اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۲۴)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۰۲) علی حبہ کا ترجمہ

علی حبہ قرآن میں دو جگہ آیا ہے، اس کا ترجمہ کرتے ہوئے یہ طے کرنا ضروری ہوتا ہے کہ علی حبہ میں ضمیر کا مرجع کیا ہے۔ بعض لوگوں نے اس کا مرجع اللہ کو قرار دیا ہے، اس بنا پر وہ ترجمہ کرتے ہیں اللہ کی محبت میں۔ یہ ترجمہ بعض وجوہ سے کمزور ہے، ایک تو یہ کہ اس مفہوم کی ادائیگی کے لیے علی حبہ کے بجائے فی حبہ یا لحبہ آتا ہے، جبکہ یہاں دونوں مقام پر علی حبہ ہے۔ دوسرے یہ کہ ان دونوں مقامات پر قریبی عبارت میں لفظا اللہ کا ذکر نہیں ہے کہ اس کی طرف ضمیر کو لوٹایا جائے۔یہ درست ہے کہ ضمیر کے مرجع کے لیے عہد ذہنی کا اعتبار ہوسکتا ہے، یا کچھ دور پر لفظی تذکرہ بھی مل سکتا ہے، لیکن قرآن مجید میں اس طرح اللہ کی طرف ضمیر لوٹنے کی مثال ہمیں نہیں ملتی ہے۔

جبکہ دوسرا ترجمہ یہ ہے کہ علی حبہ سے پہلے ایک جگہ مال اور ایک جگہ طعام کا ذکر ہوا ہے، اسی مذکور یعنی مال اور طعام کو ضمیر کا مرجع مانا جائے۔اور اس طرح ایک جگہ مال کی محبت کے باوجود اور دوسری جگہ طعام کی محبت کے باوجود ترجمہ کیا جائے، یہ مفہوم علی حبہ کے الفاظ سے میل بھی کھاتا ہے، اس صورت میں ضمیر کا مرجع بھی قریب ترین مذکور لفظ بن جاتا ہے۔ابو حیان کے الفاظ میں:

وَالظَّاھِرُ أَنَّ الضَّمِیرَ فِی حُبِّہِ عَائِدٌ عَلَی الْمَالِ لأَنَّہ أَقْرَبُ مَذکُوْرٍ، وَمِنْ قَوَاعِدِ النَّحْوِییّنَ أَنَّ الضَّمِیرَ لَایَعُودُ عَلَی غَیْرِ الأَقْرَبِ اِلَّا بِدَلِیلٍ۔۔۔۔وَقَوْلُ مَنْ أَعَادَہُ عَلَی اللَّہِ تَعَالَی أَبْعَدُ، لأَنَّہُ أَعَادَہُ عَلَی لَفْظٍ بَعیدٍ مَعَ حُسْنِ عَوْدِہِ عَلَی لَفْظٍ قَرِیب۔ (البحر المحیط فی التفسیر،۲؍۱۳۵)

یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ زبان کے قواعد کے لحاظ سے یہ غلط ہے کہ علی حبہ سے بیک وقت اللہ کی محبت اور مال کی محبت دونوں مراد لیا جائے۔

(۱) وَآتَی الْمَالَ عَلَی حُبِّہِ ذَوِیْ الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ وَالسَّآئِلِیْنَ وَفِیْ الرِّقَابِ۔ (البقرۃ: ۱۷۷)

’’اور مال دیتا ہو اللہ کی محبت میں رشتہ داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور (بے خرچ) مسافروں کو اور سوال کرنے والوں کو اور گردن چھڑانے میں ‘‘(اشرف علی تھانوی) 

اوپر مذکور ترجمے میں علی حبہ کا ترجمہ اللہ کی محبت میں کیا گیا ہے جو محل نظر ہے، جبکہ ذیل میں مذکور دونوں ترجموں میں غلطی یہ ہے کہ علی حبہ کا ترجمہ کرتے ہوئے مال کے دل پسند اور عزیز ہونے کو بھی ذکر کیا ہے اور اللہ کی محبت کا بھی تذکرہ کیا ہے، ایک ہی لفظ سے دونوں باتیں بیک وقت مراد لینا درست نہیں ہے، اس کے بجائے صرف دل پسند یا عزیز کہہ دینا درست ہوگا۔

’’اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر، مسکینوں اور مسافروں پر مدد کے لئے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے‘‘(سید مودودی)

’’اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھڑانے میں‘‘ (احمد رضا خان)

اس کے مقابلے میں ذیل کے دونوں ترجمے درست ہیں:

’’اور دیوے مال اس کی محبت پر ناتے والوں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور راہ کے مسافروں کو اور مانگنے والوں کو اور گردنیں چھڑانے میں ‘‘(شاہ عبد القادر)

’’اور اپنے مال، اس کی محبت کے باوجود، قرابت مندوں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، سائلوں اور گردنیں چھڑانے پر خرچ کریں‘‘ (امین احسن اصلاحی)

ضمنا یہاں یہ بات بھی ذکر کردینا مناسب ہے کہ ابن السبیل کا ترجمہ مسافر یا راہ کے مسافر کے بجائے راہ گیر کرنا زیاد ہ بہتر ہے۔راہ گیر وہ ہے جو راستہ طے کررہا ہو، جبکہ مسافر سفر کے دوران مقیم بھی ہوسکتا ہے اور حرکت میں بھی رہ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اردو محاورہ کی رو سے بھی راہ کے مسافر کے مقابلے میں راہ گیر زیادہ مناسب ہے۔

فارسی کے دو مشہور ترجموں میں علی حبہ کے دونوں طرح کے ترجمے الگ الگ ملتے ہیں:

’’وبدہد مال خود را بردوستی خدائے‘‘ (شیخ سعدی)

’’وبدہد مال باوجود دوست داشتن آں مال‘‘ (شاہ ولی اللہ)

علامہ ابن عاشور کا کہنا ہے کہ ضمیر کو تو لا محالہ مال کی طرف ہی لوٹنا چاہیے، البتہ مال کی محبت کے باوجود خرچ کرنے سے یہ مفہوم خود نکلتا ہے کہ اللہ کی خوشنودی پیش نظر ہے۔ 

وَالضَّمیرُ لِلْمَالِ لَا مَحَالَۃَ وَالْمُرَادُ أَنَّہُ یُعْطِی الْمَالَ مَعَ حُبّہِ لِلْمَالِ وَعَدَمِ زھَادَتِہِ فیِْہ فَیَدُلّْ عَلَی أَنَّہُ اِنَّمَا یُعْطیہِِ مَرْضَاۃً لِلَّہِ تَعَالَی وَلِذَلِکَ کَانَ فِعْلُہُ ھَذَا بِرّاً. (التحریر والتنویر، ۲؍۱۳۰)

(۲) وَیُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَی حُبِّہِ مِسْکِیْناً وَیَتِیْماً وَأَسِیْراً۔ (الانسان:۸)

’’اور وہ لوگ (محض) خدا کی محبت سے غریب اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں‘‘(اشرف علی تھانوی)

’’اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں ‘‘(سید مودودی) 

مذکورہ بالا دونوں ترجمے محل نظر ہیں، صاحب تفہیم اس آیت کی تفسیر میں دیگر اقوال ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’حضرت فضیل بن عیاض اور ابو سلیمان الدارانی کہتے ہیں کہ اللہ تعالی کی محبت میں وہ یہ کام کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک بعد کا فقرہ کہ اِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللہ ہم تو اللہ کی خوشنودی کی خاطر تمہیں کھلارہے ہیں۔ اسی معنی کی تائید کررہا ہے۔‘‘

لیکن یہ بات درست نہیں ہے، انما نطعمکم لوجہ اللہ مستقبل کے لیے ہے کہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہم ایسا کررہے ہیں، جبکہ علی حبہ سے اللہ کی محبت میں مراد لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ کی محبت ہونے کی وجہ سے یا محبت میں وہ یہ کام کرتے ہیں۔ غرض یہ کہ بعد کا فقرہ اس فقرہ کی تفسیر نہیں بن سکتا ہے۔ایک پہلو اور قابل غور ہے کہ علی حبہ کا مفہوم اس کی محبت کے باوجود لیں اور لوجہ اللہ  والے فقرے کو بھی سامنے رکھیں تو مفہوم یہ بنتا ہے کہ دل پسند کھانے وہ حاجت مندوں کو کھلاتے ہیں تاکہ اللہ کی خوشنودی حاصل کریں۔اس طرح کلام دو عظیم معنوں کا حامل ہوجاتا ہے۔

ایک اور نکتہ قابل غور ہے کہ قرآن مجید میں محبت کے ساتھ کسی عمل کو انجام دینے کا ذکر صرف تین مقامات پر ہے، اور وہ انفاق واطعام کے ساتھ ہے، خود ان دونوں آیتوں میں دین کے بہت سارے کام ذکر کیے گئے ہیں، لیکن علی حبہ کا ذکر صرف مال اور طعام کے ساتھ کیا گیا ہے، اگر اس لفظ کے ذکر سے اللہ کی محبت کی طرف اشارہ ہے تو وہ تو ہر عمل کے ساتھ مطلوب ہے، پھر اسے صرف مال اور طعام کے ساتھ خاص طور سے ذکر کرنے کی کیا وجہ ہے؟ اس سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ یہاں دراصل مال اور طعام کی محبت کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے ساتھ اگر لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّی تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران: ۹۲) والی آیت بھی سامنے رہے جس میں واضح طور سے خرچ کی جانے والی چیز کی محبت مراد ہے۔ تو بات اور مضبوط ہوجاتی ہے۔بہت خاص بات یہ ہے کہ ان تینوں مقامات پر بر کے حوالے سے گفتگو ہے، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ تینوں بیان ہم معنی ہیں۔

مذکورہ بالا گفتگو کی روشنی میں ذیل کے دونوں ترجمے درست ہیں، البتہ ’’محبت پر‘‘ لفظی ترجمہ ہے بامحاورہ ترجمہ ’’محبت کے باوجود‘‘ ہوگا :

’’اور کھلاتے ہیں کھانا اس کی محبت پر محتاج کو اور بن باپ کے لڑکے کو اور قیدی کو‘‘ (شاہ عبد القادر، اس ترجمہ میں لڑکے کا لفظ بھی محل نظر ہے، یتیم کا لفظ لڑکے اور لڑکی دونوں کے لئے آتا ہے، اس لئے مناسب ترجمہ لڑکے کے بجائے بچے ہوگا، کیونکہ بچے کہنے سے دونوں شامل ہوجاتے ہیں)

’’اور کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور اسیر کو ‘‘(احمد رضا خان)

بعض مترجمین نے علی حبہ کا ترجمہ حاجت اور احتیاج کیا ہے، جیسا کہ مذکورہ ذیل فارسی اور اردو کے ترجمہ میں ہے:

’’ومید ہند طعام باوجود احتیاج بآن فقیر را ویتیم را وزندانے را‘‘ (شاہ ولی اللہ دہلوی)

’’اور وہ مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے رہے ہیں، خود اس کے حاجت مند ہوتے ہوئے‘‘(امین احسن اصلاحی) دیکھنے کی بات یہ ہے کہ صاحب تدبر نے اوپر والی آیت میں علی حبہ کا ترجمہ محبت اور اس آیت میں حاجت مند ہونا ترجمہ کیا ہے۔

علی حبہ کا ترجمہ حاجت مند ہونا درست نہیں ہے، بلکہ اس کی محبت کے باوجود خواہ وہ محبت اپنی حاجت کی وجہ سے ہو یا خود کھانے کے لذیذ ہونے کی وجہ سے ہو۔

(۱۰۳) فوم کا ترجمہ

فَادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنبِتُ الأَرْضُ مِن بَقْلِہَا وَقِثَّآئِہَا وَفُومِہَا وَعَدَسِہَا وَبَصَلِہَا۔ (البقرۃ: ۶۱)

اس آیت میں لفظ فوم سے متعدد مفسرین ومترجمین نے گیہوں مراد لیا ہے، لیکن ائمہ لغت کی تحقیق اور توراۃ کے الفاظ سے ثابت ہوتا ہے کہ فوم کا مطلب لہسن ہے۔

بعض لوگوں نے فوم کے معنی بیک وقت گیہوں اور لہسن دونوں لیے ہیں، یہ لغت کے قواعد کے خلاف ہے، اگر ایک لفظ کے ایک سے زائد معنی ہوتے ہیں تو بیک وقت تمام معنی نہیں بلکہ کوئی ایک ہی معنی مراد ہوتا ہے۔

نیچے آیت مذکورہ کے کچھ ترجمے ذکر کیے جاتے ہیں:

’’اپنے رب سے دعا کرو کہ ہمارے لئے زمین کی پیداوار، ساگ، ترکاری، کھیرا، ککڑی، گیہوں، لہسن، پیاز، دال وغیرہ پیدا کرے‘‘ (سید مودودی)

اس ترجمہ میں کئی باتیں توجہ طلب ہیں، بقل کے معنی ساگ اور ترکاری میں سے کوئی ایک ہوں گے، اسی طرح قثاء کے معنی کھیرا اور ککڑی میں سے کوئی ایک ہوں گے، فوم کے معنی بھی بیک وقت گیہوں اور لہسن دونوں مراد لینا درست نہیں ہے۔ اس کے علاوہ الفاظ کی ترتیب کے لحاظ سے پیاز کا ذکر دال کے بعد ہونا چاہئے، جس طرح پہلے عدس اور بعد میں بصل آیا ہے۔

’’اپنے رب سے ہمارے لئے دعا کرو کہ وہ ہمارے لیے ان چیزوں میں سے نکالے جو زمین اگاتی ہے اپنی سبزیوں، ککڑیوں، لہسن، مسور اور پیاز میں سے‘‘ (امین احسن اصلاحی) اس ترجمہ میں زبان کا ایک اسلوب نظر انداز ہوگیا ہے، وہ یہ کہ من بقلھا میں ضمیر کی طرف اضافت نسبت بتانے کے لئے نہیں بلکہ معرفہ بنانے کے لئے ہے اس کا ترجمہ کرنا فصیح نہیں ہوگا، دوسرے یہ کہ من یہاں بیانیہ ہے تبعیض کا نہیں ہے، اسی طرح مما تنبت الأرض میں بھی من تبعیض کا نہیں ہے، بلکہ من ویسے ہی ہے جیسے یغفر لکم من ذنوبکم میں ہے۔ اس طرح صحیح ترجمہ یوں ہے: ’’اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کرو کہ وہ ہمارے لئے وہ چیزیں نکالے جو زمین اگاتی ہے، سبزیاں، ککڑیاں، لہسن، مسور اور پیاز‘‘ ۔

ذیل کے دونوں ترجموں میں باقی تمام امور کی رعایت موجود ہے، صرف ایک بات محل نظر ہے کہ فوم کا ترجمہ گیہوں کیا گیا ہے۔

’’لہٰذا اپنے رب سے دعا کیجئے کہ ہمارے لیے زمین کی پیداواریں ترکاری، ککڑی، گیہوں، مسور، پیاز (وغیرہ) ‘‘(صدر الدین اصلاحی)

’’اس لیے اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں زمین کی پیداوار ساگ ککڑی گیہوں مسور اور پیاز دے ‘‘(محمد جونا گڑھی) 

(جاری)

قرآن / علوم قرآن

نومبر ۲۰۱۶ء

جلد ۲۷ ۔ شمارہ ۱۱

پاک بھارت تعلقات اور اقبال و جناح کا زاویہ نظر / عرب ایران تنازع۔ تاریخی وتہذیبی تناظر اور ہوش مندی کی راہ / مولانا محمد بشیر سیالکوٹی ؒ کا انتقال
محمد عمار خان ناصر

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۲۴)
ڈاکٹر محی الدین غازی

فرقہ وارانہ اور مسلکی ہم آہنگی: علماء کے مختلف متفقہ نکات و سفارشات پر ایک نظر
ڈاکٹر محمد شہباز منج

اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب
مولانا محمد عیسٰی منصوری

شرق اوسط کی صورتحال اور ایران کا کردار
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا مفتی محمود کا اسلوبِ استدلال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

کیا خاندانی نظام ظلم ہے؟ مارکیٹ، سوسائٹی، غربت اور خاندان کا تحفظ
محمد زاہد صدیق مغل

فقہائے تابعین کی اہل حدیث اور اہل رائے میں تقسیم ۔ ایک تنقیدی جائزہ (۲)
مولانا سمیع اللہ سعدی

مکاتیب
ادارہ

طلبہ کی نفسیاتی، روحانی اور اخلاقی تربیت ۔ ایک فکری نشست کی روئیداد
مولانا حافظ عبد الغنی محمدی