اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۴۵)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۴۶) من دون اللہ کا ایک ترجمہ

لفظ ’’دون‘‘ عربی کے ان الفاظ میں سے ہے جن کے متعدد معانی ہوتے ہیں، اور سیاق وسباق کی روشنی میں مناسب ترین معنی اختیار کیا جاتا ہے۔ دون کا ایک معنی ’’سوا‘‘ ہوتا ہے، مندرجہ ذیل آیتوں میں مِن دُونِ اللّہ کاترجمہ کرتے ہوئے دون کا یہی معنی زیادہ تر مترجمین نے اختیار کیا ہے، البتہ  کچھ مترجمین نے ’’سوا‘‘ کے بجائے ’’چھوڑ کر‘‘ ترجمہ کیا۔ اول الذکر تعبیر زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس میں وسعت زیادہ ہے، اس میں وہ لوگ بھی آجاتے ہیں جو اللہ کو معبود مانتے ہیں، اور اللہ کے سوا دوسرے معبود بھی بناتے ہیں، اور وہ لوگ بھی آجاتے ہیں جو اللہ کو معبود نہیں مانتے اور اللہ کو چھوڑ کر دوسرے معبود بناتے ہیں۔ جبکہ دوسری تعبیر میں صرف وہی لوگ آتے ہیں جو اللہ کو معبود نہ مان کر دوسروں کو معبود مانتے ہیں۔ اس فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے مندرجہ ذیل آیتوں کے ترجموں کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔دون کے اس استعمال کی قرآن مجید میں بہت زیادہ مثالیں ہیں، کچھ آیتیں ذیل میں ذکر کی گئی ہیں۔

(۱) قُلْ أَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللّہِ مَا لاَ یَمْلِکُ لَکُمْ ضَرّاً وَلاَ نَفْعاً۔ (المائدۃ:76)

’’کہو کہ تم خدا کے سوا ایسی چیز کی کیوں پرستش کرتے ہو جس کو تمہارے نفع اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں‘‘ (فتح محمدجالندھری)

’’ان سے کہیئے! کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان‘‘ (نجفی)

’’آپ ان سے کہئے کہ کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو جو تمہارے لئے نفع اور نقصان کے مالک بھی نہیں ہیں‘‘(جوادی)

’’اِن سے کہو، کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اُس کی پرستش کرتے ہو جو نہ تمہارے لیے نقصان کا اختیار رکھتا ہے نہ نفع کا‘‘ (سید مودودی)

(۲) قُلْ أَنَدْعُو مِن دُونِ اللّہِ مَا لاَ یَنفَعُنَا وَلاَ یَضُرُّنَا۔ (الأنعام: 71)

’’کہو۔ کیا ہم خدا کے سوا ایسی چیز کو پکاریں جو نہ ہمارا بھلا کرسکے نہ برا‘‘ (فتح محمدجالندھری)

’’ان سے پو چھو کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان‘‘(سید مودودی)

’’آپ کہہ دیجئے کہ ہم خدا کو چھوڑ کر ان کو پکاریں جو نہ فائدہ پہنچاسکتے ہیں اور نہ نقصان‘‘ (جوادی)

’’کہیے! کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان‘‘(نجفی)

(۳) وَالَّذِیْنَ یَدْعُونَ مِن دُونِ اللّہِ لاَ یَخْلُقُونَ شَیْْئاً وَہُمْ یُخْلَقُون۔ (النحل: 20)

’’اور جن لوگوں کو یہ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ کوئی چیز بھی تو نہیں بناسکتے‘‘(فتح محمدجالندھری)

’’اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں‘‘(سید مودودی)

’’اور اس کے علاوہ جنہیں یہ مشرکین پکارتے ہیں وہ خود ہی مخلوق ہیں‘‘(جوادی)

’’اور اللہ کو چھوڑ کر جن کو یہ (مشرک) لوگ پکارتے ہیں وہ کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتے‘‘ (نجفی)

(۴) وَیَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللّہِ مَا لاَ یَمْلِکُ لَہُمْ رِزْقاً مِّنَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ شَیْْئاً۔ (النحل: 73)

’’اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جو ان کو آسمانوں اور  زمین میں روزی دینے کا ذرا بھی اختیار نہیں رکھتے ‘‘(فتح محمدجالندھری، من کا ترجمہ ’’سے‘‘ ہونا چاہئے، یہاں من کا ترجمہ’’ میں‘‘ کردیا گیا ہے۔)

’’اور اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پوجتے ہیں جن کے ہاتھ میں نہ آسمانوں سے انہیں کچھ بھی رزق دینا ہے نہ زمین سے‘‘(سید مودودی)

’’اور یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہیں جو نہ آسمان و زمین میں کسی رزق کے مالک ہیں‘‘(جوادی)

’’اور یہ اللہ کو چھوڑ کر ایسوں کی عبادت (پرستش) کرتے ہیں جو ان کو آسمان و زمین سے روزی پہنچانے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے‘‘ (نجفی)

(۵) وَأَعْتَزِلُکُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّہِ۔ (مریم: 48)

’’اور میں آپ لوگوں سے اور جن کو آپ خدا کے سوا پکارا کرتے ہیں ان سے کنارہ کرتا ہوں ‘‘(فتح محمدجالندھری)

’’میں آپ لوگوں کو بھی چھوڑتا ہوں اور اُن ہستیوں کو بھی جنہیں آپ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہیں‘‘ (سید مودودی)

’’اور آپ کو آپ کے معبودوں سمیت چھوڑ کر الگ ہوجاؤں گا ‘‘(جوادی، اس میں من دون اللہ کا ترجمہ چھوٹ گیا ہے)

’’اور میں آپ لوگوں سے اور ان سے جنہیں آپ اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں کنارہ کرتا ہوں‘‘ (نجفی)

(۶) وَاتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّہِ آلِہَۃً لِّیَکُونُوا لَہُمْ عِزّا۔ (مریم: 81)

’’اور ان لوگوں نے خدا کے سوا اور معبود بنالئے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے (موجب عزت و) مدد ہوں‘‘(فتح محمدجالندھری)

’’اِن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے کچھ خدا بنا رکھے ہیں تاکہ وہ اِن کے پشتیبان ہوں‘‘ (سید مودودی)

’’اور ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر بہت سے خدا بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کیلئے عزت و قوت کا باعث ہوں‘‘ (نجفی)

’’اور ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر دوسرے خدا اختیار کرلئے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے باعث عزّت بنیں ‘‘(جوادی)

(۷) إِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ۔ (الانبیاء: 98)

’’تم اور جن کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہوں گے‘‘ (فتح محمدجالندھری)

’’بے شک تم اور تمہارے وہ معبُود جنہیں تم پوجتے ہو، جہنّم کا ایندھن ہیں‘‘ (سید مودودی، یہاں بھی من دون اللہ کا ترجمہ چھوٹ گیا ہے)

’’بیشک تم اور وہ چیزیں جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے جہنم کا ایندھن ہیں‘‘ (محمد حسین نجفی)

’’یاد رکھو کہ تم لوگ خود اور جن چیزوں کی تم پرستش کررہے ہو سب کو جہنمّ کا ایندھن بنایا جائے گا‘‘(جوادی)

(۸) إِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّہِ لَن یَخْلُقُوا ذُبَاباً وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَہ۔ (الحج: 73)

’’جن لوگوں کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اگرچہ اس کے لئے سب مجتمع ہوجائیں‘‘(جالندھری)

’’جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ سب مِل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے‘‘(سید مودودی)

’’یہ لوگ جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر آواز دیتے ہو یہ سب مل بھی جائیں تو ایک مکھی نہیں پیدا کرسکتے ہیں ‘‘ (جوادی)

’’اللہ کو چھوڑ کر تم جن معبودوں کو پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے۔ اگرچہ وہ سب کے سب اس کام کے لئے اکٹھے ہو جائیں‘‘ (محمد حسین نجفی)

(۹) وَإِذْ قَالَ اللّہُ یَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ أَأَنتَ قُلتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِیْ وَأُمِّیَ إِلَہَیْْنِ مِن دُونِ اللّہِ۔ (المائدۃ: 116)

’’غرض جب (یہ احسانات یاد دلا کر) اللہ فرمائے گا کہ ''اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری ماں کو بھی خدا بنا لو؟''(سید مودودی)

’’اور جب اللہ نے کہا کہ اے عیسٰی بن مریم کیا تم نے لوگوں سے یہ کہہ دیا ہے کہ اللہ کو چھوڑ کو مجھے اور میری ماں کو خدا مان لو ‘‘(جوادی)

’’وہ وقت یاد کرو جب اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے عیسیٰ بن مریم کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو خدا بنا لو‘‘ (نجفی)

آخر الذکر دونوں مترجمین نے یہاں بھی ’’چھوڑ کر‘‘ ترجمہ کیا ہے، جو عیسائیوں کی حد تک تو بالکل خلاف واقعہ ہے۔ عیسی علیہ السلام کے بعد عیسائیوں نے اللہ کو چھوڑ کر انہیں اور ان کی ماں کو معبود نہیں بنایا، بلکہ اللہ کے ساتھ ان دونوں کو عبادت میں شریک کیا۔ غالبا یہی وجہ ہے کہ صاحب تفہیم ایسے ہر مقام پر چھوڑ کر ترجمہ کرتے ہیں، لیکن اس مقام پر انہوں نے اپنے عام طریق سے ہٹ کر معروف ترجمہ اختیارکیا، صحیح بات یہ ہے کہ یہی ترجمہ ایسے باقی تمام مقامات پر بھی زیادہ مناسب ہے۔

(۱۴۷) من دون اللہ کا ایک اور ترجمہ

(۱) وَلَمْ تَکُن لَّہُ فِئۃٌ یَنصُرُونَہُ مِن دُونِ اللَّہِ وَمَا کَانَ مُنتَصِراً۔ (الکہف: 43)

’’نہ ہوا اللہ کو چھوڑ کر اس کے پاس کوئی جتھا کہ اس کی مدد کرتا، اور نہ کر سکا وہ آپ ہی اس آفت کا مقابلہ‘‘(سید مودودی)

’’(اس وقت) خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوئی اور نہ وہ بدلہ لے سکا ‘‘(فتح محمدجالندھری)

’’اس کی حمایت میں کوئی جماعت نہ اٹھی کہ اللہ سے اس کا کوئی بچاؤ کرتی اور نہ وہ خود ہی بدلہ لینے والا بن سکا ‘‘(محمدجوناگڑھی)

’’اب اس کے پاس کوئی ایسا گروہ بھی نہیں تھا جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کرتا اور نہ ہی وہ غالب اور بدلہ لینے کے قابل تھا‘‘ (نجفی)

(۲) فَمَا کَانَ لَہُ مِن فِئَۃٍ یَنصُرُونَہُ مِن دُونِ اللَّہِ۔ (القصص: 81)

’’پھر کوئی اس کے حامیوں کا گروہ نہ تھا جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کو آتا‘‘ (سید مودودی)

’’تو خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوسکی ‘‘(فتح محمدجالندھری)

’’اور نہ کوئی گروہ خدا کے علاوہ بچانے والا پیدا ہوا ‘‘(جوادی)

’’اور اللہ کے سوا کوئی جماعت اس کی مدد کے لیے تیار نہ ہوئی ‘‘ (محمدجوناگڑھی)

’’سو نہ اس کے حامیوں کی کوئی جماعت تھی جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کرتی ‘‘(نجفی)

(۳) مِمَّا خَطِیْئَاتِہِمْ أُغْرِقُوا فَأُدْخِلُوا نَاراً فَلَمْ یَجِدُوا لَہُم مِّن دُونِ اللَّہِ أَنصَاراً۔ (نوح: 25)

’’(آخر) وہ اپنے گناہوں کے سبب پہلے غرقاب کردیئے گئے پھر آگ میں ڈال دیئے گئے۔ تو انہوں نے خدا کے سوا کسی کو اپنا مددگار نہ پایا‘‘(فتح محمدجالندھری، لفظ ’’پہلے ‘‘ زائد ہے ، آیت میں اس کے لئے کوئی لفظ نہیں ہے۔)

’’اپنی خطاؤں کی بنا پر ہی وہ غرق کیے گئے اور آگ میں جھونک دیے گئے، پھر انہوں نے اپنے لیے اللہ سے بچانے والا کوئی مددگار نہ پایا‘‘ (سید مودودی)

’’اپنی کیسی خطاؤں پر ڈبوئے گئے پھر آگ میں داخل کیے گئے تو انہوں نے اللہ کے مقابل اپنا کوئی مددگار نہ پایا‘‘ (احمد رضا خان، لفظ ’’کیسے ‘‘ یہاں بے محل ہے)

’’یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہوں کے ڈبو دیئے گئے اور جہنم میں پہنچا دیئے گئے اور اللہ کے سوا اپنا کوئی مددگار انہوں نے نہ پایا‘‘ (محمدجوناگڑھی)

’’یہ سب اپنی غلطیوں کی بنا پر غرق کئے گئے ہیں اور پھر جہنمّ میں داخل کردیئے گئے ہیں اور خدا کے علاوہ انہیں کوئی مددگار نہیں ملا ہے‘‘ (جوادی)

(۴) أَمَّنْ ہَذَا الَّذِیْ ہُوَ جُندٌ لَّکُمْ یَنصُرُکُم مِّن دُونِ الرَّحْمَن۔ (الملک: 20)

’’بتاؤ، آخر وہ کونسا لشکر تمہارے پاس ہے جو رحمان کے مقابلے میں تمہاری مدد کر سکتا ہے‘‘ (سید مودودی)

’’بھلا ایسا کون ہے جو تمہاری فوج ہو کر خدا کے سوا تمہاری مدد کرسکے‘‘ (فتح محمدجالندھری)

’’سوائے اللہ کے تمہارا وہ کون سا لشکر ہے جو تمہاری مدد کرسکے‘‘ (محمدجوناگڑھی)

درج بالا آیتوں کے ترجموں پر نظر ڈالیں تو چار طرح کے ترجمے سامنے آتے ہیں، ’’چھوڑ کر‘‘،’’علاوہ‘‘ ، ’’سوا‘‘ اور ’’مقابلے میں‘‘۔

بعض مترجمین جس طرح دوسرے مقامات پر سوا ترجمہ کرتے ہیں، یہاں بھی وہی ترجمہ کرتے ہیں، حالانکہ یہاں اس کا محل نہیں ہے کہ اللہ کے سوا کسی اورنے مدد کی یا اللہ کے سوا کسی اور نے مدد نہیں کی، یہاں اللہ کے عذاب کا ذکر ہے، اللہ کی طرف سے مدد ہونے کی یا اللہ کے مددگار بننے کی بات نہیں ہے، ان آیتوں کا مدعا یہ ہے کہ اللہ کا عذاب آجانے پر اس عذاب سے بچانے والا اور اس عذاب کا مقابلہ کرنے والا کوئی مددگار نہیں ہوا۔

بعض مترجمین نے دوسرے مقامات کی طرح یہاں بھی ’’چھوڑ کر‘‘ ترجمہ کیا ہے، یہ ترجمہ بھی سیاق کے لحاظ سے موزوں نہیں ہے۔ اسی طرح ’’علاوہ‘‘ بھی برمحل نہیں ہے۔

مذکورہ تمام آیتوں میں دون کا ترجمہ کرنے کے لئے درست لفظ ’’مقابلے میں‘‘ یا اس کے ہم معنی الفاظ ہیں۔ کیونکہ ان آیتوں کا واضح مفہوم یہی ہے کہ اللہ کے عذاب کے مقابلے میں نہ وہ خود ڈٹ سکے، اور نہ کوئی ان کا مددگار ہوسکا۔

دیکھنے کی چیز یہ بھی ہے کہ بعض مترجمین ان یکساں اسلوب والی آیتوں کا الگ الگ ترجمہ کرتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان آیتوں کا ترجمہ کرتے وقت کسی ایک تعبیر کی طرف ان کا ذہن یکسو نہیں ہوسکا تھا، اور ان مختلف تعبیروں کے درمیان پایا جانے والا فرق ان کے سامنے کبھی رہا اور کبھی نہیں رہ سکا۔ 

(جاری)

قرآن / علوم قرآن