اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۹)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۳۲) بل قالوا کا ترجمہ

بَلْ قَالُواْ أَضْغَاثُ أَحْلاَمٍ بَلِ افْتَرَاہُ بَلْ ہُوَ شَاعِرٌ فَلْیَأْتِنَا بِآیَۃٍ کَمَا أُرْسِلَ الأَوَّلُون۔ (الانبیاء: 5)

اس آیت میں بَلْ کے بعد قَالُواْ آیا ہے، الفاظ کی ترتیب کے لحاظ سے ترجمہ ہوگا: بلکہ انہوں نے کہا۔

عام طور سے مترجمین نے یہی ترجمہ کیا ہے، لیکن ایک ترجمہ اس سے مختلف بھی ملتا ہے،مثالیں ملاحظہ ہوں:

’’اتنا ہی نہیں بلکہ یہ تو کہتے ہیں کہ یہ قرآن پراگندہ خوابوں کا مجموعہ ہے بلکہ اس نے از خود اسے گھڑ لیا ہے بلکہ یہ شاعر ہے، ورنہ ہمارے سامنے یہ کوئی ایسی نشانی لاتے جیسے کہ اگلے پیغمبر بھیجے گئے تھے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

’’بلکہ (ظالم) کہنے لگے کہ (یہ قرآن) پریشان (باتیں ہیں جو) خواب (میں دیکھ لی) ہیں۔ (نہیں) بلکہ اس نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے (نہیں) بلکہ (یہ شعر ہے جو اس) شاعر (کا نتیجہ طبع) ہے۔ تو جیسے پہلے (پیغمبر نشانیاں دے کر) بھیجے گئے تھے (اسی طرح) یہ بھی ہمارے پاس کوئی نشانی لائے‘‘۔ (فتح محمدجالندھری)

وہ کہتے ہیں ’’بلکہ یہ پراگندہ خواب ہیں، بلکہ یہ اِس کی مَن گھڑت ہے، بلکہ یہ شخص شاعر ہے ورنہ یہ لائے کوئی نشانی جس طرح پرانے زمانے کے رسول نشانیوں کے ساتھ بھیجے گئے تھے‘‘۔(سید مودودی)

آخری ترجمہ محل نظر ہے، اگر اس طرح ہوتا کہ قالوا بل اضغاث احلام تب تو یہ ترجمہ درست ہوتا، لیکن آیت میں بل قالوا اضغاث احلام ہے، تفاسیر میں اس طرح کا قول ذکر کیا گیا ہے لیکن محققین نے اسے کمزور قرار دیا ہے۔

امام آلوسی لکھتے ہیں:

وجوز أن تکون الأولی من کلامھم وھی ابطالیۃ أیضا متعلقۃ بقولھم ھو سحر المدلول علیہ بأفتأتون السحر، ورد بأنہ انما یصح لو کان النظم الکریم قالوا بل الخ لیفید حکایۃ اضرابھم، وکونہ من القلب وأصلہ قالوا بل لا یخفی ما فیہ، وقد أجیب أیضا بأنہ اضراب فی قولھم المحکی بالقول المقدر قبل قولہ تعالی: ھَلْ ھذا الخ أو الذی تضمنہ النجوی وأعید القول للفاصل أو لکونہ غیر مصرح بہ ولا یخفی ما فیہ أیضا. (روح المعانی.)

قرآن میں کچھ دوسرے مقامات پر بھی یہ الفاظ آئے ہیں، وہاں سب نے ترتیب کے مطابق ترجمہ کیا ہے، جیسے:

بَلْ قَالُوا مِثْلَ مَا قَالَ الْأَوَّلُون۔ (المومنون: 81)

مگر یہ لوگ وہی کچھ کہتے ہیں جو ان کے پیش رَو کہہ چکے ہیں (سید مودودی)

بَلْ قَالُوا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَی أُمَّۃٍ وَإِنَّا عَلَی آثَارِہِم مُّہْتَدُون۔ (الزخرف: 22)

نہیں، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم اُنہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ (سید مودودی)

(۱۳۳) إِنَّ ہَذِہِ أُمَّتُکُمْ أُمَّۃً وَاحِدَۃً کا ترجمہ

یہ جملہ قرآن مجید میں دو مقامات پر آیا ہے، اور اس کے دو طرح کے ترجمے ملتے ہیں، مثالیں ملاحظہ ہوں:

إِنَّ ہَذِہِ أُمَّتُکُمْ أُمَّۃً وَاحِدَۃً وَأَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُون۔ (الانبیاء: 92)

یہ تمہاری امت حقیقت میں ایک ہی امّت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس تم میری عبادت کرو۔ (سید مودودی)

بیشک تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے اور میں تمہارا رب ہوں تو میری عبادت کرو۔ (احمد رضا خان)

یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو میری ہی عبادت کیا کرو۔ (فتح محمدجالندھری)

مذکورہ بالا ترجمے عربی ترکیب کے لحاظ سے محل نظر ہیں، جبکہ ذیل کے ترجمے عربی قاعدے کے مطابق ہیں:

یہ لوگ ہیں تمہارے دین کے سب ایک دین پر اور میں ہوں رب تمہارا سو میری بندگی کرو۔ (شاہ عبدالقادر)

یہ ہے امت تمہاری امت ایک اور میں ہوں پروردگار تمہارا پس عبادت کرو میری۔ (شاہ رفیع الدین)

یہ تمہاری امت ہے جو حقیقت میں ایک ہی امت ہے، اور میں تم سب کا پروردگار ہوں پس تم میری ہی عبادت کرو۔(محمدجوناگڑھی)

یہ لوگ تمہارے گروہ کے ہیں جو ایک ہی گروہ ہے اور میں تمہارا رب ہوں پھر میری ہی عبادت کرو۔(احمد علی)

وَإِنَّ ہَذِہِ أُمَّتُکُمْ أُمَّۃً وَاحِدَۃً وَأَنَا رَبُّکُمْ فَاتَّقُون۔ (المومنون: 52)

اور تحقیق یہ امت تمہاری امت ایک ہے اور میں ہوں پروردگار تمہارا پس ڈرو مجھ سے۔ (شاہ رفیع الدین)

اور یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس مجھی سے تم ڈرو۔(سید مودودی)

اور بیشک یہ تمہارا دین ایک ہی دین ہے اور میں تمہارا رب ہوں تو مجھ سے ڈرو۔(احمد رضا خان)

مذکورہ بالا ترجمے عربی ترکیب کے لحاظ سے محل نظر ہیں، جبکہ ذیل کا ترجمہ عربی قاعدے کے مطابق ہیں:

اور یہ لوگ ہیں تمہارے دین کے سب ایک دین پر اور میں ہوں تمہارا رب سو مجھ سے ڈرتے رہو۔ (شاہ عبدالقادر)

زیر نظر جملے میں ھذہ، ان کا اسم ہے اور امتکم خبر ہے، اس کے بعد امۃ واحدۃ حال ہے۔

علامہ ابن عاشور کے الفاظ ہیں: 

وَ (اُمَّۃً واحِدَۃً) حَالٌ مِنْ اُمَّتکُمْ مُؤَکِّدَۃٌ لِمَا اَفَادَتہْ الاِشَارَۃُ الَّتی ھی الْعَامِلُ فی صَاحِبِ الحَالِ. (التحریر والتنویر)

علامہ آلوسی لکھتے ہیں: 

وقولہ تعالی: اُمَّۃً واحِدَۃً نصب علی الحال من اُمَّۃً. ( روح المعانی)

جملے کی اس ترکیب کے لحاظ سے ترجمہ یوں ہوگا: بے شک یہ تمہاری امت ہے، ایک امت۔

لیکن بہت سے لوگوں نے ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ بے شک تمہاری یہ امت ایک امت ہے۔ یہ ترجمہ اس وقت درست ہوتا جبکہ ھذہ امتکم ان کا اسم ہو اور امۃ واحدۃ خبر ہو۔ جبکہ ایسا نہیں ہے امۃ واحدۃ منصوب ہے، وہ ان کی خبر نہیں بن سکتا ہے۔

ترجمہ کے اس فرق کا اثر یقیناً مفہوم پر بھی پڑتا ہے، نحوی ترکیب کے لحاظ سے جو درست ترجمہ ہے اس میں یہ خبر دی گئی ہے کہ جس امت یا طریقہ کا تذکرہ ہوا ہے وہی تمہاری امت یا تمہارا طریقہ ہے، پھر مزید یہ وضاحت بھی کردی گئی کہ وہ ایک ہی امت یا طریقہ ہے۔ جبکہ دوسرے ترجمہ کے لحاظ سے امت کے بارے میں یہ خبر دی گئی ہے کہ وہ ایک امت ہے، بلاشبہ پہلے ترجمہ میں جو معنویت ہے وہ دوسرے ترجمہ میں نہیں آتی ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ جب الفاظ اور قواعد کی پابندی کے ساتھ ترجمہ کیا جائے تبھی عبارت کا حقیقی مفہوم سامنے آتا ہے، ورنہ کچھ نہ کچھ کسر رہ جاتی ہے۔

(۱۳۴) وزع اور أوزع میں فرق

عربی لغات کے مطابق وزع کے معنی روکنے کے ہیں، اور أوزع کے معنی ترغیب دینے کے ہیں، فیروزابادی لکھتے ہیں:

وزَعتُہ، کوَضَعَ: کفَفتُہ، فاتَّزَعَ ھو: کَفَّ. وأوزَعَہُ بالشیءِ: أغراہُ۔ القاموس المحیط

والوازِعُ: الکَلبُ، والزاجِرُ، ومَن یُدَبِّرُ أُمورَ الجَیشِ، ویَرُدُّ مَن شَذَّ منھم۔ القاموس المحیط 

قرآن مجید میں دو مقامات پر أوزعنی آیا ہے، جو أوزع سے فعل امر ہے، اور اس کا ترجمہ مترجمین نے عام طور سے توفیق دینا کیا ہے، البتہ کچھ ترجموں میں اس سے ہٹ کر ترجمہ کیا گیا ہے۔

(۱) فَتَبَسَّمَ ضَاحِکاً مِّن قَوْلِہَا وَقَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِیْ أَنْ أَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْ أَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلَی وَالِدَیَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحاً تَرْضَاہُ۔ (النمل:۱۹)

’’تو وہ اس کی بات سن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ اے پروردگار! مجھے توفیق عطا فرما کہ جو احسان تونے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ان کا شکر کروں اور ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہوجائے‘‘ (فتح محمدجالندھری)

’’سلیمانؑ اس کی بات پر مسکراتے ہوئے ہنس پڑا اور بولا ’’اے میرے رب، مجھے قابو میں رکھ کہ میں تیرے اس احسان کا شکر ادا کرتا رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے اور ایسا عمل صالح کروں جو تجھے پسند آئے‘‘ (سید مودودی)

’’پس وہ اس کی بات سے خوش ہوکر مسکرایا اور دعا کی اے میرے رب مجھے سنبھالے رکھ کہ میں بھی اس فضل کا شکر گزار رہوں جو تونے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر فرمایا اور میں ایسے نیک کام کروں جو تجھے پسند ہوں‘‘ (امین احسن اصلاحی)

(۲) حَتَّی إِذَا بَلَغَ أَشُدَّہُ وَبَلَغَ أَرْبَعِیْنَ سَنَۃً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِیْ أَنْ أَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْ أَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلَی وَالِدَیَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحاً تَرْضَاہ۔ (احقاف:۱۵)

’’یہاں تک کہ جب خوب جوان ہوتا ہے اور چالیس برس کو پہنچ جاتا ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار مجھے توفیق دے کہ تو نے جو احسان مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ان کا شکر گزار ہوں اور یہ کہ نیک عمل کروں جن کو تو پسند کرے‘‘ (فتح محمد جالندھری)

’’یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری طاقت کو پہنچا اور چالیس سال کا ہو گیا تو اس نے کہا’’اے میرے رب، مجھے توفیق دے کہ میں تیری اُن نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائیں، اور ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو‘‘(سید مودودی، یہاں ماضی کا ترجمہ مناسب نہیں ہے، چونکہ اذا آیا ہے اس لئے حال کا ترجمہ مناسب ہے جیسا کہ دیگر مترجمین نے کیا ہے)

’’یہاں تک کہ جب وہ پہنچ جاتا ہے اپنی پختگی کو اور پہنچ جاتا ہے چالیس سال کی عمر کو، وہ دعا کرتا ہے اے رب مجھے سنبھال کہ میں تیرے اس فضل کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر فرمایا اور وہ نیک عمل کروں جو تجھے پسند ہیں‘‘ (امین احسن اصلاحی)

صاحب تدبر نے دونوں مقامات پر ’’مجھے سنبھال‘‘ ترجمہ کیا ہے، جبکہ صاحب تفہیم نے پہلے مقام پر ’’مجھے قابو میں رکھ‘‘ اور دوسرے مقام پر عام ترجمے کے مطابق ’’مجھے توفیق دے‘‘ ترجمہ کیا ہے، دونوں حضرات کی تشریحات سے لگتا ہے کہ انہوں نے أوزع کے بجائے وزع کے معنی کو ملحوظ رکھا ہے۔ جبکہ أوزع باب افعال سے ہے، اور اس میں سلب ماخذ کا مفہوم ہے، یعنی ایزاع کا معنی وزع کے برعکس ہے، وزع کے معنی روکنے کے ہیں تو أوزع کے معنی رکاوٹ دور کرنے اور آگے بڑھنے کی ترغیب دینے کے ہیں۔غرض یہ کہ دونوں مقامات پر قابو میں رکھنے اور سنبھالنے کے بجائے توفیق دینے کا ترجمہ درست ہوگا۔معنوی لحاظ سے بھی شکر ادا کرنے کے لئے قابو میں رکھنا کہنے کی مناسبت ظاہر نہیں ہوتی ہے۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی یہاں (ترضاہ) کے ترجمہ کے حوالے سے ایک نکتہ کی طرف توجہ دلاتے ہیں وہ یہ کہ خوش ہونا اور راضی ہونا عمل کرنے والے سے متعلق ہوتا ہے، جب کہ پسند آنا یہ پسند ہونا یا پسند کرنا خود عمل سے متعلق ہوتا ہے، یہاں چونکہ عمل کے حوالے سے بات آئی ہے اور ضمیر عمل کی طرف لوٹ رہی ہے اس لئے پسند آنا یہ پسند ہونا یا پسند کرنامناسب ترجمہ ہے۔

(جاری)

قرآن / علوم قرآن

(فروری ۲۰۱۸ء)

Flag Counter