اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۸)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۵۹) جُندٌ مَّا ہُنَالِکَ کا ترجمہ

جُندٌ مَّا ہُنَالِکَ مَہْزُومٌ مِّنَ الْأَحْزَاب۔ (ص:۱۱)

اس آیت میں ایک لفظ (ہُنَالِکَ)ہے، جس کاترجمہ لوگوں نے ظرف مکان یا ظرف مکان سے کیا ہے، کسی نے اسی جگہ اور کسی نے اس وقت کا ترجمہ کیا۔

اس آیت میں ایک دوسرا لفظ ( مَا)ہے ، جس کا ترجمہ بعض لوگوں نے چھوٹا اور بعض لوگوں نے بڑا کیا ہے۔

’’یہ تو جتھوں میں سے ایک چھوٹا سا جتھا ہے جو اِسی جگہ شکست کھانے والا ہے‘‘۔ (سید مودودی)

’’یہاں شکست کھائے ہوئے گروہوں میں سے یہ بھی ایک لشکر ہے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)

’’یہ بھی (بڑے بڑے) لشکروں میں سے شکست پایا ہوا (چھوٹا سا) لشکر ہے‘‘۔(محمد جوناگڑھی)

’’(کفّار کے) لشکروں میں سے یہ ایک حقیر سا لشکر ہے جو اسی جگہ شکست خوردہ ہونے والا ہے‘‘۔(طاہر القادری)

’’(جب میرا عذاب آجائے گا) تو اس وقت جماعتوں میں سے کوئی بڑے سے بڑا لشکر بھی شکست کھا کر رہے گا‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

عام طور سے لوگوں نے اس آیت کا یہ مفہوم سمجھا ہے کہ اس میں مکہ کے مشرکین کا لشکر مراد ہے جس کے مستقبل میں شکست پانے کی خبر دی گئی ہے، اور بات مستقبل کی ہے لیکن تاکید کے لئے ماضی کا صیغہ اختیا ر کیا گیا ہے۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی نے ان تمام مترجمین سے ہٹ کر ترجمہ تجویزکیا ہے، وہ ترجمہ کرتے ہیں:

’’جتھوں کے کتنے ہی لشکر ہیں جو شکست کھا چکے ہیں‘‘۔

اس ترجمہ کے لحاظ سے لفظ (مَا)کثرت ظاہر کرنے کے لئے ہے، اور لفظ (ہُنَالِکَ) ویسے ہی ہے جیسے انگریزی میں لفظThere آتا ہے، یعنی اس کا ترجمہ نہیں کیا جائے گا۔ مطلب یہ ہوگا کہ انسانی تاریخ میں ایسی بہت ساری قوموں کی داستانیں محفوظ ہیں جنہوں نے رسول کی تکذیب کی اور ان سب کے لشکر شکست سے دوچار ہوئے، اس ترجمہ سے جہاں دوسرے اشکالات ختم ہوجاتے ہیں، وہیں سیاق کلام کا حق بھی بھر پور طریقے سے ادا ہوجاتا ہے، گویا اس آیت میں جو بات اجمال کے ساتھ کہی گئی اس کی تفصیل اگلی تین آیتوں میں بیان کردی گئی یعنی جن جتھوں کے لشکر شکست کھاچکے ہیں ان میں سے بعض کے نام بتادیئے گئے۔چاروں آیتوں کو ملاکر دیکھیں تو مفہوم بالکل واضح ہوجاتا ہے۔

جُندٌ مَّا ہُنَالِکَ مَہْزُومٌ مِّنَ الْأَحْزَابِ۔ کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ ذُو الْأَوْتَادِ۔ وَثَمُودُ وَقَوْمُ لُوطٍ وَأَصْحَابُ الأَیْْکَۃِ أُوْلَئِکَ الْأَحْزَابُ۔ إِن کُلٌّ إِلَّا کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۔ (ص:۱۱۔۱۴)

تیسری آیت کے اختتام پر أُوْلَئکَ الْأَحْزَابُ سے یہ بات متعین ہوگئی کہ احزاب سے مراد کون سے جتھے ہیں۔

(۶۰) ایک جیسے دو افعال کے درمیان تشبیہ کا ایک خاص اسلوب

قرآن مجید میں ایک اسلوب یہ ہے کہ ایک ایسا فعل جو لوگوں کی پریکٹس میں ہوتا ہے اور لوگ کررہے ہوتے ہیں اور اس سے مانوس ہوتے ہیں، اسی کے حوالے سے اور اسی کی تشبیہ دیتے ہوئے لفظاََ اسی جیسے فعل کے بارے میں بتایا جائے۔ یہ اسلوب قرآن مجید میں کئی مقامات پر آیا ہے، مندرجہ ذیل دو مثالوں سے یہ اسلوب آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔

(۱) لَا تَجْعَلُوا دُعَاء الرَّسُولِ بَیْْنَکُمْ کَدُعَاء بَعْضِکُم بَعْضاً۔ (النور:۶۳)

’’رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرالو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے‘‘۔ (احمد رضا خان)

’’مومنو پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

(۲) یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوا لَہُ بِالْقَوْلِ کَجَہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ۔ (الحجرات :۲) 

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی آواز نبیؐ کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ نبیؐ کے ساتھ اونچی آواز سے بات کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو‘‘۔ (سید مودودی)

ان دونوں مقامات پر مترجمین نے ایک ہی انداز کا ترجمہ کیا ہے اور درست کیا ہے ’’جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو‘‘ اور’’ جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے اونچی آواز میں بات کرتے ہو‘‘ کسی نے یہ ترجمہ نہیں کیا کہ ’’جیسا تم کوآپس میں ایک دوسرے کو بلانا چاہئے‘‘ اور’’ جس طرح تم کوآپس میں ایک دوسرے سے اونچی آواز میں بات کرنا چاہئے‘‘۔

تاہم یہی اسلوب جب کچھ اور آیتوں میں استعمال ہوا، تو وہاں’’کرتے ہو‘‘ کی جگہ’’کرنا چاہئے‘‘ کا بعض مترجموں نے ترجمہ کردیا، حالانکہ ان مقامات پر بھی موقعہ اور اسلوب دونوں کا تقاضا یہی ہے کہ مذکورہ بالا دونوں آیتوں کی طرح ترجمہ کیا جائے۔

(۱) وَیَدْعُ الإِنسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاء ہُ بِالْخَیْْرِ وَکَانَ الإِنسَانُ عَجُولاً۔ (الاسراء:۱۱)

’’انسان شر اُس طرح مانگتا ہے جس طرح خیر مانگنی چاہیے انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے‘‘۔(سید مودودی)

’’اور انسان برائی کا اس طرح طالب بنتا ہے جس طرح اس کو بھلائی کا طالب بننا چاہئے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

مذکورہ بالا ترجموں سے بہتراور اسلوب بالاکے مطابق مذکورہ ذیل ترجمہ ہے:

’’اور آدمی برائی کی دعا کرتا ہے جیسے بھلائی مانگتا ہے اور آدمی بڑا جلد باز ہے‘‘۔ (احمد رضا خان)

مولانا امانت اللہ اصلاحی نے اس مفہوم کی ادائیگی کے لئے اور زیادہ مناسب پیرایہ اختیار کیا۔

اور انسان برائی کا اس طرح طالب بنتا ہے جیسے وہ بھلائی کا طالب ہو۔

انگریزی مترجمین میں مندرجہ ذیل ترجمہ مناسب معلوم ہوتا ہے:

As it is, man [often] prays for things that are bad as if he were praying for something that is good. (Asad)

(۲) وَمِنَ النَّاسِ مَن یَتَّخِذُ مِن دُونِ اللّٰہِ أَندَاداً یُحِبُّونَہُمْ کَحُبِّ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ أَشَدُّ حُبّاً لِّلّٰہِ۔ (البقرۃ : ۱۶۵)

’’کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر اور مدمقابل بناتے ہیں اور اْن کے ایسے گرویدہ ہیں جیسے اللہ کے ساتھ گرویدگی ہونی چاہیے حالانکہ ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں‘‘۔(سید مودودی)

’’بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں، جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیے اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں۔‘‘(محمد جوناگڑھی)

یہاں بھی ’’چاہئے‘‘ والا ترجمہ درست نہیں ہے، کیونکہ اللہ سے جتنی محبت ہونی چاہئے اتنی تو کوئی کسی سے نہیں کرتا ہے، کیونکہ اللہ سے محبت کی تو کوئی حد ہی نہیں ہے۔ یہاں تو یہ بتایا جارہا ہے کہ یہ مشرکین جو اللہ کے ساتھ دوسروں کو بندگی میں شریک کرتے ہیں، اسی طرح محبت میں بھی شریک کرتے ہیں، اور جس طرح اللہ سے محبت کا دم بھرتے ہیں ، اسی طرح ان سے محبت کا بھی دم بھرتے ہیں۔ یہاں مفہوم اور اسلوب دونوں کا تقاضا ہے کہ مندرجہ ذیل ترجمہ کو درست مانا جائے:

’’اور کچھ لوگ اللہ کے سوا اور معبود بنالیتے ہیں کہ انہیں اللہ کی طرح محبوب رکھتے ہیں اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں‘‘۔(احمد رضاخان)

(۳) أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَہُمْ کُفُّواْ أَیْْدِیَکُمْ وَأَقِیْمُوا الصَّلاَۃَ وَآتُوا الزَّکَاۃَ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْْہِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَۃِ اللّٰہِ أَوْ أَشَدَّ خَشْیَۃً۔ (النساء :۷۷)

’’تم نے اْن لوگوں کو بھی دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو؟ اب جو انہیں لڑائی کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک فریق کا حال یہ ہے کہ لوگوں سے ایسا ڈر رہے ہیں جیسا خدا سے ڈرنا چاہیے یا کچھ اس سے بھی بڑھ کر‘‘۔(سید مودودی)

’’تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا جاتا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو، اور نماز کا اہتمام رکھو اور زکوۃ دیتے رہو؟ تو جب ان پر جنگ فرض کردی گئی تو ان میں سے ایک گروہ لوگوں سے اس طرح ڈرتا ہے جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہئے، یا اس سے زیادہ‘‘۔(امین احسن اصلاحی) 

یہاں بھی ’’چاہئے‘‘ والا ترجمہ درست نہیں ہے، کیونکہ اللہ سے جتنی خشیت ہونی چاہئے اتنی تو کوئی کسی سے نہیں رکھتاہے، اور یہاں تو (أَشَدَّ خَشْیَۃ) ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ سے جتنی خشیت ہونی چاہئے ، اس سے زیادہ کسی اور سے خشیت ہوہی نہیں سکتی۔تدبر قرآن کی تلخیص کے ساتھ جو ترجمہ نظر ثانی کے بعد شائع ہوا ہے، اس میں ’’جس طرح اللہ سے ڈرا جاتا ہے‘‘ترجمہ کیا گیا ہے، پیر محمد کرم شاہ ازہری نے بھی اسی طرح ترجمہ کیا ہے، لیکن یہ بھی اسی طرح نا درست ہے، جس طرح ’’چاہئے‘‘ والا ترجمہ درست نہیں ہے۔

ان ترجموں کے بالمقابل مندرجہ ذیل ترجمہ درست ہے:

’’بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو (پہلے یہ) حکم دیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو (جنگ سے) روکے رہو اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰۃ دیتے رہو پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو بعض لوگ ان میں سے لوگوں سے یوں ڈرنے لگے جیسے خدا سے ڈرا کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

(جاری)

قرآن / علوم قرآن

Flag Counter