اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۶۳)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۹٠)    سورة الحشر کے بعض مقامات

(۱) لِلفُقَرَاء المُہَاجِرِینَ الَّذِینَ اخرِجُوا مِن دِیَارِہِم وَاَموَالِہِم۔ (الحشر: 8)

اس آیت میں فقراءموصوف ہے اور مہاجرین صفت ہے، اس لحاظ سے ترجمہ ہوگا: مہاجر فقراء، نہ کہ فقیر مہاجرین۔ ایک تو یہ زبان کے قواعد کا تقاضا ہے، دوسرے معنوی لحاظ سے بھی مہاجرین کی تقسیم مقصود نہیں ہے کہ فقیر مہاجرین کو حصہ دیا جائے اور غیر فقیر مہاجرین کا حصہ نہیں لگایا جائے۔ بلکہ یہ فقر سے دوچار لوگوں کی ایک خاص قسم یعنی مہاجرین اور گویا تمام مہاجرین پر مشتمل ہے، کیوں کہ تمام ہی مہاجرین گھر اور دولت چھوڑ کر آئے تھے۔ اس کا صحیح ترجمہ ہوگا: مہاجر فقیروں کے لیے، یا دوسرے لفظوں میں ان فقیروں کے لیے جو ہجرت کرکے آئے ہیں۔ درج ذیل ترجموں میں آخری ترجمہ قواعد کے مطابق ہے:

” ان محتاج مہاجرین کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور اپنی املاک سے نکالے گئے ہیں “۔(امین احسن اصلاحی)

”(نیز وہ مال) اُن غریب مہاجرین کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور جائیدادوں سے نکال باہر کیے گئے ہیں “۔(سید مودودی)

”ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے“۔(احمد رضا خان)

”(فیءکا مال) ان مہاجر مسکینوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے نکال دیے گئے ہیں “۔(محمد جوناگڑھی)

(۲) وَالَّذِینَ تَبَوَّءوا الدَّارَ وَالاِیمَانَ مِن قَبلِہِم یُحِبُّونَ مَن ھَاجَرَ اِلَیہِم۔ (الحشر: 9)

اس جملے کے ترجمے دیکھتے ہوئے دو مقامات پر غور کرنا ضروری محسوس ہوتا ہے۔

 ایک ہے ”والایمان“ کا ترجمہ، کیوں کہ گھر کو ٹھکانا بنانا تو واضح ہے، مگر ایمان کو ٹھکانا بنانا واضح نہیں ہوپاتا ہے، بعض لوگوں نے تو یہی ترجمہ کردیا ہے، کہ ایمان میں گھر بنالیا، اور بعض لوگوں نے کوئی فعل محذوف مان کر ترجمہ کیا ہے، جیسے ایمان کو استوار کرنا۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی یہاں واو کو معیت بتانے والا مان کر ترجمہ کرتے ہیں: ”اور ایمان کے ساتھ جو لوگ پہلے سے بسے ہوئے ہیں“۔ یعنی مدینہ منورہ میں ہجرت سے پہلے سے مقیم اہل ایمان یعنی انصار مدینہ۔ علامہ طاہر بن عاشور نے اس توجیہ کا ذکر کیا ہے، اور کہا ہے کہ اگرچہ اس کے قائلین کم ہیں، مگر یہ سب سے اچھی توجیہ ہے۔

وقیل الواو للمعیۃ. والایمان مفعول معہ. وعندی ان ہذا احسن الوجوہ، وان قل قائلوہ۔ (التحریر والتنویر)

دوسرا غور طلب مقام والذین کا ترجمہ ہے۔ یہاں مفسرین اور مترجمین والذین کو للفقراء المھاجرین پر معطوف قرار دے کر یہ مفہوم نکالتے ہیں کہ مہاجرین کی طرح یہ انصار بھی مال فیءمیں حصہ دار ہیں۔ اس کے لحاظ سے ترجمہ کرتے ہیں: ”اور یہ ان کے لیے بھی ہے جو۔۔۔”مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہ اس پر معطوف نہیں ہے، ورنہ وللذین ہونا چاہیے تھا۔ کیوں کہ درمیان میں طویل فصل ہوگیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یحبون من ھاجر الیھم بظاہر والذین کی خبر ہے، گو کہ لوگوں نے اسے حال مانا ہے، اور کچھ مترجمین نے تو اس سے پہلے (اور) مان کر ترجمہ کیا ہے۔ لیکن اس سب میں تکلف معلوم ہوتا ہے۔ آیت میں صاف ظاہر ہوتا ہے کہ والذین مبتدا  ہے اور یحبون اس کی خبر ہے۔ دراصل مال فیءکا مسئلہ تو فقیر مہاجرین تک مکمل ہوگیا، اور چونکہ مہاجرین کے اوصاف بتائے گئے تو مناسبت تھی کہ انصار کے اوصاف کا ذکر بھی ہو، اور بعد والوں کے اوصاف بھی بیان کیے جائیں۔ یہ بات خود اس آیت میں مذکور ہے کہ مہاجرین کو جو دیا جاتا ہے اس کے سلسلے میں یہ انصار کوئی خلش محسوس نہیں کرتے، اس سے خود معلوم ہوا کہ مال فیءمیں شروع میں مذکور مدات کے علاوہ عمومی طور سے صرف مہاجرین کے لیے حصہ رکھا گیا تھا۔ غرض ترجمہ ہوگا: ”اور جو لوگ ایمان کے ساتھ پہلے سے بسے ہوئے ہیں، وہ محبت کرتے ہیں ان سے جو ان کی طرف ہجرت کرکے آئے“۔

اس وضاحت کی روشنی میں درج ذیل ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

”اور جو لوگ پہلے سے ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں، اور (ایمان استوار کیے ہوئے ہیں) وہ دوست رکھتے ہیں ان لوگوں کو جو ان کی طرف ہجرت کرکے آرہے ہیں“ ۔(امین احسن اصلاحی)

”(اور وہ اُن لوگوں کے لیے بھی ہے) جو اِن مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی ایمان لا کر دارالہجرت میں مقیم تھے یہ اُن لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے اِن کے پاس آئے ہیں“۔ (سید مودودی)

”اور جنہوں نے پہلے سے اس شہر اور ایمان میں گھر بنالیا دوست رکھتے ہیں انہیں جو ان کی طرف ہجرت کرکے گئے “۔(احمد رضا خان)

”اور (ان لوگوں کے لیے بھی) جو مہاجرین سے پہلے (ہجرت کے) گھر (یعنی مدینے) میں مقیم اور ایمان میں (مستقل) رہے (اور) جو لوگ ہجرت کرکے ان کے پاس آتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں “۔(فتح محمد جالندھری)

”اور (ان کے لیے) جنہوں نے اس گھر میں (یعنی مدینہ) اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنالی ہے اور اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

وَالَّذِینَ جَاءُوا مِن بَعدِہِم یَقُولُونَ رَبَّنَا اغفِر لَنَا وَلِاِخوَانِنَا الَّذِینَ سَبَقُونَا بِالاِیمَانِ۔ (الحشر: 10)

گزشتہ مقام کی طرح اس مقام پر بھی اہل تفسیر وترجمہ نے یہ مان لیا ہے کہ یہاں بھی والذین، للفقراء المھاجرین پر معطوف ہے، اور گویا یہ بھی مال فیءکے حصے دار ہیں، حالانکہ یہاں بھی صاف نظر آتا ہے کہ والذین مبتدا ہے اور یقولون اس کی خبر ہے، جیسا کہ درج ذیل ترجموں میں آخری ترجمہ میں ہے:

”(اور وہ اُن لوگوں کے لیے بھی ہے) جو اِن اگلوں کے بعد آئے ہیں، جو کہتے ہیں کہ ”اے ہمارے رب، ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں“۔ (سید مودودی)

”اور (ان کے لیے بھی) جو ان (مہاجرین) کے بعد آئے (اور) دعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں گناہ معاف فرما“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور جو ان کے بعد آئے (ان کا بھی اس مال میں حصہ ہے) جو کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی بخش دے جنہوں نے ایمان لانے میں ہم پر سبقت کی“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور وہ جو ان کے بعد آئے عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے“۔ (احمد رضا خان)

(۱۹۱)    بریء کا ترجمہ

قرآن مجید میں بریء کا لفظ بار بار آیا ہے، اس کا مطلب ہوتا مکمل طور سے دوری، لاتعلقی اور بیزاری اختیار کرنا۔ راغب اصفہانی لکھتے ہیں:

اصل البُرئِ والبَرَاء والتَبَرِّی: التقصّی مما یکرہ مجاورتہ۔ (المفردات فی غریب القرآن)

عام طور سے مترجمین نے یہی ترجمہ کیا ہے، لیکن کہیں کہیں بری الذمہ ہونے اور ذمہ داری سے بری ہونے کا ترجمہ کیا ہے۔ یہ درست نہیں ہے۔ ایک تو صرف لفظ بریء بری الذمہ ہونے کے لیے نہیں آتا ہے، دوسرے ذمہ داری سے بری ہونے کی کوئی بات ہی نہیں ہے جس کا اعلان کیا جائے، اور تیسرے یہ کہ ذمہ داری سے بری ہونے سے وہ لاتعلقی اور بیزاری ظاہر نہیں ہوتی ہے جس کا اظہار یہاں مقصود ہے۔ اس روشنی میں درج ذیل ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

(۱) قُل اِنَّمَا ہُوَ الَہ وَاحِد وَاِنَّنِی بَرِیء مِمَّا تُشرِکُونَ۔ (الانعام: 19)

”کہو، خدا تو وہی ایک ہے اور میں اس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو“۔ (سید مودودی)

”اور جن کو تم لوگ شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں “۔(فتح محمد جالندھری)

(۲) قَالَ یَا قَومِ اِنِّی بَرِیء مِمَّا تُشرِکُونَ۔ (الانعام: 78)

”تو کہنے لگے لوگو! جن چیزوں کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں “۔(فتح محمد جالندھری)

”تو ابراہیم ؑ پکار اٹھا: ”اے برادران قوم! میں اُن سب سے بیزار ہوں جنہیں تم خدا کا شریک ٹھیراتے ہو “۔(سید مودودی)

(۳) وَقَالَ اِنِّی بَرِیء  مِنکُم ۔ (الانفال: 48)

”اور کہنے لگا کہ میرا تمہارا ساتھ نہیں ہے“۔ (سید مودودی)

”اور کہنے لگا کہ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں “۔(فتح محمد جالندھری)

(۴) اَنَّ اللَّہَ بَرِیئ  مِنَ المُشرِکِینَ وَرَسُولُہُ۔ (التوبة: 3)

”کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری الذمہ ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”کہ اللہ مشرکین سے بری الذمہ ہے اور اُس کا رسول بھی“۔ (سید مودودی)

”کہ خدا مشرکوں سے بیزار ہے اور اس کا رسول بھی (ان سے دستبردار ہے)“۔(فتح محمد جالندھری)

(۵) انتُم بَرِیئُونَ مِمَّا اعمَلُ وَاَنَا بَرِئ مِمَّا تَعمَلُونَ۔ (یونس: 41)

”تم بری ہو میرے عمل کی ذمہ داری سے اور میں بری ہوں تمہارے عمل کی ذمہ داری سے “۔(امین احسن اصلاحی)

”جو کچھ میں کرتا ہوں اس کی ذمہ داری سے تم بَری ہو اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بَری ہوں“۔ (سید مودودی)

”تم میرے عملوں کا جواب دہ نہیں ہو اور میں تمہارے عملوں کا جوابدہ نہیں ہوں “۔(فتح محمد جالندھری)

”تم میرے عمل سے بری ہو اور میں تمہارے عمل سے بری ہوں“۔ (محمد جوناگڑھی)

(۶) وَاَنَا بَرِیئ  مِمَّا تُجرِمُونَ۔ (ہود: 35)

”اور جو جرم تم کر رہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بری ہوں“۔ (سید مودودی)

”اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذمہ ہوں “۔(فتح محمد جالندھری)

”اور جو جرم تم کر رہے ہو اس سے میں بری الذمہ ہوں“۔(محمد حسین نجفی)

And I am free of the sins of which ye are guilty! (Yousuf Ali)

(۷) قَالَ اِنِّی اُشہِدُ اللَّہَ وَاشہَدُوا اَنِّی بَرِیء مِمَّا تُشرِکُونَ۔ (ہود: 54)

”ہودؑ نے کہا ”میں اللہ کی شہادت پیش کرتا ہوں اور تم گواہ رہو کہ یہ جو اللہ کے سوا دوسروں کو تم نے خدائی میں شریک ٹھیرا رکھا ہے اس سے میں بیزار ہوں “۔(سید مودودی)

 He said: "I call Allah to witness, and do ye bear witness, that I am free from the sin of ascribing, to Him. (Yousuf Ali)

(۸) فَاِن عَصَوکَ فَقُلِ انِّی بَرِیء مِمَّا تَعمَلُونَ۔ (الشعراء: 216)

”لیکن اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو ان سے کہو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذ مہ ہوں“۔ (سید مودودی)

Then if they disobey you, say: "I am innocent of what you do." (Mubarakpuri)
But if they disobey thee, say, "I am free of responsibility for aught that you may do!" (Asad)
If they disobey you, say, "I bear no responsibility for what you do." (Wahduddin Khan)

(۹) کَمَثَلِ الشَّیطَانِ اِذ قَالَ لِلاِنسَانِ اکفُر فَلَمَّا کَفَرَ قَالَ اِنِّی بَرِیء مِنکَ۔ (الحشر: 16)

”اِن کی مثال شیطان کی سی ہے کہ پہلے وہ انسان سے کہتا ہے کہ کفر کر، اور جب انسان کفر کر بیٹھتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری الذمہ ہوں “۔(سید مودودی)

”شیطان کی کہاوت جب اس نے آدمی سے کہا کفر کر پھر جب اس نے کفر کرلیا بولا میں تجھ سے الگ ہوں“۔ (احمد رضا خان)

”(منافقوں کی) مثال شیطان کی سی ہے کہ انسان سے کہتا رہا کہ کافر ہوجا۔ جب وہ کافر ہوگیا تو کہنے لگا کہ مجھے تجھ سے کچھ سروکار نہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

(۱٠) وَاِذ قَالَ اِبرَاہِیمُ لِاَبِیہِ وَقَومِہِ اِنَّنِی بَرَاء مِمَّا تَعبُدُونَ۔ (الزخرف: 26)

”یاد کرو وہ وقت جب ابراہیم ؑ نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ تم جن کی بندگی کرتے ہو میرا اُن سے کوئی تعلق نہیں“۔(سید مودودی)

(۱۱)   اِذ قَالُوا لِقَومِہِم اِنَّا بُرَآء مِنکُم وَمِمَّا تَعبُدُونَ مِن دُونِ اللَّہِ۔ (الممتحنۃ: 4)

”کہ اُنہوں نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا ہم تم سے اور تمہارے اِن معبودوں سے جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پوجتے ہو قطعی بیزار ہیں“ ۔(سید مودودی)


(جاری)

قرآن / علوم قرآن

Flag Counter