اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۶۲)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۸۸)    شقاق کاترجمہ

قرآن مجید میں شقاق کا لفظ اور اس سے مشتق فعل متعدد مقامات پر ذکر ہوئے ہیں۔ اہل لغت کی صراحت کے مطابق شقاق کا مطلب ہے، مخالف ہوجانا، دشمنی اختیار کرلینا۔

خلیل فراہیدی کے الفاظ میں: والشِّقَاقُ: الخلاف۔ (العین)

فیروزابادی لکھتے ہیں: والمُشَاقَّۃ والشِّقاقُ: الخِلافُ، والعَدَاوَۃ۔ (القاموس المحیط)

راغب اصفہانی لکھتے ہیں: والشِّقَاقُ: المخالفۃ، وکونک فی شِقٍّ غیر شِقِ صاحبک۔ (المفردات فی غریب القرآن)

تراجم قرآن کا جائزہ بتاتا ہے کہ اکثر جگہ اکثر مترجمین نے یہی مذکورہ مفہوم اختیار کیا، لیکن کچھ مترجمین نے کچھ مقامات پر اس سے کچھ مختلف مفہوم بھی ذکر کیا، جیسے جھگڑا کرنا، ضد کرنا، مقابلہ کرنا وغیرہ۔ گو کہ جھگڑا، ضد، جنگ، مقابلہ یہ سب مخالفت اور دشمنی سے نکلے ہوئے رویے ہیں، لیکن ان میں بہرحال فرق ہے، جسے ملحوظ رکھنا مناسب ہے۔

ذلِكَ بِأنَّھُم شاقُّوا اللَّـہ وَرَسولَہ وَمَن يُشاقِقِ اللَّـہ وَرَسولَہ فَإنَّ اللَّـہ شَديدُ العِقابِ (الانفال: 13)

“یہ اس لیے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا اور جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرے اللہ اس کے لیے نہایت سخت گیر ہے ” ۔(سید مودودی)

“یہ اس بات کی سزا ہے کہ انہوں نے اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے سو بےشک اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے”۔ (محمد جوناگڑھی)

“یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخا لفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کرے تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے”۔ (احمد رضا خان)

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـہِ وَشَاقُّوا الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمُ الْھُدَى لَن يَضُرُّوا اللَّـہَ شَيْئًا وَسَيُحْبِطُ أَعْمَالَھُمْ۔ (محمد: 32)

“جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا اور رسول سے جھگڑا کیا جبکہ ان پر راہ راست واضح ہو چکی تھی، در حقیقت وہ اللہ کا کوئی نقصان بھی نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ ہی ان کا سب کیا کرایا غارت کر دے گا “۔(سید مودودی)

“بیشک جن لوگوں نے کفر اختیار کرلیا اور لوگوں کو خدا کی راہ سے روکا اور ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد بھی پیغمبر سے جھگڑا کیا وہ اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے ہیں اور اللہ عنقریب ان کے اعمال کو بالکل برباد کردے گا”۔ (ذیشان جوادی)

“جن لوگوں کو سیدھا رستہ معلوم ہوگیا (اور) پھر بھی انہوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کی راہ سے روکا اور پیغمبر کی مخالفت کی وہ خدا کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکیں گے۔ اور خدا ان کا سب کیا کرایا اکارت کردے گا”۔ (فتح محمد جالندھری)

ذَلِكَ بِأَنَّھُمْ شَاقُّوا اللَّـہَ وَرَسُولَہ وَمَن يُشَاقِّ اللَّـہَ فَإِنَّ اللَّـہَ شَدِيدُ الْعِقَابِ۔ (الحشر: 4)

“یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا، اور جو بھی اللہ کا مقابلہ کرے اللہ اس کو سزا دینے میں بہت سخت ہے”۔ (سید مودودی)

“یہ اس لیے کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو شخص خدا کی مخالفت کرے تو خدا سخت عذاب دینے والا ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

ثُمَّ يَومَ القِيامَۃِ يُخزيھِم وَيَقولُ أَينَ شُرَكائِيَ الَّذينَ كُنتُم تُشاقّونَ فيھِم قالَ الَّذينَ أوتُوا العِلمَ إِنَّ الخِزيَ اليَومَ وَالسّوءَ عَلَی الكافِرينَ ۔ (النحل: 27)

“پھر قیامت والے دن بھی اللہ تعالیٰ انہیں رسوا کرے گا اور فرمائے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کے بارے میں تم لڑتے جھگڑتے تھے”۔ (محمد جوناگڑھی)

“پھر قیامت کے روز اللہ اُنہیں ذلیل و خوار کرے گا اور اُن سے کہے گا ''بتاؤ¶ اب کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کے لیے تم (اہل حق سے) جھگڑے کیا کرتے تھے؟”۔(سید مودودی)

“پھر وہ ان کو قیامت کے دن بھی ذلیل کرے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کے بارے میں تم جھگڑا کرتے تھے”۔ (فتح محمد جالندھری)

“پھر قیامت کے دن انہیں رسوا کرے گا اور کہے گا میرے شریک کہاں ہیں جن پر تمہیں بڑی ضد تھی”۔ (احمد علی)

یہاں عام طور سے لوگوں نے جھگڑا کرنا ترجمہ کیا ہے۔ مناسب ترجمہ یہ ہے کہ: جن کی بنا پر تم نے مخالفت اور دشمنی اختیار کی تھی۔

وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَہُ الْھُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَھَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيْرًا۔ (النساء: 115)

“مگر جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے، درآں حالیکہ اس پر راہ راست واضح ہو چکی ہو”۔ (سید مودودی) یہاں عام طور سے لوگوں نے مخالفت کرنے کا ترجمہ کیا ہے۔

فَإنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِہٖ فَقَدِ اھْتَدَوا وَّإن تَوَلَّوْا فَإنَّمَا ھُمْ فِي شِقَاقٍ فَسَيَكْفِيكَھُمُ اللَّـہُ وَھُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔ (البقرة: 137)

“پھر اگر وہ اُسی طرح ایمان لائیں، جس طرح تم لائے ہو، تو ہدایت پر ہیں، اور اگراس سے منھ پھیریں، تو کھلی بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑ گئے ہیں”۔ (سید مودودی)

“پھر اگر وہ بھی یونہی ایمان لائے جیسا تم لائے جب تو وہ ہدایت پاگئے اور اگر منھ پھیریں تو وہ نری ضد میں ہیں”۔(احمد رضا خان)

“اگر وہ تم جیسا ایمان لائیں تو ہدایت پائیں، اور اگر منھ موڑیں تو وہ صریح اختلاف میں ہیں”۔ (محمد جوناگڑھی)

ذَٰلِكَ بِأنَّ اللَّـہَ نَزَّلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ وَإنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِي الْكِتَابِ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ۔ (البقرة: 176)

“ اور اس کتاب میں اختلاف کرنے والے یقینا دور کے خلاف میں ہیں”۔ (محمد جوناگڑھی)

“مگر جن لوگوں نے کتاب میں اختلاف نکالے وہ اپنے جھگڑوں میں حق سے بہت دور نکل گئے “۔(سید مودودی)

“اور بے شک جو لوگ کتاب میں اختلاف ڈالنے لگے وہ ضرور پرلے سرے کے جھگڑالو ہیں”۔ (احمد رضا خان)

“اور جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا وہ ضد میں (آکر نیکی سے) دور (ہوگئے) ہیں”۔(فتح محمد جالندھری)

 وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِھِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أھْلِہٖ وَحَكَمًا مِّنْ أھلِھَا إِن يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّـہُ بَيْنَھُمَا إنَّ اللَّـہَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا ۔ (النساء: 35)

“اور اگر تم کو معلوم ہو کہ میاں بیوی میں اَن بن ہے” ۔(فتح محمد جالندھری)

“اور اگر تم لوگوں کو کہیں میاں اور بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا اندیشہ ہو”۔ (سید مودودی)

“اور اگر تم کو میاں بی بی کے جھگڑے کا خوف ہو ”۔(احمد رضا خان)

“اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان آپس کی اَن بن کا خوف ہو”۔ (محمد جوناگڑھی)

بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّۃٍ وَشِقَاقٍ۔ (ص: 2)

“مگر جو لوگ کافر ہیں وہ غرور اور مخالفت میں ہیں”۔ (فتح محمد جالندھری)

“بلکہ یہی لوگ، جنہوں نے ماننے سے انکار کیا ہے، سخت تکبر اور ضد میں مبتلا ہیں” ۔(سید مودودی)

“بلکہ کافر تکبر اور خلاف میں ہیں”۔ (احمد رضا خان)

“بلکہ کفار غرور ومخالفت میں پڑے ہوئے ہیں”۔ (محمد جوناگڑھی)

وَيا قَومِ لا يَجرِمَنَّكُم شِقاقي أَن يُصيبَكُم مِثلُ ما أَصابَ قَومَ نوحٍ أَو قَومَ ھُوْدٍ أَو قَومَ صالِحٍ وَما قَومُ لوطٍ مِنْكُم بِبَعيدٍ۔ (ہود: 89)

“اور اے برادران قوم، میرے خلاف تمہاری ہٹ دھرمی کہیں یہ نوبت نہ پہنچا دے کہ آخر کار تم پر بھی وہی عذاب آ کر رہے جو نوحؑ یا ہودؑ یا صالحؑ کی قوم پر آیا تھا اور لوطؑ کی قوم تو تم سے کچھ زیادہ دور بھی نہیں ہے” ۔(سید مودودی)

“اور اے میری قوم تمہیں میری ضد یہ نہ کموادے کہ تم پر پڑے جو پڑا تھا نوح کی قوم یا ہود کی قوم یا صا لح کی قوم پر، اور لوط کی قوم تو کچھ تم سے دور نہیں”۔ (احمد رضا خان)

“اور اے قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے کہ جیسی مصیبت نوح کی قوم یا ہود کی قوم یا صالح کی قوم پر واقع ہوئی تھی ویسی ہی مصیبت تم پر واقع ہو۔ اور لوط کی قوم (کا زمانہ تو) تم سے کچھ دور نہیں”۔ (فتح محمد جالندھری)

“اور اے میری قوم (کے لوگو!) کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کو میری مخالفت ان عذابوں کا مستحق بنا دے جو قوم نوح اور قوم ہود اور قوم صالح کو پہنچے ہیں۔ اور قوم لوط تو تم سے کچھ دور نہیں”۔ (محمد جوناگڑھی)

وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ۔ (الحج: 53)

“بیشک ظالم لوگ گہری مخالفت میں ہیں”۔(محمد جوناگڑھی)

“حقیقت یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ عناد میں بہت دور نکل گئے ہیں”۔(سید مودودی)

“اور بیشک ستمگار دُھرکے (پرلے درجے کے) جھگڑالو ہیں”۔(احمد رضا خان)

“بے شک ظالم پرلے درجے کی مخالفت میں ہیں”۔(فتح محمد جالندھری)

مَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ ھُوَ فِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ۔ (فصلت: 52)

“بس اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہوگا جو مخالفت میں (حق سے) دور چلا جائے”۔ (محمد جوناگڑھی)

“اُس شخص سے بڑھ کر بھٹکا ہوا اور کون ہوگا جو اِس کی مخالفت میں دور تک نکل گیا ہو؟” (سید مودودی)

“تو اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو دور کی ضد میں ہے”۔ (احمد رضا خان)

“تو اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو (حق کی) پرلے درجے کی مخالفت میں ہو”۔ (فتح محمد جالندھری)

مذکورہ بالا آخری دونوں آیتوں میں شقاق بعید کی تعبیر ہے، جس کا صحیح مطلب مخالفت میں دور نکل جانا ہے، نہ کہ دور کی مخالفت میں ہونا۔ جس طرح ضلال بعید کا مطلب گمراہی میں دور نکل جانا ہے، نہ کہ دور کی گمراہی میں پڑنا۔

(۱۸۹) اصحاب المیمنۃ اور اصحاب المشئمۃ کا ترجمہ

قرآن مجید میں کہیں اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال آیا ہے، جس کا ترجمہ دائیں بازو والے اور بائیں بازو والے کیا جاتا ہے۔ البتہ دو مقامات پر اصحاب المیمنۃ اور اصحاب المشئمۃ آیا ہے، شمال کا اصل معنی بائیں طرف اور بایاں بازو ہے، وہ بدنصیبی اور نحوست کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ جب کہ مشئمۃ، شؤم سے ہے، جس کے اصل معنی بدنصیبی اور نحوست کے ہیں، اور کبھی بائیں کے معنی میں بھی استعمال ہوجاتا ہے۔

خلیل فراھیدی کے الفاظ ہیں: والمشئمۃ من الشُّؤم، ویقال: رجل مشؤوم۔

یمین اور میمنة میں دونوں مفہوم ہیں دائیں بازو اور دائیں طرف کا مفہوم بھی ہے، اور برکت وخوش نصیبی کا مفہوم بھی ہے۔ مقابل کے لحاظ سے اس کا معنی متعین ہوسکتا ہے۔ درج ذیل دونوں مقامات میں سے اول الذکر مقام پر عام طور سے میمنة اور مشئمة کا ترجمہ یمین اور شمال یعنی دائیں اور بائیں کا کیا گیا ہے، جب کہ ثانی الذکر مقام پر بہت سے مترجمین نے میمنة اور مشئمة کا ترجمہ خوش نصیبی اور بدنصیبی کیا ہے، اور یہی دونوں مقامات پر زیادہ مناسب ہے۔

فَأصْحَابُ الْمَيْمَنَۃِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَۃِ۔ وَأصْحَابُ الْمَشْأمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأمَةِ۔ (الواقعة:8۔9)

“دائیں بازو والے، سو دائیں بازو والوں (کی خوش نصیبی) کا کیا کہنا، اور بائیں بازو والے، تو بائیں بازو والوں (کی بد نصیبی کا) کا کیا ٹھکانا”۔ (سید مودودی)

“تو دہنی طرف والے کیسے دہنی طرف والے، اور بائیں طرف والے کیسے بائیں طرف والے”۔ (احمد رضا خان)

“پس داہنے ہاتھ والے کیسے اچھے ہیں داہنے ہاتھ والے، اور بائیں ہاتھ والے کیا حال ہے بائیں ہاتھ والوں کا”۔ (محمد جوناگڑھی)

“تو داہنے ہاتھ والے (سبحان اللہ) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی چین میں) ہیں، اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (گرفتار عذاب) ہیں” ۔(فتح محمد جالندھری)

أُولَـئِكَ أَصْحَابُ الْمَيْمَنَۃِ ۔ وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا ھُمْ أَصْحَابُ الْمَشْأمَةِ۔ (البلد: 18۔19)

“یہ لوگ ہیں دائیں بازو والے، اور جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کیا وہ بائیں بازو والے ہیں”۔ (سید مودودی)

“یہ دہنی طرف والے ہیں، اور جنہوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا وہ بائیں طرف والے” ۔(احمد رضا خان)

“یہی لوگ صاحب سعادت ہیں، اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو نہ مانا وہ بدبخت ہیں”۔ (فتح محمد جالندھری)

“یہی لوگ خو ش نصیبی والے ہیں، اور جن لوگوں نے ہماری آیات سے انکار کیا ہے وہ بد بختی والے ہیں”۔ (ذیشان جوادی)

“یہی لوگ ہیں دائیں بازو والے (خوش بختی والے) اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا یہ کم بختی والے ہیں”۔ (محمد جوناگڑھی)


قرآن / علوم قرآن