اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۵)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(374) موعد کا ترجمہ

موعد، وعد سے مشتق ہے، لیکن اس میں ہمیشہ وعدے کا مفہوم نہیں ہوتا ہے، کبھی موعد صرف وقت مقررہ کے لیے بھی آتا ہے۔ درج ذیل آیتوں میں موعد وقت مقررہ کے معنی میں ہے نہ کہ وعدہ کیے ہوئے وقت کے معنی میں:

(۱) بَلْ زَعَمْتُمْ أَلَّنْ نَجْعَلَ لَکُمْ مَوْعِدًا. (الکہف: 48)

”بلکہ تمہارا گمان تھا کہ ہم ہر گز تمہارے لیے کوئی وعدہ کا وقت نہ رکھیں گے“۔ (احمد رضا خان)

”بلکہ تم نے گمان کیا کہ ہم تمہارے حساب کے لیے کوئی یوم موعود نہیں مقرر کریں گے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”لیکن تم تو اسی خیال میں رہے کہ ہم ہرگز تمہارے لیے کوئی وعدے کا وقت مقرر کریں گے بھی نہیں“۔ (محمد جونا گڑھی)

درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:

”لیکن تم نے تو یہ خیال کر رکھا تھا کہ ہم نے تمہارے لیے (قیامت کا) کوئی وقت مقرر ہی نہیں کیا“۔ (فتح محمد جالندھری)

(۲) وَتِلْکَ الْقُرَی أَہْلَکْنَاہُمْ لَمَّا ظَلَمُوا وَجَعَلْنَا لِمَہْلِکِہِمْ مَوْعِدًا۔ (الکہف: 59)

”اور یہ بستیاں ہم نے تباہ کردیں جب انہوں نے ظلم کیا اور ہم نے ان کی بربادی کا ایک وعدہ رکھا تھا“۔ (احمد رضا خان)

درج ذیل ترجمے مناسب ہیں:

”اور ان میں سے ہر ایک کی ہلاکت کے لیے ہم نے وقت مقرر کر رکھا تھا“۔ (سید مودودی)

”اور ان کی تباہی کے لیے ایک وقت مقرر کردیا تھا“۔ (فتح محمد جالندھری)

(۳) بَلْ لَہُمْ مَوْعِدٌ لَنْ یَجِدُوا مِنْ دُونِہِ مَوْئِلًا۔ (الکہف: 58)

”بلکہ ان کے لیے ایک وعدہ کی گھڑی مقرر ہے جس سے وہ سرکنے کی ہرگز جگہ نہیں پائیں گے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”مگر ان کے لیے وعدے کا ایک وقت مقرر ہے اور اس سے بچ کر بھاگ نکلنے کی یہ کوئی راہ نہ پائیں گے“۔ (سید مودودی)

مذکورہ بالا آیت میں ایک اور پہلو قابل توجہ ہے، وہ یہ کہ موئل کا ترجمہ سرکنے کی جگہ، بھاگ نکلنے کی راہ وغیرہ کیا گیا ہے۔ موئل دراصل پناہ کی جگہ کو کہتے ہیں۔ والمَوْئِلُ: الملجأُ۔ (لسان العرب)

درج ذیل ترجمہ بہتر ہے:

”لیکن ان کے لیے ایک مقررہ وقت ہے اور وہ اس کے مقابل میں کوئی پناہ کی جگہ نہیں پائیں گے“۔ (امین احسن اصلاحی)

(375) غداء کا ترجمہ

شام کے کھانے کو عربی میں عَشاء کہتے ہیں اور دن کے کھانے کو غَداء کہتے ہیں، خواہ وہ صبح میں کھایا جائے یا دوپہر میں۔ ابن عاشور کے الفاظ میں:  والغداء: طعام النہار مشتق من کلمۃ الغدوۃ لأنہ یؤکل فی وقت الغدوۃ، وضدہ العشاء، وہو طعام العشی۔ (التحریر والتنویر)

اردو میں ناشتہ صبح کے مختصر کھانے کو کہتے ہیں۔ اس لیے غداء کا ترجمہ ’کھانا‘ کرنا مناسب ہے، ’ناشتہ‘ یا ’صبح کا کھانا‘ اس کا درست متبادل نہیں ہے۔

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَاہُ آتِنَا غَدَاءَنَا۔ (الکہف: 62)

”پھر جب آگے چلے کہا موسی نے اپنے جوان کو: لا ہمارے پاس ہمارا کھانا“ (شاہ عبدالقادر)

”جب آگے چلے تو (موسیٰ نے) اپنے شاگرد سے کہا کہ ہمارے لیے کھانا لاؤ“۔ (فتح محمد جالندھری)

”جب یہ دونوں وہاں آگے بڑھے تو موسیٰ نے اپنے نوجوان سے کہا کہ ہمارا کھانا دے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”پھر جب وہاں سے گزر گئے موسیٰ نے خادم سے کہا ہمارا صبح کا کھانا لاؤ“۔ (احمد رضا خان)

”آگے جا کر موسیٰؑ نے اپنے خادم سے کہا، لاؤ ہمارا ناشتہ“۔ (سید مودودی)

”پھر جب دونوں (وہاں سے) آگے بڑھ گئے تو موسی نے اپنے خادم سے فرمایا کہ ہمارا ناشتہ تو لاؤ“ (اشرف علی تھانوی)

پہلے تینوں ترجمے بہتر ہیں۔

(376) أَنْ أَذْکُرَہُ کا ترجمہ

قَالَ أَرَأَیْتَ إِذْ أَوَیْنَا إِلَی الصَّخْرَۃِ فَإِنِّی نَسِیتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِیہُ إِلَّا الشَّیْطَانُ أَنْ أَذْکُرَہُ وَاتَّخَذَ سَبِیلَہُ فِی الْبَحْرِ عَجَبًا۔ (الکہف: 63)

”خادم نے کہا،آپ نے دیکھا! یہ کیا ہوا؟ جب ہم اُس چٹان کے پاس ٹھیرے ہوئے تھے اُس وقت مجھے مچھلی کا خیال نہ رہا اور شیطان نے مجھ کو ایسا غافل کر دیا کہ میں اس کا ذکر (آپ سے کرنا) بھول گیا مچھلی تو عجیب طریقے سے نکل کر دریا میں چلی گئی“۔ (سید مودودی)

اس ترجمے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نوجوان کے دوبار نسیان کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک نسیان مچھلی کا خیال رکھنے سے متعلق، اور دوسرا نسیان مچھلی کے دریا میں نکل جانے کا ذکر کرنے سے متعلق۔ عام طور سے مفسرین و مترجمین کی یہی رائے ہے۔

”اور مجھے (آپ سے) اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”دراصل شیطان نے ہی مجھے بھلا دیا کہ میں آپ سے اس کا ذکر کروں“۔ (محمد جوناگڑھی)

جب کہ ایک دوسری رائے یہ ہے کہ یہاں ایک ہی نسیان کا تذکرہ ہے اور وہ مچھلی کا خیال رکھنے سے متعلق ہے۔ اس کے مطابق ترجمہ ہوگا:

”تو میں مچھلی کو بھول گیا۔ اور یہ شیطان ہی تھا جس نے اس کو یاد رکھنے سے مجھے غافل کردیا۔ اور اس نے عجیب طرح اپنی راہ دریا میں نکال لی“۔ (امین احسن اصلاحی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی ’أن أذکرہ‘ کا اور کھول کر ترجمہ کرتے ہیں:

”تو میں مچھلی کا خیال نہ رکھ سکا اور یہ شیطان ہی تھا جس نے اس کا خیال رکھنے سے مجھے غافل کردیا اور اس نے عجیب طرح اپنی راہ دریا میں نکال لی۔“

ذکر کا مطلب صرف نام لینا ہی نہیں ہوتا ہے، بلکہ یاد رکھنا اور خیال رکھنا بھی ہوتا ہے۔ جیسا کہ قرآن کے درج ذیل جملے میں ہے:

 فَاذْکُرُونِی أَذْکُرْکُمْ۔ (البقرۃ: 152)

”تو تم مجھے یاد رکھو میں تمھیں یاد رکھوں گا“۔

یہاں اللہ کا بندوں کو یاد رکھنا دراصل اس کا اپنے بندوں پر نظر عنایت فرمانا ہے۔

گویا حضرت موسی کے رفیق سفر نے پہلے تو یہ اعتراف کیا کہ وہ مچھلی کا خیال نہیں  رکھ سکا، پھر اس نے یہ وضاحت کی کہ شیطان کے غفلت میں ڈالنے کی وجہ سے یہ لاپرواہی ہوئی اور پھر اس نے یہ بتایا کہ اس نسیان (لاپرواہی) کے نتیجے میں مچھلی عجیب طرح سے دریا میں نکل بھاگی۔ اس طرح تینوں جملوں کی ترتیب واضح ہوجاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں رائج ترجمہ و تفسیر میں ان تینوں جملوں میں بے ربطی دکھائی دیتی ہے۔ مچھلی کے بھاگ نکلنے کا ذکر بعد میں ہے اور اس بھاگنے کا تذکرہ نہ کرنے کا ذکر پہلے ہے۔ دوسری بات یہ کہ اصل بھول تو مچھلی کے سلسلے میں لاپرواہی کرنا ہے، نہ کہ اس کے بھاگنے کا ذکر نہ کرنا، پھر شیطان کی طرف ایک چھوٹی بھول کو منسوب کیوں کیا گیا؟ بڑی بھول کے لیے شیطان کو کیوں ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا؟

مضبوط بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ مچھلی کا خیال نہ رکھنا ہی وہ بات ہے جس سے شیطان نے غافل کیا۔ جہاں تک اس واقعہ کو ذکر نہ کرنے کی بات ہے، تو اس کی وجہ نسیان نہیں بلکہ  حضرت موسی علیہ السلام کی ناراضی کا خوف رہا ہوگا، جیسا کہ عام طور سے ایسے موقع پر ہوتا ہے۔

(377) ذَلِکَ مَا کُنَّا نَبْغِ کا ترجمہ

قَالَ ذَلِکَ مَا کُنَّا نَبْغِ۔ (الکہف: 64)

”موسیٰؑ نے کہا،اسی کی تو ہمیں تلاش تھی“۔(سید مودودی)

”(موسیٰ نے) کہا یہی تو (وہ مقام) ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”موسیٰ نے کہا یہی تھا جس کی تلاش میں ہم تھے“۔ (محمد جوناگڑھی)

یہاں تلاش کا لفظ موزوں نہیں ہے۔ حضرت موسی اس طرح کی چیز یا مقام کی تلاش میں نہیں نکلے تھے۔ وہ تو ایک منزل مقصود کے ارادے سے نکلے تھے۔ اور یہ جو پیش آیا وہ اس منزل مقصود تک پہنچنے کی ایک علامت تھی۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:

”اس نے کہا یہی ہمارا مقصود تھا۔“

درج ذیل ترجمہ بھی مناسب ہے:

”موسیٰ نے کہا یہی تو ہم چاہتے تھے“۔ (احمد رضا خان)

(378) زُبَرَ الْحَدِیدِ کا ترجمہ

آتُونِی زُبَرَ الْحَدِیدِ۔ (الکہف: 96)

درج ذیل ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

”مجھے لوہے کی چادریں لا کر دو“۔ (سید مودودی)

”مجھے لوہے کی چادریں لادو“۔ (محمد جوناگڑھی)

”تو تم لوہے کے (بڑے بڑے) تختے لاؤ“۔ (فتح محمد جالندھری)

”میرے پاس لوہے کے ٹکڑے لاؤ“۔(امین احسن اصلاحی)

درج بالا آیت میں زبر الحدید کے دو ترجمے کیے گئے ہیں، لوہے کے ٹکڑے اور لوہے کی چادریں اور تختے۔ لغت کے مطابق زبر ٹکڑوں کو کہتے ہیں، ان کا چادر یا تختے کی شکل میں ہونا ضروری نہیں ہے۔ لسان العرب میں ہے:

”وزُبْرَۃُ الْحَدِیدِ: الْقِطْعَةُ الضَّخْمَةُ مِنْہُ، وَالْجَمْعُ زُبَرٌ“۔

لوہے کے ٹکڑے ترجمہ کرنا اس لیے بھی زیادہ موزوں ہے، کہ یہ معلوم نہیں ہے کہ اس قوم کے پاس لوہے کی چادریں بنانے کی ٹکنالوجی تھی یا نہیں؟ زیادہ امکان ہے کہ وہ اس سے ناواقف تھے اور یہ کام ذوالقرنین نے کیا۔

سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ لوہے کے ٹکڑے جمع کرکے انھیں پگھلا کر بڑی بڑی چادریں بنائی گئیں اور ان سے تانبا پلائی ہوئی آہنی دیوار بنائی گئی۔

بہرحال، لوہے کے ٹکڑے کہنے میں عموم ہے، اس میں چادروں کی شکل کے ٹکڑے بھی (اگر رہے ہوں گے تو) شامل ہوجائیں گے۔ چادریں کہہ کرایک چیز متعین کردینا مناسب نہیں ہے۔

(379)  دکّاء کا مطلب

پہاڑ یا دیوار یا کسی چیز کو توڑ کرکے گرادیا جائے تو اسے دکّ کہتے ہیں۔ الدَّکُّ: ہَدْمُ الْجَبَلِ وَالْحَاءِطِ وَنَحْوِہِمَا۔ (لسان العرب)

اس انہدام کے نتیجے میں اس جگہ زمین ہموار ہوجاتی ہے، اس لیے ہموار ہونے کا مفہوم بھی اس میں شامل ہوگیا۔

درج ذیل آیت میں بھی دیوار کو توڑ کر ریزہ ریزہ کردینے کی بات ہے، جس کے نتیجے میں وہاں کی زمین ہموار ہوجائے گی۔ لیکن یہاں زمین کے ہموار ہونے کی نہیں بلکہ دیوار کے منہدم ہوجانے کی خبر دی جارہی ہے۔

فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّی جَعَلَہُ دَکَّاءَ۔ (الکہف: 98)

درج ذیل دیگر ترجمے دیکھیں:

”پس جب میرے رب کے وعدے کا ظہور ہوگا، اس کو ہموار کردے گا“۔ (امین احسن اصلاحی، زمین ہموار ہوگی نہ کہ دیوار)

”جب میرے رب کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اس کو پیوند خاک کر دے گا“۔ (سید مودودی، پیوند خاک کرنا دوسری بات ہے اور منہدم کرنا دوسری بات)

”جب میرے پروردگار کا وعدہ آپہنچے گا تو اس کو (ڈھا کر) ہموار کردے گا“۔ (فتح محمد جالندھری، دیوار منہدم ہوگی، زمین ہموار ہوگی)

”پھر جب آوے وعدہ میرے رب کا گرادے اس کو ڈھاکر“(شاہ عبدالقادر)

”پس جب آوے گا وعدہ پروردگار میرے کا، کردے گا اس کو ریزہ ریزہ“ (شاہ رفیع الدین)

آخری دونوں ترجمے زیادہ مناسب ہیں۔

(380)  وَکَانُوا لَا یَسْتَطِیعُونَ سَمْعًا

الَّذِینَ کَانَتْ أَعْیُنُہُمْ فِی غِطَاءٍ عَنْ ذِکْرِی وَکَانُوا لَا یَسْتَطِیعُونَ سَمْعًا۔ (الکہف: 101)

اس جملے کے درج ذیل ترجمے دیکھیں:

”جن کی آنکھوں پر ہماری تنبیہ سے پردہ پڑا رہا اور وہ سننے کی تاب نہیں لاتے تھے۔“ (امین احسن اصلاحی)

”جن کی آنکھوں پر ہماری تنبیہ سے پردہ پڑا رہا“ کے بجائے ”جن کی آنکھوں پر ہماری تنبیہ کے جواب میں پردہ پڑا رہا“ ہونا چاہیے۔

”اُن کافروں کے سامنے جو میری نصیحت کی طرف سے اندھے بنے ہوئے تھے اور کچھ سننے کے لیے تیار ہی نہ تھے“(سید مودودی)

”جن کی آنکھیں میری یاد سے پردے میں تھی اور (امر حق) سن بھی نہیں سکتے تھے“ (محمد جوناگڑھی)

یہاں ذکر کا زیادہ مناسب ترجمہ یاد نہیں بلکہ یاددہانی اور نصیحت ہے۔

وَکَانُوا لَا یَسْتَطِیعُونَ سَمْعًا کا ترجمہ ہوگا اور وہ سن نہیں سکتے تھے۔ جب کہ ”وہ سننے کی تاب نہیں لاتے تھے“ یا ”کچھ سننے کے لیے تیار ہی نہ تھے“ درست ترجمہ نہیں ہے۔ کیوں کہ یہاں مسئلہ تاب لانے یا تیار ہونے کا نہیں ہے، یہاں مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے ایسی غفلت میں خود کو مبتلا کر رکھا ہے کہ وہ سننے کی صلاحیت سے محروم ہوگئے ہیں۔مزید یہ کہ لفظ ’استطاع‘تیار اور آمادہ ہونا یا تاب لانے کے لیے استعمال ہوتا بھی نہیں ہے۔

(381)  سدّین کا ترجمہ

سدّ کا مطلب آڑہوتاہے، یعنی وہ چیز جو خالی جگہ کو بھر دے یا راستے کو بند کردے۔ وہ پہاڑ کی صورت میں بھی ہوسکتی ہے اور دیوار کی صورت میں بھی۔ درج ذیل آیت میں سدّین یعنی دو کا تذکرہ ہے اور یہاں دو پہاڑ مراد ہیں نہ کہ دو دیواریں۔ جب کہ ذوالقرنین نے جو سد تعمیر کیا اسے دیوار کہا جائے گا۔ بعض مترجمین نے سدین کا ترجمہ دو دیواریں کیا ہے جو درست نہیں ہے۔ ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

حَتَّی إِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُونِہِمَا قَوْمًا لَا یَکَادُونَ یَفْقَہُونَ قَوْلًا۔ (الکہف: 93)

”یہاں تک کہ دو پہاڑوں کے درمیان کے درے تک جا پہنچا۔ ان دونوں پہاڑوں کے درے میں اس کو ایسے لوگ ملے جو کوئی بات سمجھ نہیں پاتے تھے“۔ (امین احسن اصلاحی)

پہاڑوں کے درے میں نہیں بلکہ پہاڑوں کے پاس۔ دون یہاں قریب کے معنی میں ہے۔ اگر درہ مراد ہوتا تو بینھما ہوتا، دونھما نہیں ہوتا۔

”یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا تو اسے ان کے پاس ایک قوم ملی جو مشکل ہی سے کوئی بات سمجھتی تھی“۔ (سید مودودی)

”یہاں تک کہ جب دو دیواروں کے درمیان پہنچا ان دونوں کے پرے اس نے ایک ایسی قوم پائی جو بات سمجھنے کے قریب بھی نہ تھی“۔ (محمد جوناگڑھی)

لَا یَکَادُونَ یَفْقَہُونَ قَوْلًا کا ترجمہ ”جو بات سمجھنے کے قریب بھی نہ تھی۔“ درست نہیں ہے۔

”یہاں تک کہ دو دیواروں کے درمیان پہنچا تو دیکھا کہ ان کے اس طرف کچھ لوگ ہیں کہ بات کو سمجھ نہیں سکتے“۔ (فتح محمد جالندھری)

(382)  خَرْج کا ترجمہ

خرج کا اصل مطلب خراج، ٹیکس ہوتا ہے۔ اجرت کا مفہوم بھی اس لفظ سے ادا ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے خرج کا ترجمہ خرچ کیا ہے۔ یہ درست نہیں ہے۔

فَہَلْ نَجْعَلُ لَکَ خَرْجًا عَلَی أَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُمْ سَدًّا۔ (الکہف: 94)

”ہم آپ کے لیے خرچ (کا انتظام) کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار کھینچ دیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”تو کیا یہ ہوسکتا ہے کہ ہم آپ کے لیے خرچ کا بند و بست کردیں اور آپ ہمارے اور کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

’خرچ  کا بندوبست کردیں‘کی جگہ ’پیداوار کا کچھ حصہ متعین کردیں گے‘اس جملے کا بالکل درست مفہوم ہے۔ خرج اصل میں پیداوار سے کچھ حصہ نکال کر دینے کے لیے آتا ہے۔

”سو کیا ہم لوگ آپ کے لیے کچھ چندہ جمع کردیں اس شرط پر کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان میں کوئی روک بنادیں۔“(اشرف علی تھانوی)

یہاں بھی خرج کا ترجمہ درست نہیں ہے۔ چندہ جمع کرنے کے لیے تو یہ لفظ آتا نہیں ہے۔

درج ذیل ترجمہ بہتر ہے:

”سو کہے تو ہم ٹھیرادیں تیرے واسطے کچھ محصول اس پر کہ بنادے تو ہم میں اور ان میں ایک آڑ“(شاہ عبدالقادر)

(جاری)


قرآن / علوم القرآن

(دسمبر ۲۰۲۲ء)

تلاش کریں

Flag Counter