اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۴)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۷۴) امداد کا ترجمہ

عربی میں لفظ ’امداد‘ کا مطلب مدد بہم پہونچانا بھی ہوتا ہے، اور محض عطا ونوازش کے لیے بھی لفظ ’امداد‘ آتا ہے۔

فیروزآبادی لکھتا ہے:

والاِمْدادُ: تأخیرُ الأجَلِ، وأَن تَنْصُرَ الأجْنادَ بِجَماعَۃٍ غیرَکَ، والاِعْطاءُ، والاِغاثَۃُ.۔ (القاموس المحیط.)

فیروزآبادی کی اس بات پر یہ اضافہ مناسب ہوگا کہ تطویل وتوسیع کے معنی میں دراصل ’مدد‘ ثلاثی مجرد آتا ہے، اور ’امداد‘ ثلاثی مزید اس معنی میں ’فی‘ کے ساتھ آتا ہے۔ 

قرآن مجید میں یہ لفظ دونوں معنوں میں آیا ہے، موقع ومحل سے مفہوم متعین ہوتا ہے، لیکن مترجمین سے اس لفظ کے مفہوم کو متعین کرنے میں غلطی بھی ہوجاتی ہے۔

امداد بمعنی مدد پہونچانا 

لفظ ’امداد‘ کے مذکورہ ذیل تینوں استعمالات مدد پہونچانے کے معنی میں ہیں، میرے علم کی حد تک مختلف زبانوں کے تمام مترجمین نے ان کا ترجمہ مدد کرنے کا کیا ہے، اور کسی نے مدد کے علاوہ کوئی اور ترجمہ نہیں کیا ہے:

(۱) إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ أَلَن یَکْفِیْکُمْ أَن یُمِدَّکُمْ رَبُّکُم بِثَلاَثَۃِ آلاَفٍ مِّنَ الْمَلآئِکَۃِ مُنزَلِیْن۔ بَلَی إِن تَصْبِرُواْ وَتَتَّقُواْ وَیَأْتُوکُم مِّن فَوْرِہِمْ ہَذَا یُمْدِدْکُمْ رَبُّکُم بِخَمْسَۃِ آلافٍ مِّنَ الْمَلآئِکَۃِ مُسَوِّمِیْنَ۔ (آل عمران: ۱۲۴، ۱۲۵)

’’(یاد کرو) جب تم مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ کیا تمہارے لیے کافی نہیں ہے کہ تمہارا رب، تین ہزار تازہ دم اتارے ہوئے فرشتوں سے، تمہاری مدد فرمائے؟ ہاں اگر تم ثابت قدم رہو گے اور بچتے رہو گے اور وہ (دشمن) تمہارے اوپر آدھمکے، تو تمہارا رب، پانچ ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد فرمائے گا، جو اپنے خاص نشان لگائے ہوں گے‘‘(امین احسن اصلاحی)

(۲) إِذْ تَسْتَغِیْثُونَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَنِّیْ مُمِدُّکُم بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلآئِکَۃِ مُرْدِفِیْن۔ (الانفال:۹)

’’اور (یاد کرو) جبکہ تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے تو اس نے تمہاری فریاد سنی کہ میں ایک ہزار فرشتے تمھاری کمک پر بھیجنے والا ہوں جن کے پرے کے بعد پرے نمودار ہوں گے‘‘ (امین احسن اصلاحی)

امداد بمعنی عطیہ اور نوازش

مذکورہ ذیل تمام آیتوں میں امداد نوازش کے معنی میں ہے، تاہم بعض مترجمین نے ان تمام آیتوں کا اور بعض نے ان میں سے بعض آیتوں کا ترجمہ مدد پہونچانے کا کیا ہے، جو قرین صواب نہیں ہے۔

(۱) وَاتَّقُوا الَّذِیْ أَمَدَّکُم بِمَا تَعْلَمُونَ۔ أَمَدَّکُم بِأَنْعَامٍ وَبَنِیْنَ۔ (الشعراء : ۱۳۲،۱۳۳)

’’اور اس اللہ سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے تمھیں مدد پہنچائی، جن کو تم جانتے ہو، اس نے تمھاری مدد کی چوپایوں اور اولاد سے۔‘‘ (امین احسن اصلاحی، اس ترجمہ میں ایک اور غلطی یہ ہوئی کہ الذی کا ترجمہ اللہ کیا ہے، جو لفظ کے مطابق نہیں ہے، صحیح ترجمہ ہوگا: ’’اس ہستی سے ڈرو‘‘، اور چونکہ اللہ کا ذکر پہلے صراحت کے ساتھ آچکا ہے، اس لیے الذی اسی کی صفت ہے)

’’اور اس (اللہ) سے ڈرو جس نے تمہاری ان چیزوں سے امداد کی جن کو تم جانتے ہو، (یعنی) مواشی اور بیٹوں اور باغوں اور چشموں سے تمہاری امداد کی‘‘ (اشرف علی تھانوی) (وجنات وعیون کا بھی ترجمہ شامل ہے۔)

مذکورہ بالا دونوں ترجموں کے مقابلے میں ذیل کے ترجمے درست ہیں،

’’اور ڈرو اس سے جس نے تم کو پہنچایا ہے جو کچھ جانتے ہو، پہنچائے تم کو چوپائے اور بیٹے۔‘‘ (شاہ عبدالقادر)

’’ڈرو اُس سے جس نے وہ کچھ تمہیں دیا ہے جو تم جانتے ہو۔ تمہیں جانور دیے، اولادیں دیں۔‘‘(سید مودودی)

Freely has He bestowed on you cattle and sons,-(Yousuf Ali)

مذکورہ بالا ترجموں میں (اتقوا) کا ترجمہ ’’ڈرو‘‘ کیا گیا ہے، مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ اصل مادہ اور کلام کے موقع ومحل کے لحاظ سے صحیح ترجمہ ڈرو نہیں ہے، بلکہ ’’ناراضگی اور نافرمانی سے بچنے کی کوشش کرو‘‘ ہے۔ 

(۲) ثُمَّ رَدَدْنَا لَکُمُ الْکَرَّۃَ عَلَیْْہِمْ وَأَمْدَدْنَاکُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِیْنَ وَجَعَلْنَاکُمْ أَکْثَرَ نَفِیْراً۔ (الاسراء :۶)

’’پھر ہم نے تمھاری باری ان پر لوٹائی اور تمھاری مال اور اولاد سے مدد کی۔‘‘ (امین احسن اصلاحی)

’’پھر ہم ان پر تمہارا غلبہ کردیں گے، اور مال اور بیٹوں سے ہم تمھاری امداد کریں گے۔‘‘ (اشرف علی تھانوی)

مذکورہ بالا دونوں ترجموں کے مقابلے میں ذیل کا ترجمہ درست ہے،

’’پھر ہم نے پھیری تمہاری باری ان پر اور زور دیا تم کو مالوں سے اور بیٹوں سے‘‘ (شاہ عبدالقادر)

مذکورہ تینوں ترجموں میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک میں’ رددنا‘ کا ترجمہ مستقبل کا کیا گیا ہے، جبکہ دیگر دونوں ترجمے ماضی کے ہیں، مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہاں ’رددنا‘ کا مستقبل کا ترجمہ زیادہ قرین صواب ہے، گو کہ فعل ماضی ہے مضارع نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ (رددنا) گذشتہ آیت میں وارد (بعثنا) پر عطف ہے، جو ’اذا‘ کے تحت آیا ہے، ’اذا‘ کی خاصیت یہ ہے کہ وہ حال اور مستقبل کے لیے آتا ہے، جبکہ ’لما ‘ماضی کے لیے آتا ہے، مزید یہ کہ سیاق کلام کے لحاظ سے یہ وعدے کا بیان ہے جیسا کہ کان وعدا مفعولا بتا رہا ہے، نہ کہ وعدہ پورا ہونے کا بیان ہے کہ ماضی کا ترجمہ کیا جائے۔ 

(۳) أَیَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّہُم بِہِ مِن مَّالٍ وَبَنِیْنَ۔ (المومنون:۵۵)

’’کیا گمان کرتے ہیں یہ کہ جو کچھ مدد دیتے ہیں ہم ان کو ساتھ اس کے مال سے اور بیٹوں سے۔‘‘ (شاہ رفیع الدین) 

’’کیا یہ خیال کررہے ہیں کہ وہ جو ہم ان کی مدد کررہے ہیں مال اور بیٹوں سے‘‘ (احمد رضا خان)

’’کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو انہیں مال و اولاد سے مدد دیے جا رہے ہیں‘‘ (سید مودودی)

’’کیا یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم جو دنیا میں ان کو مال اور بیٹوں سے مدد دیتے ہیں‘‘ (جالندھری)

مذکورہ بالا ترجموں کے مقابلے میں ذیل کے ترجمے زیادہ صحیح ہیں، کیونکہ سیاق کلام مدد دینے کا نہیں بلکہ مال اور بیٹوں سے نوازنے کا ہے۔

’’کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو ان کے مال واولاد میں اضافہ کررہے ہیں۔‘‘ (امین احسن اصلاحی)

’’کیا خیال رکھتے ہیں یہ جو ہم ان کو دیے جاتے ہیں مال اور اولاد‘‘ (شاہ عبدالقادر)

’’کیا یہ لوگ یوں گمان کررہے ہیں کہ ہم ان کو جو کچھ مال اولاد دیتے چلے جاتے ہیں‘‘(اشرف علی تھانوی)

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ مذکورہ بالا تینوں آیتوں کے ترجموں میں بعض لوگوں نے بنین کا ترجمہ اولاد کیا ہے جو درست نہیں ہے، بنین کا درست ترجمہ بیٹوں ہے۔ اولاد بیٹے اور بیٹی دونوں کے لیے آتا ہے، جبکہ ابن بیٹے کے لیے آتا ہے جس کے پانے پر عرب خوش ہوتے تھے، جبکہ بیٹی کو عار خیال کرتے تھے۔ 

(۴) فَلَمَّا جَاء سُلَیْْمَانَ قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ۔ (النمل: ۳۶)

’’تو جب سفیر سلیمان کے پاس پہنچا، اس نے کہا کیا تم لوگ میری مدد مال سے کرنا چاہتے ہو؟‘‘ (امین احسن اصلاحی)

’’جب وہ (ملکہ کا سفیر) سلیمان کے ہاں پہنچا تو اس نے کہا:کیا تم لوگ مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو؟‘‘(سید مودودی)

آیت مذکورہ میں ملکہ کا قول انی مرسلۃ الیہم بھدیۃ مذکور ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ملکہ کا سفیر ہدایا لے کر پہونچا تھا، نہ کہ کوئی مدد لے کر گیا تھا، اس لیے سیاق عطیہ اور تحفے کا ہے، مدد کا نہیں ہے۔

مذکورہ بالا اردو ترجموں کے بالمقابل انگریزی کے حسب ذیل دونوں ترجمے درست ہیں:

Then when he came unto Sulaiman, he said: are ye going to add riches to me. (Daryabdi)
So when [the envoy] came to Solomon he said, "What! Are you offering me wealth? (Wahiduddin Khan)

(۵) کُلاًّ نُّمِدُّ ہَؤُلاء وَہَؤُلاء مِنْ عَطَاء رَبِّکَ وَمَا کَانَ عَطَاء رَبِّکَ مَحْظُوراً۔ (الاسراء :۲۰)

’’ہم تیرے پروردگار کی بخشش سے ہر ایک کی مدد کرتے ہیں، ان کی بھی اور ان کی بھی، اور تیرے رب کی بخشش کسی پر بند نہیں‘‘ (امین احسن اصلاحی)

’’آپ کے رب کی (اس) عطا (دنیوی) میں سے تو ہم ان کی بھی امداد کرتے ہیں اور ان کی بھی‘‘ (اشرف علی تھانوی)

آیت میں عطاء ربک کا صاف ذکر ہے ، اس لیے مذکورہ بالا دونوں ترجموں کے مقابلے میں ذیل کے ترجمے درست ہیں:

’’ہر ایک کو ہم پہنچائے جاتے ہیں ان کو اور ان کو تیرے رب کی بخشش میں سے‘‘(شاہ عبدالقادر)

’’اِن کو بھی اور اُن کو بھی، دونوں فریقوں کو ہم (دنیا میں) سامان زیست دیے جا رہے ہیں، یہ تیرے رب کا عطیہ ہے، اور تیرے رب کی عطا کو روکنے والا کوئی نہیں ہے‘‘(سید مودودی)

(۶) وَأَمْدَدْنَاہُم بِفَاکِہَۃٍ وَلَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَہُونَ۔ (الطور: ۲۲)

’’اور مدد دیں گے ہم ان کو ساتھ میووں کے اور گوشت کے اس چیز سے کہ چاہتے ہیں‘‘(شاہ رفیع الدین)

’’اور ہم نے ان کی مدد فرمائی میوے اور گوشت سے جو چاہیں‘‘ (احمد رضا خان) 

’’اور ہم ان کی پسند کے میوے اور گوشت ان کو برابر دیتے رہیں گے‘‘ (امین احسن اصلاحی)

’’اور ہم ان کو میوے اور گوشت جس قسم کا ان کو مرغوب ہو روز افزوں دیتے رہیں گے‘‘(اشرف علی تھانوی)

’’اور جس طرح کے میوے اور گوشت کو ان کا جی چاہے گا ہم ان کو عطا کریں گے‘‘(جالندھری)

اس مقام پر تو امداد کے لیے نوازش کا معنی بالکل یقینی ہے، کیونکہ جنت کی ساری نعمتیں دراصل اللہ کی نوازش اور عطیہ بتائی گئی ہیں، ان کی نوعیت امداد والی قرار نہیں پاتی۔ اور یہاں تو جنت کے پھلوں اور گوشت کا ذکر ہے، سیاق واضح طور سے نوازش کا ہے امداد کا نہیں ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ فتح محمد جالندھری جو ایسے ہر مقام پر مدد کا ترجمہ کرتے ہیں، اس مقام پر عطا کرنے کا ترجمہ کرتے ہیں، وہیں ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ بعض مترجمین نے بشمول اس مقام کے ہر جگہ اس کا التزام کیا ہے کہ جہاں بھی امداد کا لفظ آتا ہے وہ مدد پہنچانا یا مدد کرنا ترجمہ کرتے ہیں۔ شاہ رفیع الدین اور احمد رضا خان کے ترجموں میں ہم کو یہی التزام نظر آتا ہے۔ جبکہ شاہ عبدالقادر کے ترجمے میں ہمیں مدد اور نوازش کے درمیان فرق کی بہت خوب رعایت ملتی ہے۔ اشرف علی تھانوی، سید مودودی اور امین احسن اصلاحی کے یہاں ہم کو اس فرق کی با ضابطہ رعایت نظر نہیں آتی، چنانچہ شروع کے تین مقامات جن میں مال اور بنین سے نوازنے کا ذکر ہے،وہاں یہ تینوں بزرگ کبھی نوازش کا ترجمہ کرتے ہیں اور کبھی مدد کا، حالانکہ ان تینوں مقامات میں موقع کلام نوازش کا ہے نہ کہ مدد دینے کا۔ 

(جاری)

قرآن / علوم قرآن

(جنوری ۲۰۱۶ء)

جنوری ۲۰۱۶ء

جلد ۲۷ ۔ شمارہ ۱

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کی ادارتی ذمہ داریوں کی منتقلی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بھارتی وزیر اعظم کا دورۂ پاکستان
محمد عمار خان ناصر

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۴)
ڈاکٹر محی الدین غازی

اسلام اور سائنس کا باہمی تعلق
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’اسلام اور سائنس کا باہمی تعلق‘‘
محمد زاہد صدیق مغل

بیل ۔ سینگوں کے بغیر؟
خورشید احمد ندیم

جدید علم الکلام
مولانا مفتی منیب الرحمن

بین المذاہب مکالمہ کی ایک نشست کے سوال و جواب
محمد عمار خان ناصر

حسینہ واجد کی انتقامی سیاست
محمد اظہار الحق

رفیق احمد باجوہ ۔ ایک بھولا بسرا کردار
محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ

پروانہ جمعیت صوفی خدا بخش چوہانؒ
ابو محمد سلیم اللہ چوہان سندھی

سود، کرایہ و افراط زر: غلط سوال کے غلط جواب کا درست جواب
محمد زاہد صدیق مغل

سید احمد شہید کی تحریک اور تحریک طالبان کا تقابلی جائزہ
مولانا محمد انس حسان

ممتاز قادری کی سزا ۔ ڈاکٹر شہباز منج کے خیالات پر ایک نظر
مولانا قاضی نثار احمد

مکاتیب
ادارہ

ایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان : بین المذاہب اور بین المسالک تناظرات کی نئی تشکیل
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

سانحہ ہائے ارتحال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک سفر کی روداد
محمد بلال فاروقی

Flag Counter