اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۲)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(353) وَلَمْ أَکُنْ کا ترجمہ

وَلَمْ أَکُنْ بِدُعَائِکَ رَبِّ شَقِیًّا۔ (مریم: 4)

”لیکن میں کبھی بھی تجھ سے دعا کر کے محروم نہیں رہا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور اے میرے پروردگار میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا“۔ (فتح محمد جالندھری)

درج بالا آیت میں لَمْ أَکُنْ کو عام طور سے ماضی کے معنی میں لیا گیا ہے۔ یعنی اس سے پہلے میں کبھی دعا مانگ کر نامراد نہیں رہا۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے یہ ہے کہ اس کا حال کا ترجمہ کیا جاسکتا ہے اور وہ زیادہ مناسب ہے۔ یعنی مجھے یقین ہے کہ میری دعا رد نہیں کی جائے گی۔ لم أکن جس طرح ماضی کے لیے آتا ہے اسی طرح حال کے لیے بھی آتا ہے۔ جیسے:

قَالَ لَمْ أَکُنْ لِأَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ۔ (الحجر: 33)

اس وضاحت کی روشنی میں درج ذیل ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

”اور اے میرے رب! میں تجھے پکار کے نامراد نہیں ہوسکتا“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی اسلوب کا ایک اور جملہ اسی سورت میں آیا ہے، اس سے اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔ اور وہ ہے:

وَأَدْعُو رَبِّی عَسَی أَلَّا أَکُونَ بِدُعَاءِ رَبِّی شَقِیًّا۔ (مریم: 48)

غرض یہ کہ وَلَمْ أَکُنْ بِدُعَائِکَ رَبِّ شَقِیًّا اور عَسَی أَلَّا أَکُونَ بِدُعَاءِ رَبِّی شَقِیًّا دونوں کا مفہوم ایک ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ یہاں شقیا کا ترجمہ زیادہ تر محروم کیا گیا ہے۔ حالانکہ شقی، سعید کی ضد ہے۔ یعنی بدبخت۔ ابن عاشور کے بقول: والشقی: الذی أصابته الشقوۃ، وهی ضد السعادۃ۔ (التحریر والتنویر)

یہاں یہ لفظ دعا کی قبولیت کے ضمن میں آیا ہے اس لیے نامراد کی تعبیر زیادہ موزوں ہے۔

(354) ذِکْرُ رَحْمَتِ رَبِّکَ کا ترجمہ

(۱) ذِکْرُ رَحْمَتِ رَبِّکَ عَبْدَہُ زَکَرِیَّا۔ (مریم: 2)

”یہ تیرے رب کے اس فضل کی یاد دہانی ہے جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کیا“۔ (امین احسن اصلاحی)

”ذکر ہے اس رحمت کا جو تیرے رب نے اپنے بندے زکریاؑ پر کی تھی“۔ (سید مودودی)

”یہ مذکور ہے تیرے رب کی اس رحمت کا جو اس نے اپنے بندہ زکریا پر کی“۔ (احمد رضا خان)

”یہ ذکر اس مہربانی کا ہے جو تیرے پروردگار نے اپنے بندے زکریا پر کی تھی“۔ (محمد جوناگڑھی)

درج بالا ترجموں میں رَحْمَتِ رَبِّکَ کا ترجمہ اس فضل، اس رحمت یا اس مہربانی کیا گیا ہے۔ رحمت یہاں مصدر ہے، اس لیے ’اس‘ کا استعمال موزوں نہیں ہے۔ یہاں کسی خاص رحمت کی بات نہیں ہو رہی ہے بلکہ یہ کہا جارہا ہے کہ یہ تیرے رب کے رحم کرنے کا بیان ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ یہاں ذکر کا ترجمہ یاد دہانی نہیں بلکہ ذکر اور بیان ہے، جیسا کہ اسی سورت میں آگے بار بار وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ کہا گیا ہے۔ درج ذیل ترجمہ بہتر ہے:

”یہ مذکور ہے تیرے رب کی مہر کا اپنے بندے زکریا پر“۔ (شاہ عبدالقادر)

جس طرح مذکورہ بالا آیت میں ’اس رحمت‘ کی بجائے ’رحم کرنا‘ درست ہے، اسی طرح درج ذیل آیت میں ’ایک رحمت‘ کی بجائے ’رحمت‘ درست ترجمہ ہے۔ دونوں جگہ ’رحمت‘ مصدر ہے، یعنی اللہ کا رحم فرمانا۔ رحمت کا کوئی ایک متعین مظہر مراد نہیں ہے۔

(۲) وَلِنَجْعَلَہُ آیةً لِلنَّاسِ وَرَحْمةً مِنَّا۔ (مریم: 21)

”اور ہم یہ اس لیے کریں گے کہ اُس لڑکے کو لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں اور اپنی طرف سے ایک رحمت اور یہ کام ہو کر رہنا ہے“۔ (سید مودودی)

”اور اس لیے کہ ہم اسے لوگوں کے واسطے نشانی کریں اور اپنی طرف سے ایک رحمت“۔ (احمد رضا خان)

”ہم تو اسے لوگوں کے لیے ایک نشانی بنا دیں گے اور اپنی خاص رحمت“۔ (محمد جوناگڑھی)

درج ذیل ترجمہ درست ہے:

”اور اس کو ہم کیا چاہیں لوگوں کے لیے نشانی اور مہر ہماری طرف سے“ (شاہ عبدالقادر)

(355) وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ کا ترجمہ

سورہ مریم کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ’اذْکُر‘ کا لفظ ’فی الکتاب‘ کے ساتھ آیا ہے اور بار بار آیا ہے۔ فی الکتاب کے ساتھ آنے کا تقاضا یہ ہے کہ اس کا ترجمہ یاد کرو نہیں کیا جائے بلکہ ذکر کرو، پڑھو، تلاوت کرو وغیرہ کیا جائے۔ کتاب میں لکھی ہوئی چیز کو تو پڑھا اور بیان کیا جاتا ہے، وہ یاد کرنے کا محل نہیں ہے۔

درج ذیل آیتوں میں بعض مترجمین نے ’یاد کرو‘ اور بعض نے ’ذکر کرو‘ ترجمہ کیا ہے، موخر الذکر زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ مفسر ابن عاشور لکھتے ہیں: والمراد بالذکر: التلاوۃ، أی اتل خبر مریم الذی نقصه علیک. (التحریر والتنویر، تفسیر سورۃ مریم)

(۱) وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ مَرْیَمَ۔ (مریم: 16)

”اور اس کتاب میں مریم کی سرگزشت کو یاد کرو“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور کتاب میں مریم کو یاد کرو“۔ (احمد رضا خان)

”اور اے محمدؐ، اس کتاب میں مریم کا حال بیان کرو“۔ (سید مودودی)

(۲) وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ إِبْرَاہِیمَ۔ (مریم: 41)

”اور کتاب میں ابراہیم کی سرگزشت کو یاد کرو“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو“۔ (احمد رضا خان)

”اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور اس کتاب میں ابراہیمؑ کا قصہ بیان کرو“۔ (سید مودودی)

(۳) وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ مُوسَی۔ (مریم: 51)

”اور اس کتاب میں موسی کی سرگزشت کو یاد کرو“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور کتاب میں موسیٰ کو یاد کرو“۔ (احمد رضا خان)

”اور کتاب میں موسیٰ کا بھی ذکر کرو“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور ذکر کرو اس کتاب میں موسیٰؑ کا“۔ (سید مودودی)

(۴) وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ إِسْمَاعِیلَ۔ (مریم: 54)

”اور کتاب میں اسماعیل کی سرگزشت یاد کرو“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور اس کتاب میں اسماعیلؑ کا ذکر کرو“۔ (سید مودودی)

”اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو“۔ (احمد رضا خان)

”اور کتاب میں اسمٰعیل کا بھی ذکر کرو“۔(فتح محمد جالندھری)

(۵) وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ إِدْرِیسَ۔ (مریم: 56)

”اور کتاب میں ادریس کو یاد کرو“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور اس کتاب میں ادریسؑ کا ذکر کرو“۔ (سید مودودی)

”اور کتاب میں ادریس کو یاد کرو“۔ (احمد رضا خان)

(356)  مِنَ الْکِبَرِ عِتِیًّا کا ترجمہ

وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْکِبَرِ عِتِیًّا۔ (مریم: 8)

”اور میں بوڑھا ہو کر سوکھ چکا ہوں“۔ (سید مودودی)

”اور میں خود بڑھاپے کی بے بسی کو پہنچ چکا ہوں“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ گیا ہوں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور میں بوڑھا ہوگیا یہاں تک کہ اکڑ گیا“۔ (شاہ عبدالقادر)

سوکھ جانا یا بے بسی کو پہنچنا وہ باتیں ہیں جن کا ذکر آیت کے الفاظ میں نہیں ہے۔ آیت کے الفاظ بہت زیادہ بوڑھا ہونے کا معنی دے رہے ہیں۔ زیادہ بڑھاپے میں سوکھ جانا یا بے بس ہوجانا ضروری نہیں ہے۔ عتیا کا مطلب اکڑ جانا بھی نہیں ہے۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی کا ترجمہ ہے:

”اور میں کھوسٹ بوڑھا ہوچکا ہوں“۔

(357) حنان کا مطلب

وَحَنَانًا مِنْ لَدُنَّا وَزَکَاۃً۔ (مریم: 13)

حنان کا اصل معنی شوق و اشتیاق ہے، پھر یہ درد مندی و غم خواری کے لیے استعمال ہوا۔ یعنی دوسروں کے تئیں ہم دردی کے جذبات۔ وحنّ: فی معنی ارتاح واشتاق، ثم استعمل فی العطف والرأفة. (تفسیر الکشاف)

نرم دلی اور سوز و گداز اس کا موزوں اردو متبادل نہیں ہیں، جیسا کہ ذیل کے دونوں ترجموں میں ہے۔

”اور اپنی طرف سے اس کو نرم دلی اور پاکیزگی عطا کی“۔ (سید مودودی)

”اور خاص اپنے پاس سے سوز و گداز اور پاکیزگی“۔ (امین احسن اصلاحی)

درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:

”اور اپنے پاس سے شفقت اور پاکیزگی بھی“۔ (محمد جوناگڑھی)

(358) البَرّ کا ترجمہ

برّ کا مطلب حقوق کو پورا پورا ادا کرنا ہوتا ہے۔ وعدے کو وفا کرنا بھی ہوتا ہے۔قرآن مجید میں یہ وفاداری کے معنی میں آیا ہے۔ درج ذیل مقامات پر بَرّ کا ترجمہ فرماں بردار کیا گیا ہے، اس کی بجائے وفادار زیادہ مناسب ہے۔

(۱) وَبَرًّا بِوَالِدَیْهِ۔ (مریم: 14)

”اور وہ اپنے والدین کا فرماں بردار تھا“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور وہ اپنے والدین کا وفادار تھا“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(۲) وَبَرًّا بِوَالِدَتِی۔ (مریم: 32)

”اور مجھے ماں کا فرماں بردار بنایا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور مجھے ماں کا وفادار بنایا ہے“۔(امانت اللہ اصلاحی)

(۳) یاد رہے کہ قرآن مجید میں البَرّ اللہ کی صفت کے طور پر بھی آیا ہے۔ وہاں بھی وعدہ پورا کرنے والا مراد ہے۔

إِنَّهُ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیمُ۔ (الطور: 28)

”بے شک وہ بڑا ہی با وفا اور مہربان ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)


قرآن / علوم قرآن

(ستمبر ۲۰۲۲ء)

تلاش کریں

Flag Counter