اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۱۶)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۸۰) تنازع کے دو مفہوم

قرآن مجید میں تنازع کا لفظ متعدد مقامات پر آیا ہے، فیروزآبادی نے لکھا ہے کہ اس لفظ کے دو مفہوم ہیں، باہم جھگڑا کرنا اور ایک دوسرے کو کچھ پیش کرنا۔ 

والتَّنازُعُ: التَّخاصُمُ والتَّناوُل. (القاموس المحیط، ص: ۷۶۶)

زبیدی کا خیال ہے کہ حقیقی مفہوم جھگڑا کرنا اور مجازی مفہوم ایک دوسرے کو پیش کرنا ہے، زبیدی نے مثالیں دے کربتایا ہے کہ قرآن مجید میں دونوں مفہوم کے ساتھ اس لفظ کا استعمال ہوا ہے۔

والتَّنازُعُ فِی الأصلِ: التَّجاذُبُ، کالمُنَازَعَۃِ، ویُعَبَّرُ بِھِمَا عَن التَّخَاصُمِ والمُجَادَلَۃِ، ومِنہُ قَوْلُہُ عَزَّ وَجَلَّ: وَلَا تَنازَعوا فتَفْشَلُوا، وقَوْلُہُ تعالَی: فَاِنْ تَنازَعْتُمْ فِی شَیءٍ فرُدُّوہُ اِلَی اللّٰہِ. وَمن المَجَازِ: التَّنَازُعُ: التَّناوُلُ والتَّعَاطِی، وَالأَصْلُ فیہِ التَّجَاذُبُ، قالَ اللّٰہُ تَعَالَی: یَتَنَازَعُونَ فِیھَا کأساً، أَیْ: یَتَنَاوَلُونَ. (تاج العروس، ۲۲/۲۴۷)

تاہم بہت اہم سوال ہے کہ یہ معلوم کیسے ہو کہ لفظ تنازع کہاں کس معنی میں آیا ہے؟ اس سلسلے میں مولانا امانت اللہ اصلاحی نے ایک بہت قیمتی نکتہ بیان فرمایا جس سے اس لفظ کے مفہوم کو متعین کرنے میں بڑی آسانی ہوجاتی ہے، مولانا کے افادات کے مطابق اگر تنازع کے بعد (فی) کا صلہ آئے تو جھگڑا کرنے اور اختلاف کرنے کا مفہوم ہوتا ہے، جبکہ اگر اس کے بعد مفعول بہ آجائے تو جھگڑنے کا مفہوم نہیں بلکہ تبادلے اور باہم لین دین کرنے کا مفہوم ہوتا ہے، اور اگر فعل ان دونوں کے بغیر ہو تو بھی اختلاف اور جھگڑے کا مفہوم ہوتا ہے۔ گویا تنازع فی الامر کا مطلب ہوگا کسی مسئلے میں اختلاف کرنا اور جھگڑا کرنا، جبکہ تنازع الامر کا مطلب ہوگا کسی مسئلے کے اوپر باہم گفتگو اور تبادلہ خیال کرنا۔

مذکورہ ذیل آیتیں ملاحظہ فرمائیں، ان میں تنازع کے بعد (فی) آیا ہے، اور آیت کا مجموعی مفہوم خود گواہی دے رہا ہے کہ یہاں اختلاف اور جھگڑے کا مفہوم مراد ہے۔

لِکُلِّ أُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنسَکاً ہُمْ نَاسِکُوہُ فَلَا یُنَازِعُنَّکَ فِیْ الْأَمْرِ۔ (الحج:۶۷)

’’ہر فرقے کو ہم نے ٹھیرادی ہے ایک راہ بندگی کی کہ وہ اسی طرح کرتے ہیں بندگی سو چاہیے تجھ سے جھگڑا نہ کریں اس کام میں‘‘ (شاہ عبدالقادر)

وَلَقَدْ صَدَقَکُمُ اللّٰہُ وَعْدَہُ إِذْ تَحُسُّونَہُم بِإِذْنِہِ حَتَّی إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِیْ الأَمْرِ وَعَصَیْْتُم مِّن بَعْدِ مَا أَرَاکُم مَّا تُحِبُّونَ۔َ (آل عمران: ۱۵۲)

’’اور اللہ تو سچ کرچکا تم سے اپنا وعدہ جب تم لگے ان کو کاٹنے اس کے حکم سے جب تک کہ تم نے نامردی کی اور کام میں جھگڑا ڈالا اور بے حکمی کی بعد اس کے کہ تم کو دکھا چکا تمہاری خوشی کی چیز‘‘ (شاہ عبد القادر)

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ أَطِیْعُوا اللّٰہَ وَأَطِیْعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِیْ الأَمْرِ مِنکُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْْءٍ فَرُدُّوہُ إِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُولِ۔ (النساء: ۵۹)

’’اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور جو اختیار والے ہیں تم میں سے، پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اس کو رجوع کرو اللہ اور رسول کی طرف۔‘‘ (شاہ عبدالقادر)

إِذْ یُرِیْکَہُمُ اللّٰہُ فِیْ مَنَامِکَ قَلِیْلاً وَلَوْ أَرَاکَہُمْ کَثِیْراً لَّفَشِلْتُمْ وَلَتَنَازَعْتُمْ فِیْ الأَمْرِ وَلَکِنَّ اللّٰہَ سَلَّمَ إِنَّہُ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُور۔ (الانفال:۴۳)

’’جب اللہ نے ان کو دکھلایا تیرے خواب میں تھوڑے اور اگر وہ تجھکو بہت دکھاتا تو تم لوگ نامردی کرتے اور جھگڑا ڈالتے کام میں لیکن اللہ نے بچالیا اس کو معلوم ہے جو بات ہے دلوں میں‘‘۔ (شاہ عبدالقادر، قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہاں اذ کے ساتھ مضارع آیا ہے، اس لیے ترجمہ ماضی استمراری کا ہوگا، جب اللہ تم کو دکھارہا تھا)

ذیل کی آیت میں مجرد تنازع استعمال ہوا ہے، نہ اس کے بعد (فی) ہے اور نہ ہی مفعول بہ ہے، اور یہاں بھی مفہوم بالکل واضح ہے کہ اہل ایمان کو باہم اختلاف اور جھگڑے سے منع کیا گیا ہے۔

وَأَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُولَہُ وَلاَ تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْہَبَ رِیْحُکُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْن۔ (الانفال:۴۶)

’’اور حکم مانو اللہ کا اور اس کے رسول کا اور آپس میں نہ جھگڑو پھر نامرد ہوجاؤگے اور جاتی رہے گی تمہاری باؤ۔ اور ٹہیرے رہو اللہ ساتھ ہے ٹہرنے والوں کے۔‘‘ (شاہ عبدالقادر)

مذکورہ بالا اسلوب سے ہٹ کر درج ذیل آیتوں میں تنازع کا فعل (فی) کے بجائے براہ راست مفعول بہ کے ساتھ استعمال ہوا ہے، بہت سے مترجمین نے یہاں بھی اختلاف اور جھگڑے کا مفہوم اختیار کیا ہے، لیکن جب ہم ان میں سے ہر آیت کے سیاق اور مجموعی مفہوم کو دیکھتے ہیں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں اختلاف اور جھگڑے کا مفہوم نہیں ہے۔ اور یہ اصول ثابت اور مدلل ہوجاتا ہے کہ تنازع جب (فی) کے ساتھ آئے تو جھگڑے کے مفہوم میں ہوگا، اور جب براہ راست مفعول بہ کے ساتھ آئے تو تبادلے کے مفہوم میں ہوگا۔ درج ذیل آیتوں کا ترجمہ ملاحظہ ہو:

(۱) وَکَذَلِکَ أَعْثَرْنَا عَلَیْْہِمْ لِیَعْلَمُوا أَنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَأَنَّ السَّاعَۃَ لَا رَیْْبَ فِیْہَا، إِذْ یَتَنَازَعُونَ بَیْْنَہُمْ أَمْرَہُمْ فَقَالُوا ابْنُوا عَلَیْْہِم بُنْیَاناً، رَّبُّہُمْ أَعْلَمُ بِہِمْ، قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوا عَلَی أَمْرِہِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْْہِم مَّسْجِداً۔ (الکہف: ۲۱)

اس طرح ہم نے اہل شہر کو ان کے حال پر مطلع کیا تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت کی گھڑی بیشک آکر رہے گی۔ (مگر ذرا خیال کرو کہ جب سوچنے کی اصل بات یہ تھی) اس وقت وہ آپس میں اس بات پر جھگڑ رہے تھے کہ ان (اصحاب کہف) کے ساتھ کیا کیا جائے۔ کچھ لوگوں نے کہا ’’ان پر ایک دیوار چن دو ان کا رب ہی ان کے معاملہ کو بہتر جانتا ہے‘‘ مگر جو لوگ ان کے معاملات پر غالب تھے انہوں نے کہا ’’ہم تو ان پر ایک عبادت گاہ بنائیں گے‘‘ (سید مودودی)

آیت کے زیر نظر ٹکڑے: إِذْ یَتَنَازَعُونَ بَیْْنَہُمْ أَمْرَہُمْ کے مزید کچھ ترجمے حسب ذیل ہیں:

’’جب لوگ آپس میں ان کے معاملے میں جھگڑ رہے تھے‘‘ (امین احسن اصلاحی)

’’جس وقت کہ جھگڑتے تھے وہ آپس میں بیچ کام اپنے کے‘‘ (شاہ رفیع الدین)

’’جب جھگڑ رہے تھے آپس میں اپنی بات پر‘‘(شاہ عبدالقادر)

’’جبکہ اس زمانہ کے لوگ ان کے معاملے میں باہم جھگڑ رہے تھے‘‘ (اشرف علی تھانوی)

’’جب وہ لوگ ان کے معاملے میں باہم جھگڑنے لگے‘‘ (احمد رضا خان)

’’جبکہ وہ اپنے امر میں آپس میں اختلاف کررہے تھے‘‘ (محمد جوناگڑھی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی نے یہاں تبادلہ خیال، باہم گفتگو اور مشاورت کا مفہوم لیا ہے، ان کا ترجمہ یوں ہے:

’’جس وقت وہ آپس میں ان کے بارے میں گفتگو کررہے تھے‘‘ 

سیاق کلام سے بھی اسی مفہوم کی تائید ہوتی ہے کہ موقعہ آپس میں جھگڑے کا نہیں بلکہ مشاورت اور تبادلہ خیال کا ہے، ان لوگوں نے اصحاب کہف کے عقیدت مند بن جانے کے بعد باہم مشاورت کی کہ یہاں پر کیا کیا جائے۔

(۲) یَتَنَازَعُونَ فِیْہَا کَأْساً۔ (الطور: ۲۳)

’’ایک دوسرے سے چھین لیویں گے بیچ اس کے پیالہ‘‘ (شاہ رفیع الدین)

’’جھپٹتے ہیں وہاں پیالہ‘‘ (شاہ عبدالقادر)

’’وہاں آپس میں (بطور خوش طبعی کے) جام شراب میں چھینا جھپٹی کریں گے‘‘ (اشرف علی تھانوی)

’’(خوش طبعی کے ساتھ) ایک دوسرے سے جام (شراب) کی چھینا جھپٹی کریں گے‘‘۔(محمد جوناگڑھی)

واضح رہے کہ یہ بات جنت اور اہل جنت کے بارے میں کہی جارہی ہے، مذکورہ بالا ترجموں میں چھین جھپٹ کا ترجمہ کیا گیا، جبکہ ذیل کے ترجموں میں ایک دوسرے کوجام پیش کرنے اور ایک دوسرے سے جام قبول کرنے کا مفہوم ذکر کیا گیا ہے۔ یہ دوسرا مفہوم ہی یہاں درست ہے، کیونکہ چھین جھپٹ خواہ وہ خوش طبعی کے ماحول میں ہو قابل تعریف چیز نہیں ہے، قرآن مجید میں کسی بھی مقام پر جنت میں ایسی کسی چھین جھپٹ کا تذکرہ نہیں ہے، اس کے بجائے جام کے پیالوں کا تبادلہ بہت معنی خیز مفہوم ہے، اس میں محبت اور دلداری کا بھرپور اظہار پایا جاتا ہے۔ اس دوسرے مفہوم کے مطابق درج ذیل ترجمے ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔

’’وہ ایک دوسرے سے جام شراب لپک لپک کر لے رہے ہوں گے‘‘(سید مودودی)

’’ان کے درمیان شراب کے پیالوں کے تبادلے ہورہے ہوں گے‘‘(امین احسن اصلاحی)

ایک دوسرے سے لیتے ہیں وہ جام (احمد رضا خان، لیتے ہیں کے بجائے لے رہے ہیں کہنا زیادہ مناسب ہے)

(۳) فَتَنَازَعُوا أَمْرَہُم بَیْْنَہُمْ وَأَسَرُّوا النَّجْوَی۔ (طہ:۶۲)

’’یہ سن کر ان کے درمیان اختلاف رائے ہوگیا اور وہ چپکے چپکے باہم مشورہ کرنے لگے‘‘۔ (سید مودودی)

’’پھر جھگڑے اپنے کام پر آپس میں اور چھپ کر کی مشورت‘‘ (شاہ عبدالقادر)

’’پس جادوگر (یہ بات سن کر) باہم اپنی رائے میں اختلاف کرنے لگے اور خفیہ گفتگو کرتے رہے‘‘(اشرف علی تھانوی)

’’تو اپنے معاملے میں باہم مختلف ہوگئے اور چھپ کر مشورت کی‘‘ (احمد رضا خان)

’’پس یہ لوگ آپس کے مشوروں میں مختلف رائے ہوگئے اور چھپ کر چپکے چپکے مشورہ کرنے لگے۔‘‘(محمد جونا گڑھی)

مذکورہ بالا ترجموں میں اختلاف اور جھگڑے کا مفہوم لیا گیا ہے، جبکہ سیاق کلام سے اس کی تائید نہیں ہوتی ہے، تذکرہ فرعون کے درباریوں کا ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ کی تذکیر وتنبیہ سننے کے بعد کیا رد عمل اختیار کیا، اسی آیت میں (وَأَسَرُّوا النَّجْوَی) سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کے درمیان حضرت موسیٰ کی مخالفت کے سلسلے میں کوئی اختلاف نہیں تھا بلکہ حضرت موسی کی مخالفت کے باب میں ان میں اتفاق پایا جاتا تھا۔ورنہ آپس میں سرگوشی بھی کرنا، اور آپس میں جھگڑا بھی کرنا ایک دوسرے کے مناسب حال معلوم نہیں ہوتے ہیں۔ اس آیت کا ترجمہ صاحب تدبر قرآن نے درست کیا ہے:

’’پس انھوں نے آپس میں اپنے معاملے میں مشورت اور سرگوشی کی‘‘ (امین احسن اصلاحی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا: ’’انہوں نے آپس میں خاموشی سے مشورہ کیا‘‘

(۸۱) کَادِحٌ إِلَی رَبِّکَ کَدْحاً کا مفہوم

کدح کے معنی ہیں تگ ودو کرنا، راغب اصفہانی لکھتا ہے: الکدح: السّعي والعناء۔ (المفردات)

قرآن مجید میں یہ لفظ ایک مقام پر آیا ہے:

یَا أَیُّہَا الْإِنسَانُ إِنَّکَ کَادِحٌ إِلَی رَبِّکَ کَدْحاً فَمُلَاقِیْہِ۔ (الانشقاق: ۶)

زیادہ تر مترجمین نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ تگ ودو کا مفہوم غائب ہوگیا اور بس تیز تیز جانے کا مفہوم حاوی ہوگیا۔

’’اے انسان تو کشاں کشاں اپنے خداوند ہی کی طرف جارہا ہے اور اس سے ملنے والا ہے‘‘ (امین احسن اصلاحی)

’’اے انسان تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جارہا ہے اور اس سے ملنے والا ہے‘‘ (سید مودودی)

’’اے آدمی بیشک تجھے اپنے رب کی طرف ضرور دوڑنا ہے پھر اس سے ملنا‘‘ (احمد رضا خان)

بعض ترجموں میں لفظ کے اصل مفہوم کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے جیسے:

’’اے آدمی تجھے پچنا ہے اپنے رب تک پہنچنے میں پچ پچ کر پھر اس سے ملنا ہے‘‘ (شاہ عبدالقادر)

’’اے انسان تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے‘‘۔ (محمد جونا گڑھی)

’’اے انسان! تو اپنے پروردگار کی طرف (پہنچنے میں) خوب کوشِش کرتا ہے سو اس سے جا ملے گا‘‘ (جالندھری)

’’اے انسان تو اپنے رب کے پاس پہنچنے تک (یعنی مرنے کے وقت تک) کام میں کوشش کررہا ہے پھر (قیامت میں) اس (کام کی جزا) سے جا ملے گا‘‘ (اشرف علی تھانوی)

پکتھال کا انگریزی ترجمہ بھی اس مفہوم کا ہے:

Thou, verily, O man, art working toward thy Lord a work which thou wilt meet (in His presence).

مولانا امانت اللہ اصلاحی نے ترجمہ اس طرح کیا ہے:

’’اے انسان، تیری تگ ودو تیرے رب کے پاس پہنچ رہی ہے، تو تجھے اس کا سامنا کرنا ہے‘‘۔

مولانا کی رائے ہے کہ یہاں انسان کے رب تک جانے کی بات نہیں ہے بلکہ انسان کی تگ ودو اور سعی ومحنت کے رب تک جانے کی بات ہے، اصل جملہ اِنَّکَ کَادِحٌ کَدْحًا ہے، یعنی تم بہت محنت اور تگ ودو کررہے ہو، اِلَی رَبِّکَ کے اضافے سے یہ مفہوم پیدا ہوگیا کہ یہ محنت اور تگ ودو تمہارے رب کے پاس پہنچ رہی ہے، یہ ویسے ہی ہے جیسے اِنّی کاتبٌ الی الملک کتاباً جس کا مطلب یہ نہیں ہوتا ہے کہ میں لکھتے ہوئے بادشاہ کے پاس پہنچ رہا ہوں بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں خط لکھ رہا ہوں جو بادشاہ کے پاس پہنچنے والا ہے۔ فملاقیہ کا مطلب عام طور سے لوگوں نے یہ لیا ہے کہ انسان کی رب سے ملاقات کا بیان ہے، مولانا کے مطابق یہ بتایا گیا ہے کہ انسان اپنی تگ ودو کا سامنا کرے گا جو اس وقت اس کے رب کے پاس لحظہ بہ لحظہ پہنچ رہی ہے۔

(جاری)

قرآن / علوم قرآن

مارچ ۲۰۱۶ء

جلد ۲۷ ۔ شمارہ ۳

Since 1st December 2020

Flag Counter