اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۵۸)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۷۷)    لعل برائے علت

لعل عام طور سے توقع یعنی اچھی امید یا ناخواہی اندیشے کا مفہوم ادا کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ البتہ کیا وہ تعلیل کے مفہوم میں بھی ہوتا ہے؟ اس امر میں اختلاف ہے ۔ ابن ھشام کے الفاظ ہیں: الثانی التعلیل اثبتہ جماعۃ منہم الاخفش والکسائی وحملوا علیہ (فقولا لہ قولا لینا لعلہ یتذکر او یخشی) ومن لم یثبت ذلک یحملہ علی الرجاء ویصرفہ للمخاطبین ای اذھبا علی رجائکما. (مغنی اللبیب)

تاہم قرآن مجید کے بعض مواقع پر صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں لعل تعلیل کے لیے ہی ہے، اور اگر تعلیل کے بجائے توقع کا ترجمہ کریں، تو بات غیر موزوں سی لگتی ہے، اور اس کی پرتکلف تاویل کرنی پڑتی ہے۔ ذیل کی کچھ مثالوں میں یہ بات دیکھی جاسکتی ہے۔

(۱) یُوسُفُ اَیُّہَا الصِّدِّیقُ اَفتِنَا فِی سَبعِ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ یَاکُلُہُنَّ سَبع عِجَاف وَسَبعِ سُنبُلَاتٍ خُضرٍ وَاُخَرَ یَابِسَاتٍ لَعَلِّی اَرجِعُ اِلَی النَّاسِ لَعَلَّہُم یَعلَمُونَ (یوسف: 46)

“اس نے جاکر کہا: یوسف، اے سراپا راستی مجھے اس خواب کا مطلب بتا کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھارہی ہیں، اور سات بالیں ہری ہیں اور سات سوکھی، شاید کہ میں ان لوگوں کے پاس جاوں اور شاید کہ وہ جان لیں” ۔ (سید مودودی)

“شاید میں لوگوں کی طرف لوٹ کر جاؤں شاید وہ آگاہ ہوں ”۔(احمد رضا خان)

“شاید میں لوگوں کے پاس باخبر واپس جاؤں تو شاید انہیں بھی علم ہوجائے”۔ (جوادی)

“کہ میں لے جاوو¿ں لوگوں پاس شاید ان کو معلوم ہو”۔ (شاہ عبدالقادر)

“توکہ پھر جاووں میں طرف لوگوں کے تو کہ وہ جانیں”۔ (شاہ رفیع الدین)

“تاکہ میں لوگوں کے پاس جاؤں تاکہ وہ بھی جانیں ”۔(امین احسن اصلاحی)

آخری دونوں ترجمے تعلیل کے اعتبار سے کیے گئے ہیں، اور وہی موزوں لگتے ہیں۔ یہاں شاید کے ترجمہ کا کوئی محل نہیں ہے۔ وہ شخص تو آیا ہی اسی لیے تھا کہ خواب کی تعبیر معلوم کرے اور لوگوں کو واپس جاکر بتائے، تاکہ وہ لوگ تعبیر جان لیں۔ یہاں دونوں ہی لعل تعلیل کے لیے ہیں، توقع اور شاید کا کوئی محل ہی نہیں ہے۔ مفسرین نے یہاں توجیہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ اسے اپنی واپسی کا یقین نہیں تھا، لیکن یہ پرتکلف بات ہے۔

(۲) حَتَّی اذَا جَاء اَحَدَہُمُ المَوتُ قَالَ رَبِّ ارجِعُونِ۔ لَعَلِّی اَعمَلُ صَالِحًا فِیمَا تَرَکتُ۔ (المومنون: 99، 100)

“ (یہ لوگ اپنی کرنی سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آ جائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ ''اے میرے رب، مجھے اُسی دنیا میں واپس بھیج دیجیے جسے میں چھوڑ آیا ہوں۔امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا ”۔(سید مودودی)

“یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہتا ہے کہ اے میرے رب مجھے واپس پھر دیجئے، شاید اب میں کچھ بھلائی کماو¶ں اس میں جو چھوڑ آیا ہوں”۔ (احمد رضا خان)

“ (یہ لوگ اسی طرح غفلت میں رہیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے گی تو کہے گا کہ اے پروردگار! مجھے پھر (دنیا میں) واپس بھیج دے، تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کیا کروں”۔ (فتح محمد جالندھری)

“یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آنے لگتی ہے تو کہتا ہے اے میرے پروردگار! مجھے واپس لوٹا دے، کہ اپنی چھوڑی ہوئی دنیا میں جا کر نیک اعمال کر لوں”۔ (محمد جوناگڑھی)

آخری دونوں ترجمہ تعلیل کے اعتبار سے کیے گئے ہیں، یہاں بھی امید اور شاید کا محل نہیں ہے، کیونکہ جب کوئی اس دنیا میں واپسی کے لیے دعا کرے گا، تاکہ ملی ہوئی مہلت میں نیک اعمال کرے، تو وہ پختہ وعدے کی زبان استعمال کرے گا، نہ کہ توقع اور امید والے الفاظ استعمال کرے گا۔ شاید کا لفظ تو وعدے کو بے وزن کردیتا ہے۔

ایک دوسری بات یہ ہے کہ فِیمَا تَرَکتُ کا تعلق اَعمَلُ صَالِحًا سے ہے نہ کہ ارجِعُونِ سے ہے۔ یعنی جو میں نے چھوڑا ہے اس میں نیک عمل کروں، نہ یہ کہ مجھے وہاں (اس دنیا میں) لوٹادیں جو میں چھوڑ آیا ہوں۔

مذکورہ بالا تمام پہلووں کے اعتبار سے درج ذیل ترجمہ موزوں ہے:

“یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت سر پر آن کھڑی ہوگی تو وہ کہے گا کہ اے رب مجھے پھر واپس بھیج کہ جو کچھ چھوڑ آیا ہوں اس میں نیکی کماو¶ں”۔ (امین احسن اصلاحی)

(۳) فَاصبِر عَلَی مَا یَقُولُونَ وَسَبِّح بِحَمدِ رَبِّکَ قَبلَ طُلُوعِ الشَّمسِ وَقَبلَ غُرُوبِہَا وَمِن آنَاء اللَّیلِ فَسَبِّح وَاَطرَافَ النَّہَارِ لَعَلَّکَ تَرضَی۔ (طہ: 130)

“پس اے محمد، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں اُن پر صبر کرو، اور اپنے رب کی حمد وثنا کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو سورج نکلنے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے، اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور دن کے کناروں پر بھی، شاید کہ تم راضی ہوجاو¶ ”۔(سید مودودی)

“اس امید پر کہ تم راضی ہو ”۔(احمد رضا خان)

“ بہت ممکن ہے کہ تو راضی ہو جائے”۔ (محمد جوناگڑھی)

“تاکہ تم خوش ہوجاؤ”۔ (فتح محمد جالندھری)

“تاکہ تم نہال ہوجاؤ”۔(امین احسن اصلاحی)

یہاں بھی توقع اور امید کے بجائے تعلیل کا محل ہے۔ اللہ تعالی کی طرف سے خوشی اور رضا کے حصول کا یقینی طریقہ بتایا گیا ہے۔

 (۱۷۸)  یَا صَاحِبَیِ السِّجنِ کا ترجمہ

درج ذیل آیت کے ٹکڑے میں متکلم کی ضمیر نہیں ہے، صاحبین مضاف ہے سجن کی طرف ، یہ اضافت یا تو ظرف کے مفہوم میں ہے ، یا مفعول بہ کے مفہوم میں، ظرف کی صورت میں ترجمہ ہوگا : “جیل کے دونوںساتھیو”، اور مفعول بہ کی صورت میں ترجمہ ہوگا: “دونوںجیل والو”۔اردو زبان کا لحاظ کرکے ، جیل کے ساتھیو، یا جیل والو کہا جاسکتا ہے۔اس جملے میں لفظ “میرے ”تفسیری اضافہ تو ہوسکتا ہے ، جیسا کہ ہمیں اکثر تفاسیر میں ملتا ہے، لیکن عبارت میں یہ بات موجود نہیں ہے۔ عام طور سے مترجمین نے“میرے” کے ساتھ ترجمہ کیا ہے۔

(۱) یَا صَاحِبَیِ السِّجنِ۔ (یوسف: 39)

“اے میرے زنداں کے دونوں ساتھیو ”۔(امین احسن اصلاحی)

“اے میرے قید خانے کے ساتھیو! ”۔(محمد جوناگڑھی)

“اے میرے قیدخانہ کے دونوں ساتھیو! ”۔ (احمد رضا خان)

“اے قید خانہ کے میرے دونوں ساتھیو”۔ (محمد حسین نجفی)

“میرے جیل خانے کے رفیقو! ”۔ (فتح محمد جالندھری)

“اے دو یارو قید خانے کے” ۔(شاہ رفیع الدین)

“اے رفیقو بندی خانے کے” ۔(شاہ عبدالقادر)

“اے زنداں کے ساتھیو”۔ (سید مودودی)

(۲) یَا صَاحِبَیِ السِّجنِ۔ (یوسف: 41)

“اے میرے جیل کے دونوں ساتھیو ”۔(امین احسن اصلاحی)

“اے قید خانہ کے میرے دونوں ساتھیو! ”۔ (محمد حسین نجفی)

“اے میرے قیدخانے کے رفیقو! ”۔ (محمد جوناگڑھی)

“اے قید خانہ کے دونوں ساتھیو! ”۔ (احمد رضا خان)

“میرے جیل خانے کے رفیقو! ”۔(فتح محمد جالندھری)

“اے دو یارو قید خانے کے”۔ (شاہ رفیع الدین)

“اے رفیقو بندی خانے کے”۔ (شاہ عبدالقادر)

“اے زنداں کے ساتھیو”۔ (سید مودودی)

(۱۷۹)    انکار کا ترجمہ

عربی کے انکار اور اردو کے انکار میں فرق ہوتا ہے۔ اردو کے انکار کے لیے قرآن مجید میں عام طور سے کفر اور جحود کی تعبیریں آئی ہیں۔

عربی میں انکار کا مطلب ہوتا ہے نہیں پہچاننا، انجان ہوجانا، انجان بن جانا، بیگانگی کا رویہ اختیار کرنا۔

راغب اصفہانی لکھتے ہیں: الانکَارُ: ضِدُّ العِرفَانِ۔ (المفردات فی غریب القرآن)

فیروزابادی لکھتے ہیں: وانکَرَہُ واستَنکَرَہُ وتَناکَرَہُ: جَہِلَہُ۔ (القاموس المحیط)

جوہری لکھتے ہیں: النُکِرة: ضد المعرفة. وقد نَکِرتُ الرجلَ بالکسر نُکراً ونُکوراً، واَنکَرتُہُ واستَنکَرتُہُ بمعنًی۔ (الصحاح تاج اللغة وصحاح العربیة)

قرآن مجید میں لفظ انکار کے مشتقات کئی جگہ استعمال ہوئے ہیں۔ جہاں نہیں پہچاننے کا مفہوم بالکل واضح اور متعین ہے وہاں تو سبھی لوگوں نے نہیں پہچاننے کا ترجمہ کیا ہے، لیکن جہاں انکار کرنے کا مفہوم بھی نکل سکتا ہے وہاں بہت سے لوگوں نے انکار کرنا اور منکر ہونا ترجمہ کردیا ہے۔ اس طرح کے مقامات پر انگریزی میں بھی deny اور reject ترجمہ کیا گیا ہے۔

کسی چیز کو نہیں پہچاننے سے اس کا انکار بطور نتیجہ سامنے آسکتا ہے، اس لیے کبھی کبھی اس پر بھی اس کا اطلاق ہوجاتا ہے۔ لیکن وہ اصل اطلاق نہیں ہے۔

درج ذیل دونوں آیتوں میں منکرون کاف پر زبر کے ساتھ مجہول استعمال ہوا ہے، اور دونوں جگہ انجانے لوگ مراد ہے۔

قَالَ اِنَّکُم قَوم مُنکَرُونَ۔ (الحجر: 62)

“اس نے کہا آپ لوگ تو اجنبی معلوم ہوتے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

قَوم  مُنکَرُونَ۔ (الذاریات: 25)

“ (اور دل میں کہا کہ) یہ تو اجنبی لوگ معلوم ہوتے ہیں لَم یَعرِفُوا رَسُولَہُم۔ (امین احسن اصلاحی)

 درج ذیل آیت میں منکرون کاف پر زیر کے ساتھ معروف استعمال ہوا ہے، اور اس کا مفہوم نہیں پہچاننے والے کا ہے۔

وَجَاء اِخوَةُ یُوسُفَ فَدَخَلُوا عَلَیہِ فَعَرَفَہُم وَہُم لَہُ مُنکِرُونَ۔ (یوسف: 58)

“اور یوسف کے بھائی (کنعان سے مصر میں غلّہ خریدنے کے لیے) آئے تو یوسف کے پاس گئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ ان کو نہ پہچان سکے” ۔(فتح محمد جالندھری)

اس کے علاوہ درج ذیل آیت میں منکرون کا لفظ آیا ہے ، اور اس سے قبل لَم یَعرِفُوا رَسُولَہُم آیا ہے، اس لیے کچھ لوگوں نے یہاں بھی لفظ کی اصل کے مطابق ترجمہ کیا ہے:

اَم لَم یَعرِفُوا رَسُولَہُم فَہُم لَہُ مُنکِرُونَ۔ (المومنون: 69)

“یا انہوں نے اپنے رسول کو نہ پہچانا تو وہ اسے بیگانہ سمجھ رہے ہیں”۔(احمد رضا خان)

“یا یہ اپنے رسول سے کبھی کے واقف نہ تھے کہ (اَن جانا آدمی ہونے کے باعث) اُس سے بدکتے ہیں؟” (سید مودودی)

“یا یہ اپنے پیغمبر کو جانتے پہنچانتے نہیں، اس وجہ سے ان کو نہیں مانتے”۔ (فتح محمد جالندھری)

“یا انہوں نے اپنے پیغمبر کو پہچانا نہیں کہ اس کے منکر ہو رہے ہیں؟”(محمد جوناگڑھی)

“یا انہوں نے اپنے رسول کو پہچانا نہیں اس وجہ سے اس کے منکر بنے ہوئے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

پہلے دونوں ترجموں میں لفظ کا لحاظ موجود ہے۔اسی طرح دیگر انگریزی ترجموں کے مقابلے میں درج ذیل دونوں ترجمے لفظ کے مطابق ہیں:

Or is it, perchance, that they have not recognized their Apostle, and so they disavow him? (Asad)
Or did they not know their Messenger, so they are toward him disacknowledging? (Saheeh International)

البتہ لفظ انکار سے مشتق ہونے والے الفاظ ذیل کی آیتوں میں بھی آئے ہیں، البتہ یہاں ترجمہ کرتے ہوئے عام طور سے لوگوں نے انکار کرنا ترجمہ کردیا ہے۔اور اس کی وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہاں انکار کا ترجمہ کرنے میں کوئی معنوی رکاوٹ نہیں ہے۔ تاہم مناسب تو یہی ہے کہ لفظ کی اصل کا لحاظ کرتے ہوئے ترجمہ کیا جائے، اگر اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہو۔

(۱) وَہَذَا ذِکر مُبَارَک اَنزَلنَاہُ اَفَاَنتُم لَہُ مُنکِرُونَ (لانبیاء: 50)

“اور اب یہ بابرکت ''ذکر'' ہم نے (تمہارے لیے) نازل کیا ہے پھر کیا تم اِس کو قبول کرنے سے انکاری ہو؟ ” (سید مودودی)

“اور یہ ہے برکت والا ذکر کہ ہم نے اتارا تو کیا تم اس کے منکر ہو”۔(احمد رضا خان)

And this [Qur'an] is a blessed message which We have sent down. Then are you with it unacquainted? (Saheeh International)
And [like those earlier revelations,] this one, too, is a blessed reminder which We have bestowed from on high: will you, then, disavow it? (Asad)
This is a blessed Reminder that we have revealed: Will ye then reject it? (Pichthall)

موزوں ترجمہ ہوگا:

“اور اب یہ بابرکت ذکر ہم نے نازل کیا ہے پھر کیا تم اِس سے بیگانہ رہو گے؟” ۔

(۲) اِلَہُکُمِ الَہ وَاحِد فَالَّذِینَ لَا یُومِنُونَ بِالآخِرَةِ قُلُوبُہُم مُنکِرَة وَہُم مُستَکبِرُونَ۔ (النحل: 22)

“تمہارا معبود تو اکیلا خدا ہے۔ تو جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکار کر رہے ہیں اور وہ سرکش ہو رہے ہیں ”۔(فتح محمد جالندھری)

موزوں ترجمہ ہوگا:

“تمہارا معبود تو اکیلا خدا ہے۔ تو جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل بیگانہ بنے ہوئے ہیں اور وہ سرکش ہو رہے ہیں”۔

خاص اس مقام پر فارسی کے دو معروف ترجموں میں بھی لفظ کا حق ادا کیا گیا ہے:

“دلہائے اینہا ناشناسندہ اند”۔ (سعدی شیرازی)

“دل ایشاں ناشناس است ”۔(شاہ ولی اللہ )

(۳) یَعرِفُونَ نِعمَتَ اللَّہِ ثُمَّ یُنکِرُونَہَا وَاَکثَرُہُمُ الکَافِرُونَ۔ (النحل: 83)

“یہ اللہ کے احسان کو پہچانتے ہیں، پھر اس کا انکار کرتے ہیں اور اِن میں بیش تر لوگ ایسے ہیں جو حق ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں”۔ (سید مودودی)

“اللہ کی نعمت پہچانتے ہیں پھر اس سے منکر ہوتے ہیں اور ان میں اکثر کافر ہیں”۔(احمد رضا خان)

“یہ اللہ کی نعمتیں جانتے پہچانتے ہوئے بھی ان کے منکر ہو رہے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں”۔ (محمد جوناگڑھی)

They [who turn away from it] are fully aware of God's blessings, but none the less they refuse to acknowledge them [as such], since most of them are given to denying the truth. (Asad)
They recognize the favor of Allah; then they deny it. And most of them are disbelievers. (Saheeh International)

موزوں ترجمہ ہوگا:

“یہ اللہ کی نعمتوں کو پہچانتے ہیں، پھر اس سے انجان بنتے ہیں، اور ان میں اکثر ناشکرے ہیں ”۔(امین احسن اصلاحی)

اس آیت میں انکار کا لفظ بھی آیا ہے اور کفر کا بھی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں انکار کفر سے مختلف معنی میں استعمال ہوا ہے۔

(۴) وَیُرِیکُم آیَاتِہِ فَاَیَّ آیَاتِ اللَّہِ تُنکِرُونَ۔ (غافر: 81)

“اللہ اپنی یہ نشانیاں تمہیں دکھا رہا ہے، آخر تم اُس کی کن کن نشانیوں کا انکار کرو گے ”۔(سید مودودی)

“اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تو اللہ کی کون سی نشانی کا انکار کرو گے ”۔(احمد رضا خان)

“اللہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا جارہا ہے، پس تم اللہ کی کن کن نشانیوں کے منکر بنتے رہو گے” ۔(محمد جوناگڑھی)

And He shows you His signs. So which of the signs of Allah do you deny? (Saheeh International)
And [thus] He displays His wonders before you: which, then, of God's wonders can you still deny? (Asad)

موزوں ترجمہ ہوگا:

“اللہ اپنی یہ نشانیاں تمہیں دکھا رہا ہے، آخر تم اُس کی کن کن نشانیوں سے انجان بنے رہو گے” ۔

“اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے ، آخر تم اللہ کی کون سی نشانی کو نہیں پہچانتے”۔ (محمد فاروق خان)

(۵) وَالَّذِینَ آتَینَاھُمُ الکِتَابَ یَفرَحُونَ بِمَا اُنزِلَ ِلَیکَ وَمِنَ الاَحزَابِ مَن یُنکِرُ بَعضَہُ۔ (الرعد: 36)

“اے نبی، جن لوگوں کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ اِس کتاب سے جو ہم نے تم پر نازل کی ہے، خوش ہیں اور مختلف گروہوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے ”۔(سید مودودی)

“جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ تو جو کچھ آپ پر اتارا جاتا ہے اس سے خوش ہوتے ہیں اور دوسرے فرقے اس کی بعض باتوں کے منکر ہیں”۔(محمد جوناگڑھی)

موزوں ترجمہ ہوگا:

“اے نبی، جن لوگوں کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ اِس کتاب سے جو ہم نے تم پر نازل کی ہے، خوش ہیں اور مختلف گروہوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں سے انجان بن رہے ہیں ”۔

(۱۸٠)   نَکِّرُوا لَہَا عَرشَہَا  کا ترجمہ

قَالَ نَکِّرُوا لَہَا عَرشَہَا۔ (النمل: 41)

“سلیمانؑ نے کہا انجان طریقے سے اس کا تخت اس کے سامنے رکھ دو”۔(سید مودودی)

“اس نے حکم دیا کہ اس کے تخت کی شکل بدل دو”۔(امین احسن اصلاحی)

“سلیمان نے کہا کہ ملکہ کے (امتحان عقل کے) لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو”۔ (فتح محمد جالندھری)

“حکم دیا کہ اس کے تخت میں کچھ پھیر بدل کردو”۔ (محمد جوناگڑھی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی اس جملے کا عام ترجموں سے مختلف اس طرح ترجمہ کرتے ہیں:

“اس نے کہا: انجان بن کر اس کے تخت کا اس کے سامنے ذکر کرو۔”

ان کے نزدیک اس کے بعد فلما جاءت قیل اھکذا عرشک “پس جب وہ آئی تو اس سے سوال کیا گیا کہ کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے” دراصل نَکِّرُوا لَہَا عَرشَہَا والے حکم کی تعمیل ہے۔

(جاری)

قرآن / علوم قرآن