اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۳)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(359) وَاہْجُرْنِی مَلِیًّا

وَاہْجُرْنِی مَلِیًّا۔ (مریم: 46)

”تم مجھ سے ہمیشہ کے لیے دور اور دفع ہو!“۔ (امین احسن اصلاحی)

”جا ایک مدت دراز تک مجھ سے الگ رہ“۔ (محمد جوناگڑھی)

 ”بس تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے الگ ہو جا“۔ (سید مودودی)

عام طور سے لوگوں نے ملیا کو زمانا (محذوف) کی صفت مانا ہے۔ لیکن لفظی ترکیب سے قریب تر یہ ہے کہ ملیا کو ھجر کی صفت مانا جائے جو مفعول مطلق ہے۔اس صورت میں ھجر کی طوالت کا نہیں بلکہ اس کی شدت و زیادتی کا اظہار ہے۔ یعنی پورے طور پر دور ہوجاؤ یا بالکل دور ہوجاؤ۔ ابن عاشور لکھتے ہیں: وہذہ المادۃ تدل علی کثرۃ الشیء. (تفسیر التحریر والتنویر، زیر بحث آیت کی تفسیر میں) درج ذیل ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

”تم مجھ سے بالکل دور ہوجاؤ“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

گویا زور دور ہونے کی مدت پر نہیں بالکل دور ہونے کی کیفیت پر ہے۔

(360)  أَلَّا أَکُونَ بِدُعَاءِ رَبِّی شَقِیًّا کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں ترجمے کے حوالے سے دو باتیں محل نظر ہیں۔ ایک یہ کہ شقیا کا ترجمہ محروم ہونا نہیں بلکہ نامراد ہونا ہے۔ خاص طور سے جب کہ سیاق دعا کا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس آیت میں دعاء مختلف مشتقات کی صورت میں تین بار آیا ہے اور تینوں بار بندگی کے مفہوم میں نہیں بلکہ دعا یعنی پکارنے کے مفہوم میں ہے۔ اس کی ایک دلیل تو یہ ہے کہ دعاء کا اصل مطلب پکارنا ہی ہے، دوسری دلیل یہ ہے کہ اسی سورت کی چوتھی آیت میں قریب قریب اسی اسلوب میں یہ لفظ آچکا ہے۔ وہاں اس کا معنی پکارنا اور دعا مانگنا ہی ہے۔ اس وضاحت کی روشنی میں درج ذیل ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

وَأَعْتَزِلُکُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّہِ وَأَدْعُو رَبِّی عَسَی أَلَّا أَکُونَ بِدُعَاءِ رَبِّی شَقِیًّا۔ (مریم: 48)

”میں آپ لوگوں کو بھی چھوڑتا ہوں اور اُن ہستیوں کو بھی جنہیں آپ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہیں، میں تو اپنے رب ہی کو پکاروں گا، امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کے نامراد نہ رہوں گا“۔ (سید مودودی، خدا کو چھوڑ کر، کی بجائے  خدا کے سوا ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ یہ ترجمہ زیر بحث پہلوؤں کے حوالے سے درست ہے۔)

”اور میں آپ لوگوں سے اور جن کو آپ خدا کے سوا پکارا کرتے ہیں ان سے کنارہ کرتا ہوں اور اپنے پروردگار ہی کو پکاروں گا۔ امید ہے کہ میں اپنے پروردگار کو پکار کر محروم نہیں رہوں گا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”میں تو تمہیں بھی اور جن جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہو انہیں بھی سب کو چھوڑ رہا ہوں۔ صرف اپنے پروردگار کو پکارتا رہوں گا، مجھے یقین ہے کہ میں اپنے پروردگار سے دعا مانگ کر محروم نہ رہوں گا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”میں آپ لوگوں کو اور ان چیزوں کو جن کو آپ لوگ خدا کے سوا پوجتے ہیں چھوڑ کر علیحدہ ہورہا ہوں اور صرف اپنے رب ہی کی بندگی کروں گا۔ امید ہے کہ اپنے رب کی بندگی کرکے میں محروم نہیں رہوں گا“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور میں ایک کنارے ہوجاؤں گا تم سے اور ان سب سے جن کو اللہ کے سوا پوجتے ہو اور اپنے رب کو پوجوں گا قریب ہے کہ میں اپنے رب کی بندگی سے بدبخت نہ ہوں“۔ (احمد رضا خان)

(361)  مِنَ النَّبِیِّینَ کا ترجمہ

أُولَئِکَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ۔ (مریم: 58)

”یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے نبیوں میں سے اپنا فضل فرمایا“۔ (امین احسن اصلاحی)

”یہ ہیں جن پر ا للہ نے احسان کیا غیب کی خبریں بتانے والوں میں سے“۔ (احمد رضا خان)

”یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے اپنے پیغمبروں میں سے فضل کیا“۔ (فتح محمد جالندھری)

ان ترجموں سے یہ تأثر جاتا ہے کہ اللہ نے کچھ نبیوں پر فضل کیا، اور ان کا یہاں ذکر ہوا۔ دراصل لوگوں نے یہاں مِنَ النَّبِیِّینَ میں من کو تبعیض کے معنی میں لیا ہے، جس کی وجہ سے ایسا ترجمہ کیا ہے۔ درست بات یہ ہے یہاں من بیانیہ ہے، اس کی روشنی میں حسب ذیل ترجمہ ہوگا:

”یہ انبیاء ہیں جن پر اللہ نے اپنا فضل فرمایا“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(362) فَسَیَعْلَمُونَ کا ترجمہ

فعل مضارع پر سین داخل ہوجائے تو وہ مستقبل کا مفہوم دیتا ہے۔ لیکن درج ذیل ترجمے میں فَسَیَعْلَمُونَ کا ترجمہ ’معلوم ہو جاتا ہے‘  کیا ہے، جو درست نہیں ہے۔

حَتَّی إِذَا رَأَوْا مَا یُوعَدُونَ إِمَّا الْعَذَابَ وَإِمَّا السَّاعَةَ فَسَیَعْلَمُونَ مَنْ ہُوَ شَرٌّ مَکَانًا وَأَضْعَفُ جُنْدًا۔ (مریم: 75)

”یہاں تک کہ جب ایسے لوگ وہ چیز دیکھ لیتے ہیں جس کا اُن سے وعدہ کیا گیا ہے خواہ وہ عذاب الٰہی ہو یا قیامت کی گھڑی تب انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ کس کا حال خراب ہے اور کس کا جتھا کمزور!“۔ (سید مودودی)

دراصل یہ پورا جملہ مستقبل کے لیے ہے۔ اس لیے ترجمہ ہوگا:

”یہاں تک کہ جب ایسے لوگ وہ چیز دیکھ لیں گے جس کا اُن سے وعدہ کیا گیا ہے خواہ وہ عذاب الٰہی ہو یا قیامت کی گھڑی تب انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس کا حال خراب ہے اور کس کا جتھا کمزور۔“

(363)  وردًا کا ترجمہ

لغت میں اس کا زیادہ تر استعمال پانی کی گھاٹ پر جانے کے لیے ہوتا ہے۔ لسان العرب میں ہے: والوِرْدُ ووُردُ الْقَوْمِ: الْمَاءُ.

اور چوں کہ پانی کی گھاٹ پر جانے والا شخص پیاسا ہوتا ہے، اس لیے اس میں کبھی پیاس کا مفہوم بھی شامل ہوجاتا ہے۔ زمخشری کے الفاظ میں: والورد: العطاش لأنّ من یرد الماء لایردہ إلا لعطش وحقیقة الورد: المسیر إلی الماء۔ (تفسیر الکشاف)

بہرحال بیشتر مفسرین اور مترجمین ’وردا‘ کا مطلب ’پیاسے‘ لیتے ہیں۔ درج ذیل ترجمے ملاحظہ ہوں:

وَنَسُوقُ الْمُجْرِمِینَ إِلَی جَہَنَّمَ وِرْدًا۔ (مریم: 86)

”اور مجرموں کو پیاسے جانوروں کی طرح جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے“۔ (سید مودودی)

”اور مجرموں کو جہنم کی طرف ہانکیں گے پیاسے“۔ (احمد رضا خان)

”اور گنہگاروں کو دوزخ کی طرف پیاسے ہانک لے جائیں گے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور گناہ گاروں کوسخت پیاس کی حالت میں جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے“۔ (محمد جوناگڑھی)

دیکھنے کی بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں ورد اور اس کے مشتقات کئی جگہ آئے ہیں، اور سب جگہ ان کا مطلب کسی جگہ پہنچنا ہے۔ دوسری جگہوں پر یہ پیاسے کے معنی میں نہیں آیا ہے۔

اسی لیے مولانا امانت اللہ اصلاحی آیت کا ترجمہ حسب ذیل کرتے ہیں:

”اور مجرموں کو ہانک کر جہنم کے گھاٹ پر پہنچائیں گے“۔

ابن عطیہ کہتے ہیں: ویحتمل أن یکون المصدر والمعنی نوردہم وِرْداً وہکذا یجعلہ من رأی فی القرآن أربعة أوراد فی النار۔ (المحرر الوجیز)

(364)  أَوْلَی بِہَا صِلِیًّا کا ترجمہ

ثُمَّ لَنَحْنُ أَعْلَمُ بِالَّذِینَ ہُمْ أَوْلَی بِہَا صِلِیًّا۔ (مریم: 70)

”پھر ہم ان لوگوں کے سب سے زیادہ جاننے والے ہوں گے جو اس جہنم میں داخل ہونے کے سب سے زیادہ سزاوار ہوں گے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”پھر یہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے کون سب سے بڑھ کر جہنم میں جھونکے جانے کا مستحق ہے“۔ (سید مودودی)

یہاں أعلم اور أولی دو الفاظ أفعل کے وزن پر آئے  ہیں، ان کا ترجمہ اسم تفضیل مان کر بھی ہوسکتا ہے اور اسم مبالغہ مان کر بھی۔

ظاہر ہے یہاں تفضیل ماننے کا موقع نہیں ہے، یعنی یہ بحث نہیں ہے کہ کون سب سے زیادہ جانتا ہے یا کون سب سے زیادہ جہنم کا سزاوار ہے۔ اس لیے مبالغہ مان کر ترجمہ کرنا درست ہوگا۔ جیسا کہ درج ذیل ترجمے میں ہے:

”اور ہم ان لوگوں سے خوب واقف ہیں جو ان میں داخل ہونے کے زیادہ لائق ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

(365) السِّرَّ وَأَخْفَی کا ترجمہ

وَإِنْ تَجْہَرْ بِالْقَوْلِ فَإِنَّہُ یَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَی۔ (طہ: 7)

”اگر تو اونچی بات کہے تو وہ تو ہر ایک پوشیدہ، بلکہ پوشیدہ سے پوشیدہ تر چیز کو بھی بخوبی جانتا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

اس آیت کا ترجمہ عام طور سے حسب بالا طریقے سے کیا گیا ہے اور وہی درست معلوم ہوتا ہے۔

جب کہ درج ذیل ترجمے میں تقابل کا اسلوب برتنے کرنے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن الفاظ اس کا ساتھ نہیں دیتے ہیں۔ السِّرَّ وَأَخْفَی کا ترجمہ ’علانیہ اور پوشیدہ‘ کرنا تو کسی طرح درست نہیں ہے۔

”خواہ تم علانیہ بات کہو (یا چپکے سے) وہ علانیہ اور پوشیدہ، سب کو جانتا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)


قرآن / علوم قرآن

(اکتوبر ۲۰۲۲ء)

تلاش کریں

Flag Counter