اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۶۴)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۹۲) اسبغ کا ترجمہ

لفظ اسبغ قرآن مجید میں ایک جگہ آیا ہے، جب کہ اسی مادے سے ایک جگہ سابغات کا لفظ آیا ہے، اسبغ کا مطلب ہوتا ہے اتنی فراوانی جس سے ساری ضرورتیں پوری ہوجائیں۔ جس طرح درع سابغۃ کا مطلب ہوتا ہے اتنی کشادہ زرہ کہ پورے جسم پر آجائے۔ یعنی اس میں کشادگی اور فراوانی کا مفہوم ہوتا ہے، نہ کہ تمام کرنے اور پوری کرنے کا، جیسا کہ ذیل میں بعض ترجموں میں ملتا ہے۔ علامہ طاہر بن عاشور کے الفاظ میں: اسباغ النعم: اکثارہا. (تفسیر التحریر والتنویر)، یہ درست ہے کہ اہل لغت اسباغ کے معنی اتمام کے بھی ذکر کرتے ہیں، لیکن یہاں منکرین سے خطاب ہے، اور اس پہلو سے اتمام کا معنی مناسب نہیں معلوم ہوتا ہے۔

أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّہَ سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَہٗ ظَاهِرَۃً وَبَاطِنَۃ (لقمان: 20)

“کیا تم لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں تمہارے لیے مسخر کر رکھی ہیں اور اپنی کھلی اور چھپی نعمتیں تم پر تمام کر دی ہیں؟ ” (سید مودودی)

“اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کردی ہیں” (فتح محمد جالندھری)

“اور تمہیں بھرپور دیں اپنی نعمتیں ظاہر اور چھپی” (احمد رضا خان)

“اور تمہیں اپنی ظاہری وباطنی نعمتیں بھرپور دے رکھی ہیں” (محمد جوناگڑھی)

“اور تمھیں ہر قسم کی ظاہری وباطنی نعمتیں فراوانی سے دی ہیں ” (امانت اللہ اصلاحی)

آخر کے تینوں ترجمے موزوں تر ہیں۔

(۱۹۳)    زمانہ فعل کی رعایت

درج ذیل آیت میں خبردار کیا گیا ہے اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت کے مقابلے میں اپنے آباءکی پیروی کرنے والوں کو، کہ آباءکی پیروی محفوظ عمل نہیں ہے، کیوں کہ شیطان تو ان کے پیچھے بھی لگا رہتا تھا اور انھیں بہکانے کی کوشش کیا کرتا تھا، وہ شیطان سے محفوظ تو تھے نہیں کہ ان کی پیروی کو گمراہی سے محفوظ سمجھا جائے۔ علامہ طاہر بن عاشور کے الفاظ میں: والضمیر المنصوب فی قولہ یدعوہم عائد الی الآباء، ای ایتبعون آبائہم ولو کان الشیطان یدعو الآباءالی العذاب فہم یتبعونہم الی العذاب ولا یہتدون. (تفسیر التحریر والتنویر)

اس تفسیر کی رو سے شیطان کی اس دعوت کی بات ہورہی ہے، جو وہ حاضرین کے آباءواجداد کو دیتا تھا، وہ جو کہ اب نہیں ہیں، اس لحاظ سے یدعوھم کا ترجمہ’ بلاتا رہا ہو‘، درست ہے، ’بلاتا ہو‘، اور’ بلا رہا ہو‘، حاضرین کے تعلق سے تو درست ہوسکتا ہے، ان کے گزرے ہوئے آباءکے تعلق سے درست نہیں ہوسکتا ہے۔ اس روشنی میں درج ذیل ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

وَإِذَا قِيلَ لَھُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللَّہُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْہِ آبَاءَنَا ۚ أَوَلَوْ كَانَ الشَّيْطَانُ يَدْعُوھُمْ إلٰی عَذَابِ السَّعِيرِ۔ (لقمان: 21)

“اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ پیروی کرو اُس چیز کی جو اللہ نے نازل کی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اُس چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے کیا یہ انہی کی پیروی کریں گے خواہ شیطان اُن کو بھڑکتی ہوئی آگ ہی کی طرف کیوں نہ بلاتا رہا ہو؟” (سید مودودی)

“اگرچہ شیطان ان کو عذاب دوزخ کی طرف بلاتا ہو” (احمد رضا خان)

“بھلا اگرچہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو (تب بھی؟)” (فتح محمد جالندھری)

“اگرچہ شیطان ان کے بڑوں کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو ” (محمد جوناگڑھی)

“اگرچہ شیطان ان (بڑوں) کو بھڑکتی آگ کے عذاب کی طرف بلا رہا ہو؟” (محمد حسین نجفی)

پہلا ترجمہ زمانہ فعل کی رعایت کے پہلو سے موزوں تر ہے۔

(۱۹۴)    سابغات کا ترجمہ

درع سابغة کا مطلب ہوتا ہے کشادہ زرہ، یعنی جوپورے جسم کو اپنے اندر لے لے۔

السابغۃ: الدرع الواسعۃ (لسان العرب)، اس حوالے سے بعض ترجمے غور طلب ہیں:

 اَنِ اعمَل سَابِغَاتٍ ۔ (سبا: 11)

“اس ہدایت کے ساتھ کہ زرہیں بنا” (سید مودودی، اس ترجمہ پر اعتراض یہ ہے کہ سابغات کا ترجمہ صرف زرہیں نہیں بلکہ کشادہ زرہیں ہونا چاہیے)

“کہ ڈھیلی ڈھالی زرہیں بناؤ” (امین احسن اصلاحی، اس ترجمہ پر اعتراض یہ ہے کہ یہاں مراد ہے بڑی زرہیں جو پورے بدن کو ڈھانپ لیں، جب کہ ڈھیلی ڈھالی کا مطلب یہ ہوگا کہ بدن پر ڈھیلی ہو، چاہے سائز کے لحاظ سے چھوٹی ہی کیوں نہ ہو۔ زرہ کا ڈھیلی ڈھالی ہونا کوئی خوبی کی بات نہیں ہے)

“کہ وسیع زِر ہیں بنا” (احمد رضا خان)

“کہ کشادہ زرہیں بناؤ” (فتح محمد جالندھری)

آخر الذکر دونوں ترجمے درست ہیں۔

(۵۹۱) مخلصین لہ الدین کا ترجمہ:

الدین کا مطلب اطاعت، عبادت اور دین ہے۔ بعض لوگوں نے کہیں کہیں اس کا ترجمہ عقیدہ یا اعتقاد کیا ہے جو لفظ کی مکمل ترجمانی نہیں کرتا ہے، خود وہی مترجمین اسی اسلوب والے جملے کا دوسرے مقامات پر ترجمہ کرتے ہوئے دین کا ترجمہ عبادت اور بندگی کرتے ہیں۔

اسی طرح مخلصین کا ترجمہ خالص کرنا اور خاص کرنا سب کرتے ہیں، اور درست کرتے ہیں۔ تاہم صاحب تدبر بعض جگہ ترجمہ میں عہد کرنے کا مفہوم بڑھادیتے ہیں، جس کی لفظ میں گنجائش نہیں نکلتی ہے۔ درج ذیل مختلف ترجمے ملاحظہ کریں:

(۱) وَادعُوہُ مُخلِصِینَ لَہُ الدِّینَ۔ (الاعراف: 29)

“اور اسی کو پکارو، اسی کے لیے اطاعت کو خاص کرتے ہوئے” (امین احسن اصلاحی) اس کو پکارو ہونا چاہیے، کیوں کہ عبارت میں حصر کا اسلوب نہیں ہے۔

“اور اس کی عبادت کرو نرے (خالص) اس کے بندے ہوکر ” (احمد رضا خان)

“اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طور پر کرو کہ اس عبادت کو خالص اللہ ہی کے واسطے رکھو” (محمد جوناگڑھی)

(۲) دَعَوُا اللَّہَ مُخلِصِینَ لَہُ الدِّینَ۔ (یونس: 22)

“تو وہ اللہ کو پکارتے ہیں، خالص اسی کی اطاعت کا عہد کرتے ہوئے” (امین احسن اصلاحی)

“ (اس وقت) سب خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارتے ہیں ” (محمد جوناگڑھی)

“اس وقت اللہ کو پکارتے ہیں نرے اس کے بندے ہوکر” (احمد رضا خان)

(۳) فاِذَا رَکِبُوا فِی الفُلکِ دَعَوُا اللَّہَ مُخلِصِینَ لَہُ الدِّینَ۔ (العنکبوت: 65)

“پس جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو پکارتے ہیں اسی کے لیے اطاعت کو خاص کرتے ہوئے ” (امین احسن اصلاحی)

“پس یہ لوگ جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اس کے لیے عبادت کو خالص کر کے” (محمد جوناگڑھی)

“پھر جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں اللہ کو پکارتے ہیں ایک اسی عقیدہ لاکر ” (احمد رضا خان)

(۴) وَاِذَا غَشِیَہُم مَوج کَالظُّلَلِ دَعَوُا اللَّہَ مُخلِصِینَ لَہُ الدِّینَ۔ (لقمان: 32)

“اور جب موجیں سائبانوں کی طرح ان کو ڈھانک لیتی ہیں وہ اللہ کو پکارتے ہیں، خالص اس کی اطاعت کا عہد کرتے ہوئے” (امین احسن اصلاحی)

“اور جب ان پر آپڑتی ہے کوئی موج پہاڑوں کی طرح تو اللہ کو پکارتے ہیں نرے اسی پر عقیدہ رکھتے ہوئے” (احمد رضا خان)

“اور جب (سمندر میں) اِن لوگوں پر ایک موج سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہے تو یہ اللہ کو پکارتے ہیں اپنے دین کو بالکل اسی کے لیے خالص کر کے” (سید مودودی)

“اور جب ان پر موجیں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو وہ (نہایت) خلوص کے ساتھ اعتقاد کر کے اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں” (محمد جوناگڑھی)

(۵) فَادعُوا اللَّہَ مُخلِصِینَ لَہُ الدِّینَ۔ (غافر: 14)

“تو اللہ ہی کو پکارو اسی کی خالص اطاعت کے ساتھ” (امین احسن اصلاحی)

(۶) فَادعُوہُ مُخلِصِینَ لَہُ الدِّینَ۔ (غافر: 65)

“تو اسی کو پکارو، اسی کی خالص اطاعت کے ساتھ” (امین احسن اصلاحی)

(۷) وَمَا اُمِرُوا اِلَّا لِیَعبُدُوا اللَّہَ مُخلِصِینَ لَہُ الدِّینَ۔ (البینة: 5)

“اور ان کو حکم یہی ہوا تھا کہ وہ اللہ ہی کی بندگی کریں، اسی کی خالص اطاعت کے ساتھ” (امین احسن اصلاحی)

(۱۹۶) ویعلم مافی الارحام کا ترجمہ

رحم کے اندر پلنے والے جنین کے سلسلے میں باخبرہونے کے حوالے سے قرآن مجید پر اعتراض کیا جاتا ہے، جو دن بدن زور پکڑتا جارہا ہے، اور اس کے جو جواب عام طور سے دیئے گئے ہیں، وہ کم زور ہیں، اور دن بدن ان کی کم زوری اور زیادہ واضح ہورہی ہے۔ اس اعتراض کی بنا اس پر ہے کہ قرآن مجید کی درج ذیل آیت میں کہا گیا ہے کہ اللہ ہی جانتا ہے رحم کے اندر کی صورت حال کو، کوئی اور نہیں جان سکتا ہے۔ جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ترجموں میں تو یہ بات ہے، لیکن کچھ ترجموں میں یہ بات نہیں ہے، بلکہ بغیر حصر کے ترجمہ کیا گیا ہے، یعنی ’وہی جانتا ہے‘ کی بجائے ’وہ جانتا ہے‘ ترجمہ کیا گیا ہے۔

(۱)  إِنَّ اللَّہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّہَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ۔ (لقمان: 34)

“اُس گھڑی کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں کیا پرورش پا رہا ہے، کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرنے والا ہے اور نہ کسی شخص کو یہ خبر ہے کہ کس سرزمین میں اس کی موت آنی ہے، اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے” (سید مودودی)

“خدا ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی مینہ برساتا ہے۔ اور وہی (حاملہ کے) پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے (کہ نر ہے یا مادہ) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا۔ اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں اُسے موت آئے گی بیشک خدا ہی جاننے والا (اور) خبردار ہے” (فتح محمد جالندھری)

“بے شک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے۔ کوئی (بھی) نہیں جانتا کہ کل کیا (کچھ) کرے گا؟ نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا۔ (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ ہی پورے علم والا اور صحیح خبروں والا ہے” (محمد جوگڑھی)

“بے شک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے رحموں میں کیا ہے؟ اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس سرزمین میں مرے گا۔ بے شک اللہ بڑا جاننے والا (اور) بڑا باخبر ہے” (محمد حسین نجفی)

“بیشک اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم اور اتارتا ہے مینھ اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے، اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی، بیشک اللہ جاننے والا بتانے والا ہے” (احمد رضا خان)

اسی مضمون سے ملتی جلتی ایک آیت درج ذیل ہے، اس میں بھی اہل ترجمہ کے یہاں دو طرح کے ترجمے ملتے ہیں۔ یہاں بھی حصر کا معنی دینے والی کوئی علامت عبارت کے اندر نہیں ہے۔

(۲) اللَّہُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنْثٰی وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَہٗ بِمِقْدَارٍ۔ (الرعد: 8)

“خدا ہی اس بچے سے واقف ہے جو عورت کے پیٹ میں ہوتا ہے اور پیٹ کے سکڑنے اور بڑھنے سے بھی (واقف ہے)۔ اور ہر چیز کا اس کے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے ” (فتح محمد جالندھری)

“اللہ ہی جانتا ہے کہ ہر عورت (اپنے پیٹ میں) کیا اٹھائے پھرتی ہے؟ اور اس کو بھی (جانتا ہے) جو کچھ رحموں میں کمی یا بیشی ہوتی رہتی ہے اور اس کے نزدیک ہر چیز کی ایک مقدار مقرر ہے” (محمد حسین نجفی)

“اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے” (سید مودودی)

“اللہ جانتا ہے جو کچھ کسی مادہ کے پیٹ میں ہے اور پیٹ جو کچھ گھٹتے بڑھتے ہیں اور ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے” (احمد رضا خان)

“مادہ اپنے شکم میں جو کچھ رکھتی ہے اسے اللہ بخوبی جانتا ہے اور پیٹ کا گھٹنا بڑھنا بھی، ہر چیز اس کے پاس اندازے سے ہے” (محمد جوناگڑھی)


قرآن / علوم قرآن