ولا تعثوا فی الارض مفسدین

تعثوا باب ضرب  سے ہے، اس کا مطلب ہے بہت زیادہ فساد برپا کرنا، امام زمخشری لکھتے ہیں:

والعثی: اشدّ الفساد، فقیل لہم: لا تتمادوا فی الفساد فی حال فسادکم لانہم کانوا متمادین فیہ.

تراجم پر نظر ڈالیں تو بہت سے مترجمین “پھرو” کا اضافہ کرتے ہیں، یہ اضافہ غیر ضروری ہے، اسی طرح صاحب تدبر نے “بڑھو”، “ابھرو” اور “پھیلو” جیسے اضافے کیے ہیں، وہ سب بھی لفظ کے مدلول پر غیر ضروری اضافہ ہیں۔

آیت کے اس ٹکڑے کا ترجمہ کرتے ہوئے ایسی تعبیر تلاش کرنا چاہیے جس سے زیادہ فساد کرنے کا مفہوم پیدا ہوجائے جیسے: “اور زمین میں فساد نہ مچاو¶” اس جملے میں فساد نہ کرو سے زیادہ زور ہے۔

اس گفتگو کی روشنی میں درج ذیل ترجمے دیکھیں:

(۱) وَلاَ تَعثَوا فِی الارضِ مُفسِدِینَ۔ (البقرة: 60)

“اور نہ بڑھو زمین میں فساد مچانے والے بن کر”۔ (امین احسن اصلاحی)

“اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو”۔ (سید مودودی)

“اور زمین میں فساد اٹھاتے نہ پھرو”۔ (احمد رضا خان)

“اور زمین میں فساد نہ مچاؤ ”۔(امانت اللہ اصلاحی)

(۲) وَلاَ تَعثَوا فِی الارضِ مُفسِدِین۔ (الاعراف: 74)

“اور ملک میں اودھم مچاتے نہ پھرو”۔ (امین احسن اصلاحی)

“اور زمین میں فساد برپا نہ کرو”۔ (سید مودودی)

“اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو”۔ (احمد رضا خان)

“اور زمین میں فساد نہ مچاؤ”۔(امانت اللہ اصلاحی)

(۳) وَلاَ تَعثَوا فِی الارضِ مُفسِدِین ۔ (ہود: 85)

“اور زمین میں فساد پھیلانے والے بن کر نہ ابھرو”۔ (امین احسن اصلاحی)

“اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو”۔ (سید مودودی)

“اور زمین میں فساد اور خرابی نہ مچاو”۔ (محمد جوناگڑھی)

(۴) وَلَا تَعثَوا فِی الارضِ مُفسِدِین۔ (الشعراء: 183)

“اور زمین میں مفسد بن کر نہ پھیلو”۔ (امین احسن اصلاحی)

“زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو”۔(سید مودودی)

“اور زمین میں فساد نہ مچاؤ ”۔(امانت اللہ اصلاحی)

(۵) وَلَا تَعثَوا فِی الارضِ مُفسِدِین۔ (العنکبوت: 36)

“اور زمین میں فساد مچانے والے بن کر نہ بڑھو”۔(امین احسن اصلاحی)

“اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو”۔ (محمد جوناگڑھی)

“اور ملک میں فساد نہ مچاؤ”۔(فتح محمد جالندھری)

(۱۶۴) لمعزولون کا ترجمہ

انَّہُم عَنِ السَّمعِ لَمَعزُولُونَ۔ (الشعراء: 212)

“وہ سن گن لینے سے معزول کیے جاچکے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

“وہ تو اس (وحی) کے سننے سے بھی معزول کیے جا چکے ہیں”۔ (محمد حسین نجفی)

مذکورہ بالا دونوں ترجموں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گویا وہ پہلے سنتے تھے، اور اب وہ معزول کردیے گئے ہیں، جب کہ امر واقعہ یہ ہے کہ ہمیشہ سے وہ سن گن لینے سے معزول ہی ہیں۔ درست ترجمہ ہوگا: “وہ سن گن لینے سے معزول ہیں۔” ( امانت اللہ اصلاحی)

(جاری)

قرآن / علوم قرآن