اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۹)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۶۱) فعل ’’کاد‘‘ کا درست ترجمہ

جب کسی فعل سے پہلے کاد فعل آتا ہے تو مطلب ہوتا ہے کہ وہ کام ہونے کے قریب تو ہوگیا لیکن ہوا نہیں، کیونکہ ہوجانے کی صورت میں کاد نہیں لگتا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے:

وَأَنَّہُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰہِ یَدْعُوہُ کَادُوا یَکُونُونَ عَلَیْْہِ لِبَداً۔ (الجن :۱۹)

’’اور جب اللہ کا بندہ اس کی عبادت کے لیے کھڑا ہوا تو قریب تھا کہ وہ بھیڑ کی بھیڑ بن کر اس پر پل پڑیں‘‘۔(محمد جوناگڑھی)

’’اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اُس کو پکارنے کے لئے کھڑا ہوا تو لوگ اُس پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیار ہو گئے‘‘۔(سید مودودی۔ اس ترجمے میں ’’تیار ہوگئے ‘‘درست نہیں ہے ، یہ لفظ کاد کی صحیح ترجمانی نہیں کرتا ہے)

جن آیتوں میں فعل کاد آیا ہے، وہاں عام طور سے مترجمین نے اس مفہوم کا لحاظ کیا ہے، البتہ مذکورہ ذیل آیت میں لگتا ہے کہ بعض لوگوں سے اس کی رعایت نہیں ہوسکی۔

لَقَد تَّابَ اللّٰہْ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُہَاجِرِیْنَ وَالأَنصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوہُ فِیْ سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ مِن بَعْدِ مَا کَادَ یَزِیْغُ قُلُوبُ فَرِیْقٍ مِّنْہُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْْہِمْ إِنَّہُ بِہِمْ رَؤُوفٌ رَّحِیْمٌ۔ (التوبۃ :۱۱۷)

’’اللہ نے نبی اور ان مہاجرین و انصار پر رحمت کی نظر کی جنھوں نے نبی کا ساتھ تنگی کے وقت میں دیا، بعد اس کے کہ ان میں سے کچھ لوگوں کے دل کجی کی طرف مائل ہوچکے تھے، پھر اللہ نے ان پر رحمت کی نگاہ کی، بے شک وہ ان پر نہایت مہربان اور رحم فرمانے والا ہے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

’’اللہ نے معاف کر دیا نبی کو اور ان مہاجرین و انصار کو جنہوں نے بڑی تنگی کے وقت میں نبی کا ساتھ دیا اگر چہ ان میں سے کچھ لوگوں کے دل کجی کی طرف مائل ہو چکے تھے (مگر جب انہوں نے اس کجی کا اتباع نہ کیا بلکہ نبی کا ساتھ ہی دیا تو) اللہ نے انہیں معاف کر دیا، بے شک اْس کا معاملہ اِن لوگوں کے ساتھ شفقت و مہربانی کا ہے‘‘۔(سید مودودی)

’’بیشک خدا نے پیغمبر اور ان مہاجرین و انصار پر رحم کیا ہے جنہوں نے تنگی کے وقت میں پیغمبر کا ساتھ دیا ہے جب کہ ایک جماعت کے دلوں میں کجی پیدا ہو رہی تھی پھر خدا نے ان کی توبہ کو قبول کر لیا کہ وہ ان پر بڑا ترس کھانے والا اور مہربانی کرنے والا ہے‘‘۔(محمد حسین نجفی)

’’مائل ہوچکے تھے‘‘، یا’’کجی پیدا ہورہی تھی‘‘ کہنا نہ تو صورت واقعہ کی رو سے صحیح ہے، اور نہ ہی آیت کے الفاظ اس پر دلالت کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں حسب ذیل دونوں ترجمے الفاظ کے مطابق ہیں:

’’بیشک اللہ کی رحمتیں متوجہ ہوئیں ان غیب کی خبریں بتانے والے اور ان مہاجرین اور انصار پر جنہوں نے مشکل کی گھڑی میں ان کا ساتھ دیا بعد اس کے کہ قریب تھا کہ ان میں کچھ لوگوں کے دل پھر جائیں پھر ان پر رحمت سے متوجہ ہوا بیشک وہ ان پر نہایت مہربان رحم والا ہے‘‘۔(احمد رضا خان)

’’بیشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی اور مہاجرین اور انصار پر جو باوجود اس کے کہ ان میں سے بعضوں کے دل جلد پھر جانے کو تھے۔ مشکل کی گھڑی میں پیغمبر کے ساتھ رہے۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی۔ بیشک وہ ان پر نہایت شفقت کرنے والا (اور) مہربان ہے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)

(۶۲) ’’فاسلکوہ‘‘ کا ترجمہ

خُذُوہُ فَغُلُّوہُ۔ ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوہُ۔ ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَۃٍ ذَرْعُہَا سَبْعُونَ ذِرَاعاً فَاسْلُکُوہُ۔ (الحاقۃ:۳۰۔۳۲)

’’(حکم ہو گا) پکڑو اِسے اور اِس کی گردن میں طوق ڈال دو، پھر اِسے جہنم میں جھونک دو، پھر اِس کو ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں جکڑ دو‘‘۔ (سید مودودی)

’’(حکم ہوگا کہ) اسے پکڑ لو اور طوق پہنا دو، پھر دوزخ کی آگ میں جھونک دو، پھر زنجیر سے جس کی ناپ ستر گز ہے جکڑ دو‘‘ ۔(فتح محمد جالندھری)

مذکورہ بالا آیتوں کے اوپر دیئے گئے دونوں ترجمہ میں فاسلکوہ  کا ترجمہ’’جکڑ دو‘‘ کیا گیا ہے۔تصویر یہ سامنے آتی ہے کہ پہلے پکڑنا ہے، پھر گلے میں طوق ڈالنا ہے، پھر جہنم میں ڈالنا ہے، پھر ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں اسے جکڑ دینا ہے۔ اس میں سب سے بڑا اشکال یہ آتا ہے کہ اس لفظ میں جکڑنے کا مفہوم کہاں تک پایا جاتا ہے؟

اس کے مقابلے میں مذکورہ ذیل دونوں ترجمے ہیں، جن سے ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے، وہ یہ کہ پہلے پکڑ کر گلے میں طوق ڈال کر جہنم میں ڈال دینا ہے، اور وہاں ایک ستر ہاتھ لمبی زنجیر کو گلے میں پڑی ہوئی طوق میں ڈال دینا ہے۔اس طرح لفظ فاسلکوہ کا حق بھی ادا ہوجاتا ہے، اور جہنم میں ڈالنے کے بعد ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں ناتھ دینے کی معنویت بھی بخوبی سامنے آجاتی ہے۔

’’اسے پکڑو پھر اسے طوق ڈالو، پھر اسے بھڑکتی آگ میں دھنساؤ،پھر ایسی زنجیر میں جس کا ناپ ستر ہاتھ ہے اسے پرو دو‘‘۔(احمد رضا خان)

’’(حکم ہو گا) پکڑو اِسے اور اِس کی گردن میں طوق ڈال دو، پھر اِسے جہنم میں جھونک دو، پھر اِس کو ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں ناتھ دو‘‘۔ (امانت اللہ اصلاحی) یعنی اغلال میں زنجیر لگادو۔

(۶۳) سأم کا مطلب

یہ لفظ مختلف مشتقات میں قرآن مجید میں تین مقامات پر آیا ہے۔اس کا ترجمہ بعض لوگوں نے تھکنا کیا ہے، اور بعض لوگوں نے اکتانا کیا ہے، جبکہ عربی لغات کی رو سے اس کا ترجمہ تعب نہیں بلکہ ملل ہے، یعنی اکتانا نہ کہ تھکنا۔ تھکنے میں بیزاری ہونا ضروری نہیں ہے، جب کہ اکتانے میں بیزاری شامل ہوتی ہے۔ اس فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے مذکورہ ذیل آیتوں کے ترجموں پر غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ اس فرق کی رعایت سے معنی پر کس قدر اثر پڑتا ہے۔

(۱) فَإِنِ اسْتَکْبَرُوا فَالَّذِیْنَ عِندَ رَبِّکَ یُسَبِّحُونَ لَہُ بِاللَّیْْلِ وَالنَّہَارِ وَہُمْ لَا یَسْأَمُون (فصلت: ۳۸)

’’لیکن اگر یہ لوگ غرور میں آ کر اپنی ہی بات پر اڑے رہیں تو پروا نہیں، جو فرشتے تیرے رب کے مقرب ہیں وہ شب و روز اس کی تسبیح کر رہے ہیں اور کبھی نہیں تھکتے‘‘۔(سید مودودی)

’’اگر یہ لوگ سرکشی کریں تو (خدا کو بھی ان کی پروا نہیں) جو (فرشتے) تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور (کبھی) تھکتے ہی نہیں‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

’’تو اگر یہ تکبر کریں تو وہ جو تمہارے رب کے پاس ہیں رات دن اس کی پاکی بولتے ہیں اور اکتاتے نہیں‘‘۔(احمد رضا خان)

’’پھر بھی اگر یہ کبر و غرور کریں تو وہ (فرشتے) جو آپ کے رب کے نزدیک ہیں وہ تو رات دن اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں اور (کسی وقت بھی) نہیں اکتاتے‘‘۔ (محمد جونا گڑھی)

یہاں بات تھکنے کی نہیں ہورہی ہے، بلکہ بات یہ ہے کہ ایک طرف یہ متکبرین ہیں جن کے دل رب کے ذکر پر آمادہ نہیں ہیں، دوسری طرف وہ فرشتے ہیں جو اس شوق ورغبت کے ساتھ اللہ سے لو لگائے ہیں کہ رات ودن تسبیح کرتے ہیں مگر ذرا نہیں اکتاتے۔

(۲) لَا یَسْأَمُ الْإِنسَانُ مِن دُعَاء الْخَیْْرِ وَإِن مَّسَّہُ الشَّرُّ فَیَؤُوسٌ قَنُوط۔ (فصلت:۴۹)

’’انسان کبھی بھلائی کی دعا مانگتے نہیں تھکتا، اور جب کوئی آفت اِس پر آ جاتی ہے تو مایوس و دل شکستہ ہو جاتا ہے‘‘۔(سید مودودی)

’’بھلائی کے مانگنے سے انسان تھکتا نہیں اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو مایوس اور ناامید ہو جاتا ہے‘‘۔(محمد جوناگڑھی)

’’آدمی بھلائی مانگنے سے نہیں اْکتاتا اور کوئی برائی پہنچے تو ناامید آس ٹوٹا‘‘۔(احمد رضا خان)

اس آیت میں بھی بات تھکنے کی نہیں بلکہ اکتانے کی ہے۔

(۳) وَلاَ تَسْأَمُوْاْ أَن تَکْتُبُوْہُ صَغِیْراً أَو کَبِیْراً إِلَی أَجَلِہِ۔ (البقرۃ:۲۸۲)

’’اور قرض کو جس کی مدت مقرر ہے خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو لکھنے میں کاہلی نہ کرو‘‘۔(محمد جونا گڑھی)

’’اور اسے بھاری نہ جانو کہ دین چھوٹا ہو یا بڑا اس کی میعاد تک لکھت کرلو‘‘۔(احمد رضا خان)

’’اور قرض تھوڑا ہو یا بہت اس (کی دستاویز) کے لکھنے میں کاہلی نہ کرنا‘‘۔(فتح محمد جالندھری)

’’اور معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا اسے اپنی میعاد تک لکھ رکھنے میں اکتایا نہ کرو‘‘۔(طاہر القادری)

’’اور قرض چھوٹا ہو یا بڑا، اس کی مدت تک کے لئے اس کو لکھنے میں تساہل نہ برتو‘‘۔(امین احسن اصلاحی)

’’اور تم اس (دین) کے (بار بار) لکھنے سے اکتایا مت کرو خواہ وہ (معاملہ) چھوٹا ہو یا بڑا ہو‘‘۔ (اشرف علی تھانوی، إِلَی أَجَلِہ کا ترجمہ نہیں کیا)

یہاں بھی اکتانے کا مفہوم درست ہے۔

(۶۴) العراء کا ترجمہ

فَنَبَذْنَاہُ بِالْعَرَاءِ وَہُوَ سَقِیْمٌ۔ (الصافات:۱۴۵)

’’آخرکار ہم نے اسے بڑی سقیم حالت میں ایک چٹیل زمین پر پھینک دیا‘‘۔(سید مودودی)

’’پس انہیں ہم نے چٹیل میدان میں ڈال دیا اور وہ اس وقت بیمار تھے‘‘۔(محمد جونا گڑھی)

’’پس ہم نے ڈال دیا اس کو خشک زمین پر اور وہ نڈھال تھا ‘‘۔(امین احسن اصلاحی)

العراء  کا ترجمہ عام طور سے مترجمین نے درست طور سے چٹیل میدان کیا ہے، البتہ صاحب تدبر نے خشک زمین کردیا ہے جو اس لفظ کا درست ترجمہ نہیں ہے، خود صاحب تدبر نے دوسرے مقام پر چٹیل میدان ترجمہ کیا ہے ملاحظہ ہو:

لَوْلَا أَن تَدَارَکَہُ نِعْمَۃٌ مِّن رَّبِّہِ لَنُبِذَ بِالْعَرَاء وَہُوَ مَذْمُومٌ۔ (القلم:۴۹)

’’اگر اس کے رب کا فضل اس کی دست گیری نہیں کرتا تو وہ مذمت کیا ہوا چٹیل میدان ہی میں پڑا رہ جاتا‘‘۔(امین احسن اصلاحی)

’’اگر اس کے رب کی مہربانی اْس کے شامل حال نہ ہو جاتی تو وہ مذموم ہو کر چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا‘‘۔(سید مودودی)

’’اگر تمہارے پروردگار کی مہربانی ان کی یاوری نہ کرتی تو وہ چٹیل میدان میں ڈال دیئے جاتے اور ان کا حال ابتر ہوجاتا‘‘۔(فتح محمد جالندھری)

ایک بات اور قابل غور ہے کہ سورہ قلم والی اس آیت میں صاحب تدبر نے لنبذ بالعراء  کا ترجمہ کیا ہے:’’ چٹیل میدان ہی میں پڑا رہ جاتا‘‘، جبکہ دوسرے لوگوں نے کیا ہے: ’’چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا‘‘۔ الفاظ دونوں ترجموں کی گنجائش رکھتے ہیں، لیکن صورت واقعہ سے صاحب تدبر کے ترجمہ کی تائید ہوتی ہے، کیونکہ یہ تو واقعہ ہے کہ وہ چٹیل میدان میں پھینکے گئے تھے ، البتہ اللہ کی مہربانی شامل حال ہوئی اور وہ پڑے نہیں رہ گئے اور راہ نجات حاصل ہوئی، اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ وہیں پڑے رہ جاتے۔ 

(جاری)

قرآن / علوم قرآن