اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۴۴)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۴۳) اسلوب متعین کرنے کی ایک غلطی

درج ذیل آیت پر غور کریں:

وَإِنْ تَجْہرْ بِالْقَوْلِ فَإِنَّہ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَی۔ (طہ: 7)

اس آیت کا ترجمہ عام طور سے اس طرح کیا گیا ہے:

”تم چاہے اپنی بات پکار کر کہو، وہ تو چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے مخفی تر بات بھی جانتا ہے“ (سید مودودی)

”اور اگر تو بات پکار کر کہے تو وہ تو بھید کو جانتا ہے اور اسے جو اس سے بھی زیادہ چھپا ہے“ (احمد رضا خان)

صاحب تدبر نے یہاں عام مترجمین سے مختلف ترجمہ کیا ہے۔

”خواہ تم علانیہ بات کہو (یا چپکے سے) وہ علانیہ اور پوشیدہ سب کو جانتا ہے“ (امین احسن اصلاحی)

صاحب تدبر نے یہاں وہ اسلوب مراد لیا ہے جس میں مقابل کو حذف کردیا جاتا ہے، لیکن السر کے ساتھ واخفی یہ بتارہا ہے کہ یہاں وہ اسلوب مراد نہیں ہے، بلکہ وہ اسلوب مراد ہے جس میں کلام میں درجہ درجہ قوت پیدا ہوتی جاتی ہے، کہ علانیہ بات تو کیا وہ تو پوشیدہ اور پھر پوشیدہ تر کو بھی جانتا ہے۔ اس لیے پہلے جملے میں چپکے سے اور دوسرے جملے میں علانیہ محذوف ماننے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس ترجمہ میں دوسری غلطی یہ رہ گئی ہے کہ اخفی کا ترجمہ نہیں ہوسکا ہے، حالانکہ آیت کی تشریح کرتے ہوئے صاحب تدبر نے اخفی کا مفہوم بھی ذکر کیا ہے۔

(۱۴۴) فاذ لم تفعلوا کا ترجمہ

أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ ۚ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَتَابَ اللَّہ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاۃ وَآتُوا الزَّكَاۃ وَأَطِيعُوا اللَّہ وَرَسُولَہ ۚ وَاللَّہ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ۔ (المجادلۃ: 13)

اس آیت میں اذ لم تفعلوا میں اذ برائے ظرف ہے، اور جملہ ظرفیہ ماضی کا مفہوم ادا کررہا ہے، حسب قواعد ترجمہ ہوگا ”جب تم نے نہیں کیا“۔

یہی ترجمہ عام طور سے مترجمین نے کیا ہے، جیسے:

”کیا تم اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ نکالنے سے ڈر گئے؟ پس جب تم نے یہ نہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی تمہیں معاف فرما دیا تو اب (بخوبی) نمازوں کو قائم رکھو زکوٰة دیتے رہا کرو اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی تابعداری کرتے رہو۔ تم جو کچھ کرتے ہو اس (سب) سے اللہ (خوب) خبردار ہے“ (محمد جوناگڑھی)

البتہ درج ذیل ترجمہ ہمیں مختلف ملتا ہے:

”کیا تم ڈر گئے اس بات سے کہ تخلیہ میں گفتگو کرنے سے پہلے تمہیں صدقات دینے ہوں گے؟ اچھا، اگر تم ایسا نہ کرو اور اللہ نے تم کو اس سے معاف کر دیا تو نماز قائم کرتے رہو، زکوٰة دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے“(سید مودودی)

اس میں اذ لم تفعلوا کا ترجمہ کیا ہے،” اگر تم ایسا نہ کرو“، یہ ترجمہ کسی طرح درست نہیں ہے، غالب گمان یہ ہے کہ اس آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے دوسری آیت کے ان لم تفعلوا سے اشتباہ ہوگیا ہے، جو قرآن مجید میں دوسرے مقام پر آیا ہے۔

(۱۴۵) مریب کا ترجمہ

قرآن مجید میں چھ مقامات پر مریب کا لفظ شک کی صفت کے طور پر آیا ہے، (شک مریب) کا ترجمہ لوگوں نے مختلف طرح سے کیا ہے، اس تعبیر کا صحیح مفہوم وہ ہے جو علامہ زمخشری نے ذکر کیا ہے، 

مُرِیبٍ من ارابہ اذا اوقعہ فی الریبۃ وھی قلق النفس وانتفاء الطمانینۃ بالیقین. (تفسیر الزمخشری 2/ 407)

یعنی وہ شک جو الجھن اور پریشانی میں مبتلا کردے۔ تفسیر جلالین میں بھی اس کی تفسیر موقع فی الریبۃ ملتی ہے، یعنی الجھن اورخلجان میں ڈالنے والاشک۔

اس وضاحت کی روشنی میں ذیل کے ترجموں کو جائزہ لیا جاسکتا ہے:

(۱) وَإِنَّنَا لَفِي شَكٍّ مِمَّا تَدْعُونَا إِلَيْہ مُرِيبٍ۔ (ھود: 62)

”اس کے بارے میں ہم کو سخت شبہ ہے جس نے ہمیں خلجان میں ڈال رکھا ہے“ (سید مودودی، یہ ترجمہ درست ہے)

”ہمیں تو اس دین میں حیران کن شک ہے جس کی طرف تو ہمیں بلا رہا ہے“ (محمدجوناگڑھی، ترجمہ درست ہے)

”اور بیشک جس بات کی طرف ہمیں بلاتے ہو ہم اس سے ایک بڑے دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں“ (احمد رضا خان، مریب دھوکہ ڈالنے والی چیز کو نہیں کہتے ہیں)

” اور جس بات کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو، اس میں ہمیں قوی شبہہ ہے“ (فتح محمدجالندھری، یہ ترجمہ درست نہیں ہے)

(۲) وَإِنَّہمْ لَفِي شَكٍّ مِنْہ مُرِيبٍ۔ (ھود: 110)

”یہ واقعہ ہے کہ یہ لوگ اس کی طرف سے شک اور خلجان میں پڑے ہوئے ہیں“(سید مودودی، یہ ترجمہ درست نہیں ہے، موصوف صفت کا ترجمہ ہونا چاہئے)

”اور وہ تو اس سے قوی شبہے میں (پڑے ہوئے) ہیں“ (فتح محمدجالندھری، یہ ترجمہ درست نہیں ہے، مریب وہ چیز نہیں ہے جو شبہ کو قوی بنادے، بلکہ وہ جو شبہ کو پریشان کن بنادے)

”انہیں تو اس میں سخت شبہہ ہے“ (محمدجوناگڑھی، یہ بھی درست نہیں ہے)

” اور بیشک وہ اس کی طرف سے دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں“ (احمد رضا خان، مریب دھوکہ ڈالنے والی چیز کو نہیں کہتے ہیں)

(۳) وَإِنَّا لَفِي شَكٍّ مِمَّا تَدْعُونَنَا إِلَيْہ مُرِيبٍ۔ (ابراہیم: 9)

”اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت دیتے ہو اُس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں“ (سید مودودی، خلجان آمیز نہیں بلکہ خلجان انگیز ہونا چاہئے)

”اور جس راہ کی طرف ہمیں بلاتے ہو اس میں ہمیں وہ شک ہے کہ بات کھلنے نہیں دیتا“(احمد رضا خان، یہ ترجمہ درست ہے)

”اور جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ہم اس سے قوی شک میں ہیں“ (فتحح محمدجالندھری، یہ بھی درست نہیں ہے)

”اور جس چیز کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو ہمیں تو اس میں بڑا بھاری شبہ ہے“ (محمدجوناگڑھی، یہ بھی درست نہیں ہے)

(۴) إِنَّہمْ كَانُوا فِي شَكٍّ مُرِيبٍ۔ (سبا: 54)

”وہ بھی (ان ہی کی طرح) شک وتردد میں (پڑے ہوئے) تھے“ (محمدجوناگڑھی، یہ درست نہیں ہے، محل عطف کا نہیں بلکہ موصوف صفت کا ہے)

”یہ بڑے گمراہ کن شک میں پڑے ہوئے تھے“ (سید مودودی، یہ بھی درست نہیں ہے، گمراہ کن مریب کا ترجمہ نہیں ہے)

”بیشک وہ دھوکا ڈالنے والے شک میں تھے“ (احمد رضا خان)

”وہ بھی الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے تھے“(فتح محمدجالندھری، یہ درست ترجمہ ہے)

(۵) وَإِنَّہمْ لَفِي شَكٍّ مِنْہ مُرِيبٍ۔ (فصلت: 45)

”اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اُس کی طرف سے سخت اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں“(سید مودودی، یہ درست ترجمہ ہے)

”اور بیشک وہ ضرور اس کی طرف سے ایک دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں“ (احمد رضا خان)

”اور یہ اس (قرآن) سے شک میں الجھ رہے ہیں“ (فتح محمدجالندھری، یہ بھی درست ترجمہ نہیں ہے)

”یہ لوگ تو اس کے بارے میں سخت بےچین کرنے والے شک میں ہیں“ (جوناگڑھی، یہ درست ترجمہ ہے)

(۶) وَإِنَّ الَّذِينَ أُورِثُوا الْكِتَابَ مِنْ بَعْدِہمْ لَفِي شَكٍّ مِنْہ مُرِيبٍ۔ (الشوری: 14)

”اور جن لوگوں کو ان کے بعد کتاب دی گئی ہے وہ بھی اس کی طرف سے الجھن والے شک میں پڑے ہوئے ہیں“(محمدجوناگڑھی، یہ درست ترجمہ ہے)

”اور حقیقت یہ ہے کہ اگلوں کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اُس کی طرف سے بڑے اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں“ (سید مودودی، یہ درست ترجمہ ہے)

”اور بیشک وہ جو ان کے بعد کتاب کے وارث ہوئے وہ اس سے ایک دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں“ (احمد رضا خان)

”اور جو لوگ ان کے بعد (خدا کی) کتاب کے وارث ہوئے وہ اس (کی طرف) سے شبہے کی الجھن میں (پھنسے ہوئے) ہیں“ (فتح محمدجالندھری، یہ درست ترجمہ نہیں ہے)

ان مذکورہ بالا چھ مقامات کے علاوہ ایک مقام پر لفظ مریب، شک کی صفت کے طور پر نہیں آیا ہے بلکہ جہنم میں جانے والے کافر کی صفت کے طور پر آیا ہے۔ اس کا ترجمہ کچھ لوگوں نے کیا ہے، شک میں پڑا ہوا، اور کچھ لوگوں نے کیا ہے شک کرنے والا، ان دونوں کے حق میں مفسرین کے اقوال بھی موجود ہیں، کچھ لوگوں نے ایک ساتھ دونوں ترجمے کردیے ہیں، یہ غلط ہے دونوں میں سے کوئی ایک ہی ترجمہ اختیار کرنا ہوگا۔

مَنَّاعٍ لِلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُرِيبٍ۔ (ق: 25)

”خیر کو روکنے والا اور حد سے تجاوز کرنے والا تھا، شک میں پڑا ہوا تھا“(سید مودودی)

”جو بھلائی سے بہت روکنے والا حد سے بڑھنے والا شک کرنے والا “(احمد رضا خان)

”جو مال میں بخل کرنے والا حد سے بڑھنے والا شبہے نکالنے والا تھا“ (فتح محمدجالندھری)

”جو نیکی سے روکنے والا ہے، حد سے بڑھ جانے والا ہے، شک کرنے اور ڈالنے والا ہے“ (طاہر القادری)

”جو نیکی و خیرات سے بڑا روکنے والا، حد سے بڑھنے والا اور شک کرنے والا اور دوسروں کو شک میں ڈالنے والا تھا“ (نجفی)

آخر کے دونوں ترجمہ درست نہیں ہیں، مریب کا کوئی ایک ترجمہ کرنا ہوگا ، ایک ہی لفظ کے دو ترجمے بیک وقت کرنا صحیح نہیں ہے۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی اس آیت میں مریب کا ترجمہ عام لوگوں سے مختلف کرتے ہیں، ان کے نزدیک اوپر کی آیتوں میں تو مریب، شک کی صفت کے طور پر آیا ہے، یعنی الجھن میں ڈالنے والا شک، جب کہ یہاں یہ انسان کی صفت کے طور پر آیا ہے، اس لئے یہاں مریب متعدی نہیں بلکہ لازم مانا جائے گا، اور” شک میں پڑا ہوا“ کے بجائے ” الجھن اور خلجان میں پڑا ہوا“ ترجمہ کیا جائے گا۔ 

(جاری)

قرآن / علوم قرآن

(جولائی ۲۰۱۸ء)

Flag Counter