اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۴۲)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۴۱) القول اور کلمۃ فیصلے کے معنی میں 

قرآن مجید میں القول کا لفظ ایک خاص اسلوب میں استعمال ہوا ہے، اس اسلوب کے لیے القول کے ساتھ تین مختلف افعال استعمال ہوئے ہیں، جیسے حق علیہ القول، اور وقع علیہ القول، اور سبق علیہ القول۔ القول کی طرح کلمة کا لفظ بھی اسی خاص اسلوب میں استعمال میں ہوتا ہے، جیسے حقت علیہ کلمۃ، اور سبقت کلمۃ۔

مترجمین قرآن کے یہاں ایسے مقامات کا ترجمہ دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ترجمہ کرنے والوں کو ان کا مفہوم متعین کرنے میں دشواری ہوئی ہے، اور وہ مختلف مقامات پر مختلف ترجمے کرتے ہیں، بسا اوقات ان ترجموں کو سمجھنا بھی دشوار ہوتا ہے، کہ ان کی مراد کیا ہے۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی ان تمام مقامات پر ایک ہی ترجمہ تجویز کرتے ہیں، اور وہ ہے فیصلہ ہونا۔ اس ترجمہ کی خوبی یہ ہے کہ یہ ایسے ہر مقام پر بہت اچھی طرح موزوں ہوجاتا ہے، مزید یہ کہ اس ترجمہ سے پوری آیت کا مفہوم اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے۔ ذیل میں مثالوں کے ذریعہ سے یہ بات اور واضح ہوگی:

(۱) وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ نُہْلِكَ قَرْیَۃً أَمَرْنَا مُتْرَفِيْہَا فَفَسَقُوا فِيہَا فَحَقَّ عَلَيْہَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاہَا تَدْمِيرًا۔ (الاسراء: 16)

”جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں، تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہو جاتا ہے اور ہم اسے برباد کر کے رکھ دیتے ہیں“ (سید مودودی)

”تو اس پر بات پوری ہوجاتی ہے“ (احمد رضا خان)

”تو ان پر (عذاب کی) بات ثابت ہوجاتی ہے “(محمد جوناگڈھی)

”پس ان پر بات پوری ہوجاتی ہے “(امین احسن اصلاحی)

”پس اس کے سلسلے میں فیصلہ ہوجاتا ہے “(امانت اللہ اصلاحی)

(۲) وَيَوْمَ يُنَادِیْہِمْ فَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَائِيَ الَّذِينَ كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ (62) قَالَ الَّذِينَ حَقَّ عَلَيْہِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا ھٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَغْوَيْنَا أَغْوَيْنَاھُمْ كَمَا غَوَيْنَا تَبَرَّأْنَا إِلَيْكَ مَا كَانُوا إِيَّانَا يَعْبُدُونَ۔ (القصص: 62 - 63)

”اور (بھول نہ جائیں یہ لوگ) اُس دن کو جب کہ وہ اِن کو پکارے گا اور پوچھے گا ''کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے؟'' یہ قول جن پر چسپاں ہو گا وہ کہیں گے اے ہمارے رب، بے شک یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا، اِنہیں ہم نے اُسی طرح گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے ہم آپ کے سامنے برائت کا اظہار کرتے ہیں یہ ہماری تو بندگی نہیں کرتے تھے“ (سید مودودی)

”کہیں گے وہ جن پر بات ثابت ہوچکی“ (احمد رضا خان)

”(تو) جن لوگوں پر (عذاب کا) حکم ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں گے“ (فتح محمدجالندھری)

جن کے خلاف فیصلہ ہوچکا ہوگا (امانت اللہ اصلاحی)

(۳) وَلَوْ شِئْنَا لَآتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ ھُدَاہَا وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ۔ (السجدہ: 13)

”اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے۔ لیکن میری طرف سے یہ بات قرار پاچکی ہے کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھردوں گا (جالندھری)

مگر میری وہ بات پُوری ہو گئی جو میں نے کہی تھی“ (سید مودودی)

”مگر میری بات قرار پاچکی “(احمد رضا خان)

”مگر میرا فیصلہ ہوچکا ہے “(امانت اللہ اصلاحی)

(۴) لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰی أَكْثَرِہِمْ فَہُمْ لَا يُؤْمِنُونَ۔ (یس: 7)

”بیشک ان میں اکثر پر بات ثابت ہوچکی ہے تو وہ ایمان نہ لائیں گے“ (احمد رضا خان)

”اِن میں سے اکثر لوگ فیصلہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں “(سید مودودی)

”ان میں سے اکثر پر (خدا کی) بات پوری ہوچکی ہے“ (فتح محمدجالندھری)

”ان میں سے اکثر کے خلاف فیصلہ ہوچکا ہے“ (مطلب ان کے ایمان نہ لانے کا فیصلہ ہوچکا ہے، لہذا  

وہ ایمان نہیں لائیں گے، یعنی جو فیصلہ ہوچکا ہے اس کا نتیجہ بھی بیان کردیا) (امانت اللہ اصلاحی)

(۵) فَحَقَّ عَلَيْنَا قَوْلُ رَبِّنَا إِنَّا لَذَائِقُونَ۔ (الصافات: 31)

”آخرکار ہم اپنے رب کے اِس فرمان کے مستحق ہو گئے کہ ہم عذاب کا مزا چکھنے والے ہیں“ (سید مودودی)

”تو ثابت ہوگئی ہم پر ہمارے رب کی بات “(احمد رضا خان)

”سو ہمارے بارے میں ہمارے پروردگار کی بات پوری ہوگئی“ (فتح محمدجالندھری)

”ہمارے خلاف ہمارے رب کا فیصلہ صادر ہوگیا“ (امانت اللہ اصلاحی، آگے فیصلہ کا بیان نہیں بلکہ فیصلہ کے نتیجہ کا بیان ہے)

(۶) أَفَمَنْ حَقَّ عَلَيْہِ كَلِمَۃُ الْعَذَابِ أَفَأَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِي النَّارِ۔ (الزمر: 19)

”بھلا جس شخص پر عذاب کا حکم صادر ہوچکا۔ تو کیا تم (ایسے) دوزخی کو مخلصی دے سکو گے“ (فتح محمدجالندھری)

”جس پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہو چکا ہو“ (سید مودودی)

”جس پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی“ (احمد رضا خان)

”جس کے سلسلے میں عذاب کا فیصلہ ہوچکا “(امانت اللہ اصلاحی) (جو فیصلہ ان کے کرتوتوں کے نتیجے میں ابھی ہوا ہے وہ مراد ہے)

(۷) أُولَئِكَ الَّذِينَ حَقَّ عَلَيْہِمُ الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ إِنَّہُمْ كَانُوا خَاسِرِينَ۔ (الاحقاف:18)

”یہ وہ ہیں جن پر بات ثابت ہوچکی ان گروہوں میں جو ان سے پہلے گزرے جن اور آدمی“ (احمد رضا خان)

”یہ وہ لوگ ہیں جن پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہو چکا ہے“ (سید مودودی)

”وہ لوگ ہیں جن پر (اللہ کے عذاب کا) وعدہ صادق آگیا “(محمد جوناگڈھی)

”یہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی وعید پوری ہوئی“ (امین احسن اصلاحی)

(۸) كَذَلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَی الَّذِينَ فَسَقُوا أَنَّہُمْ لَا يُؤْمِنُونَ۔ (یونس: 33)

”اسی طرح خدا کا ارشاد ان نافرمانوں کے حق میں ثابت ہو کر رہا کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے“(فتح محمدجالندھری)

”اس طرح نافرمانی اختیار کرنے والوں پر تمہارے رب کی بات صادق آ گئی“ (سید مودودی)

”یونہی ثابت ہوچکی ہے تیرے رب کی بات فاسقوں پر“ (احمد رضا خان)

”اس طرح نافرمانی کرنے والوں کے سلسلے میں تیرے رب کا فیصلہ صادر ہوگیا“ (امانت اللہ اصلاحی)

(۹) إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْہِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ (96) وَلَوْ جَاءَتْہُمْ كُلُّ آيَۃٍ حَتّیٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ۔ (یونس: 96، 97)

”بیشک وہ جن پر تیرے رب کی بات ٹھیک پڑچکی ہے ایمان نہ لائیں گےو اگرچہ سب نشانیاں ان کے پاس آئیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں “(احمد رضا خان)

”جن لوگوں پر تیرے رب کا قول راست آگیا ہے“ (سید مودودی)

”جن لوگوں کے بارے میں خدا کا حکم (عذاب) قرار پاچکا ہے“ (فتح محمدجالندھری)

”جن کے سلسلے میں تیرے رب کا فیصلہ ہوچکا ہے“ (امانت اللہ اصلاحی)

(۱۰) وَسِيقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلیٰ جَہَنَّمَ زُمَرًا حَتّیٰ إِذَا جَائوہَا فُتِحَتْ أَبْوَابُہَا وَقَالَ لَہُمْ خَزَنَتُہَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَتْلُونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَذَا قَالُوا بَلٰی وَلَكِنْ حَقَّتْ كَلِمَۃُ الْعَذَابِ عَلَی الْكَافِرِينَ۔ (الزمر: 71)

”اور کافر جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے گروہ گروہ یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے اس کے دروازے کھولے جائیں گے اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے وہ رسول نہ آئے تھے جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن سے ملنے سے ڈراتے تھے، کہیں گے کیوں نہیں مگر عذاب کا قول کافروں پر ٹھیک اترا“(احمد رضا خان)

”مگر عذاب کا فیصلہ کافروں پر چپک گیا“ (سید مودودی)

”لیکن عذاب کا حکم کافروں پرثابت ہو گیا “(محمدجونا گڈھی)

”پر کافروں پر کلمہ عذاب پورا ہوکر رہا “(امین احسن اصلاحی)

(۱۱) وَكَذَلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَی الَّذِينَ كَفَرُوا أنَّہُمْ أَصْحَابُ النَّارِ ۔ (غافر:6)

”اِسی طرح تیرے رب کا یہ فیصلہ بھی اُن سب لوگوں پر چسپاں ہو چکا ہے جو کفر کے مرتکب ہوئے ہیں کہ وہ واصل بجہنم ہونے والے ہیں“ (سید مودودی)

”اور یونہی تمہارے رب کی بات کافروں پر ثابت ہوچکی ہے کہ وہ دوزخی ہیں“ (احمد رضا خان)

”اور اسی طرح کافروں کے بارے میں بھی تمہارے پروردگار کی بات پوری ہوچکی ہے کہ وہ اہل دوزخ ہیں“

 (فتح محمدجالندھری)

”اور اسی طرح تیرے رب کی بات اب لوگوں پر پوری ہوچکی جنھوں نے کفر کیا ہے کہ یہ لوگ دوزخ میں پڑنے والے ہیں“ (امین احسن اصلاحی)

”اور اسی طرح تیرے رب کا فیصلہ ان لوگوں کے سلسلے میں ہوچکا جنھوں نے کفر کیا کہ وہ دوزخی ہیں“(امانت اللہ اصلاحی)

(۱۲) لِيُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَيًّا وَيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَی الْكَافِرِينَ۔ (یس:70)

”تاکہ وہ ہر اُس شخص کو خبردار کر دے جو زندہ ہو اور انکار کرنے والوں پر حجت قائم ہو جائے“ (سید مودودی)

”اور کافروں پر بات ثابت ہوجائے “(احمد رضا خان)

”اور کافروں پر بات پوری ہوجائے “(فتح محمدجالندھری)

”اور کافروں پر حجت ثابت ہو جائے“ (محمدجوناگڈھی)

”اور کافروں پر حجت تمام ہوجائے“ (امین احسن اصلاحی)

”اور کافروں کے سلسلے میں فیصلہ ہوجائے“ (امانت اللہ اصلاحی)

(۱۳) وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْہِمْ بِمَا ظَلَمُوا فَہُمْ لَا يَنْطِقُونَ۔ (النمل: 85)

”اور ان پر بات پوری ہوجائے گی بوجہ اس کے کہ انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے، پس وہ کچھ نہ بول سکیں گے“ (امین احسن اصلاحی)

”ان پر بات جم جائے گی“ (محمدجوناگڈھی)

”عذاب کا وعدہ ان پر پورا ہو جائے گا“ (سید مودودی)

”اور بات پڑچکی ان پر “ (احمد رضا خان)

”اور ان کے خلاف فیصلہ ہوگیا “(امانت اللہ اصلاحی)

(۱۴) وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْہِمْ أخْرَجْنَا لَہُمْ دَابَّۃً مِنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُہُمْ أنَّ النَّاسَ كَانُوا بِآيَاتِنَا لَا يُوقِنُونَ۔ (النمل: 82)

”اور جب ان پر بات پوری ہوجائے گی تو ہم ان کے لئے زمین سے کوئی جانور نکال کھڑا کریں گے جو ان کو بتائے گا کہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں رکھتے تھے“ (امین احسن اصلاحی، کوئی جانور نہیں بلکہ ایک جانور کہنا درست ہے)

”اور جب بات ان پر آپڑے گی “(احمد رضا خان)

”اور جب ہماری بات پُوری ہونے کا وقت اُن پر آ پہنچے گا“ (سید مودودی)

”اور جب ان کا فیصلہ ہوجائے گا“ (امانت اللہ اصلاحی)

(۱۵) قُلْنَا احْمِلْ فِيہَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأھْلَكَ إِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْہِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ۔ (ھود: 40)

”ہم نے اس کو کہا کہ ہر چیز میں سے نرو مادہ دونوں کو اور اپنے اہل وعیال کو، بجز ان کے جن پر حکم نافذ ہوچکا ہے، اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اس کشتی میں سوار کرلو“ (امین احسن اصلاحی)

”اور جن پر بات پڑچکی ہے ان کے سوا“ (احمد رضا خان)

”سوائے اُن اشخاص کے جن کی نشان دہی پہلے کی جا چکی ہے“ (سید مودودی)

”جن کے خلاف فیصلہ ہوچکا ہے “(امانت اللہ اصلاحی)

(۱۶) فَاسْلُكْ فِيہَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأھْلَكَ إِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْہِ الْقَوْلُ مِنْہُمْ۔ (المومنون: 27)

”تو اس میں ہر چیز کے جوڑے رکھ لو اور اپنے لوگوں کو بھی سوار کرالو، بجز ان کے جن کے بارے میں قول فیصل ہوچکا ہے“ (امین احسن اصلاحی)

”وہ جن پر بات پہلے پڑچکی “(احمد رضا خان)

”جن کے خلاف پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے “(سید مودودی)

حق القول اور وقع القول ہم معنی الفاظ ہیں، فیروزابادی کے الفاظ میں:

والاَمرُ یَحُقُّ ویَحِقُّ حَقَّۃً، بالفتح: وجَبَ ووَقَعَ بلا شَکٍ۔ (القاموس المحیط)

القول میں معنی کے لحاظ سے بڑی وسعت ہے، بات، وعدہ، حکم اور فیصلہ وغیرہ وہ سب مفہوم اس میں آسکتے ہیں، جن کا تعلق قول سے ہوتا ہے، ایسی صورت میں سیاق کلام کی مدد سے مناسب مفہوم کا تعین کیا جاتا ہے، مذکورہ بالا تمام آیتوں میں القول اور کلمة سے مراد اگر فیصلہ لیں، تو بات سیاق کلام کے مطابق ہوتی ہے، مفہوم بہت واضح ہوکر سامنے آتا ہے، اور کسی تاویل کی ضرورت نہیں رہتی ہے۔ اس صورت میں حق القول کا مطلب ہوگا فیصلہ ہوجانا۔ یہی مطلب وقع القول کا ہوگا، جبکہ سبق القول کا مطلب ہوگا پہلے سے فیصلہ ہوجانا۔

بعض حضرات مذکورہ بالا آیتوں میں قول اور کلمة سے مراد وہ بات لیتے ہیں جو اللہ تعالی نے ابلیس سے کہی تھی۔ لیکن وہ بات تمام مقامات پر فٹ نہیں ہوتی ہے۔ اس کے بجائے یہ بات زیادہ مناسب ہے کہ  نافرمانوں کی بدعملی کی پاداش میں اللہ کی طرف سے جو فیصلہ ہوتا ہے، وہ فیصلہ مراد ہے۔

(جاری)

قرآن / علوم قرآن

(مئی ۲۰۱۸ء)

Flag Counter