اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۶۶)

ڈاکٹر محی الدین غازی

سورة سبا کے بعض مقامات کا ترجمہ

(۲٠۳)    یُخلِفُہُ کا ترجمہ

اخلف کا ایک مطلب ہوتا ہے کوئی چیز ختم ہوگئی ہو تو اس کی جگہ دوسری چیز لے آنا، امام لغت جوہری کے الفاظ میں: واَخلَفَ فلان  لنفسہ، اذا کان قد ذھب لہ شیءفجعل مکانَہ آخر (الصحاح) اس معنی میں یہ لفظ قرآن مجید میں ایک آیت میں آیا ہے، لیکن بہت سے مترجمین سے یہاں غلطی ہوئی اور انھوں نے بدل کے بجائے بدلے کا ترجمہ کردیا۔ اس غلطی کی وجہ غالبا یہ ہوئی کہ اسی جملے میں انفاق کا ذکر آیا ہے جس سے انھوں نے راہ خدا میں خرچ کرنا سمجھ لیا۔ دراصل جیسا کہ سیاق سے صاف معلوم ہوتا ہے یہ آیت راہ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب کے لیے نہیں آئی ہے، بلکہ اس دنیا میں اللہ کی رازقیت بتانے کے لیے آئی ہے، اور یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کے رزق کا سلسلہ انسانوں کے لیے تاحیات جاری رہتا ہے۔ جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے وہ خرچ کرتے ہیں اوراللہ تعالی اس کی جگہ اس کا بدل عطا کرتا ہے، اور یہ سلسلہ زندگی بھر جاری رہتا ہے۔ اسی طریقے سے دنیا میں انسانوں کی زندگی گزر رہی ہے۔ فھو یخلفہ مستقبل کا کوئی وعدہ نہیں ہے بلکہ اللہ تعالی کی جاری سنت کا بیان ہے۔اس وضاحت کے بعد حسب ذیل آیت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

 قُل اِنَّ رَبِّی یَبسُطُ الرِّزقَ لِمَن یَشَاء مِن عِبَادِہِ وَیَقدِرُ لَہُ وَمَا اَنفَقتُم مِن شَیئٍ فَھُوَ یُخلِفُہُ وَھُوَ خَیرُ الرَّازِقِینَ۔ (سبا: 39)

“اے نبی، ان سے کہو،میرا رب اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے کھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا دیتا ہے، جو کچھ تم خرچ کر دیتے ہو اُس کی جگہ وہی تم کو اور دیتا ہے، وہ سب رازقوں سے بہتر رازق ہے” ۔(سید مودودی، یہ زیر بحث جملے کا درست ترجمہ ہے، البتہ خیر الرازقین کا صحیح ترجمہ ہے: وہ بہترین رازق ہے، کیوں رازق اس کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے، وہی تنہا رازق ہے اور بہترین رازق ہے۔ )

وَمَا اَنفَقتُم مِن شَیئٍ فَھُوَ یُخلِفُہُ کے درج ذیل ترجمے درست نہیں ہیں:

“اور جو کوئی چیز بھی تم خرچ کروگے تو وہ اس کا بدلہ دے گا”۔ (امین احسن اصلاحی)

“اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور دے گا ”۔(احمد رضا خان)

“اور تم جو چیز خرچ کرو گے وہ اس کا (تمہیں) عوض دے گا”۔ (فتح محمد جالندھری)

“تم جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اللہ اس کا (پورا پورا) بدلہ دے گا”۔ (محمد جوناگڑھی)

“اور جو کچھ تم (راہِ خدا میں) خرچ کرتے ہو تو وہ اس کی جگہ عطا کرتا ہے”۔ (محمد حسین نجفی)

(۲٠۴)    مَا بَینَ اَیدِیہِم وَمَا خَلفَہُم  کا ترجمہ:

 اَفَلَم یَرَوا اِلَی مَا بَینَ ایدِیہِم وَمَا خَلفَہُم مِنَ السَّمَاء وَالاَرضِ۔ (سبا: 9)

“کیا اِنہوں نے کبھی اُس آسمان و زمین کو نہیں دیکھا جو اِنہیں آگے اور پیچھے سے گھیرے ہوئے ہے؟” (سید مودودی)

اس ترجمے میں ”گھیرے ہوئے” لفظ پر غیر ضروری اضافہ ہے اور درست نہیں ہے، اگر آسمان وزمین کے گھیرنے کی بات ہوتی تو اوپر اور نیچے آتا، یہاں تو صرف دیکھنے کی بات ہے، درج ذیل ترجمہ درست ہے:

“کیا انھوں نے اپنے آگے اور پیچھے آسمان وزمین پر نظر نہیں ڈالی؟”۔ (امین احسن اصلاحی)

(۲٠۵)    لَیَالِیَ وَاَیَّامًا کا ترجمہ

قرآن مجید میں کسی کام کو رات میں کرنے کے لیے لیل آتا ہے، جمع کے صیغے میں لَیَالِی بس وہیں آتا ہے جہاں تعداد بھی ذکر ہو، البتہ درج ذیل آیت میں جمع کے صیغے میں لَیَالِیَ وَاَیَّامًا آیا ہے، عام طور سے ترجموں میں اس خاص اسلوب کی رعایت نہیں نظر آتی ہے۔ اور رات دن کا ترجمہ کردیا جاتا ہے، درج ذیل ترجمے ملاحظہ کریں:

 وَجَعَلنَا بَینَہُم وَبَینَ القُرَی الَّتِی بَارَکنَا فِیہَا قُرًی ظَاھِرَةً وَقَدَّرنَا فِیہَا السَّیرَ سِیرُوا فِیہَا لَیَالِیَ وَایَّامًا آمِنِینَ۔ (سبا: 18)

“اور ہم نے اُن کے اور اُن بستیوں کے درمیان، جن کو ہم نے برکت عطا کی تھی، نمایاں بستیاں بسا دی تھیں اور اُن میں سفر کی مسافتیں ایک اندازے پر رکھ دی تھیں چلو پھرو اِن راستوں میں رات دن پورے امن کے ساتھ”۔ (سید مودودی)

“اور ہم نے ان کے اور (شام کی) ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی (ایک دوسرے کے متصل) دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمد ورفت کا اندازہ مقرر کردیا تھا کہ رات دن بے خوف وخطر چلتے رہو”۔ (فتح محمد جالندھری)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے ہے کہ لَیَالِیَ وَاَیَّامًا کا “کئی کئی رات اور دن” ترجمہ ہونا چاہیے۔ یعنی اللہ تعالی نے پرامن راستوں کا بہت لمبی مسافت کے لیے انتظام کیا تھا۔

(۲٠۶)    لفظ کے عمومی وسیع معنی کو محدود نہیں کیا جائے

درج ذیل آیت کے ترجمے ملاحظہ کریں:

وَلَا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ عِندَہُ اِلَّا لِمَن اَذِنَ لَہُ حَتَّی اِذَا فُزِّعَ عَن قُلُوبِہِم قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّکُم قَالُوا الحَقَّ وَہُوَ العَلِیُّ الکَبِیرُ ۔ (سبا: 23)

“شفاعت (سفارش) بھی اس کے پاس کچھ نفع نہیں دیتی بجز ان کے جن کے لیے اجازت ہوجائے۔ یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے تو پوچھتے ہیں تمہارے پرودگار نے کیا فرمایا؟ جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا اور وہ بلند وبالا اور بہت بڑا ہے”۔ (محمد جوناگڑھی، اس ترجمہ میں الفاظ کے عموم کی پوری رعایت کی گئی ہے، اور ترجمے میں کسی اضافے سے مفہوم کو محدود نہیں کیا گیا)

“اور اس کے پاس شفاعت کام نہیں دیتی مگر جس کے لیے وہ اذن فرمائے، یہاں تک کہ جب اذن دے کر ان کے دلوں کی گھبراہٹ دور فرمادی جاتی ہے، ایک دوسرے سے کہتے ہیں تمہارے رب نے کیا ہی بات فرمائی، وہ کہتے ہیں جو فرمایا حق فرمایا اور وہی ہے بلند بڑائی والا”۔ (احمد رضا خان، اس ترجمے میں جب “اذن دے کر” کے اضافے سے اس جملے کے مفہوم کو محدود کردیا جو مناسب نہیں ہے، ویسے بھی آیت میں اذن دے دیے جانے کا تو تذکرہ نہیں ہے، اور اس اذن سے سب کی گھبراہٹ کیوں دور ہوگی؟)

“اور اللہ کے حضور کوئی شفاعت بھی کسی کے لیے نافع نہیں ہو سکتی بجز اُس شخص کے جس کے لیے اللہ نے سفارش کی اجازت دی ہو حتیٰ کہ جب لوگوں کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہو گی تو وہ (سفارش کرنے والوں سے) پوچھیں گے کہ تمہارے رب نے کیا جواب دیا، وہ کہیں گے کہ ٹھیک جواب ملا ہے اور وہ بزرگ و برتر ہے”۔ (سید مودودی)

اس آخری ترجمے میں ایک توجہ طلب بات تویہ ہے کہ اذا والے جملے کا مستقبل سے ترجمہ کیا گیا ہے جب کہ جس جملے پر اذا داخل ہو اس کا ترجمہ مستقبل سے کرنا مناسب نہیں ہے، دوسری توجہ طلب بات یہ ہے کہ “سفارش کرنے والوں سے” ترجمہ کا اضافہ ہے جو مفہوم کو محدود کرتا ہے اور درست نہیں ہے، عمومی بات ہے کہ وہ کہیں گے، تیسری توجہ طلب بات یہ ہے کہ “کیاجواب دیا اور جواب ملا” لفظ قال کے عموم کو محدود کردیتا ہے، “کیا کہا اور ٹھیک کہا” ترجمہ کرنا مناسب ہے۔ یہ درست ہے کہ آیت کے شروع میں شفاعت کی نفی اور استثناءکا ذکر ہے، لیکن پوری آیت کو شفاعت ہی کے پس منظر میں رکھ کر سمجھنا اور ترجمہ کرنا درست نہیں ہے۔ عمومی بات ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے پوچھیں گے کہ رب کا کیا فیصلہ آیا ہے اور گواہی بھی دیں گے کہ رب کا فیصلہ تو حق ہے۔

(۲٠۷)    راسیات کا ترجمہ

رسا یرسو کا مطلب ہوتا ہے جم جانا، امام لغت جوہری کے الفاظ میں: رسا الشیء یرسو: ثبت. وجبال راسِیات. ورَسَت اقدامہم فی الحرب، ای ثبتت. ورَسَتِ السفینة ترسوا رسوا، ای وقفت علی اللنجر۔ (الصحاح)

قرآن مجید میں پہاڑوں کی صفت رواسی کئی جگہ آئی ہے، اور پہاڑوں کو زمین میں جمانے کے لیے ارساھا کا لفظ بھی آیا ہے، اس لفظ کا اصل مطلب جم جانا ہے، البتہ کشتیوں کے لنگرانداز ہونے کے لیے بھی یہ استعمال ہوتا ہے، قرآن مجید میں ایک مقام پر دیگوں کی صفت کے طور پر یہ لفظ آیا ہے، بعض لوگوں نے اس کا ترجمہ بھی لنگر انداز کردیا ہے:

وَقُدُورٍ رَاسِیَاتٍ۔ (سبا: 13)

“اور لنگر انداز دیگیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

“اور لنگردار دیگیں”۔ (احمد رضا خان)

“اور چولہوں پر جمی ہوئی مضبوط دیگیں”۔ (محمد جوناگڑھی)

“اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بھاری دیگیں”۔ (سید مودودی)

“اپنی جگہ جمی رہنے والی دیگیں”۔ (امانت اللہ اصلاحی)

“اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی رہیں”۔(فتح محمد جالندھری، ایک جگہ رکھی رہنا ایک دوسری بات ہے جو اس لفظ سے ظاہر نہیں ہوتی ہے)

(۲٠۸)    فزعوا کا ترجمہ

وَلَو تَرَی اِذ فَزِعُوا۔ (سبا: 51)

اس جملے کے ترجموں میں ایک غلطی یہ ہوئی ہے کہ لو کا ترجمہ کاش کیا ہے، ایک تو یہ لفظ اللہ تعالی کی شان کے مطابق نہیں ہے، دوسرے یہ کہ یہ تو مستقبل کی بات ہے اس لیے کاش کا یہ محل بھی نہیں ہے۔ دوسری توجہ طلب بات یہ ہے کہ بعض لوگوں نے گھبرائے پھریں ترجمہ کیا ہے،’ پھریں ‘کا اضافہ غیر ضروری اور نادرست ہے۔ درج ذیل ترجمے دیکھیں:

“اور اگر تم دیکھ پاتے جب ان پر گھبراہٹ طاری ہوگی”۔ (امین احسن اصلاحی)

“اور کسی طرح تو دیکھے جب وہ گھبراہٹ میں ڈالے جائیں گے”۔ (احمد رضا خان)

“اور کاش تم دیکھو جب یہ گھبرا جائیں گے”۔ (فتح محمد جالندھری)

“اور اگر آپ (وہ وقت) ملاحظہ کریں جب کہ یہ کفار گھبرائے پھریں گے”۔ (محمد جوناگڑھی)

“کاش تم دیکھو اِنہیں اُس وقت جب یہ لوگ گھبرائے پھر رہے ہوں گے”۔ (سید مودودی)

ان میں پہلا ترجمہ مذکورہ بالا دونوں پہلووں سے درست ہے۔

(۲٠۹)    یَقذِفُونَ بِالغَیبِ مِن مَکَانٍ بَعِیدٍ کا ترجمہ:

وَقَد کَفَرُوا بِہِ مِن قَبلُ وَیَقذِفُونَ بِالغَیبِ مِن مَکَانٍ بَعِیدٍ۔ (سبا: 53)

“اِس سے پہلے یہ کفر کر چکے تھے اور بلا تحقیق دور دور کی کوڑیاں لایا کرتے تھے”۔ (سید مودودی)

“اور پہلے تو اس سے انکار کرتے رہے اور بن دیکھے دور ہی سے (ظن کے) تیر چلاتے رہے”۔ (فتح محمد جالندھری)

“اس سے پہلے تو انہوں نے اس سے کفر کیا تھا، اور دور دراز سے بن دیکھے ہی پھینکتے رہے”۔ (محمد جوناگڑھی)

“حالانکہ اس سے پہلے تو وہ اس (ایمان) کا انکار کرتے رہے اور (بلاتحقیق) بہت دور سے اَٹکَل کے تُکے چلاتے رہے”۔(محمد حسین نجفی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ تجویز کرتے ہیں: “اور غیب کے بارے میں دور سے باتیں چھانٹتے تھے”۔

قدیم مفسرین نے اس آیت کا ایک مصداق یہ ذکر کیا کہ وہ لوگ جو اللہ کے رسول پر شاعر کاہن اور ساحر ہونے کا الزام لگاتے تھے وہ یہاں مراد ہے، لیکن لفظ بالغیب سے اس قول کی تائید نہیں ہوتی بلکہ آخرت کے سلسلے میں جو وہ اٹکل بازی کرتے تھے وہ مراد ہے،اور یہ قول بھی قدیم مفسرین کے یہاں ملتا ہے۔ (ملاحظہ ہو تفسیر الطبری)

(۲۱٠)    فھو لکم کا ترجمہ

قُل مَا سَالتُکُم مِن اَجرٍ فَہُوَ لَکُم اِن اَجرِیَ اِلَّا عَلَی اللَّہِ۔ (سبا: 47)

درج ذیل ترجمے ملاحظہ کریں:

“کہو میں نے تم سے کوئی اجر مانگا ہے تو تمہارے ہی لیے مانگا ہے، میرا اجر تو بس اللہ پر ہے”۔ (امین احسن اصلاحی)

“کہہ دیجیے! کہ جو بدلہ میں تم سے مانگوں وہ تمہارے لیے ہے میرا بدلہ تو اللہ تعالیٰ ہی کے ذمے ہے”۔(محمد جوناگڑھی)

“کہہ دیجئے! میں نے (تبلیغِ رسالت(ص) کے سلسلہ میں) تم سے جو اجر مانگا ہے وہ تمہارے ہی (فائدہ کے) لیے ہے میری اجرت تو بس اللہ کے ذمہ ہے”۔ (محمد حسین نجفی)

ان ترجموں سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے واقعی ان لوگوں سے اجر کے نام پر کچھ مانگا تھا، حالانکہ اس آیت میں رسول سے جنھیں خطاب کرنے کو کہا ہے وہ تو مکہ کے منکرین اور مکذبین ہیں، ان سے کچھ مانگنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، چاہے وہ انہی کے فائدے کے لیے ہو، اس لیے مذکورہ بالا ترجمے درست نہیں ہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ ان منکرین ومکذبین کے جھوٹے الزام کی سخت تردید ہے، کہ میں نے تو تم سے کچھ مانگا ہی نہیں، اور اگر تم الزام لگاتے ہو کہ میں نے تم سے کچھ مانگا ہے تو اب علی الاعلان سن لو کہ جو تمہارے پاس ہے وہ اپنے پاس ہی رکھو، مجھے تم سے کچھ نہیں لینا ہے۔ یہ اعلان ان کے الزام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے کافی ہے۔ اس وضاحت کی روشنی میں درج ذیل ترجمے درست ہیں:

“اِن سے کہو، اگر میں نے تم سے کوئی اجر مانگا ہے تو وہ تم ہی کو مبارک رہے میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے”۔ (سید مودودی)

“کہو میں نے تم سے کوئی اجر مانگا ہو تو تم اسے اپنے ہی پاس رکھو ،میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے ”۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(۲۱۱)    نکیر کا ترجمہ:

نکیر کا لفظ قرآن مجید میں بار بار آیا ہے، عربی میں نکیر اور انکار ہم معنی الفاظ ہیں، لیکن یہاں یاد رہنا چاہیے کہ عربی کے اس انکار اور اردو میں رائج انکار میں فرق ہے۔ عربی میں نکیر جس انکار کا ہم معنی ہے اس کا مطلب ہے کسی چیز کو ناپسندیدہ قرار دینا، علامہ طاہر بن عاشور ایک جگہ لکھتے ہیں: والنکیر: اسم للانکار وھو عد الشیء منکرا، ای مکروھا۔ (التحریر والتنویر)

دوسری جگہ مزید وضاحت کرتے ہیں: والنکیر: اسم لشدة الانکار، وھو ھنا کنایة عن شدة العقاب لان الانکار یستلزم الجزاء علی الفعل المنکر بالعقاب. (التحریر والتنویر)

گویا کسی چیز پر شدید اظہار ناپسندیدگی کو نکیر کہتے ہیں، جس کے نتیجے میں سخت گرفت بھی ہوتی ہے۔ قرآن مجید کی مختلف آیتوں کا ترجمہ کرتے ہوئے نکیر کا ترجمہ لوگوں نے سزا اور عذاب کیا ہے، یہ نکیر کا نتیجہ تو ہوسکتا ہے، لیکن لفظ کی حقیقی ترجمانی نہیں ہے، پھٹکار بھی اس کا ترجمہ کیا گیا ہے، لیکن یہ بھی اس لفظ کا صحیح مفہوم پیش نہیں کرتا، اس کا ترجمہ انکار بھی کیا گیا ہے، لیکن جیسا کہ پہلے عرض کیا اردو کا انکار عربی کے انکار کا ہم معنی نہیں ہے، خاص طور سے نکیر کا مفہوم بتانے کے لیے، مولانا امانت اللہ اصلاحی نکیر کا ترجمہ تجویز کرتے ہیں “اظہار ناگواری”۔ اس وضاحت کے بعد درج ذیل آیتوں کے ترجمے ملاحظہ کریں:

وَکَذَّبَ الَّذِینَ مِن قَبلِہِم وَمَا بَلَغُوا مِعشَارَ مَا آتَینَاھُم فَکَذَّبُوا رُسُلِی فَکَیفَ کَانَ نَکِیرِ۔ (سبا: 45)

“اور ان سے پہلے والوں نے بھی جھٹلایا۔ اور یہ تو اس کے عشر عشیر کو بھی نہ پہنچے جو ہم نے ان کو دیا تو انھوں نے میرے رسولوں کی تکذیب کی تو دیکھو کیسی ہوئی ان پر میری پھٹکار”۔ (امین احسن اصلاحی)

“تو دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی”۔ (سید مودودی)

“تو کیسا ہوا میرا انکار کرنا”۔ (احمد رضا خان)

“سو میرا عذاب کیسا ہوا”۔ (فتح محمد جالندھری)

“ (پھر دیکھ کہ) میرا عذاب کیسا (سخت) تھا”۔ (محمد جوناگڑھی)

“تو کیسا ہوا میرا اظہار ناگواری”۔ (امانت اللہ اصلاحی)

فَاَملَیتُ لِلکَافِرِینَ ثُمَّ اَخَذتُہُم فَکَیفَ کَانَ نَکِیرِ۔ (الحج: 44)

“تو میں نے کافرو ں کو ڈھیل دی پھر انہیں پکڑا تو کیسا ہوا میرا عذاب”۔ (احمد رضا خان)

“ ان سب منکرینِ حق کو میں نے پہلے مُہلت دی، پھر پکڑ لیا اب دیکھ لو کہ میری عقوبت کیسی تھی”۔ (سید مودودی)

“تو میں نے ان کافروں کو ڈھیل دی، پھر ان کو دھرلیا تو دیکھو کیسی ہوئی میری پھٹکار”۔ (امین احسن اصلاحی)

“تو کیسا ہوا میرا اظہار ناگواری”۔ (امانت اللہ اصلاحی)

 ثُمَّ اَخَذتُ الَّذِینَ کَفَرُوا فَکَیفَ کَانَ نَکِیرِ۔ (فاطر: 26)

“پھر میں نے کافروں کو پکڑا تو کیسا ہوا میرا انکار”۔ (احمد رضا خان)

“پھر میں نے کافروں کو پکڑ لیا سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب کیسا ہوا”۔ (فتح محمد جالندھری)

“پھر میں نے ان لوگوں کو پکڑا تو دیکھو کیسی ہوئی ان کے اوپر میری پھٹکار”۔ (امین احسن اصلاحی)

“تو کیسا ہوا میرا اظہار ناگواری”۔ (امانت اللہ اصلاحی)

وَلَقَد کَذَّبَ الَّذِینَ مِن قَبلِہِم فَکَیفَ کَانَ نَکِیرِ۔ (الملک: 18)

“اِن سے پہلے گزرے ہوئے لوگ جھٹلا چکے ہیں پھر دیکھ لو کہ میری گرفت کیسی سخت تھی”۔ (سید مودودی)

“اور بیشک ان سے اگلوں نے جھٹلایا تو کیسا ہوا میرا انکار”۔ (احمد رضا خان)

“اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی جھٹلایا تھا سو (دیکھ لو کہ) میرا کیسا عذاب ہوا”۔ (فتح محمد جالندھری)

“اور ان لوگوں نے بھی جھٹلایا جو ان سے پہلے گزرے تو دیکھو کیسی ہوئی ان پر میری پھٹکار”۔ (امین احسن اصلاحی)

“تو کیسا ہوا میرا اظہار ناگواری”۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(۲۱۲)    وما لکم من نکیر کا ترجمہ:

اوپر کی آیتوں میں تو نکیر کی اضافت اللہ کی طرف ہے، اور ان سب آیتوں میں نکیر کا ایک ہی مفہوم ہے، البتہ درج ذیل آیت میں قیامت کے دن انسانوں سے نکیر کی نفی کی گئی ہے، یہاں نکیر کا مفہوم طے کرنے میں لوگوں میں اختلاف ہوا، اوپر کی آیتوں میں جن لوگوں نے نکیر کا ترجمہ سزا یا عذاب کیا تھا وہ بھی یہاں کچھ اور ترجمہ تلاش کرنے پر مجبور ہوئے، لیکن عام طور سے یہ ترجمے اس لفظ کا اطمینان بخش مفہوم نہیں پیش کرتے، مولانا امانت اللہ اصلاحی یہاں بھی “اظہار ناگواری” ترجمہ کرتے ہیں، ترجمے ملاحظہ کریں:

 استَجِیبُوا لِرَبِّکُم مِن قَبلِ ان یَاتِیَ یَوم لَا مَرَدَّ لَہُ مِنَ اللَّہِ مَا لَکُم مِن مَلجَاٍ یَومَئِذٍ وَمَا لَکُم مِن نَکِیرٍ۔ (الشوری: 47)

“اپنے رب کا حکم مان لو اس سے پہلے کہ اللہ کی جانب سے وہ دن آجائے جس کا ہٹ جانا ناممکن ہے، تمہیں اس روز نہ تو کوئی پناہ کی جگہ ملے گی نہ چھپ کر انجان بن جانے کی”۔ (محمد جوناگڑھی)

“اور نہ کوئی تمہارے حال کو بدلنے کی کوشش کرنے والا ہو گا”۔ (سید مودودی)

“اور نہ تمہیں انکار کرتے بنے”۔ (احمد رضا خان)

“اور نہ تم سے گناہوں کا انکار ہی بن پڑے گا”۔ (فتح محمد جالندھری)

“اور نہ تم کسی چیز کو رد کرسکو گے”۔ (امین احسن اصلاحی)

“اور نہ تمہارے لیے اظہار ناگواری کا موقع ہوگا”۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(جاری)

قرآن / علوم قرآن