اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۵۱)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

تعجیل اور استعجال میں فرق

وَلَو یُعَجِّلُ اللّہُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ استِعجَالَہُم بِالخَیرِ لَقُضِیَ الَییہِم اَجَلُہُم۔ (یونس: 11)

’’اگر اللہ لوگوں کے لیے عذاب کے معاملے میں ویسی ہی سبقت کرنے والا ہوتا جس طرح وہ ان کے ساتھ رحمت میں سبقت کرتا ہے تو ان کی مدت تمام کردی گئی ہوتی”۔ (امین احسن اصلاحی)

آیت مذکورہ کے اس ترجمے میں صاحب تدبر نے تعجیل اور استعجال دونوں کا ایک ہی ترجمہ کردیا ہے۔ جبکہ قرآن مجید کے دیگر تمام مقامات پر انہوں نے دونوں کے درمیان فرق کا پورا لحاظ کیا ہے۔ قرآنی استعمالات کے مطابق تعجیل کا مطلب کام کو جلدی کرنا اور استعجال کا مطلب ہے کام کی جلدی کرنا، جلدی مچانا، اور کام جلد ہوجانے کی طلب کرنا۔ اس فرق کو سامنے رکھیں تو مذکورہ بالا ترجمہ درست نہیں رہ جاتا ہے۔

اس ترجمے کے غلط ہونے کی ایک اور بڑی وجہ ہے، اور وہ یہ کہ اس میں استعجالھم میں ھم ضمیر کو فاعل کی ضمیر ماننے کے بجائے مفعول کی ضمیر مانا گیا ہے، جبکہ قاعدہ یہ ہے کہ جس شخص سے جلدی کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے وہ استعجال کا مفعول بہ ہوتا ہے، یا جس چیز کا استعجال کیا جاتا ہے وہ مفعول بہ ہوتا ہے یا اس پر باءداخل ہوتا ہے جو مذکورہ بالا آیت میں الخیر پر داخل ہے۔ جیسے اتی امر اللہ فلا تستعجلوہ اور ویستعجلونک بالعذاب پہلی مثال میں مفعول بہ وہ ہے جس کی جلدی کی جارہی ہے اور دوسری مثال میں مفعول بہ وہ ہے جس سے جلدی کا مطالبہ کیا جارہا ہے، اور جس چیز کی جلدی کی جارہی ہے اس پر باءداخل ہے، الغرض جس کے سلسلے میں استعجال کیا جاتا ہے وہ مفعول بہ نہیں ہوتا ہے، بلکہ اس پر لام داخل ہوتا ہے، یعنی یہ کہنے کے لیے کہ زید نے عمرو کے لیے خیر کی جلدی کی، استعجل زید عمروا الخیر یا بالخیر کہنا درست نہیں ہوگا ،اس کے بجائے استعجل زید لعمرو بالخیر کہا جائے گا۔ یہاں صاحب ترجمہ نے عام ترجموں سے ہٹ کر استعجال کو فاعل کے بجائے مفعول کی طرف مضاف مانتے ہوئے ترجمہ کیا ہے، تاہم یہ بات وہ ملحوظ نہیں رکھ سکے کہ استعجال کا فعل اس مفہوم کے ساتھ اپنے مفعول کی طرف مضاف ہو ہی نہیں سکتا ہے۔ غرض صحیح توجیہ یہی ہے کہ استعجال کو فاعل کی ضمیر کی طرف مضاف مانا جائے، اور اس طرح درست ترجمہ وہی ہے جو عام طور سے لوگ کرتے ہیں، ازراہِ مثال کچھ ترجمے ذیل میں ذکر کیے جاتے ہیں: 

’’اگر کہیں اللہ لوگوں کے ساتھ برا معاملہ کرنے میں بھی اتنی ہی جلدی کرتا جتنی وہ دنیا کی بھلائی مانگنے میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی مہلت عمل کبھی کی ختم کر دی گئی ہوتی”۔ (سید مودودی)

’’اور اگر اللہ لوگوں پر برائی ایسی جلد بھیجتا جیسی وہ بھلائی کی جلدی کرتے ہیں تو ان کا وعدہ پورا ہوچکا ہوتا”۔(احمد رضا خان)

’’اور اگر خدا لوگوں کی برائی میں جلدی کرتا جس طرح وہ طلب خیر میں جلدی کرتے ہیں۔ تو ان کی (عمر کی) میعاد پوری ہوچکی ہوتی”۔ (فتح محمد جالندھری)

مولانا امانت اللہ اصلاحی اس آیت کے معروف ترجمے میں ایک اور اہم اضافہ کرتے ہیں، ان کا تجویز کردہ ترجمہ ملاحظہ ہو:

’’اگر اللہ لوگوں کے لیے عذاب کے معاملے میں ویسی ہی جلدی کرتا جس طرح یہ اس کے لیے جلدی مچاتے ہیں جیسے خیر کے لیے مچارہے ہوں تو ان کی مدت تمام کردی گئی ہوتی”۔ (امانت اللہ اصلاحی)

گویا اس میں ایک تشبیہ مضمر ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ یہاں ان کی خیر کے لیے جلدی مچانے کی بات نہیں ہے بلکہ اس جلدی کی بات ہے جو وہ لوگ شر یعنی عذاب کے لیے اس طرح کررہے ہیں جیسے کہ وہ خیر کے لیے جلدی کررہے ہوں، جسے ایک دوسرے مقام پر کہا گیا:

ویدع الانسان بالشر دعاءہ بالخیر۔ (سورة الاسراء: ۱۱)

تشبیہ مرکب کا ترجمہ

تشبیہ مرکب کو تشبیہ تمثیل بھی کہتے ہیں، اس میں مشبہ بہ کوئی ایک چیز نہیں بلکہ مذکور تمام چیزوں سے مل کر ایک مکمل صورت حال ہوتی ہے۔

 قرآن مجید میں اس تشبیہ کا استعمال کئی جگہ ہوا ہے، ایسے مقامات پر بعض لوگوں سے ترجمہ کرتے ہوئے کبھی کبھی تشبیہ مرکب کے بجائے تشبیہ بسیط کا ترجمہ ہوجاتا ہے۔ درج ذیل مثالوں سے بات واضح ہوجائے گی۔

(۱) انَّمَا مَثَلُ الحَیَاۃ الدُّنیَا کَمَاء اَنزَلنَاہُ مِنَ السَّمَاءِ فَاختَلَطَ بِہِ نَبَاتُ الاَرضِ مِمَّا یَاکُلُ النَّاسُ وَالاَنعَامُ حَتَّیَ اذَا اَخَذَتِ الاَرضُ زُخرُفَہَا وَازَّیَّنَت وَظَنَّ اَہلُہَا اَنَّہُم قَادِرُونَ عَلَیَا اَتَاہَا اَمرُنَا لَیلاً اَو نَہَاراً فَجَعَلنَاہَا حَصِیداً کَاَن لَّم تَغنَ بِالاَمسِ کَذَلِکَ نُفَصِّلُ الآیَاتِ لِقَومٍ یَتَفَکَّرُونَ۔ (یونس: 24)

زمخشری اس تشبیہ کے بارے میں لکھتے ہیں:

ھذا من التشبیہ المرکب، شبہت حال الدنیا فی سرعۃ تقضیھا وانقراض نعیمھا بعد الاقبال، بحال نبات الارض فی جفافہ وذھابہ حطاماً بعد ما التف ونکائف، وزین الارض بخضرتہ ورفیفہ  فَاختَلَطَ بہِ فاشتبک بسببہ حتی خالط بعضہ بعضاً۔ (تفسیر الزمخشری)

آیت مذکورہ کے ترجمے ملاحظہ کریں؛

’’دنیا کی یہ زندگی (جس کے نشے میں مست ہو کر تم ہماری نشانیوں سے غفلت برت رہے ہو) اس کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے ہم نے پانی برسایا تو زمین کی پیداوار، جسے آدمی اور جانور سب کھاتے ہیں، خوب گھنی ہو گئی، پھر عین اُس وقت جبکہ زمین اپنی بہار پر تھی اور کھیتیاں بنی سنوری کھڑی تھیں اور ان کے مالک یہ سمجھ رہے تھے کہ اب ہم ان سے فائدہ اٹھانے پر قادر ہیں، یکایک رات کو یا دن کو ہمارا حکم آ گیا اور ہم نے اسے ایسا غارت کر کے رکھ دیا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں”۔ (سید مودودی)

’’پس دنیاوی زندگی کی حالت تو ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا۔۔۔” (محمد جوناگڑھی)

یہ دونوں ترجمے تشبیہ مرکب کے مطابق کیے گئے ہیں، جبکہ ذیل کے ترجموں میں یہ رعایت نہیں محسوس ہوتی ہے، اور ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے دنیا کی زندگی کو پانی یا بارش سے تشبیہ دی گئی ہے، حالانکہ دنیا کی زندگی پانی سے مشابہ نہیں ہے بلکہ اس پوری مرحلہ وار صورت حال سے مشابہ ہے جس کے کئی مراحل ہیں، اور جس کا صرف پہلا ایک مرحلہ بارش کا ہونا ہے۔

’’دنیا کی زندگی کی کہاوت تو ایسی ہی ہے جیسے وہ پانی کہ ہم نے آسمان سے اتارا”۔ (احمد رضا خان)

’’دنیا کی زندگی کی مثال مینھ کی سی ہے کہ ہم نے اس کو آسمان سے برسایا”۔ (فتح محمد جالندھری)

’’اس دنیا کی زندگی کی تمثیل یوں ہے جیسے بارش کہ ہم نے اسے آسمان سے برسایا۔” (امین احسن اصلاحی)

یہ تینوں ترجمے تشبیہ مرکب کی ترجمانی نہیں کرتے ہیں۔

(۲) وَاضرِب لَہُم مَّثَلَ الحَیَاۃ الدُّنیَا کَمَاء اَنزَلنَاہُ مِنَ السَّمَاءِ فَاختَلَطَ بِہِ نَبَاتُ الاَرضِ فَاَصبَحَ ہَشِیماً تَذرُوہُ الرِّیَاحُ وَکَانَ اللَّہُ عَلَی کُلِّ شَیءٍ مُّقتَدِراً۔ (الکہف: 45)

’’اور اے نبی! اِنہیں حیات دنیا کی حقیقت اِس مثال سے سمجھاو کہ آج ہم نے آسمان سے پانی برسا دیا تو زمین کی پَود خوب گھنی ہو گئی، اور کل وہی نباتات بھُس بن کر رہ گئی جسے ہوائیں اڑائے لیے پھرتی ہیں اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے”۔ (سید مودودی)

’’اور ان کو اس دنیوی زندگی کی تمثیل سناو کہ اس کو یوں سمجھو کہ بارش ہو جس کو ہم نے آسمان سے اتارا، پس زمین کی نباتات اس سے خوب اپجیں، پھر وہ چورا ہوجائیں، جس کو ہوائیں اڑائے لیے پھریں”۔ (امین احسن اصلاحی) 

’’اور ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کردو (وہ ایسی ہے) جیسے پانی جسے ہم نے آسمان سے برسایا۔ تو اس کے ساتھ زمین کی روئیدگی مل گئی۔ پھر وہ چورا چورا ہوگئی کہ ہوائیں اسے اڑاتی پھرتی ہیں”۔ (فتح محمد جالندھری)

’’ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی مثال (بھی) بیان کرو جیسے پانی جسے ہم آسمان سے اتارتے ہیں اس سے زمین کا سبزہ  ملا جلا (نکلا) ہے، پھر آخر کار وہ چورا چورا ہوجاتا ہے جسے ہوائیں اڑائے لئے پھرتی ہیں”۔ (محمد جوناگڑھی)

مذکورہ بالا چار ترجموں میں پہلے دو ترجمے تشبیہ تمثیل کے مطابق ہیں، جبکہ بعد کے دونوں ترجموں میں تشبیہ تمثیل کی رعایت نہیں ہوسکی ہے۔ 

(۳) مَثَلُہُم کَمَثَلِ الَّذِی استَوقَدَ نَاراً فَلَمَّا اَضَاءت مَا حَولَہُ ذَہَبَ اللّہُ بِنُورِہِم وَتَرَکَہُم فِی ظُلُمَاتٍ لاَّ یُبصِرُونَ۔ (البقرة: 17)

’’اِن کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب اُس نے سارے ماحول کو روشن کر دیا تو اللہ نے اِن کا نور بصارت سلب کر لیا اور انہیں اس حال میں چھوڑ دیا کہ تاریکیوں میں انہیں کچھ نظر نہیں آتا”۔ (سید مودودی)

’’ان لوگوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے لوگوں کے لیے آگ جلائی۔ جب آگ نے اس کے ارد گرد کو روشن کردیا تو اللہ نے ان کی روشنی سلب کرلی اور ان کو ایسی تاریکی میں چھوڑ دیا جس میں ان کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا ہے” ۔(امین احسن اصلاحی) ( اس ترجمہ میں ’’لوگوں کے لیے” زائد ہے، ’’ایسی تاریکی” کی جگہ بس تاریکیوں ہونا چاہیے، اور ’’سجھائی نہیں دیتا” ہونا چاہیے)

’’ان کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جس نے (شبِ تاریک میں) آگ جلائی۔ جب آگ نے اس کے اردگرد کی چیزیں روشن کیں تو خدا نے ان کی روشنی زائل کر دی اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں دیکھتے” ۔(فتح محمد جالندھری)

’’ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی، پس آس پاس کی چیزیں روشنی میں آئی ہی تھیں کہ اللہ ان کے نور کو لے گیا اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا، جو نہیں دیکھتے”۔ (محمد جوناگڑھی)

مذکورہ بالا چاروں ترجموں میں پہلے دونوں میں تشبیہ مرکب کی رعایت ہے، جبکہ بعد والے دونوں ترجموں میں تشبیہ مرکب کی رعایت نہیں ہوسکی ہے۔

(۴) اَو کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِیہِ ظُلُمَات وَرَعد وَبَرق یَجعَلُونَ اَصابِعَہُم فِی آذَانِہِم مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ المَوتِ واللّہُ مُحِیط بِالکافِرِینَ۔ (البقرة: 19)

’’یا ایسی ہے جیسے آسمان سے بارش ہورہی ہو، اس میں تاریکی ہو، کڑک ہو، اور چمک ہو۔ یہ کڑکے کی وجہ سے موت کے ڈر سے اپنے کانوں میں اپنی انگلیاں ٹھونسے لے رہے ہوں”۔ (امین احسن اصلاحی، ا س ترجمے میں تاریکی کی جگہ تاریکیاں اور کڑک کی جگہ گرج ہونا چاہیے)

’’یا پھر ان کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا اور کڑک چمک بھی ہے، یہ بجلی کے کڑاکے سن کر اپنی جانوں کے خوف سے کانوں میں انگلیاں ٹھو نسے لیتے ہیں”۔(سید مودودی)

’’یا ان کی مثال مینھ کی سی ہے کہ آسمان سے (برس رہا ہو اور) اس میں اندھیرے پر اندھیرا (چھا رہا) ہو اور (بادل) گرج (رہا) ہو اور بجلی (کوند رہی) ہو تو یہ کڑک سے (ڈر کر) موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیں” ۔(فتح محمد جالندھری)

’’یا آسمانی برسات کی طرح جس میں اندھیریاں اور گرج اور بجلی ہو، موت سے ڈر کر کڑاکے کی وجہ سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیتے ہیں”۔ (محمد جوناگڑھی)

یہاں بھی بعد والے دونوں ترجموں میں تشبیہ مرکب کی رعایت نہیں ہوسکی۔

آخر الذکر دونوں تمثیلوں کے بارے میں زمخشری لکھتے ہیں:

والصحیح الذی علیہ علماء البیان لا یتخطونہ: انّ التمثیلین جمیعا من جملۃ التمثیلات المرکبة دون المفرّقۃ، لا یتکلف الواحد واحد شیء یقدر شبھہ بہ، وھو القول الفحل والمذھب الجزل ... ومما ھو بین فی ھذا قول لبید: 

وما النَّاسُ الّا کالدِّیَارِ واھلُھَا
بِھَا یَومَ حَلّوھَا وغَدواً بَلَاقِعُ

لم یشبہ الناس بالدیار، وانما شبہ وجودھم فی الدنیا وسرعۃ زوالھم وفنائھم، بحلول اھل الدیار فیھا ووشک نھوضھم عنھا، وترکھا خلاء خاویۃ.

(جاری)

قرآن / علوم قرآن

(مارچ ۲۰۱۸ء)

مارچ ۲۰۱۸ء

جلد ۳۰ ۔ شمارہ ۳

Flag Counter