اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۲۲)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۹۸) مدّہ اور مدّ لہ میں فرق

قرآن مجید میں فعل مد یمد براہ راست مفعول بہ کے ساتھ بھی آیا ہے اور حرف جر لام کے ساتھ بھی آیا ہے۔ ان دونوں اسلوبوں میں کیا فرق ہے؟ اس سلسلے میں عام طور سے علماء لغت اور مفسرین کے یہاں کوئی صراحت نہیں ملتی، بلکہ ان کے بیانات سے لگتا ہے کہ دونوں اسلوب ہم معنی ہیں، البتہ علامہ زمخشری نے اس فرق کوصراحت کے ساتھ ذکر کیا ہے، ان کے نزدیک مد اگر مفعول بہ کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی بڑھانے اور اضافہ کرنے کے ہیں، اور اگر حرف جر لام کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی ڈھیل دینے اور مہلت دینے کے ہیں۔ سورہ بقرۃ آیت نمبر ۱۵؍ کی تفسیر میں وہ لکھتے ہیں: 

ویمدھم فی طغیانھم من مد الجیش وأمدہ اذا زادہ وألحق بہ ما یقویہ ویکثرہ۔۔۔ علی أن الذی بمعنی أمھلہ انما ھو مدّ لہ مع اللام کأملی لہ۔ (تفسیر الزمخشری: ۱؍۶۷)

علامہ موصوف نے جو فرق ذکر کیا ہے، قرآن مجید کے استعمالات سے اس کی بھرپور تائید ہوتی ہے۔ لیکن محسوس ہوتا ہے کہ مترجمین قرآن کے سامنے یہ فرق واضح طور سے نہیں رہا۔ ذیل میں اس کی کچھ مثالیں پیش کی جائیں گی:

(۱) اللّٰہُ یَسْتَہْزِئُ بِہِمْ وَیَمُدُّہُمْ فِیْ طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُونَ۔ (البقرۃ:۱۵)

اس آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے اکثر مترجمین نے یمدھم کا ترجمہ ڈھیل دینا کیا ہے۔کچھ مثالیں ملاحظہ ہوں:

’’اللہ ان سے مذاق کررہا ہے، وہ ان کی رسی دراز کیے جاتا ہے، اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں‘‘۔ (سید مودودی، صحیح ترجمہ: اللہ ان سے مذاق کررہا ہے، وہ انہیں ان کی سرکشی میں اندھوں کی طرح بڑھنے دے رہا ہے)

’’اللہ ان سے مذاق کررہا ہے اور ان کو ان کی سرکشی میں ڈھیل دیے جارہا ہے، یہ بھٹکتے پھر رہے ہیں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی، صحیح ترجمہ: اللہ ان سے مذاق کررہا ہے اور ان کو ان کی سرکشی میں بڑھائے جارہا ہے، کہ یہ بھٹکتے پھریں)

’’اللہ تعالی بھی استہزا کررہے ہیں ان کے ساتھ اور ڈھیل دیتے چلے جاتے ہیں ان کو کہ وہ اپنی سرکشی میں حیران وسرگرداں ہورہے ہیں‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

’’اللہ ان سے استہزا فرماتا ہے (جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے) اور انہیں ڈھیل دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں‘‘۔ (احمد رضا خان)

جبکہ بعض لوگوں نے ڈھیل دینے کے بجائے بڑھانے کا ترجمہ کیا ہے، اور یہی موزوں ترجمہ ہے۔کچھ مثالیں ملاحظہ ہوں:

’’اللہ ہنسی کرتا ہے ان سے اور بڑھاتا ہے ان کو ان کی شرارت میں بہکے ہوئے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر) 

’’اللہ تعالی بھی ان سے مذاق کرتا ہے اور انہیں ان کی سرکشی اور بہکاوے میں اور بڑھادیتا ہے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

علامہ زمخشری کے بیان کردہ اصول کے مطابق اس آیت میں یمدھم  کا صحیح مفہوم بڑھانا ہے نا کہ ڈھیل دینا، اس کی تائید مذکورہ ذیل آیت سے بھی ہوتی ہے، جس میں فعل یمد  ٹھیک اسی اسلوب میں استعمال ہوا ہے اور اس کا ترجمہ ڈھیل دینا نہیں بلکہ بڑھانا اور کھینچنا کیا گیا ہے۔

(۲) وَإِخْوَانُہُمْ یَمُدُّونَہُمْ فِیْ الْغَیِّ ثُمَّ لاَ یُقْصِرُونَ۔ (الاعراف: ۲۰۲)

’’اور جو شیطانوں کے بھائی ہیں وہ ان کو کھینچتے جاتے ہیں غلطی میں پھر وہ کمی نہیں کرتے‘‘۔ (شاہ عبد القادر)

’’اور وہ جو شیطانوں کے بھائی ہیں شیطان انھیں گمراہی میں کھینچتے ہیں، پھر کمی نہیں کرتے‘‘۔ (احمد رضا خان)

’’اور جو ان (ناخدا ترسوں) کے بھائی ہیں وہ ان کو گمراہی میں بڑھاتے ہیں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی، مولانا امانت اللہ اصلاحی کے مطابق اس آیت کا صحیح ترجمہ یوں ہے: اور جو ان شیاطین کے بھائی ہیں۔ یمدونھم  میں ضمیر مستتر مرفوع کا مرجع شیاطین اور ضمیر منصوب کا مرجع اخوانھم ہے، اور اخوانھم میں ضمیر مجرور کا مرجع بھی شیاطین ہے۔ جبکہ دوسری رائے بھی مفسرین کے یہاں موجود ہے اور ذیل کا شاہ ولی اللہ کا ترجمہ اسی دوسری رائے کے مطابق ہے)

’’وبرادران کافران می کشند ایشاں را در گمراہی وہرگز باز نمی ایستند ‘‘(شاہ ولی اللہ)

بہر حال جس طرح اس آیت میں تمام مترجمین نے یمدونھم کا مفہوم بڑھانا اور کھینچنا بیان کیا ہے، اسی طرح اوپر والی آیت میں بھی یہی مفہوم لینا مناسب تھا، کیونکہ دونوں آیتوں کا اسلوب بالکل یکساں ہے۔

(۳) قُلْ مَن کَانَ فِیْ الضَّلَالَۃِ فَلْیَمْدُدْ لَہُ الرَّحْمَنُ مَدّاً۔ (مریم: ۷۵)

اس تیسری آیت میں فعل مد لام حرف جر کے ساتھ آیا ہے، اور بجا طور پر مترجمین نے ترجمہ ڈھیل دینا اور رسی دراز کرنا کیا ہے۔ شاہ عبد القادر نے کھینچنا ترجمہ کیا ہے تاہم ان کا مقصود بھی ڈھیل دینا ہی معلوم ہوتا ہے۔

’’تو کہہ جو کوئی رہا بھٹکتا سو چاہئے اس کو کھینچ لے جاوے رحمن خوب کھینچنا ‘‘(شاہ عبدالقادر)

’’تم فرماؤ جو گمراہی میں ہو تو اسے رحمن خوب ڈھیل دے ‘‘(احمد رضا خان)

’’ان سے کہہ دو کہ جو لوگ گمراہی میں پڑے رہتے ہیں تو خدائے رحمان کی شان یہی ہے کہ ان کی رسی اچھی طرح دراز کرے‘‘ (امین احسن اصلاحی)

بیشتر مترجمین نے اس آیت میں فلیمدد کا ترجمہ عام فعل مضارع کا کیا ہے، حالانکہ یہاں یہ فعل لام امر کے ساتھ استعمال ہوا ہے، اور ترجمہ میں اس کی عکاسی ہونی چاہئے تھی، یعنی ڈھیل دیتا ہے کے بجائے ڈھیل دے کہا جائے، اوپر مذکور ترجموں میں اس کی رعایت کی گئی ہے، تاہم ذیل کے ترجموں میں اس کا لحاظ نظر نہیں آتا ہے:

’’آپ فرمادیجئے کہ جو لوگ گمراہی میں ہیں رحمن ان کو ڈھیل دیتا چلا جارہا ہے‘‘(اشرف علی تھانوی)

’’ان سے کہو جو شخص گمراہی میں مبتلا ہوتا ہے اسے رحمان ڈھیل دیا کرتا ہے‘‘ (سید مودودی)

’’کہہ دیجئے جو گمراہی میں ہوتا اللہ رحمن اس کو خوب لمبی مہلت دیتا ہے‘‘ (محمد جوناگڑھی)

’’کہہ دو کہ جو شخص گمراہی میں پڑا ہوا ہے خدا اس کو آہستہ آہستہ مہلت دیئے جاتا ہے۔‘‘ ( فتح محمد جالندھری)

مفسرین نے مفہوم کے لحاظ سے دونوں صورتوں کو جائز قرار دیا ہے، سمین حلبی لکھتے ہیں:

و قولہ: ’’فلیمدد‘‘ فیہ وجھان، أحدھما: أنہ طلبٌ علی بابہ، ومعناہ الدعاء۔ والثانی: لفظہ لفظ الأمر، ومعناہ الخبر۔ (الدرالمصون فی علوم الکتاب المکنون۔۷؍۶۳۲)

تاہم جب قرآن مجید میں کہیں پر نَمُدُّ سادہ فعل آیا ہے اور کہیں فلیمدد لام امر کے ساتھ فعل آیا ہے، تو مفہوم چاہے جو لیا جائے لیکن ترجمہ اسی طرح ہونا چاہئے کہ اسلوب کلام کی عکاسی ہوسکے۔

(۴) کَلَّا سَنَکْتُبُ مَا یَقُولُ وَنَمُدُّ لَہُ مِنَ الْعَذَابِ مَدّاً۔ (مریم: ۷۹)

اس آیت میں فعل مد کے بعد من العذاب آیا ہے، جو مفعول بہ کی جگہ پر ہے، اس طور سے یہاں بھی ڈھیل دینے کے بجائے بڑھانے کا ترجمہ درست ہوگا۔ چنانچہ عام طور سے مترجمین نے یہاں بجا طور سے بڑھانے کا ترجمہ کیا ہے۔

’’ہرگز نہیں، جو کچھ یہ بکتا ہے اسے ہم لکھ لیں گے اور اس کے لئے سزا میں اور زیادہ اضافہ کریں گے ‘‘(سید مودودی)

’’یوں نہیں، ہم لکھ رکھیں گے جو کہتا ہے اور بڑھاتے جاویں گے اس کو عذاب میں لنبا ‘‘(شاہ عبدالقادر)

’’ہرگز نہیں اب ہم لکھ رکھیں گے جو وہ کہتا ہے اور اسے خوب لمبا عذاب دیں گے‘‘ (احمد رضا خان)

’’ہرگز نہیں، یہ جو بھی کہہ رہا ہے ہم اسے ضرور لکھ لیں گے، اور اس کے لئے عذاب بڑھائے چلے جائیں گے‘‘ (محمد جوناگڑھی)

’’ہرگز نہیں جو کچھ وہ بکتا ہے ہم اس کو نوٹ کر رکھیں گے اور اس کے عذاب میں مزید اضافہ کریں گے‘‘ (امین احسن اصلاحی)

(۹۹) لھم عذاب کا ترجمہ

لھم عذاب کی تعبیر قرآن مجید میں متعدد مقامات پر آئی ہے، اس کا ترجمہ مترجمین نے عام طور یہ کیا ہے کہ ان کے لئے عذاب ہے۔ جبکہ صاحب تفہیم نے کہیں کہیں اس کا ترجمہ کیا ہے کہ وہ عذاب کے مستحق ہیں، حالانکہ خود انہوں نے بھی اکثر وبیشتر مقامات پر دیگر مترجمین کی طرح ترجمہ کیا ہے، مثال کے لئے ذیل کی آیتیں ملاحظہ ہوں: 

(۱) خَتَمَ اللّٰہُ عَلَی قُلُوبِہمْ وَعَلَی سَمْعِہِمْ وَعَلَی أَبْصَارِہِمْ غِشَاوَۃٌ وَلَہُمْ عَذَابٌ عظِیْمٌ۔ (البقرۃ:۷)

’’اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے۔ وہ سخت سزا کے مستحق ہیں‘‘۔(سید مودودی)

(۲) إِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّونَ أَن تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیْنَ آمَنُوا لَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ۔ (النور: ۱۹)

’’جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں، اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے‘‘۔ (سید مودودی)

(۳) وَالَّذِیْ تَوَلَّی کِبْرَہُ مِنْہُمْ لَہُ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ (النور: ۱۱)

’’اور جس شخص نے اس کی ذمہ داری کا بڑا حصہ اپنے سر لیا اس کے لئے تو عذاب الیم ہے‘‘۔ (سید مودودی)

پہلی دو آیتوں میں عذاب کے مستحق ہونے کا ترجمہ کیا گیا ہے، جبکہ تیسری آیت میں فی الواقع ان کے لیے عذاب ہونے کا ترجمہ کیا گیا ہے۔

اگرچہ لام استحقاق کا مفہوم بتانے کے لیے بھی آتا ہے، اور اس لحاظ سے استحقاق کا ترجمہ غلط نہیں ہے، لیکن اس ترجمہ میں وعید کا مفہوم پوری شدت کے ساتھ ادا نہیں ہوتا۔ کیونکہ جب یہ کہا جائے گا کہ ان کے لیے عذاب ہے، تو اس میں یہ بات بھی شامل ہوجائے گی کہ وہ اس کے مستحق ہیں، ساتھ ہی یہ بات بھی واضح رہے گی کہ ان کو اس عذاب میں ڈالا جائے گا۔ جبکہ اگر کہا جائے کہ وہ عذاب کے مستحق ہیں تو یہ لازم نہیں آئے گا کہ ان کو عذاب دیا جائے گا۔ اس لحاظ سے وہی ترجمہ زیادہ مناسب ہے، جو تمام مترجمین کرتے ہیں اور خود صاحب تفہیم نے اکثر جگہوں پر کیا ہے، یعنی یہ کہ استحقاق ہی نہیں بلکہ فی الواقع ان کے لیے عذاب ہے۔

(۱۰۰) أنداد کا ترجمہ

أنداد جمع ہے ند کی جس کے اصل معنی ہم سر کے ہیں، علامہ راغب اصفہانی کہتے ہیں:

ندید الشیء: مشارکہ فی جوھرہ، وذلک ضرب من المماثلۃ، فان المثل یقال فی أیِّ مشارکۃ کانت، فکل ند مثلٌ، ولیس کل مثل ندا۔ (المفردات فی غریب القرآن، ص:۷۹۶)

قرآن مجید میں أندادا جہاں جہاں آیا ہے، اس کا ترجمہ عام طور سے ہم سر، برابر اور شریک کیا گیا ہے، یہی لفظ کا اصل مفہوم ہے، اور یہی مشرکین کی عام روش کے مطابق حال بھی ہے، کیونکہ مشرکین اللہ کے علاوہ جن کو معبود ٹھہراتے ہیں ان کو وہ اللہ کے شریک اور ہم سر کے طور پر ہی ٹھہراتے ہیں نا کہ اللہ کے مد مقابل اور اللہ کے مخالف کے طور پر۔

قرآن مجید میں أندادا کا لفظ کئی جگہ آیا ہے، اور عام طور سے تمام مترجمین اس کا ترجمہ ہم سر، برابر اور شریک کا کرتے ہیں۔ البتہ بعض مترجمین کہیں کہیں مد مقابل یا مقابل کا ترجمہ بھی کردیتے ہیں، اس سے ایک تو لفظ کا مفہوم محدود ہوجاتا ہے، کیونکہ ہم سر میں جو وسعت ہے وہ مقابل میں نہیں ہے، دوسرے یہ کہ یہ لفظ مشرکین کے عام رویہ کے مطابق نہیں ہے۔قابل غور بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے کہیں کہیں مقابل اور مد مقابل کا ترجمہ کیا ہے، انہوں نے خود اکثر جگہ ہم سر اور شریک کا ترجمہ کیا ہے۔

(۱) فَلاَ تَجْعَلُوا لِلّٰہِ أَندَاداً۔ (البقرۃ: ۲۲)

’’تو دوسروں کو اللہ کا مد مقابل نہ ٹھیراؤ‘‘ (سید مودودی)

’’تم اللہ کے واسطے اب تو مت ٹھیراؤ اللہ پاک کے مقابل‘(اشرف علی تھانوی)

’’سو نہ ٹھیراؤ اللہ کے برابر کوئی ‘‘ (شاہ عبد القادر)

(۲) وَمِنَ النَّاسِ مَن یَتَّخِذُ مِن دُونِ اللّٰہِ أَندَاداً۔ (البقرۃ: ۱۶۵)

’’کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر اور مد مقابل بناتے ہیں‘‘(سید مودودی)

(۳) وَجَعَلُوا لِلّٰہِ أَندَاداً لِّیُضِلُّواْ عَن سَبِیْلِہ۔ (ابراہیم: ۳۰)

’’اور ٹھیرائے اللہ کے مقابل کہ بہکاویں لوگوں کو اس کی راہ سے‘‘ (شاہ عبد القادر)

’’اور انہوں نے اللہ کے مقابل ٹھہرائے، تاکہ وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے بھٹکادیں ‘‘(وحید الدین خان)

’’اور اللہ کے کچھ ہمسر تجویز کرلئے تاکہ وہ انہیں اللہ کے راستے سے بھٹکادیں ‘‘(سید مودودی، اس ترجمہ میں مدمقابل کے بجائے ہم سر ترجمہ کیا ہے، جو درست ہے، تاہم اس میں ایک دوسری غلطی ہے وہ یہ کہ ترجمے سے مفہوم نکلتا ہے کہ ہم سر ان کو بھٹکائیں گے جنہوں نے ہم سر بنائے، جب کہ صحیح بات یہ ہے کہ ہمسر بنانے والے بھٹکائیں گے، نا کہ وہ جنہیں ہم سر بنایا گیا،یہی درست مفہوم عام مترجمین نے اختیار کیا ہے، اور اس مفہو م کی تائید ذیل کی سورہ زمر والی آیت سے بھی ہوتی ہے، وہاں مترجم موصوف نے صحیح مفہوم اختیار کیا ہے، کیونکہ دوسرا مفہوم لینے کی اس آیت میں گنجائش نہیں ہے)

(۴) وَجَعَلَ لِلّٰہِ أَندَاداً لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِہِ۔ (الزمر: ۸)

’’اور دوسروں کو اللہ کا ہمسر ٹھیراتا ہے تاکہ اس کی راہ سے گمراہ کرے‘‘(سید مودودی)

’’اور ٹھیراوے اللہ کی برابر اوروں کو تا بہکاوے اس کی راہ سے‘‘ (شاہ عبد القادر)

(۵) إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّکْفُرَ بِاللّٰہِ وَنَجْعَلَ لَہُ أَندَاداً۔ (سبا: ۳۳)

’’جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں، اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھیرائیں‘‘(سید مودودی)

(۶) قُلْ أَئِنَّکُمْ لَتَکْفُرُونَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْأَرْضَ فِیْ یَوْمَیْْنِ وَتَجْعَلُونَ لَہُ أَندَاداً۔ (فصلت:۹)

’’اے نبی ان سے کہو، کیا تم اس خدا سے کفر کرتے ہو اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھیراتے ہو جس نے زمین کو دو دنوں میں بنادیا‘‘(سید مودودی)

(جاری)

قرآن / علوم قرآن

ستمبر ۲۰۱۶ء

جلد ۲۷ ۔ شمارہ ۹

جمہوریت اور حاکمیت عوام ۔ چند منطقی مغالطے / غیر مسلم معاشروں میں رہنے کے انسانی واخلاقی اصول / آسمانی شرائع میں جہاد کا صحیح تصور
محمد عمار خان ناصر

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۲۲)
ڈاکٹر محی الدین غازی

ہم عصر الحاد پر ایک نظر
محمد دین جوہر

دینی مدارس میں یوم آزادی کی تقریبات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

قرآن مجید کے قطعی الدلالۃ ہونے کی بحث ۔ حافظ محمد زبیر صاحب کے موقف کا تنقیدی جائزہ
ڈاکٹر عرفان شہزاد

مباح الدم اور "جہادیوں" کا بیانیہ
ڈاکٹر محمد شہباز منج

مکاتیب
ادارہ

’’مولانا عبیداللہ سندھی کے افکار اور تنظیم فکرِ ولی اللہی کے نظریات کا تحقیقی جائزہ‘‘
مولانا سید متین احمد شاہ

قاری ملک عبد الواحد کی رحلت
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا گلزار احمد آزاد کے سفر جاپان کے مشاہدات
حافظ محمد رشید

مولانا عمار خان ناصر کے سفر امریکا کے تاثرات
ادارہ

الشریعہ اکادمی کی سرگرمیاں
ادارہ

Flag Counter