اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۴)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۴۱) ایقن اور استیقن کے درمیان فرق

ایقن کا مطلب ہے یقین کیا، یہ ایمان سے قریب لفظ ہے، اور قرآن مجید میں اس کا استعمال بھی اس طرح کے مقامات پر ہوتا ہے جہاں ایمان کا استعمال ہوتا ہے۔ قرآن مجید کے استعمالات بتاتے ہیں کہ ایقان مومنوں کی ایک قابل تعریف صفت، بلکہ ایمان کا مترادف ہے، اس کی بہت ساری مثالیں ہیں، جیسے:

والَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَیْْکَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِکَ وَبِالآخِرَۃِ ہُمْ یُوقِنُون۔ (البقرۃ : ۴)

اور جو لوگ ایقان کی روش اختیار نہیں کرتے ہیں ان کی قرآن مجید میں مذمت کی گئی ہے، ذیل کی آیت اس کی ایک مثال ہے:

فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّہِ حَقٌّ وَلَا یَسْتَخِفَّنَّکَ الَّذِیْنَ لَا یُوقِنُونَ۔ (الروم : ۶۰)

ایقان مختلف صیغوں میں قرآن مجید کے متعدد مقامات پر آیا ہے اور ایک ایسے عمل کے طور پر آیا ہے جس کا مطالبہ بندوں سے کیا جاتا ہے ، البتہ استیقان مختلف صیغوں کے ساتھ قرآن مجید میں صرف تین مقامات پر آیا ہے، اور تینوں مقامات پر وہ کسی قابل مذمت یا قابل تعریف عمل کے طور پر نہیں پیش کیا گیا ہے۔ استعمالات قرآنی کے اس واضح فرق کو سامنے رکھتے ہوئے یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ معنوی لحاظ سے بھی دونوں کے فرق کو سمجھا جائے۔ عام طور سے لوگوں نے استیقان کو مبالغہ کے ضمن میں دیکھنے کی کوشش کی ہے، کہ ایقان کے مقابلے میں چونکہ دو حرف یعنی سین اور تاء اس میں زیادہ ہوتے ہیں اس لئے اس کے مقابلے میں یہاں مفہوم میں قوت بھی بڑھ جائے گی۔ لیکن یہ عام قاعدہ نہیں ہے، مزید یہ کہ دونوں الفاظ کے قرآنی استعمالات اس فرق کی تائید بھی نہیں کرتے۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے کے مطابق ایقن  کامطلب ہوتا ہے یقین کرلیا، جب کہ استیقن  کا مطلب ہوتا ہے یقین ہوگیا یا یقین آگیا۔یقین کرنا بندے کاعمل ہے جسے وہ دلائل وشواہد کی روشنی میں اختیار کرتا ہے، جبکہ یقین ہونا ایک کیفیت کا نام ہے جو ازخود دل پر طاری ہوتی ہے، اس میں انسان کے اپنے ارادہ کا دخل نہیں ہوتا ہے۔اس لیے ایسا ہوسکتا ہے کہ آدمی کو یقین آجائے مگر وہ یقین کرنے کے بجائے جھٹلادے۔ سورہ نمل کی آیت ۴۱ میں اسی صورتحال کو بیان کیا گیا ہے۔ اگر دل میں یقین ہے اور آدمی اس کا اقرار بھی کرتا ہے، تو یہ ایقان ہے، لیکن اگر دل میں یقین ہے مگر آدمی انکار پر مصر ہے، تو یہ استیقان تو ہوسکتا ہے، ایقان نہیں ہوسکتا ہے۔ غرض ایقان اور جحود ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے، جبکہ استیقان اور جحود ایک ساتھ ایک ہی شخص کے اندر جمع ہوسکتے ہیں۔ 

بہت سے مترجمین نے ذیل کی آیتوں میں استیقن کا ترجمہ یقین ہوگیا کیا ہے اور وہی درست ہے، جبکہ بعض مترجمین نے ’’یقین کرلیا‘‘ کیا ہے جو استیقن کا صحیح ترجمہ نہیں ہے۔ذیل میں دونوں طرح کے ترجمے ذکر کیے گئے ہیں۔

(۱) وَجَحَدُوا بِہَا وَاسْتَیْْقَنَتْہَا أَنفُسُہُمْ ظُلْماً وَعُلُوّاً۔ (النمل: ۱۴)

’’اور انہوں نے ظلم اور تکبّر کے طور پر ان کا سراسر انکار کر دیا حالانکہ ان کے دل ان (نشانیوں کے حق ہونے) کا یقین کر چکے تھے‘‘۔(طاہر القادری)

’’اور ان کے منکر ہوئے اور ان کے دلوں میں ان کا یقین تھا ظلم اور تکبر سے‘‘۔ (احمد رضا خان) 

دوسرا ترجمہ صحیح ہے ، کیونکہ یہاں یہ نہیں بتایا جارہاہے کہ وہ یقین بھی کرتے تھے اور انکار بھی کرتے تھے، بلکہ یہ کہ دلائل کی وجہ سے دل میں تو یقین بیٹھ چکا تھا، مگر ظلم اور تکبر کے سبب وہ اس کی تصدیق کرنے اور اس پر ایمان لانے کے بجائے انکار کررہے تھے۔

(۲) وَمَا جَعَلْنَا أَصْحَابَ النَّارِ إِلَّا مَلَائِکَۃً وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَہُمْ إِلَّا فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوا لِیَسْتَیْْقِنَ الَّذِیْنَ أُوتُوا الْکِتَابَ وَیَزْدَادَ الَّذِیْنَ آمَنُوا إِیْمَاناً وَلَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ أُوتُوا الْکِتَابَ وَالْمُؤْمِنُونَ وَلِیَقُولَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوبِہِم مَّرَضٌ وَالْکَافِرُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّہُ بِہَذَا مَثَلاً کَذَلِکَ یُضِلُّ اللَّہُ مَن یَشَاءُ وَیَہْدِیْ مَن یَشَاءُ وَمَا یَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّکَ إِلَّا ہُوَ وَمَا ہِیَ إِلَّا ذِکْرَی لِلْبَشَرِ۔ (المدثر:۳۱)

’’اور ہم نے دوزخ کے داروغے صرف فرشتے ہی مقرر کئے ہیں اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کے لئے محض آزمائش کے طور پر مقرر کی ہے تاکہ اہلِ کتاب یقین کر لیں (کہ قرآن اور نبوتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حق ہے کیونکہ ان کی کتب میں بھی یہی تعداد بیان کی گئی تھی) اور اہلِ ایمان کا ایمان (اس تصدیق سے) مزید بڑھ جائے، اور اہلِ کتاب اور مومنین (اس کی حقانیت میں) شک نہ کر سکیں، اور تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے اور کفار یہ کہیں کہ اس (تعداد کی) مثال سے اللہ کی مراد کیا ہے؟ اسی طرح اللہ (ایک ہی بات سے) جسے چاہتا ہے گمراہ ٹھہراتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت فرماتا ہے، اور آپ کے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور یہ (دوزخ کا بیان) اِنسان کی نصیحت کے لیے ہی ہے‘‘۔ (طاہر القادری)

’’اور ہم نے دوزخ کے داروغہ نہ کیے مگر فرشتے، اور ہم نے ان کی یہ گنتی نہ رکھی مگر کافروں کی جانچ کو اس لیے کہ کتاب والوں کو یقین آئے اور ایمان والوں کا ایمان بڑھے اور کتاب والوں اور مسلمانوں کو کوئی شک نہ رہے اور دل کے روگی (مریض) اور کافر کہیں اس اچنبھے کی بات میں اللہ کا کیا مطلب ہے، یونہی اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے، اور تمہارے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور وہ تو نہیں مگر آدمی کے لیے نصیحت‘‘۔(احمد رضا خان)

دوسرا ترجمہ درست ہے ، مذکورہ آیت میں استیقان کو اہل کتاب سے متعلق بتایاگیا، اور اہل ایمان کے سلسلے میں استیقان کے بجائے ایمان کے زیادہ ہونے کی بات کہی گئی۔ قرآن مجید کے بیانات اہل کتاب کو یقین تو فراہم کررہے تھے، مگر یقین آجانے کے بعد بھی ان کو یقین کرنے اور ایمان لانے کی توفیق نہیں مل رہی تھی۔ محض دل میں یقین کا ہوجانا ایمان وایقان نہیں ہے جب تک انسان اپنے ارادے سے ایقان وایمان کے عمل کو انجام نہ دے۔دوسری طرف اہل ایمان جو ایقان وایمان کی منزل پر فائز ہیں ان کے ایمان وایقان میں اضافہ ہورہا ہے۔

زیر گفتگو آیت کے سلسلے میں ایک بات اور قابل توجہ ہے کہ ترجمہ اس طرح کرنے کے بجائے کہ ’’ہم نے ان کی گنتی کافروں کے لئے محض آزمائش کے طور پر مقرر کی ہے‘‘ ترجمہ اس طرح ہونا چاہئے کہ ہم نے ان کی گنتی کو کافروں کے لئے آزمائش بنادیا‘‘ یعنی اللہ نے وہ تعداد اس لئے نہیں رکھی کہ وہ آزمائش بن جائے، تعداد تو اللہ تعالی نے اپنی مشیئت سے جتنی چاہی رکھی۔البتہ اللہ کی طرف سے کرنا ایسا ہوا کہ اس وقت وہ تعداد ان کے لئے آزمائش بن گئی۔

(۳) وَإِذَا قِیْلَ إِنَّ وَعْدَ اللَّہِ حَقٌّ وَالسَّاعَۃُ لَا رَیْْبَ فِیْہَا قُلْتُم مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَۃُ إِن نَّظُنُّ إِلَّا ظَنّاً وَمَا نَحْنُ بِمُسْتَیْْقِنِیْن۔ (الجاثیۃ:۳۲)

’’اور جب تم سے کہا جاتا کہ اللہ کا وعدہ شدنی ہے، اور قیامت کے باب میں کوئی شک نہیں ہے، تو تم جواب دیتے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے، بس ایک گمان ہے جو ہم کرتے ہیں، اور ہم اس کا یقین کرنے والے نہیں ہیں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

’’اور جب کہا جاتا تھا کہ خدا کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کچھ شک نہیں تو تم کہتے تھے ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے۔ ہم اس کو محض ظنی خیال کرتے ہیں اور ہمیں یقین نہیں آتا‘‘۔(فتح محمد جالندھری)

دوسرا ترجمہ درست ہے ، اس آیت میں انکار کرنے والے یہ اعلان نہیں کررہے ہیں کہ ہم آخرت پر یقین نہیں کرتے ہیں یا یقین نہیں کریں گے، بلکہ بڑے شاطرانہ انداز سے یہ ظاہر کررہے ہیں کہ یہ ایسی چیز ہی نہیں ہے جس کا دل کو یقین ہوسکے، اور جب دل کو یقین نہ ہو تو ایمان کیسے لایا جائے۔اس طریقہ سے کفار آخرت کے دعوے کو ہلکا کرنے اور یقین سے فروتر بتانے کی کوشش کرتے تھے، اللہ تعالی نے ان کی اس شرارت اور مکاری کو بے نقاب کیا ہے، اور اس کے سلسلے میں انہیں دھمکی دی ہے۔

(۴۲) إِن نَّظُنُّ إِلَّا ظَنّا کا ترجمہ

سورہ جاثیہ کی مذکورہ بالا آیت کے اس ٹکڑے کا دو طرح سے ترجمہ کیا گیا ہے:

’’ہم تو بس ایک گمان سا رکھتے ہیں‘‘۔(سید مودودی) 

’’بس ایک گمان ہے جو ہم کرتے ہیں‘‘۔(امین احسن اصلاحی)

’’ہم اس کو محض ظنی خیال کرتے ہیں‘‘۔(فتح محمد جالندھری)

’’ہم اُسے وہم و گمان کے سوا کچھ نہیں سمجھتے‘‘۔(طاہر القادری)

پہلے والے دونوں ترجموں میں لفظ ’’ظنا" کو مفعول مطلق مانا گیا ہے۔ جبکہ موخر الذکر دونوں ترجموں میں لفظ ’’ظنا‘‘ کو دوسرا مفعول بہ مانا گیا ہے۔

سیاق کلام پر غور کیا جائے، اور یہ دیکھا جائے کہ منکرین آخرت کتنی شدت کے ساتھ نظریہ آخرت کی تردید کرتے تھے، تو دوسرا ترجمہ زیادہ مناسب معلوم ہوتاہے۔ منکرین آخرت قیامت کے تصور کو گمان کے کسی بھی درجہ میں قبول کرنے کو آمادہ نہیں تھے، کیونکہ یہ تو ان کی اس ہٹ دھرمی اور دو ٹوک انکار کی روش کو نقصان پہنچانے والی بات تھی جو انہوں نے تمام تر دلائل وبراہین کے مقابلے میں اختیار کررکھی تھی۔ وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ انہیں قیامت کے آنے کا گمان ہے، وہ تو صاف صاف کہتے تھے کہ قیامت برپا نہیں ہوگی، وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا لَا تَأْتِیْنَا السَّاعَۃُ (سبا:۳) دوسری طرف سیاق کلام بھی یہی بتارہا ہے کہ مخاطب قیامت کے وقوع کے سلسلے میں شدید انکار اور استہزاء کا موقف اختیار کیے ہوئے ہے۔

ایک طرف اللہ یقین دلارہا ہے کہ قیامت برحق ہے اور ضرورآئے گی، تو دوسری طرف منکرین کا جواب یہ ہے، کہ قیامت کیا ہے ہم جانتے نہیں، اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ قیامت ایک وہم اور گمان محض ہے، اس لیے کہ ہمارے پاس کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جس سے قیامت کا یقین ہوسکے۔ بھولے پن کے لباس میں یہ جواب دراصل شدید قسم کے استہزاء اور انکار کی ایک شکل تھی۔ دوسرے بہت سارے ترجموں کے مقابلے میں فتح محمد جالندھری کے مذکورہ بالا ترجمہ سے اس پوری کیفیت کا صحیح اظہارہوتا ہے۔

(۴۳) رُخَاءََ حَیْْثُ أَصَاب کا ترجمہ

حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے اللہ نے ہوا کومسخر کیا تھا۔ اس کا تذکرہ قرآن مجید میں اس طرح کیا گیاہے:

فَسَخَّرْنَا لَہُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِأَمْرِہِ رُخَاءً ا حَیْْثُ أَصَابَ۔ (ص:۳۶)

اس آیت کا ترجمہ عام طور سے لوگوں نے حسب ذیل کیا ہے:

’’تب ہم نے اس کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا جو اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی جدھر وہ چاہتا تھا‘‘۔(سید مودودی)

اس ترجمہ پر دو اشکال وارد ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ أَصَابَ  کے معنی چاہنے کے نہیں بلکہ کسی نشانے یا ہدف پر پہنچنے کے ہوتے ہیں، گوکہ مفسرین اور اہل لغت نے بعض حوالوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ فعل ارادہ کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ لیکن وہ کوشش تکلف سے خالی نہیں لگتی، اور بہر حال اس لفظ کا اصل اور مشہور معنی تو وہ نہیں ہے۔

دوسرا اشکال یہ ہے کہ قرآن مجید میں ایک دوسرے مقام پر بتایا گیا کہ جو ہوا حضرت سلیمان کے لیے مسخر کی گئی تھی وہ اتنی تیز رفتار ہوتی تھی کہ ماہ بھر کا سفر صبح میں ہی طے ہوجاتا تھا، اور ایک اور ماہ کا سفر شام تک طے ہوجاتا تھا۔ 

وَلِسُلَیْْمَانَ الرِّیْحَ غُدُوُّہَا شَہْرٌ وَرَوَاحُہَا شَہْرٌ۔ (سبا:۱۲) 

دوسری جگہ صراحت ہے کہ عاصفہ یعنی باد تند کو مسخر کیا تھا، وَلِسُلَیْْمَانَ الرِّیْحَ عَاصِفَۃً تَجْرِیْ بِأَمْرِہِ إِلَی الْأَرْضِ الَّتِیْ بَارَکْنَا فِیْہَا۔ (الانبیاء:۸۱)  ظاہر ہے ایسی تیز رفتارباد تندکے لیے رُخَاءً تو نہیں آسکتا ہے۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی نے اس آیت کا ترجمہ یوں کیا ہے:

’’تو ہم نے اس کے لیے مسخر کردیا ہوا کو، جو اس کے حکم سے چلتی اس طرح کہ جب وہ منزل پر پہونچ جاتا تو مدھم پڑجاتی‘‘۔

گویا حَیْْثُ أَصَاب اس ترجمہ کے لحاظ سے رُخَاءً کا ظرف ہے۔ جبکہ اوپر ذکر کیے گئے ترجمے میں حَیْْثُ أَصَاب ظرف ہے تَجْرِیْ بِأَمْرِہ کا۔

معلوم یہ ہوا کہ خدا کے حکم سے ہوااس طرح حضرت سلیمان کی خدمت گزار ہوگئی تھی کہ جب روانہ ہوتے تو اتنی تیز رفتار سے چلتی کہ ماہ بھر کا سفر گھنٹہ بھر میں طے ہوجاتا، اور جب منزل پر پہنچ جاتے تو تابع دار گھوڑے کی طرح اس کی رفتار ہلکی ہوجاتی۔ ایک گھوڑے سے یہ رویہ عجیب نہیں لگتا، کہ اس کی لگام شہ سوار کے ہاتھ میں ہوتی ہے، مگر ہوا اگر اس طرح کرے تو یقیناًبہت تعجب خیز بات ہے، اور اس کا ذکر خصوصی طور سے کرنے کی وجہ فوراََسمجھ میں آجاتی ہے۔ ہوا کسی ایک رفتار سے نہیں چلے بلکہ اپنے دوش پر سوار شخص کی ضرورت اور خواہش کے مطابق تیز رفتار اور خراماں رفتار ہوجائے، یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے اللہ رب العزت کی طرف سے بہت زبردست نشانی تھی ، اور بہت بڑا اکرام و اعزاز تھا۔ 

(۴۴) والد اور ولد کا صحیح ترجمہ

لفظ والد کے اصل مفہوم اور مروجہ مفہوم میں ایک بنیادی فرق ہے، اس فرق کا لحاظ مترجمین کے یہاں نہیں ہوسکا۔ عربی زبان میں جس طرح لفظ ’اب‘ باپ کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن ’ابوین‘ تغلیب کے طور پر ماں باپ دونوں کے لئے آتا ہے، اسی طرح ’والد‘ کا اطلاق دراصل ماں پر ہوتا ہے، کیونکہ ولد کامعنی جنا اور جنم دیا ہوتا ہے، یہ وہ کام ہے جسے عورت انجام دیتی ہے۔ بطور تغلیب ماں باپ دونوں پر اس کا اطلاق ہوسکتا ہے، والد اصلاً ماں کے لیے ہوتا ہے اور باپ کے لیے اصلا ’مولود لہ‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے: لاَ تُضَآرَّ وَالِدَۃٌ بِوَلَدِہَا وَلاَ مَوْلُودٌ لَّہُ بِوَلَدِہ۔ (البقرۃ:۲۳۳) واضح رہے کہ یہاں اصل استعمال کی بات ہورہی ہے۔ شاعر کہتا ہے:

اذا والد منہا تربّد ضرعھا
جعلت لھا السکین احدی القلائد 

(اساس البلاغۃ للزمخشری (۱/۱۵۵)

اس شعر میں حاملہ اونٹنی کے لیے لفظ ’والد‘ استعمال کیا گیا۔

علامہ فیروزآبادی اس لفظ کی حقیقت کی یوں تشریح کرتے ہیں:

ووَلَدَت تَلِدُ وِلاداً ووِلادۃً والادَۃً ولِدَۃً ومَولِداً . وھی والِد وَوالِدَۃ. وشاۃ والد وَوالِدَۃ۔ (القاموس المحیط للفیروزآبادی)

حاصل کلام یہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں والد کا لفظ آیا ہے وہاں دیکھنا چاہئے ، اور اگر کوئی واضح قرینہ رکاوٹ نہ بن رہا ہو تو والد کا ترجمہ یا تو ماں ہونا چاہئے یا ماں باپ دونوں ہونا چاہئے۔قرآن مجید میں لفظ والد دو مقام پر آیا ہے، اور دونوں مقامات پر اگر باپ کے بجائے ماں باپ کیا جائے تو معنویت میں اضافہ ہوجاتا ہے، اور ترجمہ لفظ کی حقیقت سے قریب رہتا ہے۔

وَاخْشَوْا یَوْماً لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَن وَلَدِہِ وَلَا مَوْلُودٌ ہُوَ جَازٍ عَن وَالِدِہِ شَیْْئاً۔ (لقمان:۳۳)

اس آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے عام طور سے اردو مترجمین نے والد کا ترجمہ باپ کیا ہے:

’’اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنے بیٹے کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا اور نہ بیٹا اپنے باپ کا ذرا سا بھی نفع کرنے والاہوگا‘‘۔(محمد جوناگڑھی) 

انہوں نے ولد کا ترجمہ بھی بیٹے کیا ہے، حالانکہ ولد میں بیٹا اور بیٹی دونوں شامل ہوتے ہیں۔

آیت کے مذکورہ حصے کا ترجمہ اس طرح ہونا چاہئے:

’’اور اس دن کا خوف کرو جس دن ماں باپ اپنی اولاد کو کوئی نفع نہ پہنچا سکیں گے اور نہ اولاد اپنے ماں باپ کو ذرا سا بھی نفع دینے والی ہوگی‘‘۔(امانت اللہ اصلاحی)

بعض انگریزی مترجمین نے Father کے بجائے Parent کے لفظ کا استعمال کیاہے۔ اسی طرح ولد کا ترجمہ son کے بجائے child کیا ہے جو لڑکے اور لڑکی دونوں کے لئے آتا ہے۔یہ طریقہ بہت مناسب ہے۔

And fear a Day when the parent will not be able to avail the child in aught, nor the child to avail the parent. (Pickthall) 

وَوَالِدٍ وَمَا وَلَدَ۔ (البلد:۳)

اس آیت کے ترجمہ میں بھی عام طور سے مفسرین نے والد کا ترجمہ باپ کیا ہے۔

’’اور قسم کھاتا ہوں باپ کی اور اس اولاد کی جو اس سے پیدا ہوئی‘‘۔ (سید مودودی)

اس کا درست ترجمہ اس طرح ہوسکتا ہے:

’’اور قسم کھاتا ہوں ماں باپ اور ان کی اولاد کی‘‘۔ (امانت اللہ اصلاحی) 

انگریزی کا حسب ذیل ترجمہ بھی صحیح مفہوم ادا کرتا ہے:

And (the mystic ties of) parent and child (Yousuf Ali)

خود مقسم علیہ یعنی لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِیْ کَبَدٍ  سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ ماں تو یہاں ضرور مراد ہے، کیونکہ مشقت کے ساتھ جس تخلیق کی بات کہی گئی ہے اس کا تعلق ماں سے زیادہ نمایاں ہے کہ وہی ساری تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کرتی ہے۔ 

(جاری)

قرآن / علوم قرآن