اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۲۱)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۹۷) افتری علی اللہ الکذب کا ترجمہ

افتری کے معنی گھڑنا ہوتے ہیں، افتری الکذب کا مطلب ہوتا ہے جھوٹ بات گھڑنا، اور افتری علی اللہ الکذب کا مطلب ہے اللہ کے بارے میں جھوٹ گھڑنا، اور اللہ کی طرف بے بنیاد بات منسوب کرنا۔ 

قرآن مجید میں یہ تعبیر بہت زیادہ مقامات پر آئی ہے،بہت سے مترجمین کے یہاں دیکھا جاتا ہے کہ اس کا ترجمہ کرتے وقت کبھی کبھی بہتان باندھنے یا تہمت لگانے کا ترجمہ کردیتے ہیں، لیکن یہ درست نہیں ہے، افتری علی اللہ الکذب میں اللہ پر بہتان لگانے یا تہمت لگانے کا مفہوم ہوتا ہی نہیں ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ جو مترجم بعض جگہوں پر بہتان باندھنے کا ترجمہ کرتے ہیں، وہی دوسری بعض جگہوں پر جھوٹ باندھنے کا ترجمہ کرتے ہیں۔ ذیل میں اس طرح کی مثالوں کا احاطہ کیا گیا ہے:

(۱) فَمَنِ افْتَرَیَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ مِن بَعْدِ ذَلِکَ فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ۔ (آل عمران: ۹۴)

’’جو شخص اس کے بعد اللہ تعالی پر جھوٹ بات کی تہمت لگائے، تو ایسے لوگ بڑے بے انصاف ہیں‘‘۔ (تھانوی)

’’اس کے بعد بھی جو لوگ اللہ تعالی پر جھوٹ بہتان باندھیں وہی ظالم ہیں‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

’’پھر جو کوئی باندھے اللہ پر جھوٹ اس کے بعد تو وہی ہیں بے انصاف‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

’’پس ہر کہ بر بندو بر خدائے دروغ را از پس آنکہ ایں را دانست پس آن گروہ ایشانند ظالمان‘‘۔ (سعدی شیرازی)

’’پس ہر کہ دروغ بندو بر خدا بعد ازیں پس آن گروہ ایشانند ستم گاران‘‘۔ (شاہ ولی اللہ دہلوی)

(۲) وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّٰٰہِ کَذِباً أَوْ کَذَّبَ بِآیَاتِہِ إِنَّہُ لاَ یُفْلِحُ الظَّالِمُون۔ (الانعام:۲۱)

’’اور اس سے زیادہ اور کون بے انصاف ہوگا جو اللہ تعالی پر جھوٹ بہتان باندھے یا اللہ تعالی کی آیات کو جھوٹا بتلائے، ایسے بے انصافوں کو رست گاری نہ ہوگی‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

’’اور اس سے ظالم کون جو جھوٹ باندھے اللہ پر یا جھٹلادے اس کی آیتیں مقرر بھلائی نہیں پاتے گنہ گار‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(۳) وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّٰہِ کَذِباً أَوْ قَالَ أُوْحِیَ إِلَیَّ وَلَمْ یُوحَ إِلَیْْہِ شَیْْءٌ۔ (الانعام: ۹۳)

’’اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ تہمت باندھے، یا دعوی کرے کہ مجھ پر وحی آئی ہے، درآنحالیکہ اس پر کچھ بھی وحی نہ آئی ہو‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

’’اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹی تہمت لگائے، یا یوں کہے کہ مجھ کو وحی آئی ہے حالانکہ اس کے پاس کسی بات کی بھی وحی نہیں آئی‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

’’اور اس سے ظالم کون جو باندھے اللہ پر جھوٹ یا کہے مجکو وحی آئی اور اس کو وحی کچھ نہیں آئی‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(۴) فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّٰہِ کَذِباً لِیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْْرِ عِلْمٍ۔ (الانعام: ۱۴۴)

’’تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے بغیر کسی علم کے‘‘۔ (اصلاحی)

’’تو اس سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ تعالی پر بلادلیل جھوٹ تہمت لگائے تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے‘‘۔ (تھانوی)

پھر اس سے ظالم کون جو جھوٹھ باندھے اللہ پر تا لوگوں کو بہکادے بغیر تحقیق۔ (شاہ عبدالقادر)

(۵) فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّٰہِ کَذِباً أَوْ کَذَّبَ بِآیَاتِہِ أُوْلَئِکَ یَنَالُہُمْ نَصِیْبُہُم مِّنَ الْکِتَابِ۔ (الاعراف: ۳۷)

’’تو ان سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھیں یا اس کی آیات جھٹلائیں، ان لوگوں کو ان کے نوشتہ کا حصہ پہونچے گا‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

’’سو اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ تعالی پر جھوٹھ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھوٹا بتلادے ان لوگوں کے نصیب کا جو کچھ ہے وہ ان کو مل جاوے گا‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

’’پھر اس سے ظالم کون جو جھوٹ باندھے اللہ پر یا جھٹلادے اس کے حکم کو وہ لوگ پاویں گے جو ان کا حصہ لکھا کتاب میں‘‘ (شاہ عبدالقادر)

(۶) فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّٰہِ کَذِباً أَوْ کَذَّبَ بِآیَاتِہِ۔ (یونس: ۱۷)

’’اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے یا اس کی آیات کو جھٹلائے‘‘۔ (اصلاحی)

’’پھر کون ظالم اس سے جو بناوے اللہ پر جھوٹ یا جھٹلادے اس کی آیتیں‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(۷) وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّٰہِ کَذِباً أُوْلَئِکَ یُعْرَضُونَ عَلَی رَبِّہِمْ وَیَقُولُ الأَشْہَادُ ہَؤُلاءِ الَّذِیْنَ کَذَبُوا عَلَی رَبِّہِمْ۔ (ہود: ۱۸)

’’اور کون ظالم اس سے جو باندھے اللہ پر جھوٹ وہ لوگ رو برو آویں گے اوپر اپنے رب کے اور کہیں گے گواہی والے یہی ہیں جنھوں نے جھوٹ کہا اپنے رب پر‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(۸) فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّٰہِ کَذِباً۔ (الکہف: ۱۵)

’’تو اس شخص سے زیادہ کون غضب ڈھانے والا ہوگا جو اللہ پر جھوٹ تہمت لگائے‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

’’پھر اس شخص سے گناہ گار کون جس نے باندھا اللہ پر جھوٹ‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(۹) قَالَ لَہُم مُّوسَی وَیْْلَکُمْ لَا تَفْتَرُوا عَلَی اللّٰہِ کَذِباً۔ (طہ: ۶۱)

’’موسی نے کہا شامت کے مارو، نہ جھوٹی تہمتیں باندھو اللہ پر‘‘(سید مودودی)

’’کہا ان کو موسی نے کم بختی تمہاری جھوٹھ نہ بولو اللہ پر‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(۱۰) إِنْ ہُوَ إِلَّا رَجُلٌ افْتَرَی عَلَی اللّٰہِ کَذِباً وَمَا نَحْنُ لَہُ بِمُؤْمِنِیْنَ۔ (المؤمنون: ۳۸)

’’اور کچھ نہیں یہ ایک مرد ہے باندھ لایا اللہ پر جھوٹ، اور اس کو ہم نہیں ماننے والے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(۱۱) وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّٰہِ کَذِباً أَوْ کَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَہُ۔ (العنکبوت: ۶۸)

’’اور اس سے بے انصاف کون ہے جو باندھے اللہ پر جھوٹ یا جھٹلادے سچی بات کو جب اس تک پہونچے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(۱۲) أَفْتَرَی عَلَی اللّٰہِ کَذِباً أَم بِہِ جِنَّۃٌ۔ (سبا:۸)

’’نہ معلوم یہ شخص اللہ نام سے جھوٹ گھڑتا ہے یا اسے جنون لاحق ہے‘‘۔ (سید مودودی)

’’معلوم نہیں اس شخص نے خدا پر (قصدا) جھوٹ بہتان باندھا ہے یا اس کو کسی طرح کا جنون ہے‘‘۔ (تھانوی)

’’کیا بنا لایا ہے اللہ پر جھوٹ یا اس کو سودا ہے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(۱۳) أَمْ یَقُولُونَ افْتَرَی عَلَی اللّٰہِ کَذِباً۔ (الشوریٰ: ۲۴)

’’کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اللہ پر جھوٹا بہتان گھڑ لیا ہے‘‘۔ (سید مودودی)

’’کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ انہوں نے خدا پر جھوٹھ بہتان باندھ رکھا ہے‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

’’کیا کہتے ہیں اس نے باندھا اللہ پر جھوٹ‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(۱۴) وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ وَہُوَ یُدْعَی إِلَی الْإِسْلَامِ۔ (الصف: ۷)

’’اب بھلا اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹے بہتان باندھے حالانکہ اسے اسلام کی دعوت دی جارہی ہو‘‘۔ (سید مودودی)

’’اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ تہمت باندھے درآنحالیکہ اس کو اسلام کی طرف بلایا جارہا ہو‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

’’اور اس سے بے انصاف کون جو باندھے اللہ پر جھوٹ اور اس کو بلاتے ہیں مسلمان ہونے کو‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(۱۵) وَلاَ تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ہَذَا حَلاَلٌ وَہَذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوا عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ إِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُونَ عَلَی اللّٰہِ الکَذِبَ لاَ یُفْلِحُون۔ (النحل: ۱۱۶)

’’اور اپنی زبانوں کے گھڑے ہوئے جھوٹ کی بنا پر یہ نہ کہو کہ فلاں چیز حلال ہے اور فلاں چیز حرام، کہ اللہ پر جھوٹی تہمت لگاؤ۔ جو لوگ اللہ پر جھوٹی تہمت لگائیں گے وہ ہرگز فلاح نہیں پائیں گے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

’’اور جن چیزوں کے بارے میں محض تمہارا جھوٹا زبانی دعوی ہے ان کی نسبت یوں مت کہہ دیا کرو کہ فلانی چیز حلال ہے اور فلانی چیز حرام ہے جس کا حاصل یہ ہوگا کہ اللہ پر جھوٹی تہمت لگادو گے بلاشبہہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ لگاتے ہیں وہ فلاح نہ پاویں گے‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

’’اور مت کہو اپنی زبانوں کے جھوٹ بنانے سے کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو بیشک جو جھوٹ باندھتے ہیں اللہ پر بھلا نہیں پاتے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(۱۶) قَدِ افْتَرَیْْنَا عَلَی اللّٰہِ کَذِباً إِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِکُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللّٰہُ مِنْہَا۔ (الاعراف: ۸۹)

’’ہم اللہ پر جھوٹ تہمت باندھنے والے ٹھہریں گے اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں گے بعد اس کے کہ اللہ نے ہمیں اس سے نجات دی‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

’’ہم تو اللہ پر بڑی جھوٹی تہمت لگانے والے ہوجاویں گے اگر (خدا نہ کرے) ہم تمہارے مذہب میں آجاویں (خصوصا) بعد اس کے کہ اللہ تعالی نے ہم کو اس سے نجات دی ہو‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

’’ہم نے جھوٹ باندھا اللہ پر اگر پھر آویں تمہارے دین میں جب اللہ ہم کو خلاص کرچکا اس سے‘‘۔ (شاہ عبد القادر)

(۱۷) انظُرْ کَیْفَ یَفْتَرُونَ عَلَی اللّہِ الکَذِبَ وَکَفَی بِہِ إِثْماً مُّبِیْناً۔ (النساء:۵۰)

’’دیکھ تو یہ لوگ اللہ پر کیسی جھوٹی تہمت لگاتے ہیں‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

’’دیکھو یہ لوگ اللہ پر کس طرح جھوٹ باندھتے ہیں‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

’’دیکھ کیا باندھتے ہیں اللہ پر جھوٹ‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(۱۸) مَا جَعَلَ اللّہُ مِن بَحِیْرَۃٍ وَلاَ سَآئِبَۃٍ وَلاَ وَصِیْلَۃٍ وَلاَ حَامٍ وَلَکِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ یَفْتَرُونَ عَلَی اللّہِ الْکَذِبَ۔ (المائدۃ: ۱۰۳)

’’نہیں ٹھہرایا اللہ نے بحیرہ اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حامی اور لیکن کافر باندھتے ہیں اللہ پر جھوٹ‘‘۔ (شاہ عبد القادر)

(۱۹) وَمَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُونَ عَلَی اللّہِ الْکَذِبَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ (یونس:۶۰)

’’اور کیا اٹکلے ہیں جھوٹ باندھنے والے اللہ پر قیامت کے دن کو‘‘۔ (شاہ عبد القادر)

(۲۰) قُلْ إِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُونَ عَلَی اللّہِ الْکَذِبَ لاَ یُفْلِحُونَ۔ (یونس:۶۹)

’’کہہ جو لوگ باندھتے ہیں اللہ پر جھوٹ بھلائی نہیں پاتے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

مفصل جائزے کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ متعدد اردو مترجمین، جیسے اشرف علی تھانوی، محمد جوناگڑھی، سید مودودی، امین احسن اصلاحی، جھوٹ باندھنے اور جھوٹا بہتان لگانے میں فرق نہیں کرتے ہیں، ایک جیسے الفاظ کا ترجمہ کہیں جھوٹ باندھنا کرتے ہیں تو کہیں جھوٹا بہتان اور جھوٹی تہمت لگانا کرتے ہیں۔ بظاہر اس کی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ جھوٹ باندھنے اور جھوٹا بہتان باندھنے میں جو فرق ہے، وہ ان سے اوجھل رہا۔

بعض مترجمین نے اس لفظ کے درست معنی کی ہر جگہ پابندی کی ہے، اور ہر مقام پر جھوٹ باندھنا یا اس جیسا ترجمہ کیا ہے، ان میں شاہ عبدالقادر، شاہ رفیع الدین اور احمد رضا خان کے نام قابل ذکر ہیں۔

فارسی کے دو مشہور ترجمے بھی پیش نظر ہیں، ایک سعدی شیرازی کا اور دوسرا شاہ ولی اللہ دہلوی کا، دونوں نے تمام مقامات پر درست ترجمے کا التزام کیا ہے، جیسا کہ اس سلسلے کی پہلی مثال میں دیکھا جاسکتا ہے۔

(جاری)

قرآن / علوم قرآن