اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۵)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(243)    وَمَا کُنتُم تَستَتِرُونَ کا ترجمہ

وَمَا کُنتُم تَستَتِرُونَ اَن یَشہَدَ عَلَیکُم سَمعُکُم وَلَا اَبصَارُکُم وَلَا جُلُودُکُمَ۔ (فصلت :22)

اس آیت کے حسب ذیل ترجمے کیے گئے ہیں:

”تم دنیا میں جرائم کرتے وقت جب چھپتے تھے تو تمہیں یہ خیال نہ تھا کہ کبھی تمہارے اپنے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے جسم کی کھالیں تم پر گواہی دیں گی“۔ (سید مودودی)

”اور تم اس سے کہاں چھپ کر جاتے کہ تم پر گواہی دیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں“۔ (احمد رضا خان، گواہی سے بچنے کے لیے کہیں چھپ کر جانے کی بات یہاں نہیں ہے۔)

”اور تم اس (بات کے خوف) سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور چمڑے تمہارے خلاف شہادت دیں گے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور تم (اپنی بداعمالیاں) اس وجہ سے پوشیدہ رکھتے ہی نہ تھے کہ تم پر تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں گواہی دیں گی“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور تم یہ اندیشہ نہیں رکھتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان یا تمہاری آنکھیں یا تمہارے جسموں کے رونگٹے گواہی دیں گے“۔(امین احسن اصلاحی، تسترون کا مطلب اندیشہ رکھنا تو نہیں ہوتا ہے)

اوپر کے ترجموں پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ترجمہ کرنے والوں کے پیش نظر وہ فحش جرائم ہیں جنھیں انسان چھپ کر کرتا ہے۔ عام طور سے عربی تفاسیر کا رجحان بھی اسی طرف رہا ہے جیسے:

وما کنتم تستترون عن ارتکابکم الفواحش۔ (جلالین)

المعنی: انکم کنتم تستترون بالحیطان والحجب عند ارتکاب الفواحش۔ (الکشاف)

حالانکہ یہاں سمع وبصر اور جلد کی جس گواہی کی بات ہورہی ہے وہ اللہ کی نافرمانی کے سلسلے میں گواہی ہے، یہ نافرمانی چھپ کر بھی ہوتی ہے اور کھلے عام بھی ہوتی ہے، یہاں اس پر تنبیہ نہیں کی جارہی ہے کہ چھپ کر برائی کرتے وقت تم نے یہ نہ سوچا کہ تمہارے سمع وبصر اور جلد گواہی دیں گے، بلکہ اس پر تنبیہ کی جارہی ہے کہ تم نے یہ خیال کرکے اللہ کی نافرمانی سے خود کو بچایا نہیں کہ تمہارے اپنے سمع و بصر اور جلد تمہارے خلاف گواہی دیں گے۔ غرض یہاں چھپنے کا مسئلہ نہیں بلکہ اللہ کی نافرمانی سے بچنے کی بات ہورہی ہے ۔ اس بنا پر ترجمہ ہوگا:

”اور تم اس سے نہیں بچتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان یا تمہاری آنکھیں یا تمہارے جسموں کے رونگٹے گواہی دیں “۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(244)  استعاذۃ کا ترجمہ

استعاذة کا مطلب پناہ لینا اور پناہ مانگنا ہوتا ہے، عام طور سے یہی ترجمہ کیا گیاہے، البتہ ایک مقام پر صاحب تدبر نے پناہ ڈھونڈنا ترجمہ کیا ہے، جو درست نہیں ہے۔

وَاِمَّا یَنزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیطَانِ نَزغ فَاستَعِذ بِاللَّہِ۔ (الاعراف:200)

”اور اگر تمہیں کوئی وسوسہ شیطانی لاحق ہونے لگے تو اللہ کی پناہ چاہو“۔ (امین احسن اصلاحی)

فَاذَا قَرَاتَ القُرءانَ فَاستَعِذ بِاللَّہِ مِنَ الشَّیطَانِ الرَّجِیمِ۔ (النحل:98)

”پس جب تم قرآن پڑھو تو شیطان رجیم سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو“۔ (امین احسن اصلاحی)

فَاستَعِذ بِاللَّہِ۔ (غافر:56)

”تو تم اللہ کی پناہ مانگو“۔ (امین احسن اصلاحی)

وَاِمَّا یَنزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیطَانِ نَزغ فَاستَعِذ بِاللَّہِ۔ (فصلت: 36)

”اور اگر شیطان تمہارے دل میں کوئی اکساہٹ پیدا کرہی دے تو اللہ کی پناہ ڈھونڈو“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو“۔ (سید مودودی)

(245)  مبتدا خبر کا خاص اسلوب

اِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا بِالذِّکرِ لَمَّا جَاءَہُم وَاِنَّہُ لَکِتَاب عَزِیز۔ لَّا یَاتِیہِ البَاطِلُ مِن بَینِ یَدَیہِ وَلَا مِن خَلفِہِ تَنزِیل مِّن حَکِیمٍ حَمِیدٍ۔ مَّا یُقَالُ لَکَ اِلَّا مَا قَد قِیلَ لِلرُّسُلِ مِن قَبلِکَ اِنَّ رَبَّکَ لَذُو مَغفِرَةٍ وَذُو عِقَابٍ اَلِیمٍ۔ (فصلت 41-43)

یہ تین آیتیں ہیں، پہلی آیت میں اِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا کی خبر بظاہر موجود نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے اس کی خبر محذوف مان کر ترجمہ کیا ہے، حالانکہ اس طرح بغیر کسی قرینے کے خبر کو محذوف مان لینا مناسب نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے اسے آیت نمبر چالیس میں مذکور اِنَّ کے اسم کا بدل مانا ہے اور دونوں کی خبر ایک قرار دی ہے جو اس آیت میں گزری ہے، وہ آیت ہے: اِنَّ الَّذِینَ یُلحِدُونَ فِی ءَایَاتِنَا لَا یَخفَونَ عَلَینَا اَفَمَن یُلقَیٰ فِی النَّارِ خَیر اَم مَّن یَاتِی ءَامِنًا یَومَ القِیَامَۃِ اعمَلُوا مَا شِئتُم اِنَّہُ بِمَا تَعمَلُونَ بَصِیر۔ (فصلت 40) لیکن اس طرح سے اِنَّ کے ساتھ بدل کا آنا قواعد کے خلاف مانا گیا ہے۔ بعض لوگوں نے آگے دور جاکر خبر تلاش کی ہے، اتنی دور خبر کا ماننا بھی تکلف کی بات ہے۔بطور مثال کچھ ترجمے ملاحظہ ہوں:

”یہ وہ لوگ ہیں جن کے سامنے کلام نصیحت آیا تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک زبردست کتاب ہے۔باطل نہ سامنے سے اس پر آ سکتا ہے نہ پیچھے سے، یہ ایک حکیم و حمید کی نازل کردہ چیز ہے۔اے نبی، تم سے جو کچھ کہا جا رہا ہے اس میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں سے نہ کہی جاچکی ہو بے شک تمہارا رب بڑا درگزر کرنے والا ہے، اور اس کے ساتھ بڑی دردناک سزا دینے والا بھی ہے“۔ (سید مودودی، یہاں بدل مان کر ترجمہ کیا ہے۔)

”بیشک جو ذکر سے منکر ہوئے جب وہ ان کے پاس آیا ان کی خرابی کا کچھ حال نہ پوچھ، اور بیشک وہ عزت والی کتاب ہے۔ باطل کو اس کی طرف راہ نہیں، نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے، اتارا ہوا ہے حکمت والے سب خوبیوں سراہے کا۔ تم سے نہ فرمایا جائے مگر وہی جو تم سے اگلے رسولوں کو فرمایا، کہ بیشک تمہارا رب بخشش والا اور دردناک عذاب والا ہے“۔ (احمد رضا خان، خبر کو محذوف مانا ہے)

”جن لوگوں نے اپنے پاس قرآن پہنچ جانے کے باوجود اس سے کفر کیا، (وہ بھی ہم سے پوشیدہ نہیں) یہ بڑی باوقعت کتاب ہے۔ جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے، یہ ہے نازل کردہ حکمتوں والے خوبیوں والے (اللہ) کی طرف سے۔ آپ سے وہی کہا جاتا ہے جو آپ سے پہلے کے رسولوں سے بھی کہا گیا ہے، یقیناً آپ کا رب معافی والا اور دردناک عذاب والا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی، خبر کو محذوف مانا ہے۔)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کے نزدیک پہلی آیت میں خبر محذوف نہیں ہے، بلکہ پہلی آیت کے اخیر اور دوسری آیت پر مشتمل جملہ معترضہ ختم ہوتے ہی تیسری آیت میں اس کی خبر ذکر کردی گئی ہے،  اِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا بِالذِّکرِ لَمَّا جَاءَہُم کی خبر ہے مَّا یُقَالُ لَکَ اِلَّا مَا قَد قِیلَ لِلرُّسُلِ مِن قَبلِکَ اِنَّ رَبَّکَ لَذُو مَغفِرَۃٍ وَذُو عِقَابٍ اَلِیمٍ۔ اس جملے کا ترجمہ ہوگا: ”بے شک جن لوگوں نے ذکر کا انکار کیا جب وہ ان کے پاس آیا (ان کے بارے میں) تم سے وہی کہا جارہا ہے جو تم سے پہلے رسولوں سے کہا گیا (وہ یہ کہ) بے شک تمہارا رب مغفرت والا ہے اوردردناک سزا والا ہے“۔ اِنَّ رَبَّکَ لَذُو مَغفِرَةٍ وَذُو عِقَابٍ اَلِیمٍ ۔ یہی وہ بات ہے جو کافروں کے سلسلے میں ہر رسول سے کہی گئی۔

مبتدا اور خبر کے درمیان میں جملہ معترضہ ہے: وَاِنَّہُ لَکِتَاب عَزِیز۔ لَّا یَاتِیہِ البَاطِلُ مِن بَینِ یَدَیہِ وَلَا مِن خَلفِہِ تَنزِیل مِّن حَکِیمٍ حَمِیدٍ۔ اس کا ترجمہ ہے: ”جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک زبردست کتاب ہے۔ باطل نہ سامنے سے اس پر آ سکتا ہے نہ پیچھے سے، یہ ایک حکیم و حمید کی نازل کردہ چیز ہے“۔ اس طرح پہلے جملہ معترضہ لاکر اس ذکر کی عظمت بیان کردی گئی جس کا ان لوگوں نے انکار کیا اور پھر ان کی خبرمیں انکار کرنے والوں کو توبہ کی دعوت کے ساتھ سزا کی دھمکی بھی سنادی گئی۔تینوں آیتوں کا ترجمہ اس طرح ہوگا:

”بے شک جن لوگوں نے ذکر کا انکار کیا جب وہ ان کے پاس آیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک زبردست کتاب ہے۔ باطل نہ سامنے سے اس پر آ سکتا ہے نہ پیچھے سے، یہ ایک حکیم وحمید کی نازل کردہ چیز ہے، (ان کے بارے میں) تم سے وہی کہا جارہا ہے جو تم سے پہلے رسولوں سے کہا گیا (وہ یہ کہ) بے شک تمہارا رب مغفرت والا ہے اور الم ناک سزا والا ہے“۔

تیسری آیت میں مَّا یُقَالُ لَکَ سے مراد وہ باتیں نہیں ہیں جو کفار اللہ کے رسول کو سناتے تھے، بلکہ وہ بات ہے جو اللہ نے اپنے رسول سے کافروں کے بارے میں کہی ہے۔

(246) فِی ءَاذَانِہِم وَقر کا ترجمہ

وَلَو جَعَلناہُ قُرءَانًا اَعجَمِیًّا لَّقَالُوا لَولَا فُصِّلَت ءَایَاتُہُ ءَاعجَمِیّ وَعَرَبِیّ قُل ہُوَ لِلَّذِینَ ءَامَنُوا ہُدًی وَشِفَاء وَالَّذِینَ لَا یُؤمِنُونَ فِی ءَاذَانِہِم وَقر وَہُوَ عَلَیہِم عَمًی اُولٰئکَ یُنَادَونَ مِن مَّکَانِ بَعِیدٍ۔ (فصلت 44)

اس آیت میں فِی ءَاذَانِہِم وَقر مکمل جملہ ہے جس کی خبر مقدم ہے۔ قرآن کو وَقر نہیں کہا گیا ہے، بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ یہ قرآن کو سنتے نہیں ہیں گویا ان کے کانوں میں ڈاٹ پڑی ہوئی ہے۔بعض ترجمے ملاحظہ ہوں:

”اگر ہم اِس کو عجمی قرآن بنا کر بھیجتے تو یہ لوگ کہتے ”کیوں نہ اس کی آیات کھول کر بیان کی گئیں؟ کیا عجیب بات ہے کہ کلام عجمی ہے اور مخاطب عربی“ اِن سے کہو یہ قرآن ایمان لانے والوں کے لیے تو ہدایت اور شفا ہے، مگر جو لوگ ایمان نہیں لاتے اُن کے لیے یہ کانوں کی ڈاٹ اور آنکھوں کی پٹی ہے، اُن کا حال تو ایسا ہے جیسے اُن کو دور سے پکارا جا رہا ہو“۔ (سید مودودی، ’اُن کے لیے یہ کانوں کی ڈاٹ اور آنکھوں کی پٹی ہے‘کے بجائے ہوگا:’ان کے کانوں میں ڈاٹ ہے اور وہ ان پر حجاب ہے‘۔)

”اور اگر ہم اس قرآن کو عجمی قرآن کی شکل میں اتارتے تو یہ لوگ یہ اعتراض اٹھاتے کہ اس کی آیات کی وضاحت کیوں نہیں کی گئی؟ کلام عجمی اور مخاطب عربی؟ کہہ دو یہ ان لوگوں کے لیے تو ہدایت و شفا ہے جو اس پر ایمان لائیں، رہے وہ لوگ جو ایمان نہیں لارہے ہیں تو ان کے کانوں میں بہرا پن ہے اور یہ ان کے اوپر ایک حجاب ہے۔ اب یہ لوگ ایک دور کی جگہ سے پکارے جائیں گے“۔ (امین احسن اصلاحی،’اس کی آیات کی وضاحت کیوں نہیں کی گئی‘کے بجائے’اس کی آیات قابل فہم کیوں نہیں رکھی گئیں‘ہوگا۔‘’اب یہ لوگ ایک دور کی جگہ سے پکارے جائیں گے‘۔یہ ترجمہ درست نہیں ہے۔ یہ کہیں نہیں ہے کہ لوگ قیامت میں دور سے پکارے جائیں گے، یہ دنیا ہی کی بات ہے کہ ان کا حال ایسا ہوگیا ہے کہ گویا انھیں دور سے پکارا جارہا ہے اور وہ سن نہیں رہے ہیں۔)

”اور اگر ہم اسے عجمی زبان کا قرآن بناتے تو کہتے کہ اس کی آیتیں صاف صاف بیان کیوں نہیں کی گئیں؟ یہ کیا کہ عجمی کتاب اور آپ عربی رسول؟ آپ کہہ دیجئے! کہ یہ تو ایمان والوں کے لیے ہدایت و شفا ہے اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں تو (بہراپن اور) بوجھ ہے اور یہ ان پر اندھاپن ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو کسی بہت دور دراز جگہ سے پکارے جا رہے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

(247) ثُمَّ کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں ثُمَّ  کا ترجمہ کچھ لوگوں نے’اور‘کیا ہے اور باقی لوگوں نے’پھر‘کیا ہے، جبکہ اس کا موزوں ترین ترجمہ’پھر بھی‘ہے۔

قُل اَرَءَیتُم اِن کَانَ مِنْ عِندِ اللَّہِ ثُمَّ کَفَرتُم بِہِ۔ (فصلت 52)

”اے نبی، اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر واقعی یہ قرآن خدا ہی کی طرف سے ہوا اور تم اِس کا انکار کرتے رہے“۔ (سید مودودی)

”(ان سے) کہو: بتاو اگر (یہ قرآن) اللہ کی طرف سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کیا“۔ (امین احسن اصلاحی)

”تم فرماو  بھلا بتاو اگر یہ قرآن اللہ کے پاس سے ہے پھر تم اس کے منکر ہوئے“۔ (احمد رضا خان)

”کہو کہ بھلا دیکھو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف سے ہو پھر تم اس سے انکار کرو“۔ (فتح محمد جالندھری)

”آپ کہہ دیجئے! کہ بھلا یہ تو بتاو کہ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے آیا ہوا ہو پھر تم نے اسے نہ مانا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”کہو سوچو اگر (یہ قرآن) اللہ کی طرف سے ہوا پھر بھی تم نے اس کا انکار کیا“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

قرآن / علوم قرآن

(اپریل ۲۰۲۱ء)

اپریل ۲۰۲۱ء

جلد ۳۲ ۔ شمارہ ۴

Flag Counter