اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۳۱)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۱۲) تاب علی کا مفہوم

تاب کے معنی لوٹنے کے ہوتے ہیں، قرآن مجید میں بندوں کے لیے تاب کا فعل الی کے ساتھ استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے اللہ کی طرف رجوع اور انابت کرنا، اس وسیع مفہوم میں توبہ کرنا اور معافی مانگنا بھی شامل ہے، لیکن لفظ کا اصل مفہوم اس سے وسیع تر ہے۔

اللہ کے لیے تاب کا فعل علی کے ساتھ استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے مہربان ہونا نظر کرم فرمانا۔ اس وسیع مفہوم میں توبہ کی توفیق دینا اور توبہ قبول کرلینا اور معاف کردینا بھی شامل ہے، لیکن اصل مفہوم اس سے وسیع تر ہے۔

فیروزآبادی کے الفاظ میں:وتابَ اللہ علیہ: وفَّقَہ للتَّوبۃِ، أو رجَعَ بہ من التَّشدِید الی التَّخفیفِ، أو رَجَعَ علیہ بِفَضْلِہِ وقبولہ۔القاموس المحیط (ص: 62) سورہ توبہ میں بیان ہوا ہے:ثُمَّ تَابَ عَلَیْْہِمْ لِیَتُوبُواْ۔اس سے اچھی طرح تاب علی کا مفہوم واضح ہوتا ہے، یعنی اس لفظ کے مفہوم میں نہ صرف توبہ قبول کرنا بلکہ مہربانی کرنا اور توبہ کی توفیق دینا بھی آتا ہے۔

مختلف تراجم قرآن کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ تاب علی کے مفہوم کی یہ وسعت عام طور سے مترجمین کے سامنے بھی رہی ہے اور بعض نے اکثر جگہ اور بعض نے کچھ جگہوں پر لفظ کے اس مفہوم کو ادا بھی کیا ہے تاہم بعض ایسے مقامات جہاں معاف کرنے کے بجائے مہربان ہونا ہی مناسب ترجمہ ہوسکتا تھا، وہاں بعض مترجمین نے معاف کرنا ترجمہ کیا ہے، ایسے بعض مقامات کا ہم یہاں بطور مثال تذکرہ کریں گے:

(۱) عَلِمَ أَن لَّن تُحْصُوہُ فَتَابَ عَلَیْْکُمْ فَاقْرَؤُوا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ۔ (المزمل: ۲۰)

’’اس نے جانا کہ تم اس کو نباہ نہ سکو گے تو اس نے تم پر عنایت کی نظر کی، تو قرآن میں سے جتنا میسر ہوسکے پڑھ لیا کرو‘‘ (امین احسن اصلاحی)

’’اس نے معلوم کیا کہ تم اس کو نباہ نہ سکو گے تو اس نے تم پر مہربانی کی‘‘ (فتح محمدجالندھری)

’’ اسے معلوم ہے کہ اے مسلمانو! تم سے رات کا شمار نہ ہوسکے گا تو اس نے اپنی مہر سے تم پر رجوع فرمائی‘‘(احمد رضا خان)

’’اْسے معلوم ہے کہ تم لوگ اوقات کا ٹھیک شمار نہیں کر سکتے، لہٰذا اس نے تم پر مہربانی فرمائی‘‘ (سید مودودی)

’’اس نے جانا کہ تم اس کو پورا نہ کرسکو گے تو تم پر معافی بھیجی (شاہ عبدالقادر)

(۲) وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِہِ یَا قَوْمِ إِنَّکُمْ ظَلَمْتُمْ أَنفُسَکُمْ بِاتِّخَاذِکُمُ الْعِجْلَ فَتُوبُواْ إِلَی بَارِئِکُمْ فَاقْتُلُواْ أَنفُسَکُمْ ذَلِکُمْ خَیْْرٌ لَّکُمْ عِندَ بَارِئِکُمْ فَتَابَ عَلَیْْکُمْ إِنَّہُ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ (البقرۃ: ۵۴)

’’اور جب کہا موسی نے اپنی قوم کو اے قوم تم نے نقصان کیا اپنا یہ بچھڑا بنالیکر، اب توبہ کرو اپنے پیدا کرنے والے کی طرف اور مارڈالو اپنی اپنی جان، یہ بہتر ہے تم کو اپنے خالق کے پاس، پھر متوجہ ہوا تم پر برحق وہی ہے معاف کرنے والا مہربان‘‘ (شاہ عبدالقادر)

(۳) وَحَسِبُواْ أَلاَّ تَکُونَ فِتْنَۃٌ فَعَمُواْ وَصَمُّواْ ثُمَّ تَابَ اللّہُ عَلَیْْہِمْ ثُمَّ عَمُواْ وَصَمُّواْ کَثِیْرٌ مِّنْہُمْ وَاللّہُ بَصِیْرٌ بِمَا یَعْمَلُون۔ (المائدۃ:۷۱)

’’اور انھوں نے گمان کیا کہ کوئی پکڑ نہیں ہوگی، پس اندھے اور بہرے بن گئے، پھر اللہ نے ان پر رحمت کی نگاہ کی، پھر ان میں سے بہت سے اندھے بہرے بن گئے، اور اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ یہ کررہے ہیں‘‘ (امین احسن اصلاحی)

’’اور خیال کرتے تھے کہ (اس سے ان پر) کوئی آفت نہیں آنے کی تو وہ اندھے اور بہرے ہو گئے پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی (لیکن) پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہو گئے اور خدا ان کے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے‘‘ (فتح محمدجالندھری)

’’اور اپنے نزدیک یہ سمجھے کہ کوئی فتنہ رونما نہ ہوگا، اس لیے اندھے اور بہرے بن گئے پھر اللہ نے اُنہیں معاف کیا تو اُن میں سے اکثر لوگ اور زیادہ اندھے اور بہرے بنتے چلے گئے اللہ اُن کی یہ سب حرکات دیکھتا رہا ہے‘‘(سید مودودی)

’’اور اس گمان میں ہیں کہ کوئی سزا نہ ہوگی تو اندھے اور بہرے ہوگئے پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول کی پھر ان میں بہتیرے اندھے اور بہرے ہوگئے اور اللہ ان کے کام دیکھ رہا ہے‘‘(احمد رضا خان)

’’اور سمجھ بیٹھے کہ کوئی پکڑ نہ ہوگی، پس اندھے بہرے بن بیٹھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی، اس کے بعد بھی ان میں سے اکثر اندھے بہرے ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو بخوبی دیکھنے والا ہے ‘‘(محمد جوناگڑھی)

(۴) لَقَد تَّابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُہَاجِرِیْنَ وَالأَنصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوہُ فِیْ سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ مِن بَعْدِ مَا کَادَ یَزِیْغُ قُلُوبُ فَرِیْقٍ مِّنْہُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْْہِمْ إِنَّہُ بِہِمْ رَؤُوفٌ رَّحِیْمٌ۔ وَعَلَی الثَّلاَثَۃِ الَّذِیْنَ خُلِّفُواْ حَتَّی إِذَا ضَاقَتْ عَلَیْْہِمُ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَیْْہِمْ أَنفُسُہُمْ وَظَنُّواْ أَن لاَّ مَلْجَأَ مِنَ اللّٰہِ إِلاَّ إِلَیْْہِ ثُمَّ تَابَ عَلَیْْہِمْ لِیَتُوبُواْ إِنَّ اللّٰہَ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ (التوبۃ:۱۱۷،۱۱۸)

’’اللہ نے معاف کر دیا نبیؐ کو اور ان مہاجرین و انصار کو جنہوں نے بڑی تنگی کے وقت میں نبیؐ کا ساتھ دیا اگر چہ ان میں سے کچھ لوگوں کے دل کجی کی طرف مائل ہو چکے تھے (مگر جب انہوں نے اس کجی کا اتباع نہ کیا بلکہ نبیؐ کا ساتھ ہی دیا تو) اللہ نے انہیں معاف کردیا، بے شک اُس کا معاملہ اِن لوگوں کے ساتھ شفقت و مہربانی کا ہے۔ اور اُن تینوں کو بھی اس نے معاف کیا جن کے معاملہ کو ملتوی کر دیا گیا تھا جب زمین اپنی ساری وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی اور ان کی اپنی جانیں بھی ان پر بار ہونے لگیں اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ خود اللہ ہی کے دامن رحمت کے سوا نہیں ہے، تو اللہ اپنی مہربانی سے ان کی طرف پلٹا تاکہ وہ اس کی طرف پلٹ آئیں، یقیناًوہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے‘‘ (سید مودودی، تاب علی کا ترجمہ دونوں طرح سے کیا ہے جبکہ دونوں جگہ مہربانی کرنے کا محل ہے)

’’بیشک اللہ کی رحمتیں متوجہ ہوئیں ان غیب کی خبریں بتانے والے اور ان مہاجرین اور انصار پر جنہوں نے مشکل کی گھڑی میں ان کا ساتھ دیا بعد اس کے کہ قریب تھا کہ ان میں کچھ لوگوں کے دل پھر جائیں پھر ان پر رحمت سے متوجہ ہوا بیشک وہ ان پر نہایت مہربان رحم والا ہے، اور ان تین پر جو موقوف رکھے گئے تھے یہاں تک کہ جب زمین اتنی وسیع ہوکر ان پر تنگ ہوگئی اور ہو اپنی جان سے تنگ آئے اور انہیں یقین ہوا کہ اللہ سے پناہ نہیں مگر اسی کے پاس، پھر ان کی توبہ قبول کی کہ تائب رہیں، بیشک اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے‘‘ (احمد رضا خان، تاب علی کا ترجمہ دونوں طرح سے کیا ہے، جبکہ دونوں جگہ مہربانی کرنے کا محل ہے)

’’اللہ نے نبی اور مہاجرین وانصار پر رحمت کی نظر کی جنھوں نے نبی کا ساتھ تنگی کے وقت میں دیا، بعد اس کے کہ ان میں سے کچھ لوگوں کے دل کجی کی طرف مائل ہوچکے تھے، پھر اللہ نے ان پر رحمت کی نگاہ کی۔ بے شک وہ ان پر نہایت مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ اور ان تینوں پر بھی رحمت کی نگاہ کی جن کا معاملہ اٹھا رکھا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب زمین، اپنی وسعتوں کے باوجود، ان پر تنگ ہوگئی اور ان کی جانیں ضیق میں پڑ گئیں اور انھوں نے اندازہ کرلیا کہ خدا سے، خدا کے سوا، کہیں مفر نہیں۔ پھر اللہ نے ان پر عنایت کی نظر کی تاکہ وہ توبہ کریں۔ بے شک اللہ ہی ہے جو توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے‘‘ (امین احسن اصلاحی، یہاں دونوں جگہ تاب علی کا ترجمہ مناسب ہے)

’’اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کے حال پر توجہ فرمائی اور مہاجرین اور انصار کے حال پر بھی جنہوں نے ایسی تنگی کے وقت پیغمبر کا ساتھ دیا، اس کے بعد کہ ان میں سے ایک گروہ کے دلوں میں کچھ تزلزل ہو چلا تھا۔ پھر اللہ نے ان کے حال پر توجہ فرمائی۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان سب پر بہت ہی شفیق مہربان ہے.اور تین شخصوں کے حال پر بھی جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب زمین باوجود اپنی فراخی کے ان پر تنگ ہونے لگی اور وہ خود اپنی جان سے تنگ آگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ سے کہیں پناہ نہیں مل سکتی بجز اس کے کہ اسی کی طرف رجوع کیا جائے پھر ان کے حال پر توجہ فرمائی تاکہ وہ آئندہ بھی توبہ کرسکیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول کرنے والا بڑا رحم والا ہے‘‘(محمدجوناگڑھی)

(۵) أَأَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُوا بَیْْنَ یَدَیْْ نَجْوَاکُمْ صَدَقَاتٍ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَتَابَ اللّٰہُ عَلَیْْکُمْ فَأَقِیْمُوا الصَّلَاۃَ وَآتُوا الزَّکَاۃَ وَأَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُولَہُ۔ (المجادلۃ:۱۳)

’’کیا تم اس بات سے اندیشہ ناک ہوئے کہ اپنی رازدارانہ باتوں سے پہلے صدقے پیش کرو۔ پس جب تم نے یہ نہیں کیا اور اللہ نے تم پر رحم فرمایا تو نماز کا اہتمام کرو اور زکوۃ دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو‘‘ (امین احسن اصلاحی)

’’کیا تم ڈر گئے اس بات سے کہ تخلیہ میں گفتگو کرنے سے پہلے تمہیں صدقات دینے ہوں گے؟ اچھا، اگر تم ایسا نہ کرو اور اللہ نے تم کو اس سے معاف کر دیا تو نماز قائم کرتے رہو، زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو‘‘ (سید مودودی، اس ترجمہ میں توجہ طلب بات یہ ہے کہ یہاں محل مہربانی کرنے کا ہے نہ کہ معاف کرنے کا، اور ’’اس سے معاف کردیا‘‘ تو اس لفظ کے مفہوم میں آہی نہیں سکتا، کیونکہ کسی کو معاف کرنے کے لئے تو تاب علی آتا ہے، لیکن کسی کو کسی کام سے معاف کرنے کے لئے یہ لفظ نہیں آتا ہے، اسی طرح اذ لم تفعلوا کا ترجمہ ماضی کا ہونا چاہئے، نہ کہ مستقبل کا جیسا کہ یہاں کیا گیا ہے، دوسرے مترجمین نے اس کا ترجمہ ماضی کا کیا ہے اور وہی درست ہے)

’’کیا تم اس سے کہ پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہنے سے پہلے خیرات دیا کرو ڈر گئے؟ پھر جب تم نے (ایسا) نہ کیا اور خدا نے تمہیں معاف کردیا تو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو اور خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے رہو۔‘‘(فتح محمد جالندھری)

’’کیا تم اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ نکالنے سے ڈر گئے؟ پس جب تم نے یہ نہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی تمہیں معاف فرما دیا تو اب (بخوبی) نمازوں کو قائم رکھو زکوٰۃ دیتے رہا کرو اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی تابعداری کرتے رہو۔‘‘ (محمد جوناگڑھی)

(۶) یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُبَیِّنَ لَکُمْ وَیَہْدِیَکُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِکُمْ وَیَتُوبَ عَلَیْْکُمْ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ وَاللّٰہُ یُرِیْدُ أَن یَتُوبَ عَلَیْْکُمْ وَیُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُونَ الشَّہَوَاتِ أَن تَمِیْلُواْ مَیْْلاً عَظِیْماً۔ (النساء :۲۶و۲۷)

’’اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ تم پر (اپنی آیتیں) واضح کردے اور تمہیں ان لوگوں کے طریقے کی ہدایت بخشے جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں، اور تم پر رحمت کی نگاہ کرے۔ اور اللہ علم والا اور حکمت والا ہے۔ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم پر رحمت کی نگاہ کرے اور وہ لوگ جو اپنی شہوات کی پیروی کررہے ہیں یہ چاہتے ہیں کہ تم پر راہ حق سے بالکل ہی بھٹک کر رہ جاؤ‘‘ (امین احسن اصلاحی)

’’اللہ چاہتا ہے کہ تم پر اُن طریقوں کو واضح کرے اور اْنہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی۔ ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ‘‘ (سید مودودی)

’’خدا چاہتا ہے کہ (اپنی آیتیں) تم سے کھول کھول کر بیان فرمائے اور تم کو اگلے لوگوں کے طریقے بتائے اور تم پر مہربانی کرے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔ اور خدا تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے اور جو لوگ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھے راستے سے بھٹک کر دور جا پڑو‘‘ (فتح محمدجالندھری)

’’اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہارے واسطے خوب کھول کر بیان کرے اور تمہیں تم سے پہلے کے (نیک) لوگوں کی راہ پر چلائے اور تمہاری توبہ قبول کرے، اور اللہ تعالیٰ جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور اللہ چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول کرے اور جو لوگ خواہشات کے پیرو ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم اس سے بہت دور ہٹ جاؤ‘‘ (محمد جوناگڑھی)

(۷) لِیُعَذِّبَ اللّٰہُ الْمُنَافِقِیْنَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْمُشْرِکِیْنَ وَالْمُشْرِکَاتِ وَیَتُوبَ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوراً رَّحِیْماً۔ (الاحزاب: ۷۳)

’’اِس بار امانت کو اٹھانے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اللہ منافق مردوں اور عورتوں، اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے اور مومن مَردوں اور عورتوں کی توبہ قبول کرے، اللہ درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے ‘‘(سید مودودی)

’’(یہ اس لیے) کہ اللہ تعالیٰ منافق مردوں عورتوں اور مشرک مردوں عورتوں کو سزا دے اور مومن مردوں عورتوں کی توبہ قبول فرمائے، اور اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے والا اور مہربان ہے‘‘(محمد جوناگڑھی)

’’تاکہ اللہ منافقین ومنافقات اور مشرکین ومشرکات کو سزا دے اور مومنین ومومنات کو اپنی رحمت سے نوازے۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘ (امین احسن اصلاحی)

’’تاکہ خدا منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور خدا مومن مردوں اور مومن عورتوں پر مہربانی کرے۔ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے‘‘ (فتح محمدجالندھری)

(۸) رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْْنِ لَکَ وَمِن ذُرِّیَّتِنَا أُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ وَأَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَتُبْ عَلَیْْنَا إِنَّکَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ (البقرۃ: ۱۲۸)

’’اے ہمارے رب ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنا اور ہماری ذریت میں سے تو اپنی ایک فرمانبردار امت اٹھا اور ہمیں ہمارے عبادت کے طریقے بتا اور ہماری توبہ قبول فرما، بے شک تو ہی توبہ قبول کرنے والا، رحم فرمانے والا ہے‘‘ (امین احسن اصلاحی)

’’اور ہم کو معاف کر تو ہی ہے اصل معاف کرنے والا مہربان‘‘ (شاہ عبدالقادر)

’’اور ہماری کوتاہیوں سے در گزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے‘‘ (سید مودودی)

’’اور ہماری توبہ قبول فرما، تو توبہ قبول فرمانے والا اور رحم وکرم کرنے والا ہے‘‘ (محمدجوناگڑھی)

’’ اور ہمارے حال پر (رحم کے ساتھ) توجہ فرما۔ بے شک تو توجہ فرمانے والا مہربان ہے‘‘(فتح محمدجالندھری)

’’اور ہمارے حال پر توجہ رکھئے اور فی الحقیقت آپ ہی ہیں توجہ فرمانے والے مہربانی کرنے والے‘‘ (مولانا تھانوی)

(۱۱۳) توبۃ من اللہ

فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْْنِ مُتَتَابِعَیْْنِ تَوْبَۃً مِّنَ اللّٰہِ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْماً حَکِیْماً۔ (النساء :۹۲)

اس آیت میں (تَوْبَۃً مِّنَ اللّہِ) کا ترجمہ مختلف طرح سے کیا گیا ہے:

’’یہ اللہ کی طرف سے ٹھہرائی ہوئی توبہ ہے‘‘ (امین احسن اصلاحی)

’’اللہ تعالی سے بخشوانے کے لئے‘‘ (محمد جوناگڑھی)

’’یہ اللہ کے یہاں اس کی توبہ ہے‘‘ (احمد رضا خان)

’’یہ اس گناہ پر اللہ سے توبہ کرنے کا طریقہ ہے‘‘ (سید مودودی)

ان تمام ترجموں کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ توبہ کو تاب الی یعنی توبہ کرنے کے معنی میں لیا گیاہے، اور اسی وجہ سے لفظ من کے مفہوم کی ادائیگی میں بھی مترجمین کو دشواری پیش آئی ہے، مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے کے مطابق یہاں توبہ تاب علی یعنی مہربانی کرنے کے مفہوم میں ہے، ترجمہ ہوگا ’’یہ اللہ کی طرف سے مہربانی ہے‘‘ جملہ کی تفصیل اس طرح ہوگی: (تَوْبَۃ مِّنَ اللّٰہِ علی عبادہ) مطلب یہ ہوگا کہ اللہ نے قتل خطا کے سلسلے میں جو کچھ رہنمائی فرمائی ہے وہ اللہ کی طرف سے بندوں پراس کی مہربانی ہے۔اس طرح لفظ من کے مفہوم کی ادائیگی احسن طریقے سے ہوجاتی ہے، اور جملہ کا مفہوم بھی پوری آیت سے بخوبی ہم آہنگ ہوجاتا ہے۔

(جاری)

قرآن / علوم قرآن