اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۲۶)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۰۵) من نفس واحدۃ کا ترجمہ

من نفس واحدۃ کی تعبیر قرآن مجید میں چارآیتوں میں آئی ہے،ان میں سے تین آیتوں میں منھا زوجھا کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ عربی تفاسیر میں خلقکم من نفس واحدۃ کا عام طور سے ایک ہی مفہوم ملتا ہے، یعنی ’’ایک جان سے پیدا کیا‘‘ اور خلق منھا زوجھا کے دو مفہوم ملتے ہیں ’’اس سے اس کے جوڑے کو بنایا‘‘ اور اس کی جنس سے اس کے جوڑے کو بنایا‘‘ اردو تراجم میں شاہ عبد القادر کے ترجمہ کو لوگوں نے عام طور سے اختیار کیا ہے جس میں ’’ایک جان سے پیدا کیا‘‘ اور ’’اس سے اس کے جوڑے کو بنایا‘‘ ترجمہ کیا گیا ہے۔ البتہ دوسرے جملے کے ترجمہ میں بعض لوگوں نے دوسری رائے بھی اختیار کی ہے۔ ذیل میں درج ترجموں سے اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے: 

(۱) یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالاً کَثِیْراً وَنِسَاءً ا۔ (النساء:۱)

’’اے لوگو ڈرتے رہو اپنے رب سے جس نے بنایا تم کو ایک جان سے اور اسی سے بنایا اس کا جوڑا اور بکھیرے ان دونوں سے بہت مرد اور عورتیں۔ (شاہ عبدالقادر)

اے لوگو اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک ہی جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سارے مرد اور عورتیں پھیلادیں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

’’لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مردوعورت دنیا میں پھیلادیئے‘‘۔ (سید مودودی)

(۲) ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَجَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا لِیَسْکُنَ إِلَیْْہَا فَلَمَّا تَغَشَّاہَا حَمَلَتْ حَمْلاً خَفِیْفاً فَمَرَّتْ بِہِ فَلَمَّا أَثْقَلَت دَّعَوَا اللّہَ رَبَّہُمَا لَءِنْ آتَیْْتَنَا صَالِحاً لَّنَکُونَنَّ مِنَ الشَّاکِرِیْنَ۔فَلَمَّا آتَاہُمَا صَالِحاً جَعَلاَ لَہُ شُرَکَاء فِیْمَا آتَاہُمَا فَتَعَالَی اللّہُ عَمَّا یُشْرِکُونَ۔ (الاعراف: ۱۸۹۔۱۹۰)

’’وہی ہے جس نے تم کو بنایا ایک جان سے اور اسی سے بنایا اس کا جوڑا کہ اس پاس آرام پکڑے پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانکا حمل رہا ہلکا سا حمل پھر چلتی گئی اس کے ساتھ پھر جب بوجھل ہوئی دونوں نے پکارا اللہ اپنے رب کو اگر تو ہم کو بخشے چنگا بھلا تو ہم تیرا شکر کریں پھر جب دیا ان کو چنگا بھلا ٹھیرانے لگے اس کے شریک اس کی بخشی چیز میں‘‘۔ (شاہ عبد القادر)

’’وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا ایک ہی جان سے اور اسی سے پیدا کیا اس کا جوڑا کہ وہ اس سے تسکین پائے۔ تو جب وہ اس کو چھالیتا ہے تو وہ اٹھالیتی ہے ایک ہلکا سا حمل، پھر وہ اس کو لیے (کچھ وقت گزارتی ہے) تو جب بوجھل ہوتی ہے دونوں اللہ، اپنے رب، سے دعا کرتے ہیں اگر تونے ہمیں تندرست اولاد بخشی، ہم تیرے شکر گزاروں میں سے ہوں گے۔ تو جب اللہ ان کو تندرست اولاد دے دیتا ہے تو اس کی بخشی ہوئی چیز میں وہ اس کے لیے دوسرے شریک ٹھہراتے ہیں‘‘ (امین احسن اصلاحی)

’’وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ، اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تو نے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔ مگر جب اللہ نے ان کو ایک صحیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی اس بخشش وعنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھیرانے لگے۔‘‘(سید مودودی، اس ترجمہ میں ’’دونوں نے مل کر‘‘ کے بجائے ’’دونوں نے‘‘ ہونا چاہئے۔ ’’مل کر‘‘ زائد ہے)

(۳) خَلَقَکُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَأَنزَلَ لَکُم مِّنْ الْأَنْعَامِ ثَمَانِیَۃَ أَزْوَاجٍ یَخْلُقُکُمْ فِیْ بُطُونِ أُمَّہَاتِکُمْ خَلْقاً مِن بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ۔ (الزمر:۶)

’’بنایا تم کو ایک جی سے پھر بنایا اسی سے اس کا جوڑا اور اتارے تمہارے واسطے چوپاؤں سے آٹھ نرومادہ بناتا ہے تم کو ماں کے پیٹ میں طرح پر طرح بنانا تین اندھیروں کے بیچ‘‘۔(شاہ عبد القادر)

’’اسی نے پیدا کیا تم کو ایک ہی جان سے، پھر پیدا کیا اسی کی جنس سے اس کا جوڑا اور تمہارے لیے (نرومادہ) چوپایوں کی آٹھ قسمیں اتاریں۔ وہ تمھیں تمھاری ماؤں کے پیٹوں میں پیدا کرتا ہے۔ ایک خلقت کے بعد دوسری خلقت میں، تین تاریکیوں کے اندر۔‘‘ (امین احسن اصلاحی، اس ترجمہ میں ایک غلطی یہ بھی ہے کہ آٹھ قسمیں ترجمہ کیا ہے، درست ترجمہ ہے: آٹھ جوڑیاں۔ یعنی چار قسموں کی آٹھ جوڑیاں، جس کی تفصیل سورہ أنعام میں ہے)

’’اسی نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، پھر وہی ہے جس نے اس جان سے اس کا جوڑا بنایا اور اسی نے تمہارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ نرومادہ پیدا کیے۔ وہ تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں تین تین تاریک پردوں کے اندر تمہیں ایک کے بعد ایک شکل دیتا چلا جاتا ہے۔ ‘‘(سید مودودی)

(۴) وَہُوَ الَّذِیَ أَنشَأَکُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ قَدْ فَصَّلْنَا الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَفْقَہُونَ۔ (الأنعام :۹۸) 

’’اور وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا ایک ہی جان سے۔ پھر ہر (ایک کے لئے) ایک مستقر اور ایک مدفن ہے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

مستودع کا ترجمہ مدفن کیا ہے۔ مستقر کا مطلب عارضی قیام گاہ اور مستودع کا مطلب آخری قیام گاہ ہے، اس لئے مدفن ترجمہ کرنا مناسب نہیں ہے۔

مذکورہ بالا ترجموں میں ہم دیکھتے ہیں کہ صاحب تدبر نے پہلے اور تیسرے مقام پر منھا کا ترجمہ ’’اس کی جنس سے‘‘ کیا، جبکہ دوسرے مقام پر ’’اسی سے‘‘ کردیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صاحب تفہیم نے اس کے برعکس پہلے اور تیسرے مقام پر ’’اس جان سے‘‘ اور دوسرے مقام پر ’’اسی کی جنس سے‘‘ ترجمہ کیا۔ غرض یہ کہ جنس والا ترجمہ دونوں کے پیش نظر رہا لیکن دونوں متعلقہ تینوں مقامات پر اس کا یکساں التزام نہیں کرسکے۔

ان آیتوں میں جب ہم خلقکم من نفس واحدۃ کا ترجمہ کرتے ہیں ’’اس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا‘‘ تو بہت سارے اشکالات پیدا ہوتے ہیں، خواہ منھا زوجھا کا ترجمہ دونوں میں سے کوئی بھی کیا جائے۔ ان اشکالات کو تفسیروں میں تفصیل سے ذکر بھی کیا گیا ہے، اور ان کا جواب دینے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ تفسیر المنار میں اس مشہور مفہوم پر وارد ہونے والے اشکالات کو تفصیل سے ذکر کرنے کے بعد ایک دوسرے مفہوم تک پہونچنے کی کوشش ملتی ہے جو اشکالات سے خالی ہو۔

ایک اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے زوج بنایا یا پہلے ذریت پیدا کی؟ کیونکہ آیتوں کے مذکورہ مفہوم کے لحاظ سے تو یہ نکل رہا ہے کہ پہلے ذریت بنائی پھر زوج بنایا۔

ایک دوسرا اشکال یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تخلیق آدم کا ذکر متعدد مقامات پر کیا ہے لیکن کہیں یہ نہیں ذکر کیا کہ تم سب کی تخلیق آدم اور حوا سے ہوتی ہے۔ آدم اور حوا کی ذریت ہونا ایک بات ہے اور آدم اور حوا سے انسانوں کی تخلیق کرنا ایک دوسری بات ہے، اور اس دوسری بات کے لیے ہمیں کوئی دلیل نہیں ملتی ہے۔ صراحت صرف اس کی ملتی ہے کہ انسان کو مٹی ’’طین‘‘ سے پیدا کیا گیا یا اس کی تخلیق پانی ’’ماء‘‘ سے کی گئی۔ لیکن کوئی اپنے ماں باپ سے تخلیق کیا گیا ہو ، یہ بات کہیں نہیں ملتی ہے۔ قرآن مجید میں نہ آدم وحوا کی تخلیق کے سیاق میں یہ کہا گیا کہ انسانوں کی تخلیق آدم وحوا یا ذکر اور انثی سے ہوئی ہے، اور نہ ہی انسانوں کی تخلیق کے سیاق میں یہ بات کہی گئی۔

خاص طور سے سورہ اعراف والی متعلقہ آیتوں میں عام مفہوم لینے سے ان آیتوں کی تفسیر بے حد مشکل ہوجاتی ہے، یا تو تفسیر تکلف سے دوچار ہوتی ہے، یا یہ ماننا پڑتا ہے کہ آدم وحوا شرک کے مرتکب ہوگئے تھے۔ ضعیف تفسیری روایتوں سے اس دوسرے مفہوم کی تائید بھی مل جاتی ہے، حالانکہ سیاق کلام کی رو سے وہ مفہوم ہرگز قابل قبول نہیں ہوسکتا ہے۔اس آیت میں مشہور مفہوم لینے کی صورت میں کتنی دشواریاں پیش آتی ہیں اس کا اندازہ تفسیر رازی کا متعلقہ مقام پڑھ کر ہوسکتا ہے۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی ان چاروں مقامات پر ایک مختلف ترجمہ تجویز کرتے ہیں جس سے وہ سارے اشکالات بھی دور ہوجاتے ہیں جن کا ذکر تفاسیر میں ملتا ہے اور وہ اشکالات بھی جو ان آیتوں پر تدبر کرنے والے کے ذہن میں آتے ہیں۔ ان کی رائے کے مطابق خلقکم من نفس واحدۃ میں ’’من‘‘ تجرید کا ہے، یعنی خلقکم فی صورۃ نفس واحدۃ یا خلقکم نفسا واحدۃ اور اس کا ترجمہ ہوگا ’’اس نے تم کو ایک جان کی صورت میں (یعنی تن تنہا) پیدا کیا‘‘ اور خلق منھا کا زوجھا کا ترجمہ ہوگا ’’اور اس کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا‘‘ گویا ہر انسان تنہا پیدا کیا گیا، اور ہر انسان کا جوڑا اسی کی جنس سے بنایا گیا۔ ہر انسان تن تنہا پیدا کیا گیا، اس مفہوم کی تائید قرآن مجید کی دوسری آیتوں سے بھی ہوتی ہے، جیسے: 

وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَی کَمَا خَلَقْنَاکُمْ أَوَّلَ مَرَّۃٍ۔ (الانعام:۹۴) 

ترجمہ: ’’اور بالآخر تم آئے ہمارے پاس اکیلے اکیلے جیسا کہ ہم نے تم کو اول بار پیدا کیا‘‘ اور: 

ذَرْنِیْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیْداً۔ (المدثر:۱۱) 

ترجمہ: ’’چھوڑ مجھ کو اور اس کو جس کو میں نے پیدا کیا اکیلا‘‘۔

اسی طرح خلق منھا زوجھا کا ترجمہ ان کے نزدیک اس طرح ہے: ’’اور اس کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا‘‘ یعنی ہر انسان کو تنہا پیدا کیا ، اور اس کا جوڑا اسی کی جنس سے بنایا۔ اسی مفہوم کی تائید قرآن مجید سے بھی ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں یہ کہیں نہیں ہے، کہ نسل انسانی کی خاتون اول کو مرد اول سے تخلیق کیا گیا ہے۔ لیکن ایسی آیتیں موجود ہیں جو صراحت کے ساتھ یہ بتاتی ہیں کہ ہر انسان کے جوڑے کو اس کی جنس سے بنایا، انسان سے مراد صرف مرد نہیں بلکہ مرد بھی ہے اور عورت بھی ہے، یعنی دونوں ایک ہی جنس سے بنائے گئے۔ ذیل کی دو آیتیں ملاحظہ ہوں:

(۱) وَمِنْ آیَاتِہِ أَنْ خَلَقَ لَکُم مِّنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجاً۔ (الروم ۲۱)

’’ واز نشانہائے خدا آن است کیا بیا فرید برائے شما از جنس شما زنان را ‘‘(شاہ ولی اللہ، اس ترجمہ میں أزواج کا ترجمہ زنان محل نظر ہے، کیونکہ مردوں کے أزواج عورتیں ہیں اور عورتوں کے أزواج مرد ہیں)

’’اور اس کی نشاینوں سے یہ کہ بنادئے تم کو تمہاری قسم سے جوڑے‘‘ (شاہ عبدالقادر)

(۲) فَاطِرُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ جَعَلَ لَکُم مِّنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجاً۔ (الشوری ۱۱)

’’آفرینندہ آسمانہا وزمین است پیدا کرد برائے شما از جنس شما زنان را ‘‘(شاہ ولی اللہ)

’’وہ آسمان وزمین کا پیدا کرنے والا ہے، اس نے تمہارے لئے تمہارے جنس کے جوڑے بنائے‘‘ (اشرف علی تھانوی)

ان دونوں آیتوں کا اسلوب وہی ہے جو خلق منھا زوجھا کا ہے۔ لیکن ان دونوں آیتوں کا ترجمہ عام طور سے یہی کیا جاتا ہے کہ تمہاری جنس سے تمہارے جوڑے بنائے، چونکہ یہاں جمع کا صیغہ ہے، اور عام انسانوں سے خطاب ہے، اس لئے یہ مفہوم نہیں لیا جاسکتا کہ حوا کو آدم سے تخلیق کیا گیا، اور یہ مفہوم تو کوئی نہیں لے گا کہ ہر عورت کو اس کے شوہر کے جسم سے تخلیق کیا گیا، لہذا یہ مفہوم لینا ضروری ہوگا کہ انسانوں کے جوڑے انسانوں کی جنس سے بنائے گئے۔ دراصل یہی مفہوم مذکورہ بالا ان تمام آیتوں کا بھی ہے جہاں نفس اور زوج جمع کے بجائے واحد آئے ہیں، فرق بس یہ ہے کہ یہاں انسانوں کی پوری جماعت سے ایک ساتھ خطاب ہے، اور وہاں انسانوں کی جماعت کے ہر فرد سے فردا فرداخطاب ہے۔

اس تفصیل کی روشنی میں اس مبحث کی ابتدا میں مذکور چاروں آیتوں کا ترجمہ بالترتیب اس طرح ہوگا:

(۱) ’’اے لوگو اپنے اس رب کی نافرمانی سے بچو جس نے تم کو تن تنہا پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کی جوڑی پیدا کی اور ان دونوں سے بہت سارے مرد اور عورتیں پھیلادیں۔‘‘

(۲) ’’وہی ہے جس نے تم کو تن تنہا پیدا کیا اور اسی جنس سے اس کی جوڑی بنائی کہ وہ اس سے تسکین پائے۔ تو جب وہ اس پر چھاگیا تو اس نے اٹھالیا ایک ہلکا سا حمل، پھر وہ اس کو لیے پھری جب بوجھل ہوگئی دونوں نے اللہ، اپنے رب، سے دعا کی اگر تونے ہمیں تندرست اولاد بخشی، ہم تیرے شکر گزاروں میں سے ہوں گے۔ تو جب اللہ نے ان کو تندرست اولاد دے دی تو اس کی بخشی ہوئی چیز میں وہ اس کے لیے دوسرے شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ برتر ہے ان کے شرک سے جو یہ مانتے ہیں‘‘۔

(۳) ’’اس نے پیدا کیا تم کو تن تنہا، پھر پیدا کیا اسی کی جنس سے اس کی جوڑی اور تمہارے لیے (نرومادہ) چوپایوں کی آٹھ جوڑیاں اتاریں۔ وہ تمھیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل کرتا ہے، تین تاریکیوں کے اندر۔‘‘

(۴) ’’اور وہی ہے جس نے تم کو تن تنہا پیدا کیا ۔ پھر ہر ( ایک کے لئے ) ایک عارضی قیام گاہ اورآخری قیام گاہ ہے‘‘

ا س مفہوم کو اختیار کرنے کے بعد پھر یہ بات بے وزن ہوجاتی ہے، کہ عورت کی تخلیق مرد سے کی گئی، اور تخلیق کے پہلو سے عورت مرد کا ضمیمہ ہے۔بلکہ درست بات یہ ہے کہ جس طرح مرد مستقل طور پر ایک نفس واحدۃ کے طور پر تخلیق کیا گیا ہے اسی طرح عورت بھی مستقل طور ایک نفس واحدۃ کے طورپر تخلیق کی گئی، اور جس طرح مرد عورت کا زوج ہے، اسی طرح عورت مرد کا زوج ہے، دونوں ایک دوسرے کے محتاج ہیں، اور ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔

(۱۰۶) من ذکر وأنثی کا ترجمہ

من نفس واحدۃ کے ترجمہ سے متعلق ایک اور بحث یہ ہے کہ ذیل کی آیت میں إِنَّا خَلَقْنَاکُم مِّن ذَکَرٍ وَأُنثَی کا ترجمہ کیا ہوگا؟:

یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُم مِّن ذَکَرٍ وَأُنثَی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوباً وَقَبَاءِلَ لِتَعَارَفُوا۔ (الحجرات: ۱۳)

عام طور سے ترجمہ کیا گیا ہے کہ ہم نے تم کو ایک ہی نر اور ناری سے پیدا کیا، جیسا کہ ذیل کے ترجموں میں ہے:

’’اے آدمیو ہم نے بنایا تم کو ایک نر اور ایک مادہ سے اور رکھیں تمہاری ذاتیں اور گوتیں تا آپس کی پہچان ہو‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

’’تحقیق ہم نے پیدا کیا تم کو ایک مرد سے اور عورت سے اور کیا ہے ہم نے تم کو کنبے اور قبیلے تو کہ ایک دوسرے کو پہچانو‘‘ (شاہ رفیع الدین)

’’اے لوگو ہم نے تم کو ایک ہی نر اور ناری سے پیدا کیا ہے اور تم کو کنبوں اور قبیلوں میں تقسیم کیا ہے کہ تم باہم دگر تعارف حاصل کرو‘‘ (امین احسن اصلاحی)

’’لوگو ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنادیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو‘‘۔ (سید مودودی، اس میں ’’پھر‘‘ زائد ہے)

تاہم مولانا امانت اللہ اصلاحی کو اس ترجمہ سے اتفاق نہیں ہے، ان کے مطابق قرآن مجید میں یہ بات تو ایک سے زائد مقامات پر کہی گئی ہے کہ نطفہ سے نر اور مادہ کی تخلیق کی گئی، لیکن یہ صراحت کہیں نہیں ملتی ہے کہ نر اور مادہ سے انسان کی تخلیق کی گئی۔ وجہ یہی ہے کہ انسان نر اور ناری کے توسط سے توتخلیق پاتا ہے، لیکن اس کی تخلیق نر اور ناری سے نہیں ہوتی ہے۔ ہر انسان ایک منفرد تخلیق ہے، وہ کسی دوسرے انسان یا دو انسانوں سے تخلیق نہیں کیا گیا ہے۔ ان کی رائے ہے کہ من ذکر وأنثی میں ’’من‘‘ بیانیہ ہے، مفہوم یہ ہوگا کہ مرد وعورت سب کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ان کے نزدیک اس آیت میں من ذکر وأنثی کا وہی ترجمہ کیا جائے گا جو ذیل کی آیت میں من ذَکَرٍ أَوْ أُنثَی کا ہے:

فَاسْتَجَابَ لَہُمْ رَبُّہُمْ أَنِّیْ لاَ أُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنکُم مِّن ذَکَرٍ أَوْ أُنثَی۔ (آل عمران ۱۹۵)

ترجمہ:’’ تو اُن کے رب نے اُن کو دعا قبول کر لی (اور فرمایا) کہ میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو، مرد ہو یا عورت، ضائع نہیں کرتا‘‘ 

یوں زیر نظر آیت کا ترجمہ ہوگا:’’اے لوگو ہم نے تم کو پیدا کیا وہ نر ہو یا ناری، اور تم کو قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا ہے کہ تم باہم دگر تعارف حاصل کرو۔‘‘

اس مفہوم کی تائید درج ذیل آیات سے بھی ہوتی ہے، 

وَأَنَّہُ خَلَقَ الزَّوْجَیْْنِ الذَّکَرَ وَالْأُنثَی۔ (النجم:۴۵) 

ترجمہ:’’اور یہ کہ وہ ہے جس نے جوڑے کے دونوں فرد ، نر اور ناری، پیدا کئے‘‘ 

فَجَعَلَ مِنْہُ الزَّوْجَیْْنِ الذَّکَرَ وَالْأُنثَی۔ (القیامۃ: ۳۹) 

ترجمہ:’’پھر بنایا اس سے جوڑا، نر اور مادہ‘‘ 

وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَالْأُنثَی۔ (اللیل: ۳) 

ترجمہ:’’اور شاہد ہے نر ومادہ کی آفرینش‘‘۔

مذکورہ بالا ترجموں میں ایک بات اور توجہ طلب ہے کہ بعض لوگوں نے شعوبا کا ترجمہ ’’کنبے‘‘ کیا ہے، یہ درست نہیں ہے۔ شعوبا کا ترجمہ ’’قومیں‘‘ ہوگا، شعب قبیلے سے بڑا ہوتا ہے جبکہ کنبہ جب قبیلہ کے ساتھ بولا جاتا ہے تو کنبہ قبیلہ سے چھوٹا ہوتا ہے۔

(جاری)


قرآن / علوم قرآن