اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۴۳)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۴۲) انتصر کا ترجمہ

انتصر کے لغت میں دو مفہوم ملتے ہیں: ایک انتقام لینا، اور دوسرا ظالم کا مقابلہ کرنا۔

وانتَصَرَ منہ: انتَقَمَ (القاموس المحیط) وانتصر الرجل اذا امتنع من ظالمہ، قال الازھری: یکون الانتصار من الظالم الانتصاف والانتقام، وانتصر منہ: انتقم۔ والانتصار: الانتقام (لسان العرب) وانتَصَرَ منہ: انتقم۔ (الصحاح)

جدید لغت المعجم الوسیط میں اس کی اچھی تفصیل ملتی ہے کہ جب یہ فعل من کے ساتھ ہو تو انتقام لینا، علی کے ساتھ ہو تو غلبہ حاصل کرنا اور بغیر صلے کے عام معنی ظالم کا مقابلہ کرنا اور اس کے ظلم کو روکنا ہوتا ہے۔

انتصر: امتنع من ظالمہ وعَلی خَصمہ استظھر وَمِنہ انتقم۔ (المعجم الوسیط)

انتصر کا قرآن مجید میں تین طرح استعمال ملتاہے:

کچھ مقامات پر اہل ایمان کے خاص وصف کے طور پر اس کا ذکر کیا گیا ہے اور وہ اس حوالے سے کہ ظلم وتعدی کے سلسلے میں ان کا رویہ کیا ہوتا ہے، ایسے مقام پر بدلہ لینا اور انتقام لینا مناسب نہیں لگتا، کیونکہ بدلہ لینااور انتقام لینا جائز تو ہے لیکن کوئی قابل تعریف وصف نہیں ہے، کہ اس کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا جائے، بلکہ ظلم کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا مناسب مفہوم لگتا ہے، اور یہ واقعی ایک قابل قدر وصف ہے جس سے ظلم کی روک تھام ممکن ہوتی ہے۔ مثالیں حسب ذیل ہیں:

(۱) وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنتَصِرُونَ۔ وَجَزَاء سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ۔ وَلَمَنِ انتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِم مِّن سَبِيلٍ۔ إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ أُوْلَئِكَ لَهُم عَذَابٌ أَلِيمٌ۔ (الشوری: 39 - 42)

”اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں، برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے، پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے اُس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے، اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا، اور جو لوگ ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیں اُن کو ملامت نہیں کی جا سکتی، ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے“۔(سید مودودی)

”اور وہ کہ جب انہیں بغاوت پہنچے بدلہ لیتے ہیں“۔(احمد رضا خان)

”اور جب ان پر ظلم (و زیادتی) ہو تو وہ صرف بدلہ لے لیتے ہیں “۔(محمدجوناگڑھی)

(۲) إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا وَانْتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ۔ (الشعراء: 227)

”مگر وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور بکثرت اللہ کی یاد کی اور بدلہ لیا بعد اس کے کہ ان پر ظلم ہوا اور اب جاننا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے“۔(احمد رضا خان)

”بجز اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا اور جب ان پر ظلم کیا گیا تو صرف بدلہ لے لیا، اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور خدا کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں“۔ (فتح محمدجالندھری)

”سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور اپنی مظلومی کے بعد انتقام لیا، جنہوں نے ظلم کیا ہے وہ بھی ابھی جان لیں گے کہ کس کروٹ الٹتے ہیں“۔ (محمدجوناگڑھی)

انتصر کچھ مقامات پر اللہ کے عذاب کے مقابلہ میں مجرموں کے بارے میں مذکورہوا ہے، وہاں بھی بدلہ اور انتقام کا محل نہیں ہے، ظاہر ہے کہ اللہ کا عذاب درپیش ہوتو بدلہ لینے اور انتقام لینے کا کیا محل ہے، ویسے بھی کسی کے ذہن میں اللہ سے بدلہ اور انتقام لینے کی بات بھی نہیں آتی ہے، دراصل یہ مقابلہ کرنے اور اپنا بچاو خود کرنے کا محل ہے، کہ جب اللہ کا عذاب سامنے آئے گا تو اس وقت نہ دوسرے مجرموں کی مدد کرسکتے ہیں، اور نہ وہ مجرم خود اپنا بچاو کرکے اللہ کے عذاب کے سامنے ٹھہر سکتے ہیں۔اس کی مثالیں حسب ذیل ہیں:

(۱) یُرسَلُ عَلَیکُمَا شُوَاظ مِّن نَّارٍ وَنُحَاس فَلَا تَنتَصِرَان۔ (الرحمن: 35)

”(بھاگنے کی کوشش کرو گے تو) تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا جس کا تم مقابلہ نہ کر سکو گے“۔(سید مودودی)

”تم پر چھوڑی جائے گی بے دھویں کی آگ کی لپٹ اور بے لپٹ کا کالا دھواں تو پھر بدلہ نہ لے سکو گے“۔ (احمد رضا خان)

”تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا تو پھر تم مقابلہ نہ کرسکو گے“۔ (فتح محمدجالندھری)

”تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑا جائے گا پھر تم مقابلہ نہ کر سکو گے“۔ (محمدجوناگڑھی)

(۲) وَقِیلَ لَھم اَینَ مَا کُنتُم تَعبُدُونَ۔ مِن دُونِ اللَّہِ ھَل یَنصُرُونَکُم اَو یَنتَصِرُون۔ (الشعراء: 92، 93)

”اور ان سے پوچھا جائے گا کہ ''اب کہاں ہیں وہ جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے؟کیا وہ تمہاری کچھ مدد کر رہے ہیں یا خود اپنا بچاؤ کر سکتے ہیں؟“۔(سید مودودی)

”اللہ کے سوا، کیا وہ تمہاری مدد کریں گے یا بدلہ لیں گے“۔(احمد رضا خان)

”یعنی جن کو خدا کے سوا (پوجتے تھے) کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں “۔(فتح محمدجالندھری)

”جو اللہ تعالیٰ کے سوا تھے، کیاوہ تمہاری مدد کرتے ہیں؟ یا کوئی بدلہ لے سکتے ہیں“۔(محمدجوناگڑھی)

(۳) اَم یَقُولُونَ نَحنُ جَمِیع مُّنتَصِر۔ سَیُہزَمُ الجَمعُ وَیُوَلُّونَ الدُّبُرَ۔ (القمر: 44، 45)

”یا یہ کہتے ہیں کہ ہم غلبہ پانے والی جماعت ہیں عنقریب یہ جماعت شکست دی جائےگی اور پیٹھ دے کر بھاگے گی“۔(محمدجوناگڑھی)

”یا اِن لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ہم ایک مضبوط جتھا ہیں، اپنا بچاو  کر لیں گے؟“۔(سید مودودی)

”یا یہ کہتے ہیں کہ ہم سب مل کر بدلہ لے لیں گے“۔ (احمد رضا خان)

”کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری جماعت بڑی مضبوط ہے“۔ (فتح محمدجالندھری)

(۴) وَلَم تَکُن لَّہُ فِئَة یَنصُرُونَہُ مِن دُونِ اللَّہِ وَمَا کَانَ مُنتَصِرا۔ (الکہف: 43)

”اس کی حمایت میں کوئی جماعت نہ اٹھی کہ اللہ سے اس کا کوئی بچاو  کرتی اور نہ وہ خود ہی بدلہ لینے والا بن سکا“۔(محمدجوناگڑھی)

”نہ ہوا اللہ کو چھوڑ کر اس کے پاس کوئی جتھا کہ اس کی مدد کرتا، اور نہ کر سکا وہ آپ ہی اس آفت کا مقابلہ“۔ (سید مودودی)

”اور اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی کہ اللہ کے سامنے اس کی مدد کرتی نہ وہ بدلہ لینے کے قابل تھا“۔(احمد رضا خان)

”(اس وقت) خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوئی اور نہ وہ بدلہ لے سکا“۔ (فتح محمد جالندھری)

(۵) فَخَسَفنَا بِہِ وَبِدَارِہِ الارضَ فَمَا کَانَ لَہُ مِن فِئَةٍ یَنصُرُونَہُ مِن دُونِ اللَّہِ وَمَا کَانَ مِنَ المُنتَصِرِینَ۔ (القصص: 81)

”(آخرکار) ہم نے اسے اس کے محل سمیت زمین میں دھنسا دیا اور اللہ کے سوا کوئی جماعت اس کی مدد کے لیے تیار نہ ہوئی نہ وہ خود اپنے بچانے والوں میں سے ہوسکا“۔ (محمدجوناگڑھی)

”(آخرکار) ہم نے اسے اس کے محل سمیت زمین میں دھنسا دیا اور اللہ کے سوا کوئی جماعت اس کی مدد کے لیے تیار نہ ہوئی نہ وہ خود اپنے بچانے والوں میں سے ہو سکا“۔(سید مودودی)

”تو ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسایا تو اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی کہ اللہ سے بچانے میں اس کی مدد کرتی اور نہ وہ بدلہ لے سکا“۔ (احمد رضا خان)

”پس ہم نے قارون کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا تو خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوسکی۔ اور نہ وہ بدلہ لے سکا“۔ (فتح محمدجالندھری)

(۶) فَمَا استَطَاعُوا مِن قِیَامٍ وَمَا کَانُوا مُنتَصِرِینَ۔ (الذاریات: 45)

”پس ہم نے قارون کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا تو خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوسکی۔ اور نہ وہ بدلہ لے سکا“۔(فتح محمدجالندھری)

”پس نہ تو وہ کھڑے ہو سکے اور نہ بدلہ لے سکے“۔ (محمدجوناگڑھی)

”تو وہ نہ کھڑے ہوسکے اور نہ وہ بدلہ لے سکتے تھے“۔(احمد رضا خان)

”پھر نہ اُن میں اٹھنے کی سکت تھی اور نہ وہ اپنا بچاو کر سکتے تھے“ ۔(سید مودودی)

انتصر بعض مقامات پر وہ اللہ کے لیے استعمال ہوا ہے، وہاں بدلہ لینے کا مفہوم بھی ہوسکتا ہے اور نمٹ لینے کا مفہوم بھی ہوسکتا ہے۔

(۱) وَلَو یَشَاءُ اللَّہُ لَانتَصَرَ مِنھُم۔ (محمد: 4)

”اللہ چاہتا تو خود ہی اُن سے نمٹ لیتا“۔(سید مودودی)

”اوراللہ چاہتا تو آپ ہی اُن سے بدلہ لیتا“۔ (احمد رضا خان)

”اور اگر خدا چاہتا تو (اور طرح) ان سے انتقام لے لیتا“۔ (فتح محمدجالندھری)

”اور اللہ اگر چاہتا تو (خود) ہی ان سے بدلہ لے لیتا“۔ (محمدجوناگڑھی)

(۲) فَدَعَا رَبَّہُ اَنِّی مَغلُوب فَانتَصِر۔ (القمر: 10)

”پس اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں بے بس ہوں تو میری مدد کر“۔ (محمدجوناگڑھی، اس ترجمے میں ایک تو ”میری“ زائد ہے، دوسرے انتصر کامطلب مدد کرنا نہیں ہوتا ہے۔)

”آخر کار اُس نے اپنے رب کو پکارا کہ ''میں مغلوب ہو چکا، اب تو اِن سے انتقام لے“۔ (سید مودودی)

”تو اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں مغلوب ہوں تو میرا بدلہ لے“۔ (احمد رضا خان)

”تو انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ (بار الٰہا) میں (ان کے مقابلے میں) کمزور ہوں تو (ان سے) بدلہ لے “۔ (فتح محمدجالندھری)

(جاری)

قرآن / علوم قرآن