اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۰)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(266) وَمَا آتَیْتُم مِّن رِّبًا

وَمَا آتَیْتُم مِّن رِّبًا لِّیَرْبُوَ فِی اََمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُو عِندَ اللَّہِ وَمَا آتَیْتُم مِّن زَکَاۃٍ تُرِیدُونَ وَجْہَ اللَّہِ فَاَُولَئِکَ ھُمُ الْمُضْعِفُونَ۔ (الروم: 39)

’’جو سُود تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں شامل ہو کر وہ بڑھ جائے، اللہ کے نزدیک وہ نہیں بڑھتا، اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے ارادے سے دیتے ہو، اسی کے دینے والے در حقیقت اپنے مال بڑھاتے ہیں‘‘۔ (سید مودودی)

’’اور جو تم سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں افزائش ہو تو خدا کے نزدیک اس میں افزائش نہیں ہوتی اور جو تم زکوٰۃ دیتے ہو اور اُس سے خدا کی رضا مندی طلب کرتے ہو تو (وہ موجبِ برکت ہے اور) ایسے ہی لوگ (اپنے مال کو) دو چند سہ چند کرنے والے ہیں‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

مذکورہ بالا دونوں ترجموں میں ایک غلطی یہ ہے کہ مَا آتَیْتُم مِّن رِّبًا کا ترجمہ کیا ہے ’جو تم سود دیتے ہو‘، گویا سود لینے والے مال دار کو خطاب نہیں کیا جارہا ہے بلکہ سود دینے والے غریب کو خطاب کیا جارہا ہے ۔ سود دینے والا غریب تو مجبور ہوکر سود دیتا ہے وہ اس نیت سے تو دیتا نہیں ہے کہ اس کے سود دینے سے سود لینے والے مال دار کا مال بڑھے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ آگے مَا آتَیْتُم مِّن زَکَاۃٍ بھی ہے، ظاہر ہے اس کے مخاطب مال دار ہی ہیں اور انھی سے یہ کہا جارہا ہے کہ سودی قرض دینے کے بجائے زکات وصدقات دینے کا راستہ اپناؤ ۔ اس لیے مَا آتَیْتُم مِّن رِّبًا کا ترجمہ ہوگا ’جو تم سود پر دیتے ہو‘ یا ’جو تم سودی قرض دیتے ہو‘ اس نیت کے ساتھ کہ تمہاری وہ رقم لوگوں کے مال میں شامل ہوکر بڑھ جائے ۔ غرض اس آیت کا روئے خطاب وعتاب سود دینے والے غریب کی طرف نہیں بلکہ سود پر قرض دینے والے مال دار کی طرف ہے ۔

(267) المضعفون

اس آیت کے آخر میں المضعفون ہے جس کا ترجمہ عام طور سے’اپنے مال بڑھانے والے‘ کیا گیا ہے ۔ یہاں ’بڑھانے والے‘ ترجمہ کرنا درست نہیں ہے، بڑھانے والا تو اللہ ہے ۔ یہ بھی سامنے رہے کہ قرآن مجید میں کئی گنا کرنے کے لیے اَضعف کہیں نہیں آیا ہے، ہر جگہ ضاعف آیا ہے اور وہ اللہ کے لیے آیا ہے، یعنی کئی گنا بڑھانے والا اللہ ہے ۔ یہاں مضعفون، اَضعف سے ہے ۔ مُضعِف کا مطلب ہوتا ہے چند در چند پانے والا ۔ زمخشری اس لفظ کی وضاحت کرتے ہیں:

فَاَُولئِکَ ھُمُ الْمُضْعِفُونَ: ذوو الاَضعاف من الحسنات۔ ونظیر المُضعِف: المقوی والموسر، لذی القوّۃ والیسار۔ (تفسیر الکشاف)

پوری آیت کا درست ترجمہ حسب ذیل ہے:

’’جو سُود پر تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں شامل ہو کر وہ بڑھ جائے، اللہ کے نزدیک وہ نہیں بڑھتا، اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے ارادے سے دیتے ہو، اسی کے دینے والے در حقیقت چند در چند پانے والے ہوتے ہیں ‘‘ ۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(268) اََوَلَمْ یَتَفَکَّرُوا فِی اََنفُسِہِم

تفکّر کے معنی غور وفکر کرنے کے ہیں ۔ آدمی کے غور وفکر کرنے کا عمل اس کے اپنے دل میں ہی ہوتا ہے ۔ درج ذیل آیت میں اََوَلَمْ یَتَفَکَّرُوا کے ساتھ فِی اََنفُسِہِم آیا ہے ۔ اگر اس کا ترجمہ اپنے دل میں کیا جائے تو کوئی نئی بات معلوم نہیں ہوتی ہے، لیکن اگر اس کا ترجمہ اپنے آپ میں یا اپنے وجود میں کیا جائے تو معنویت میں اضافہ ہوجاتا ہے کہ یہاں اپنے وجود میں غور وفکر کرنے کی بات کی جارہی ہے ۔ اور جو آدمی نفس کی نشانیوں میں غور کرتا ہے تو کائنات کی نشانیاں بھی اس کے سامنے روشن ہوجاتی ہیں ۔ آیت کا درج ذیل ترجمہ درست ہے:

اََوَلَمْ یَتَفَکَّرُوا فِی اََنفُسِہِم مَّا خَلَقَ اللَّہُ السَّمَاوَاتِ وَالْاََرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا الَّا بِالْحَقِّ وَاََجَلٍ مُّسَمًّی وَاِنَّ کَثِیرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَاءِ رَبِّہِمْ لَکَافِرُونَ۔ (الروم: 9)

’’کیا انہوں نے کبھی اپنے آپ میں غور و فکر نہیں کیا؟ اللہ نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن ساری چیزوں کو جو اُن کے درمیان ہیں برحق اور ایک مقرّر مدت ہی کے لیے پیدا کیا ہے مگر بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں‘‘۔ (سید مودودی)

درج ذیل ترجموں میں مذکورہ بالا خامی پائی جاتی ہے ۔

’’کیا ان لوگوں نے اپنے دل میں یہ غور نہیں کیا؟‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

’’کیا انہوں نے اپنے جی میں نہ سوچا‘‘۔ (احمد رضا خان)

’’کیا اُنہوں نے اپنے دل میں غور نہیں کیا‘ ۔ (فتح محمد جالندھری)

انگریزی زبان میں بھی دونوں طرح سے ترجمہ کیا گیا ہے، درج ذیل میں پہلا ترجمہ بہتر ہے ۔

Have they not pondered upon themselves? (Pickthall)
Do they not reflect in their own minds?  (Yousuf  Ali)

(269) فَاََقِمْ وَجْہَکَ لِلدِّینِ حَنِیفًا

یہ الفاظ دو جگہ آئے ہیں :

وَاََنْ اََقِمْ وَجْہَکَ لِلدِّینِ حَنِیفًا۔ (یونس: 105)

’’اور یہ کہ اپنا رخ یکسو ہوکر اطاعت کی طرف کرو‘‘ ۔ (امین احسن اصلاحی)

فَاََقِمْ وَجْہَکَ لِلدِّینِ حَنِیفًا۔ (الروم: 30)

’’پس تم اپنا رخ، یکسو ہوکر دین حنیفی کی طرف کرو‘‘ ۔ (امین احسن اصلاحی)

اس دوسرے ترجمے میں ایک غلطی یہ ہے کہ حنیف کو دین کی صفت بنادیا ہے، جب کہ وہ حال ہے، اور حنیف کے تمام قرآنی استعمالات جمع کیے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ دین کی صفت نہیں بلکہ دین پر عمل کرنے والے فرد کی صفت ہے ۔ دوسری غلطی یہ ہے کہ جب حنیفا کا ترجمہ ’یکسو ہوکر‘ کردیا تو پھر الدین کا ترجمہ ’دین حنیفی‘ کرنے کی گنجائش کہاں رہ جاتی ہے۔ دوسری آیت کا ترجمہ بھی وہی کرنا چاہیے تھا جو پہلی آیت کا کیا ہے ۔ الدین کا ترجمہ دین بھی کیا جاسکتا ہے اور اطاعت بھی ۔

(270) فِطْرَتَ اللَّہِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا

درج ذیل آیت میں فطرت اللہ منصوب ہے، اس سے لوگوں کا ذہن اس طرف گیا کہ یہ مفعول بہ ہے، چنانچہ اس کے لیے فعل محذوف مان کر ترجمہ کرتے ہیں ، جیسے:

فَاََقِمْ وَجْہَکَ لِلدِّینِ حَنِیفًا فِطْرَتَ اللَّہِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا۔ (الروم: 30)

’’پس (اے نبی اور نبی کے پیروؤ ) یک سُو ہو کر اپنا رُخ اِس دین کی سمت میں جمادو، قائم ہوجاؤ اُس فطرت پر جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے‘‘ ۔ (سید مودودی)

حالاں کہ یہ ایک خاص اسلوب کی خبر ہے جس کا مبتدا ’ھذہ‘ محذوف ہے ۔ یعنی ھذہ فِطْرَتُ اللَّہِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا۔ ترجمہ ہوگا ’’یہ وہ فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔‘‘ یہ اسلوب قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی آیا ہے، جیسے: وَعْدَ اللَّہِ (الروم:6) ’’یہ وعدہ اللہ نے کیا ہے‘‘ ۔ (سید مودودی)

(271) وَمَا لَہُم مِّن نَّاصِرِینَ

قرآن مجید میں جگہ جگہ یہ بات کہی گئی ہے کہ کافروں کا کوئی مددگار نہیں ہے ۔ کہیں کہیں اس کے لیے واحد کا صیغہ ہے، جیسے فرمایا:

فَمَا لَہُ مِن قُوَّۃٍ وَلَا نَاصِرٍ (البروج:10)

’’اُس وقت انسان کے پاس نہ خود اپنا کوئی زور ہوگا اور نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہوگا‘‘ ۔ (سید مودودی)

تاہم کئی مقامات پر ناصرین (جمع کا صیغہ) آیا ہے ۔ جمع کے صیغے کی معنویت کا خیال ترجمے میں ہونا چاہیے ۔

وَمَا لَہُم مِّن نَّاصِرِینَ۔ (الروم:29)

’’اور ان کا کوئی بھی مدد کرنے والا نہیں بنے گا‘‘ ۔ (امین احسن اصلاحی)

یہاں مولانا امانت اللہ اصلاحی درج ذیل ترجمہ تجویز کرتے ہیں :

’’اور کسی طرح کے لوگ ان کی مدد کرنے والے نہیں ہوں گے‘‘ ۔

درج ذیل آیتوں میں بھی اسی طرح ترجمہ کیا جانا چاہئے جس سے جمع کے صیغے کی معنویت نمایاں ہوسکے:

وَمَا لَہُم مِّن نَّاصِرِینَ۔ (آل عمران: 22)

’’اور ان کا کوئی مددگار نہیں‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

وَمَا لَہُم مِّن نَّاصِرِینَ۔ (آل عمران: 56)

’’اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا‘‘ ۔ (فتح محمد جالندھری)

وَمَا لَہُم مِّن نَّاصِرِینَ ۔ (آل عمران: 91)

’’اور وہ اپنا کوئی مددگار نہ پائیں گے‘‘ ۔ (سید مودودی)

وَمَا لَہُم مِّن نَّاصِرِینَ ۔ (النحل: 37)

’’اور ان کا کوئی مددگار نہیں ‘‘ ۔ (احمد رضا خان)

وَمَا لَکُم مِّن نَّاصِرِینَ ۔ (العنکبوت: 25)

’’اور تمہارا کوئی مددگار نہ ہوگا‘‘ ۔ (محمد جوناگڑھی)

وَمَا لَکُم مِّن نَّاصِرِینَ ۔ (الجاثیۃ: 34)

’’اور کوئی تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہے‘‘ ۔ (سید مودودی)

(272) عَشِیًّا کا ترجمہ

فَسُبْحَانَ اللَّہِ حِینَ تُمْسُونَ وَحِینَ تُصْبِحُونَ; وَلَہُ الْحَمْدُ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاََرْضِ وَعَشِیًّا وَحِینَ تُظْہِرُونَ ۔ (الروم: 17;18)

’’پس اللہ ہی کی تسبیح کرو جس وقت تم شام کرتے ہو اور جس وقت صبح کرتے ہو اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی حمد ہورہی ہے، اور عشاء کے وقت بھی اور اس وقت بھی جب تم ظہر کرتے ہو‘‘ ۔ (امین احسن اصلاحی)

’’پس تسبیح کرو اللہ کی جبکہ تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو ۔ آسمانوں اور زمین میں اُسی کے لیے حمد ہے اور (تسبیح کرو اس کی) تیسرے پہر اور جبکہ تم پر ظہر کا وقت آتا ہے‘‘ ۔ (سید مودودی)

مذکورہ بالا آیت میں عشیا کا مطلب عام طور سے دن ڈھلنے کا وقت سمجھا گیا ہے اور اس سے عصر کی نماز مراد لی گئی ہے ۔ زمخشری کے مطابق:

العشیّ: من حین تزول الشمس الی اَن تغیب۔ (تفسیر الکشاف)

لیکن صاحب تدبر عشیا سے عشاء کی نماز مراد لیتے ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں:

’’اوقات نماز میں سے فجر اور ظہر کا ذکر تو اس آیت میں نہایت واضح طور پر موجود ہی ہے ۔ تمسون میں عصر اور مغرب دونوں کو شامل کرلیجیے اور عشیا سے عشاء کو مراد لیجیے تو تمام اوقاتِ نماز آجاتے ہیں ۔ لفظ عشی کا اطلاق زوال کے وقت پر بھی ہوتا ہے اور مغرب سے لے کر عشاء کے وقت پر بھی، اس وجہ سے اس سے عشاء کا وقت مراد لینے میں لفظ سے کوئی تجاوز نہیں ہوگا‘‘ ۔ (تدبر قرآن)

لیکن یہ مضبوط بات نہیں ہے ۔ تصبحون کے بالمقابل تمسون ہے، جس میں مغرب اور عشاء دونوں داخل ہیں ۔ عشیا سے عصر کی نماز مراد لینا اس لیے بھی زیادہ مناسب ہے کہ اسے حین تظھرون کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ عشی کا مشہور ومعروف معنی بھی وہی ہے جو عام طور سے لوگوں نے لیا ہے یعنی زوال سے غروب آفتاب تک ۔ مزید یہ کہ عشاء کا وقت تو پوری رات کو محیط ہے، عشی کے اندر اتنی وسعت بہرحال نہیں پائی جاتی کہ رات کی گہرائی بھی اس میں شامل ہوجائے ۔ جب کہ امساء کے اندر یہ بات پائی جاتی ہے، زبیدی لکھتے ہیں : والمَساءُ والمْساءُ: ضِدُّ الصَّباحِ والصْباحِ، وَہُوَ بَعْدَ الظّہْرِ  الَی صلاۃِ المَغْربِ۔ وَقَالَ بعضُہم: الَی نِصْفِ اللیْلِ۔ (تاج العروس)

قرآن / علوم قرآن

(ستمبر ۲۰۲۱ء)

Flag Counter