اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۴)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(291) استثناء منقطع کی ایک مثال:

سورۃ الشعراء کی درج ذیل آیتوں میں جن دو گروہوں کا ذکر ہوا ہے، انھیں عام طور سے شعرا کے دو گروہ مان کر تفسیر کی گئی ہے اور اسی کے مطابق ترجمہ کرتے ہوئے الّا کا ترجمہ استثناء متصل والا کیا گیا ہے۔اس ترجمہ و تفسیر کے مطابق ان آیتوں میں عام شعرا کی مذمت کی گئی ہے اور ایمان والے شعرا کو ان سے مستثنی کیا گیا ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہ شعرا کے دو گروہوں کا ذکر نہیں ہے، بلکہ متبعین کے دو گروہوں کا ذکر ہے۔ ایک گروہ شاعروں کے متبعین کا ہے اور دوسرا گروہ ایمان لانے والوں یعنی اللہ کے رسول کے متبعین کا ہے۔ اس طرح گویا دونوں کے متبعین کا کردار سامنے لاکر یہ واقعاتی شہادت پیش کی گئی ہے کہ رسول پر شاعر ہونے کا الزام غلط ہے کیوں کہ رسول کے متبعین قطعی طور پر اس سے بالکل مختلف کردار کے حامل ہیں جو شاعروں کے متبعین کا کردار ہوتا ہے۔ اس تفسیر کے بعد یہ بحث از خود ختم ہوجاتی ہے کہ قرآن مجید میں بالاطلاق شعرا کی مذمت کی گئی ہے۔

اس تفسیر کی روشنی میں دیکھیں تو ان آیتوں میں شاعر بھی بس وہی مراد ہیں جنھیں لوگ اپنا مقتدا مانتے تھے۔ ان شاعروں کے پاس وحی کی ہدایت موجود نہیں تھی مگر وہ اپنے اوپر الہام ہونے کا دعوی کیا کرتے تھے۔ ابن عاشور کے بقول: وکان بین الکھانۃ والشعر جامع فی خیال المشرکین إذ کانوا یزعمون أن للشاعر شیطاناً یملی علیہ الشعر وربما سموہ الرَّءِیّ۔ مشرکوں کے تصور میں کہانت اور شاعری میں قدر مشترک یہ تھی کہ ان کے گمان کے مطابق شاعر کو شیطان کی طرف سے اشعار کا القا کیا جاتا تھا۔ چنانچہ جو گم راہی، بے راہ روی اور اخلاقی پستی ان شاعروں میں تھی، وہی ان کے متبعین میں بھی دیکھی جاسکتی تھی۔ غرض درج ذیل آیتوں میں ایسے شاعروں اور ان کے متبعین کی مذمت کی گئی ہے، نفس شاعری کی مذمت نہیں کی گئی ہے۔

اس وضاحت کے بعد درج ذیل آیتوں کے ترجمے اور خاص طور سے الّا کے ترجمے پر غور کریں:

وَالشُّعَرَاءُ یَتَّبِعُہُمُ الْغَاوُونَ۔ أَلَمْ تَرَ أَنَّہُمْ فِی کُلِّ وَادٍ یَہِیمُونَ۔ وَأَنَّہُمْ یَقُولُونَ مَا لَا یَفْعَلُونَ۔ إِلَّا الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَکَرُوا اللَّہَ کَثِیرًا وَانتَصَرُوا مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُوا وَسَیَعْلَمُ الَّذِینَ ظَلَمُوا أَیَّ مُنقَلَبٍ یَنقَلِبُونَ۔ (الشعراء: 224تا 227)

”رہے شعراء، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلا کرتے ہیں۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں۔ اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں۔ بجز اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور اور جنہوں نے نیک عمل کیے اللہ کو کثرت سے یاد کیا اور جب ان پر ظلم کیا گیا تو صرف بدلہ لے لیا، اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”بس وہ اس سے مستثنیٰ ہیں جو ایمان لائے“۔(امین احسن اصلاحی)

”سوائے ان کے جو ایمان لائے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”مگر جو لوگ ایمان لائے“۔ (فتح محمد جالندھری)

مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں: ”نہ کہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور اور جنہوں نے نیک عمل کیے“۔۔۔الخ یعنی ایسے لوگ شعرا کی اتباع کرنے والے نہیں ہوتے ہیں۔

بالفاظ دیگر دوسرا گروہ پہلے گروہ سے مستثنیٰ نہیں ہے بلکہ دونوں بالکل الگ الگ دو گروہ ہیں۔

(292) ذکری کا ترجمہ

مذکورہ ذیل لفظ ذکری کو عام طور سے لوگوں نے علت یا مفعول لہ مان کر ترجمہ کیا ہے:

وَمَا أَھلَکْنَا مِن قَرْیَۃٍ إِلَّا لَہَا مُنذِرُونَ۔ ذِکْرَیٰ وَمَا کُنَّا ظَالِمِینَ۔ (الشعراء: 208،209)

”(دیکھو) ہم نے کبھی کسی بستی کو اِس کے بغیر ہلاک نہیں کیا کہ اُس کے لیے خبردار کرنے والے حق نصیحت ادا کرنے کو موجود تھے اور ہم ظالم نہ تھے“۔ (سید مودودی)

”ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا ہے مگر اسی حال میں کہ اس کے لیے ڈرانے والے تھے نصیحت کے طور پر اور ہم ظلم کرنے والے نہیں ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

ذکری کو منذرون کی علت بنانے سے مفہوم ٹھیک سے واضح نہیں ہوتا ہے، انذار کے اندر تو خود نصیحت کا مفہوم ہوتا ہے، پھر اس کے بعد ذکری لانے سے کیا فائدہ ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہاں ذکری، منذرون کی علت نہیں ہے بلکہ ایک مستقل جملہ ہے، جس میں مبتدا محذوف ہے اور خبر مذکور ہے، یعنی ھذہ ذکری۔ ترجمہ ہوگا:

”ہم نے کبھی کسی بستی کو اِس کے بغیر ہلاک نہیں کیا کہ اُس کے لیے خبردار کرنے والے موجود تھے، یہ ایک یاد دہانی ہے، اور ہم ظالم نہ تھے“۔

درج ذیل ترجمے میں بھی اسے مستقل جملہ مانا گیا ہے، البتہ ذکری کو مصدر منصوب اور اس کے فعل کو محذوف مانتے ہوئے:

”نصیحت دیتے ہیں ہم“۔ (شاہ رفیع الدین)

اسی طرح درج ذیل ترجمے میں بھی اسے مستقل جملہ مانا گیا ہے مگر ماضی کا ترجمہ کیا گیا ہے:

”اور ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر یہ کہ اس کے لیے ڈرانے والے بھیج دیے تھے یہ ایک یاد دہانی تھی اور ہم ہرگز ظلم کرنے والے نہیں ہیں“۔ (ذیشان جوادی)

لیکن ماضی کا ترجمہ کرنے سے اس کی معنویت متأثر ہوتی ہے۔ کہنا تو یہ ہے کہ گذشتہ اقوام کے بارے میں ہم اپنی یہ جو سنت بتارہے ہیں یہ ایک یاد دہانی ہے۔

(293) یُلْقُونَ السَّمْعَ کا ترجمہ

یُلْقُونَ السَّمْعَ وَأَکْثَرُہُمْ کَاذِبُونَ۔ (الشعراء: 223)

اس آیت کے دو طرح سے ترجمے کیے گئے ہیں:

”سُنی سُنائی باتیں کانوں میں پھونکتے ہیں، اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”شیطان اپنی سنی ہوئی ان پر ڈالتے ہیں اور ان میں اکثر جھوٹے ہیں“۔ (احمد رضا خان)

”جو کان لگاتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

یعنی سنی ہوئی چیز پیش کرنا اور آرہی آواز پر کان دھرنا۔

قرآن مجید کے استعمال کی روشنی میں دیکھیں تو دوسرا مفہوم درست معلوم ہوتاہے، سورۃ ق میں آیا ہے:

إِنَّ فِی ذَٰلِکَ لَذِکْرَیٰ لِمَن کَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَی السَّمْعَ وَہُوَ شَہِیدٌ۔ (ق: 37)

”اِس تاریخ میں عبرت کا سبق ہے ہر اس شخص کے لیے جو دل رکھتا ہو، یا جو توجہ سے بات کو سنے“۔ (سید مودودی)

یہاں أَلْقَی السَّمْعَ ہے، جس کا مطلب بالاتفاق کان لگانا ہے، اسے نظیر مان کر مناسب ہوگا کہ یُلْقُونَ السَّمْعَ کا ترجمہ کیا جائے: وہ کان لگاتے ہیں۔ البتہ یہاں کان لگانے کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ کان لگانے کی اداکاری کرتے ہیں، گویا وہ سن رہے ہوں حالاں کہ وہ جھوٹے ہوتے ہیں کچھ سنتے نہیں ہیں۔

(294) مِنَ الْمُخْرَجِینَ کا ترجمہ

قَالُوا لَئِن لَّمْ تَنتَہِ یَا لُوطُ لَتَکُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِینَ۔ (الشعراء: 167)

”انہوں نے کہا،”اے لوطؑ، اگر تو اِن باتوں سے باز نہ آیا تو جو لوگ ہماری بستیوں سے نکالے گئے ہیں اُن میں تو بھی شامل ہو کر رہے گا“۔ (سید مودودی)

اس ترجمے پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حضرت لوط علیہ السلام سے پہلے بھی انھوں نے اپنی بستیوں سے لوگوں کو نکالا تھا جن میں انھیں شامل کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ ہمارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ دراصل یہ ایک اسلوب ہے جس کا مقصود سورت کے قافیوں کی رعایت ہے۔ کہنا بس یہ ہے کہ تمھیں نکال دیا جائے گا۔ درج ذیل ترجمے مناسب ہیں:

”بولے اگر نہ چھوڑے گا تو اے لوط تو تو نکالا جاوے گا“۔ (شاہ عبدالقادر)

”وہ کہنے لگے کہ لوط اگر تم باز نہ آؤ گے تو شہر بدر کردیے جاؤ گے“۔ (فتح محمد جالندھری)

(295) مِنَ الْمَرْجُومِینَ کا ترجمہ

اسی طرح سے درج ذیل آیت میں یہ مراد نہیں ہے کہ اور لوگوں کو سنگسار کیا گیا ہے یا پھٹکارا گیا ہے، جن میں حضرت نوح علیہ السلام کو شامل کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں، بلکہ یہ دھمکی دی جارہی ہے کہ تم باز نہ آئے تو تمھیں سنگ سار کردیا جائے گا:

قَالُوا لَئِن لَّمْ تَنتَہِ یَا نُوحُ لَتَکُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِینَ۔ (الشعراء: 116)

”انہوں نے کہاکہ اے نوح! اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً تجھے سنگسار کردیا جائے گا“۔ (محمد جوناگڑھی)

درج ذیل ترجمے میں یہ خامی موجود ہے:

”انہوں نے کہا،اے نوحؑ، اگر تو باز نہ آیا تو پھٹکارے ہوئے لوگوں میں شامل ہو کر رہے گا“۔ (سید مودودی)

بہرحال یہ ایک اسلوب ہے، جو سورۃ الشعراء میں اور بعض دوسری صورتوں میں کثرت سے آیا ہے، اس اسلوب میں کسی پہلے سے موجود اس وصف کے گروہ میں شامل ہونے کی بات نہیں ہوتی ہے، بلکہ صرف اس وصف کو اختیار کرنے کی بات ہوتی ہے۔

(296) فَافْتَحْ بَیْنِی وَبَیْنَہُمْ فَتْحًا کا ترجمہ

فَافْتَحْ بَیْنِی وَبَیْنَہُمْ فَتْحًا وَنَجِّنِی وَمَن مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ۔ (الشعراء: 118)

مذکورہ آیت میں فتحا کا دو طرح سے ترجمہ کیا گیا ہے، ایک کھلا اور واضح فیصلہ اور ایک قطعی اور دو ٹوک فیصلہ۔

”اب میرے اور ان کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کر دے اور مجھے اور جو مومن میرے ساتھ ہیں ان کو نجات دے“۔ (سید مودودی)

”پس تو مجھ میں اور ان میں کوئی قطعی فیصلہ کردے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”سو تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کردے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”تو میرے اور ان کے درمیان بالکل واضح فیصلہ فرمادے“۔ (امین احسن اصلاحی)

یہاں کھلا اور واضح کے لیے نہ تو لفظ میں دلالت ہے اور نہ ہی اس مفہوم کا یہاں محل معلوم ہوتا ہے۔ ممکن ہے لفظ فتحا سے ذہن اس طرف گیا ہو۔ اصل میں لفظ فَتْحًا یہاں فَافْتَحْ کی تاکید کے لیے آیا ہے۔ فتح کا مطلب فیصلہ کرنا ہوتا ہے، ابن عاشور لکھتے ہیں:

الفَتح: الحُکم، وتأکیدہ ب  فَتْحاً لإرادۃ حکم شدید۔ (التحریر والتنویر)

(297) من خلاف کا ترجمہ

درج ذیل آیتوں میں من خلاف کہہ کر جو بات کہی گئی ہے اس کے مفہوم و معنی تو سب پر واضح ہیں، تاہم اردو زبان میں اس کی ادائیگی میں ترجمہ کرنے والوں کو دقت پیش آئی اور انھوں نے مختلف انداز سے مفہوم کو ادا کیا۔ ملاحظہ فرمائیں:

(۱) لَأُقَطِّعَنَّ أَیْدِیَکُمْ وَأَرْجُلَکُم مِّنْ خِلَافٍ۔ (الشعراء: 49)

”میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں میں کٹواؤں گا“۔ (سید مودودی)

”بیشک میں تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا“۔ (احمد رضا خان)

”میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں اطراف مخالف سے کٹوا دوں گا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”قسم ہے میں ابھی تمہارے ہاتھ پاؤں الٹے طور پر کاٹ دوں گا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں بے ترتیب کاٹوں گا“۔ (امین احسن اصلاحی)

(۲) أَوْ تُقَطَّعَ أَیْدِیہِمْ وَأَرْجُلُہُم مِّنْ خِلَافٍ۔ (المائدۃ: 33)

”یا اُن کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں“۔ (سید مودودی)

”یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیے جائیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

(۳) لَأُقَطِّعَنَّ أَیْدِیَکُمْ وَأَرْجُلَکُم مِّنْ خِلَافٍ۔ (الاعراف: 124)

”میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں بے ترتیب کاٹوں گا“۔ (امین احسن اصلاحی)

”میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مختلف سمتوں سے کاٹ دوں گا“۔ (ذیشان جوادی)

(۴) فَلَأُقَطِّعَنَّ أَیْدِیَکُمْ وَأَرْجُلَکُم مِّنْ خِلَافٍ (طہ: 71)

”سو میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں (جانب) خلاف سے کٹوا دوں گا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”(سن لو) میں تمہارے پاؤں الٹے سیدھے کٹوا کر“۔ (محمد جوناگڑھی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی نے ان تمام مقامات کے لیے ”ایک دوسرے کی مقابل سمت سے“ کی تعبیر تجویز کی ہے۔ توقع ہے کہ یہ تعبیر مفہوم کے لیے زیادہ مناسب ہوگی۔ ترجمہ ہوگا:

”میں تمہارے ہاتھ پاؤں ایک دوسرے کی مقابل سمت سے کاٹ ڈالوں گا“۔


قرآن / علوم قرآن

(جنوری ۲۰۲۲ء)

تلاش کریں

Flag Counter