اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۵۲)

ڈاکٹر محی الدین غازی

استکبر عن“ کا ترجمہ

لفظ استکبر کا اصل استعمال عن کے بغیر ہوتا ہے، اس کے ساتھ عن آنے سے اعراض کے مفہوم کا اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس طرح دو مفہوم جمع ہوجاتے ہیں، ایک تکبر کرنا اور دوسرا اعراض کرنا۔ تکبر کرنے اور اعراض کرنے میں باہمی تعلق یہ ہے کہ تکبر کرنے کی وجہ سے انسان کسی چیز سے اعراض کرتا ہے، یعنی تکبر اعراض کا سبب ہوتا ہے۔ غرض استکبر عن کا مکمل ترجمہ وہ ہے جس میں یہ دونوں مفہوم ادا ہورہے ہوں۔اس کی روشنی میں جب ہم درج ذیل آیتوں کے ترجموں کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر ترجمے اس لفظ کا مکمل مفہوم ادا نہیں کررہے ہیں۔

(۱) وَکُنتُم عَن آیَاتِہِ تَستَکبِرُون۔ (الانعام: 93)

“ اور اُس کی آیات کے مقابلہ میں سرکشی دکھاتے تھے” (سید مودودی)

“اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے ” (احمد رضا خان)

“اور اس کی آیتوں سے سرکشی کرتے تھے” (فتح محمد جالندھری)

“اور تم اللہ تعالیٰ کی آیات سے تکبر کرتے تھے” (محمد جوناگڑھی)

“اور تم متکبرانہ اس کی آیات سے اعراض کرتے تھے” (امین احسن اصلاحی)

صرف آخری ترجمہ میں زیر نظر لفظ کامکمل ترجمہ کیا گیا۔

(۲) وَالَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا وَاستَکبَرُوا عَنہَا اولَئِکَ اَصحَابُ النَّار۔ (الاعراف: 36)

“اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلائیں گے اور ان کے مقابلہ میں سرکشی برتیں گے وہی اہل دوزخ ہوں گے” (سید مودودی)

“اور جو لوگ ہمارے ان احکام کو جھٹلائیں اور ان سے تکبر کریں وہ لوگ دوزخ والے ہوں گے” (محمد جوناگڑھی)

“اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان کے مقابل تکبر کیا وہ دوزخی ہیں” (احمد رضا خاں)

“اور جو میری آیات کو جھٹلائیں گے اور تکبر کرکے ان سے اعراض کریں گے وہی دوزخ والے ہیں” (امین احسن اصلاحی)

صرف آخری ترجمہ میں استکبروا عنھا کا مکمل ترجمہ کیا گیا۔

ایک توجہ طلب امر یہ بھی ہے کہ آیت مذکورہ کے آخر حصے کا جن لوگوں نے ترجمہ“وہی دوزخ والے ”کیا ہے، درست نہیں کیا ہے، کیوں کہ یہاں اس حصر کے لئے کوئی علامت نہیں ہے، صحیح ترجمہ ووہ دوزخ والے ”ہے۔

(۳) اِنَّ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا وَاستَکبَرُوا عَنہَا لاَ تُفَتَّحُ لَہُم اَبوَابُ السَّمَاء۔ (الاعراف: 40)

“وہ جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان کے مقابل تکبر کیا ان کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے” (احمد رضا خاں)

“یقین جانو، جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور ان کے مقابلہ میں سرکشی کی ہے ان کے لیے آسمان کے دروازے ہرگز نہ کھولے جائیں گے” (سید مودودی)

“جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی۔ ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے” (فتح محمد جالندھری)

“جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا ان کے لئے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے” (محمد جوناگڑھی)

“بے شک جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور تکبر کر کے ان سے منھ موڑا ان کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے” (امین احسن اصلاحی)

صرف آخری ترجمہ میں استکبروا عنھا کا مکمل ترجمہ کیا گیا۔

(۴)  ِانَّ الَّذِینَ عِندَ رَبِّکَ لاَ یَستَکبِرُونَ عَن عِبَادَتِہ۔ (الاعراف: 206)

“بیشک وہ جو تیرے رب کے پاس ہیں اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے” (احمد رضا خان)

“جو لوگ تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے گردن کشی نہیں کرتے” (فتح محمد جالندھری)

“یقیناً جو تیرے رب کے نزدیک ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے” (محمد جوناگڑھی)

“بے شک جو تیرے رب کے پاس ہیں وہ اس کی بندگی کرنے سے نہیں اکڑتے” (امین احسن اصلاحی)

“جو فرشتے تمہارے رب کے حضور تقرب کا مقام رکھتے ہیں وہ کبھی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں آ کر اس کی عبادت سے منہ نہیں موڑتے” (سید مودودی)

آخر الذکر ترجمہ میں زیر نظرلفظ کا مکمل ترجمہ کیا گیا۔

(۵) وَمَن عِندَہُ لَا یَستَکبِرُونَ عَن عِبَادَتِہِ وَلَا یَستَحسِرُون۔ (الانبیاء: 19)

“اور جو اس کے نزدیک رہتے ہیں بڑائی نہیں کرتے اس کی عبادت سے، اور نہیں کرتے کاہلی” (شاہ عبدالقادر)

“اور اس کے پاس والے اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور نہ تھکیں” (احمد رضا خان)

“اور جو (فرشتے) اُس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے نہ کنیاتے ہیں اور نہ اکتاتے ہیں” (فتح محمد جالندھری)

“اور جو اس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے نہ سرکشی کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں” (محمد جوناگڑھی)

“اور جو اس کے پاس ہیں۔ وہ اس کی بندگی سے نہ سرتابی کرتے اور نہ تھکتے” (امین احسن اصلاحی)

“اور جو (فرشتے) اس کے پاس ہیں وہ نہ اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر اس کی بندگی سے سرتابی کرتے ہیں اور نہ ملول ہوتے ہیں” (سید مودودی)

“اور جو اس کے پاس ہیں وہ نہ تو اپنے کو بڑا سمجھ کر اس کی عبادت سے منھ موڑتے ہیں ، اور نہ وہ تھکتے ہیں” (محمد فاروق خاں)

صرف آخر الذکر دو ترجموں میں زیر نظرلفظ کا مکمل ترجمہ کیا گیا۔

اس آیت کے آخر میں ولا یستحسرون آیا ہے- استحسار کا ترجمہ کچھ لوگوں نے تھکنا کیا ہے اور کچھ لوگوں نے اکتانا کیاہے، شاہ عبدالقادر نے ترجمہ کیا ہے: “اور نہیں کرتے کاہلی” ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی اس کا ترجمہ تجویز کرتے ہیں: “وہ سست یا ڈھیلے نہیں پڑتے”

(۶) ِانَّ الَّذِینَ یَستَکبِرُونَ عَن عِبَادَتِی سَیَدخُلُونَ جَہَنَّمَ دَاخِرِینَ۔ (غافر: 60)

“بیشک وہ جو میری عبادت سے اونچے کھینچتے (تکبر کرتے) ہیں عنقریب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہوکر”  (احمد رضا خان)

“یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وہ ابھی ابھی ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے” (محمد جوناگڑھی)

“جو لوگ میری بندگی سے سرتابی کررہے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں پڑیں گے”  (امین احسن اصلاحی)

“جو لوگ میری عبادت سے ازراہ تکبر کنیاتے ہیں۔ عنقریب جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے”  (فتح محمد جالندھری، صرف اس ایک مقام پر اس طرح لفظ کی مکمل رعایت کے ساتھ ترجمہ کیا ہے)

“جو لوگ گھمنڈ میں آ کر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں، ضرور وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے”  (سید مودودی)

صرف آخر الذکر دونوں ترجموں میں زیر نظرلفظ کا مکمل ترجمہ کیا گیا۔

اس آیت کے آخر میں داخرین آیا ہے جو ترکیب نحوی کے لحاظ سے حال ہے، اور اس کا ترجمہ عام طور سے ذلیل ہوکرکیا گیا ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہ وہ حال ہے جو فعل کی انجام دہی کے وقت نہیں بلکہ فعل کی انجام دہی کے بعد والے زمانے میں واقع ہوتا ہے، ۔اس کے مطابق ترجمہ ہوگا: “جہنم میں داخل ہوکر ذلیل وخوار ہورہے ہوں گے” ۔ قرآن مجید میں اس طرح کے حال کی متعدد مثالیں ہیں: جیسے: ولوا الی قومھم منذرین کا صحیح ترجمہ ہے“وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ کر انذار کرنے لگے” 

 ”استکبر عن“ کے سلسلے میں قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ تین مرتبہ یہ تعبیر آیات کے سلسلے میں آئی ہے، اور تین ہی مرتبہ یہ تعبیر عبادت کے سلسلے میں آئی ہے۔ اس کے ساتھ دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں  آیات کے سلسلے میں آیا ہے، وہاں صاحب تدبر نے ترجمہ کرتے ہوئے لفظ کی مکمل رعایت کی ہے، اور جہاں  ”استکبر عن“ عبادت کے سلسلے میں آیا ہے وہاں صاحب تفہیم نے ترجمہ کرتے ہوئے لفظ کی مکمل رعایت کی ہے۔

مذکورہ بالا تمام ترجموں میں دو حضرات (فتح محمد جالندھری، محمد فاروق خاں) نے صرف ایک ایک بار لفظ مذکور کا مکمل ترجمہ کیا، باقی پانچ مقامات پر انہوں نے بھی عام مترجمین کی راہ اپنائی۔

ماکنتم تستکبرون“ کا ترجمہ

قرآن مجید میں لفظ استکبار مختلف صیغوں کے ساتھ متعدد مقامات آیا ہے۔ اس کا ترجمہ ہر جگہ سب لوگوں نے گھمنڈ اور تکبر کیا ہے، صرف درج ذیل ایک مقام پر اس کا ترجمہ صاحب تفہیم نے عام لوگوں سے مختلف کردیا ہے:

مَا اَغنَی عَنکُم جَمعُکُم وَمَا کُنتُم تَستَکبِرُون۔ (الاعراف: 48)

“آج نہ تمہارے جتھے تمہارے کسی کام آئے اور نہ وہ ساز و سامان جن کو تم بڑی چیز سمجھتے تھے” (سید مودودی)

اس ترجمہ میں ما کو مصدریہ ماننے کے بجائے موصولہ مانا گیا ہے۔ استکبر کا مفہوم تکبر کرنے کے بجائے بڑا سمجھنا لیا گیا ہے۔ لغت کے لحاظ سے اس ترجمہ کی گنجائش موجود ہے، بعض عربی تفسیروں میں بھی اس سے ملتی جلتی بات ملتی ہے۔ تاہم قرآن مجید میں اس مفہوم میں یہ لفظ کہیں اور استعمال نہیں ہوا ہے۔ اس لیے موزوں ترجمہ وہی لگتا ہے جو عام طور سے کیا گیا ہے، جیسے: 

“تمہیں کیا کام آیا تمہارا جتھا اور وہ جو تم غرور کرتے تھے ” (احمد رضا خان)

شاہ عبدالقادر کا ترجمہ ہے: “کیا کام آیا تم کو جمع کرنا اور جو تم تکبر کرتے تھے ” اس ترجمے میں جمعکم کا ترجمہ جمع کرنا کیا ہے۔ تفاسیر میں یہ مفہوم بھی ملتا ہے، گوکہ شاہ عبدالقادر کے بعد عام طورسے اس ترجمہ کو اختیار نہیں کیا گیا ہے، اور تمہاری جمعیت یا اس جیسا ترجمہ کیا گیا ہے، اور یہی زیادہ مناسب لگتا ہے ۔

رعد کا ترجمہ

رعد کا لفظ قرآن میں دو جگہ آیا ہے، موخر الذکر مقام پر تو تمام لوگوں نے اس کا ترجمہ گرج کیا ہے، لیکن اول الذکر مقام پر بعض مترجمین نے اس کا ترجمہ کڑک کردیا ہے۔ لغت کی رو سے رعد کا صحیح ترجمہ گرج ہی ہے۔ جن لوگوں نے پہلے مقام پر اس کا ترجمہ کڑک کیا ہے انہوں نے بھی دوسرے مقام پر گرج ہی کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے مقام پر ان سے لغزش ہوگئی۔ دونوں مقامات کے ترجمے ملاحظہ ہوں:

(۱) اَو کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِیہِ ظُلُمَات وَرَعد وَبَرق۔ (البقرة: 19)

“یا پھر ان کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا اور کڑک چمک بھی ہے” (سید مودودی)

“یا ایسی ہے جیسے آسمان سے بارش ہورہی ہو۔ اس میں تاریکی ہو، کڑک اور چمک ہو” (امین احسن اصلاحی)

“یا جیسے آسمان سے اترتا پانی کہ ان میں اندھیریاں ہیں اور گرج اور چمک” (احمد رضا خان)

“یا آسمانی برسات کی طرح جس میں اندھیریاں اور گرج اور بجلی ہو” (محمد جوناگڑھی، صیب کا ترجمہ برسات درست نہیں ہے، بارش ہونا چاہئے)

(۲) وَیُسَبِّحُ الرَّعدُ بِحَمدِہِ۔ (الرعد: 13)

“بادلوں کی گرج اس کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتی ہے” (سید مودودی)

“اور بجلی کی گرج اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتی ہے” (امین احسن اصلاحی)

“اور گر ج اسے سراہتی ہوئی اس کی پاکی بولتی ہے ” (احمد رضا خان)

“گرج اس کی تسبیح وتعریف کرتی ہے” (محمد جوناگڑھی،“تسبیح وتعریف کرتی ہے ”ترجمہ کرنا درست نہیں ہے، یہاں دو مستقل فعل نہیں ہیں، مستقل فعل یسبح ہے اور بحمدہ اس سے متعلق ہے، صحیح ترجمہ ہے “حمد کے ساتھ تعریف کرتی ہے”)۔

(جاری)

قرآن / علوم قرآن