اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۵۳)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۶۱) کلا بمعنی ألا

لغت میں کلا کا مشہور مفہوم تو شدید نفی اور زجر وردع کا ہے، اردو میں اس کے لیے ہرگز نہیں اور نہیں نہیں کی تعبیر استعمال کی جاتی ہے۔ عام طور سے اس سے پہلے ایسی کوئی بات سیاق کلام میں موجود ہوتی ہے جس کی شدت کے ساتھ نفی کی جاتی ہے۔ تاہم قرآن مجید میں بہت سے مواقع ایسے ہیں جہاں موقع کلام’’ ہرگز نہیں‘‘ کے بجائے کسی دیگر مفہوم کا تقاضا کرتا ہے، کیونکہ سیاق کلام میں ایسی کوئی بات نہیں ہوتی ہے جس کی نفی کرنے کا محل ہو۔ اس دیگر مفہوم کے بارے میں بعض ائمہ نحو کا خیال ہے کہ حقا یعنی بیشک کا مفہوم ہے، بعض کا خیال ہے کہ ای ونعم یعنی ہاں ہاں کا مفہوم ہے، اور بعض کا خیال ہے کہ ألا یعنی سنو اور آگاہ ہوجاؤ کا مفہوم ہے۔ ابن ہشام نے مغنی اللبیب میں دلائل کے ساتھ اس آخری مفہوم کو ترجیح دی ہے، ان کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ یہ مفہوم اکثر جگہ موزوں ہوجاتا ہے۔ (لأنہ اکثر اطرادا)۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی بھی اسی کے قائل ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اردو مترجمین قرآن کے یہاں مذکورہ بالا تمام مفہوم ملتے ہیں۔ البتہ مشہور مترجمین میں شاہ عبدالقادر ، شاہ رفیع الدین ،اشرف علی تھانوی ، سید مودودی اور امین احسن اصلاحی وغیرہ ایسی تمام جگہوں پر کلا کا ترجمہ’’ہرگز نہیں ‘‘ یا ’’کوئی نہیں‘‘ کرتے ہیں، اور چونکہ متعدد مقامات پر سیاق میں ایسی کوئی بات مذکور نہیں ہے جس کی نفی کی جائے اس لیے ایسی کسی بات کو محذوف مان لیا جاتاہے اور تفسیر میں اس کی وضاحت کردی جاتی ہے، اس وضاحت میں بھی بسا اوقات تکلف ظاہر ہوتا ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے نزدیک اس تکلف کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کلا کا ترجمہ سنو یا آگاہ ہوجاؤ کیا جائے تو کلام کا مفہوم بالکل واضح اور بے تکلف رہتا ہے، اور کسی بات کو محذوف ماننے کی ضرورت بھی نہیں رہتی ہے۔ کچھ مثالیں ذیل میں ذکر کی جاتی ہیں۔

کَلَّا إِنَّ کِتَابَ الفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍ۔ (المطفّفین: 7)

’’ہرگز نہیں، یقیناًبد کاروں کا نامہ اعمال قید خانے کے دفتر میں ہے‘‘ (سید مودودی)

’’بیشک کافروں کی لکھت سب سے نیچی جگہ سجین میں ہے‘‘ (احمد رضا خان)

’’سن رکھو کہ بدکارروں کے اعمال سجّین میں ہیں‘‘ (فتح محمد جالندھری)

کَلَّا بَلْ رَانَ عَلَی قُلُوبِہِم مَّا کَانُوا یَکْسِبُونَ۔ کَلَّا إِنَّہُمْ عَن رَّبِّہِمْ یَوْمَئذٍ لَّمَحْجُوبُونَ۔ (المطفّفین: 14، 15)

’’ہرگز نہیں، بلکہ دراصل اِن لوگوں کے دلوں پر اِن کے برے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے. ہرگز نہیں، بالیقین اُس روز یہ اپنے رب کی دید سے محروم رکھے جائیں گے‘‘ (سید مودودی)

’’کوئی نہیں بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھادیا ہے ان کی کمائیوں نے۔ ہاں ہاں بیشک وہ اس دن اپنے رب کے دیدار سے محروم ہیں‘‘ (احمد رضا خان)

’’دیکھو یہ جو (اعمال بد) کرتے ہیں ان کا ان کے دلوں پر زنگ بیٹھ گیا ہے۔ بیشک یہ لوگ اس روز اپنے پروردگار (کے دیدار) سے اوٹ میں ہوں گے‘‘ (فتح محمد جالندھری)

کَلَّا إِنَّ کِتَابَ الْأَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْن۔ (المطفّفین: 18)

’’ہرگز نہیں، بیشک نیک آدمیوں کا نامہ اعمال بلند پایہ لوگوں کے دفتر میں ہے‘‘ (سید مودودی)

’’ہاں ہاں بیشک نیکوں کی لکھت سب سے اونچا محل علیین میں ہے‘‘ (احمد رضا خان)

’’(یہ بھی) سن رکھو کہ نیکوکاروں کے اعمال علیین میں ہیں‘‘ (فتح محمد جالندھری)

کَلَّا إِذَا دُکَّتِ الْأَرْضُ دَکّاً دَکّاً۔ (الفجر: 21)

’’ہرگز نہیں، جب زمین پے در پے کوٹ کوٹ کر ریگ زار بنا دی جائے گی‘‘ (سید مودودی)

’’ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کردی جائے‘‘ (احمد رضا خان)

’’یقیناً جس وقت زمین کوٹ کوٹ کر برابر کر دی جائے گی‘‘ (محمد جوناگڑھی)

’’یاد رکھو کہ جب زمین کو ریزہ ریزہ کردیا جائے گا‘‘ (ذیشان جوادی)

کَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَیَطْغَی۔ (العلق: 6)

’’ہرگز نہیں، انسان سرکشی کرتا ہے‘‘ (سید مودودی)

’’ہاں ہاں بیشک آدمی سرکشی کرتا ہے‘‘ (احمد رضا خان)

’’سچ مچ انسان تو آپے سے باہر ہو جاتا ہے‘‘ (محمد جوناگڑھی)

کَلَّا لَئن لَّمْ یَنتَہِ لَنَسْفَعاً بِالنَّاصِیَۃِ۔ (العلق: 15)

’’ہرگز نہیں، اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر اسے کھینچیں گے‘‘ (سید مودودی)

’’ہاں ہاں اگر باز نہ آیا تو ضرور ہم پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے‘‘ (احمد رضا خان)

’’یقیناً اگر یہ باز نہ رہا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے‘‘ (محمد جوناگڑھی)

’’دیکھو اگر وہ باز نہ آئے گا تو ہم (اس کی) پیشانی کے بال پکڑ گھسیٹیں گے‘‘ (فتح محمد جالندھری)

کَلَّا لَا تُطِعْہُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِب۔ (العلق: 19)

’’ہرگز نہیں، اْس کی بات نہ مانو اور سجدہ کرو اور (اپنے رب کا) قرب حاصل کرو‘‘ (سید مودودی)

’’ہاں ہاں، اس کی نہ سنو اور سجدہ کرو اور ہم سے قریب ہوجاؤ‘‘ (احمد رضا خان)

’’دیکھو اس کا کہا نہ ماننا اور قربِ (خدا) حاصل کرتے رہنا‘‘۔(فتح محمد جالندھری)

کَلَّا إِنَّہُ تَذْکِرَۃٌ۔ (المدثر: 54)

’’ہرگز نہیں، یہ تو ایک نصیحت ہے‘‘ (سید مودودی)

’’ہاں ہاں بیشک وہ نصیحت ہے‘‘ (احمد رضا خان)

’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے‘‘ (فتح محمد جالندھری)

کَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَۃَ۔ (القیامۃ: 20)

’’ہرگز نہیں، اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا) سے محبت رکھتے ہو‘‘ (سید مودودی)

’’کوئی نہیں بلکہ اے کافرو! تم پاؤں تلے کی (دنیاوی فائدے کو) عزیز دوست رکھتے ہو‘‘ (احمد رضا خان)

’’مگر (لوگو) تم دنیا کو دوست رکھتے ہو‘‘ (فتح محمد جالندھری)

کَلَّا إِذَا بَلَغَتْ التَّرَاقِیَ۔ (القیامۃ: 26)

’’ہرگز نہیں، جب جان حلق تک پہنچ جائے گی‘‘ (سید مودودی)

’’ہاں ہاں جب جان گلے کو پہنچ جائے گی‘‘ (احمد رضا خان)

’’دیکھو جب جان گلے تک پہنچ جائے‘‘ (فتح محمد جالندھری)

’’ہوشیار جب جان گردن تک پہنچ جائے گی‘‘ (ذیشان جوادی)

اس سلسلے میں ایک مددگار پہلو یہ ہے کہ جب ہم قرآن مجید میں ألا کے استعمالات دیکھتے ہیں تو وہ بالکل ویسے ہی مقامات ہیں جہاں کلا بمعنی ألا استعمال ہوا ہے۔ اور صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کلا اور ألا جگہ جگہ بالکل ایک مفہوم میں استعمال ہوئے ہیں۔

وَإِذَا قِیْلَ لَہُمْ لاَ تُفْسِدُواْ فِیْ الأَرْضِ قَالُواْ إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ۔ أَلا إِنَّہُمْ ہُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَکِن لاَّ یَشْعُرُونَ۔ وَإِذَا قِیْلَ لَہُمْ آمِنُواْ کَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُواْ أَنُؤْمِنُ کَمَا آمَنَ السُّفَہَاء أَلا إِنَّہُمْ ہُمُ السُّفَہَاء وَلَکِن لاَّ یَعْلَمُونَ ( البقرۃ: 11 ۔ 13)

’’اور جب کہئے ان کو فساد نہ ڈالو ملک میں، کہیں ہمارا کام تو سنوار ہے،سن رکھو وہی ہیں بگاڑنے والے، پر نہیں سمجھتے۔ اور جب کہئے ان کو ایمان میں آؤ، جس طرح ایمان میں آئے سب لوگ، کہیں کیا ہم اس طرح مسلمان ہوئے ہیں بیوقوف، سنتا ہے، وہی ہیں بے وقوف، پر نہیں جانتے‘‘(شاہ عبدالقادر)

أَلَا إِنَّہُمْ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّن لِّقَاء رَبِّہِمْ أَلَا إِنَّہُ بِکُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطٌ (فصلت: 54)

’’آگاہ رہو، یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات میں شک رکھتے ہیں۔ سن رکھو وہ ہر چیز پر محیط ہے‘‘ (سید مودودی)

یَوْمَ یَبْعَثُہُمُ اللَّہُ جَمِیْعاً فَیَحْلِفُونَ لَہُ کَمَا یَحْلِفُونَ لَکُمْ وَیَحْسَبُونَ أَنَّہُمْ عَلَی شَیْءٍ أَلَا إِنَّہُمْ ہُمُ الْکَاذِبُونَ (المجادلۃ: 18)

’’جس روز اللہ ان سب کو اٹھائے گا، وہ اس کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں، اور اپنے نزدیک یہ سمجھیں گے کہ اس سے ان کا کچھ کام بن جائے گا۔ خوب جان لو ، وہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں‘‘ (سید مودودی)

(جاری)


قرآن / علوم قرآن

(مئی ۲۰۱۹ء)

Flag Counter