اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۱)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(346) الرَّحْمَنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَی

تَنْزِیلًا مِمَّنْ خَلَقَ الْأَرْضَ وَالسَّمَاوَاتِ الْعُلَی۔ الرَّحْمَنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَی۔ (طہ: 4، 5)

”یہ نہایت اہتمام کے ساتھ اس ذات کی طرف سے اتارا گیا ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔ جو رحمان عرش حکومت پر متمکن ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

اس ترجمے میں ’جو رحمان‘ درست نہیں ہے۔ یا تو کہیں ’جو رحمان ہے‘، یا کہیں ’رحمان جو۔۔۔‘ کیوں کہ رحمان تو صرف خدا کی ذات ہے، ایک سے زیادہ رحمان تو ہیں نہیں۔ یہاں خالق کی صفت بتائی گئی ہے کہ وہ رحمن ہے اور دوسری صفت یہ بتائی گئی کہ وہ عرش پر متمکن ہے۔

”رحمان، جو عرش حکومت پر متمکن ہے“۔(امانت اللہ اصلاحی)

”جو رحمٰن ہے، عرش پر قائم ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

(347)  أَکَادُ أُخْفِیہَا کا ترجمہ

إِنَّ السَّاعةَ آتِیةٌ أَکَادُ أُخْفِیہَا لِتُجْزَی کُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَی۔ (طہ: 15)

اس آیت میں أَکَادُ أُخْفِیہَا کا مختلف طرح سے ترجمہ کیا گیا ہے، بعض لوگوں نے فعل مقاربہ کا ترجمہ کیا ہے، جیسے:

”تحقیق قیامت آنے والی ہے نزدیک ہے کہ چھپا ڈالوں میں اس کو تو کہ بدلہ دیا جاوے ہر جی ساتھ اس چیز کے کہ کرتا ہے“۔ (شاہ رفیع الدین)

”بیشک قیامت آنے والی ہے قریب تھا کہ میں اسے سب سے چھپاؤں کہ ہر جان اپنی کوشش کا بدلہ پائے“۔ (احمد رضا خان، أَکَادُ مضارع ہے اور ماضی کا ترجمہ کیا ہے جو درست نہیں ہے)

زمانی مقاربہ کا ترجمہ کرنے میں اشکال یہ ہے کہ اس سے مطلب واضح نہیں ہوتا۔ کیوں کہ قیامت کو تو اللہ نے واقعی مخفی رکھا ہوا ہے پھر یہ کہنے کا کیا مدعا ہے، کہ قریب ہے کہ میں اسے چھپاؤں؟ آیت کا اسلوب بتارہا ہے کہ یہاں زمانی مقاربہ مراد نہیں ہے۔

بہت سے لوگوں نے أَکَادُ أُخْفِیہَا کا ترجمہ کیا ہے ’میں مخفی رکھنا چاہتا ہوں‘، جیسے:

”قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے میں اُس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں، تاکہ ہر متنفّس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے“۔ (سید مودودی)

”قیامت یقینا آنے والی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس (کے وقت) کو پوشیدہ رکھوں تاکہ ہر شخص جو کوشش کرے اس کا بدلا پائے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”قیامت یقینا آنے والی ہے جسے میں پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو وہ بدلہ دیا جائے جو اس نے کوشش کی ہو“۔ (محمد جوناگڑھی)

یہاں مشکل یہ ہے کہ أَکَادُ کے معنی أرید نہیں آتے ہیں، بعض مفسرین نے یہ معنی ذکر کیے ہیں، لیکن اس کی پشت پر مضبوط دلیل نہیں ملتی ہے۔ جو مثالیں ذکر کی گئی ہیں  وہ اس سلسلے میں صریح نہیں ہیں۔

بعض لوگوں نے أَکَادُ کو زائد برائے تاکید مان کر ترجمہ کیا ہے (قدیم مفسرین نے اس کی گنجائش بھی ذکر کی ہے)، جیسے:

”قیامت مقرر آنی ہے میں چھپا رکھتا ہوں اس کو کہ بدلا ملے ہر جی کو جو وہ کماتا ہے“۔ (شاہ عبدالقادر)

”بے شک قیامت شدنی ہے۔ میں اس کو چھپائے ہی رکھوں گا تاکہ ہر جان کو اس کے عمل کا بدلہ دیا جائے“۔ (امین احسن اصلاحی)

مفہوم کے لحاظ سے یہ ترجمہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔

جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، مقاربہ کا زمانی مفہوم یہاں موزوں معلوم نہیں ہوتا۔ البتہ مقاربہ کا ایک اور مفہوم یہاں مراد ہوسکتا ہے اور وہ اس فعل کا ممکن ہونا ہے۔ جو چیز ممکن ہوتی ہے وہ بھی ایک طرح سے قریب ہوتی ہے، زمانی لحاظ سے نہیں مگر امکانی لحاظ سے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کا درج ذیل ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:  

”قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے، عین ممکن ہے کہ میں اسے مخفی رکھوں، تاکہ ہر متنفّس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے“۔

اس ترجمے کی خوب صورتی واضح طور سے محسوس کی جاسکتی ہے۔

(348)  أَتَوَکَّأُ عَلَیْہَا

قَالَ ہِیَ عَصَایَ أَتَوَکَّأُ عَلَیْہَا۔ (طہ: 18)

”موسیٰؑ نے جواب دیا یہ میری لاٹھی ہے، اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں“۔ (سید مودودی)

”بولا یہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیکتا ہوں“۔ (شاہ عبدالقادر)

”انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے۔ اس پر میں سہارا لگاتا ہوں“۔ (فتح محمد جالندھری)

پہلے ترجمے میں ایک کمزوری یہ ہے کہ أَتَوَکَّأُ عَلَیْہَا کا ترجمہ کیا ہے ’اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں‘۔ ایک تو حضرت موسی اس وقت بوڑھے نہیں تھے کہ لاٹھی پر ٹیک لگاکر چلیں۔ دوسری بات یہ کہ اس ترجمے سے لاٹھی کا محض ایک استعمال سامنے آتا ہے، جب کہ ’ٹیک لگاتا ہوں‘ اگر ترجمہ کریں، جیسا کہ دوسروں نے کیا ہے تو ٹیک لگانے کی تمام صورتیں شامل ہوجائیں گی۔ چلنا بھی اور کھڑے ہونا بھی۔

(349) وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْکَ مَرَّۃً أُخْرَی

وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْکَ مَرَّۃً أُخْرَی۔ (طہ: 37)

”اور احسان کیا ہے ہم نے تجھ پر ایک بار“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اور ہم نے تم پر ایک بار اور بھی احسان کیا تھا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”ہم نے تو تجھ پر ایک بار اور بھی بڑا احسان کیا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”ہم نے پھر ایک مرتبہ تجھ پر احسان کیا“۔ (سید مودودی)

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہاں جس احسان کا تذکرہ ہے وہ کون سا احسان ہے، وہ احسان جو اَب کیا ہے، یا وہ احسان جو پہلے کیا تھا؟

سیاق کلام صاف بتارہا ہے کہ یہ ماضی میں کیے گئے احسان کا ذکر ہے۔ پہلے فرمایا: قَالَ قَدْ أُوتِیتَ سُؤْلَکَ یَامُوسَی۔ (طہ: 36)  اے موسی تم نے جو مانگا تمھیں دے دیا گیا۔ اس کے بعد وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْکَ مَرَّۃً أُخْرَی (طہ: 37)  کہہ کرماضی کا احسان یاد دلایا، اس جملے کو واو سے شروع کیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے احسان کی بات ہے۔ پھر إِذْ سے جملہ شروع کرکے اس احسان کی تفصیل ذکر کی، اگر یہ اس کی تفصیل نہ ہوتی تو یہاں إِذْ سے پہلے واو آتا: إِذْ أَوْحَیْنَا إِلَی أُمِّکَ مَا یُوحَی (طہ: 38)

(351) صنع کا ترجمہ

صنع کا جامع معنی تو ’کرنا‘ہے، ’بنانا‘ بھی اس کا ایک معنی ہے کیوں کہ وہ بھی انسانی فعل کی ایک قسم ہے۔

راغب أصفہانی نے فعل اور صنع کے درمیان لطیف فرق بیان کیا ہے:

الصنع إجادۃ الفعل، فکل صنع فعل ولیس کل فعل صنعا، ولا ینسب إلی الحیوانات والجمادات کما ینسب إلیہا الفعل۔ (المفردات)

غرض صنع کا مطلب کرنا اور بنانا دونوں ہے، ایسے میں سیاق کلام کی روشنی میں مناسب مفہوم متعین کرنا ہوتا ہے۔

ترجمہ کرتے ہوئے بعض مقامات پر اس پہلو کی رعایت نہیں ہوسکی ہے۔

درج ذیل تمام مقامات پر صنع کا مطلب کرنا ہے، بنانا یا تیار کرنا نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے یکساں تعبیروں کے الگ الگ ترجمے کیے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس نکتے کی رعایت نہیں کرسکے۔ بنانے اور کرنے میں فرق یہ ہے کہ بنانا کرنے کے مقابلے میں زیادہ محدود ہے، جب ہم ’کرنا‘ترجمہ کرتے ہیں تو وسیع تر معنی سامنے آتا ہے۔ بعض انگریزی تراجم میں بھی یہ غلطی نظر آتی ہے، جیسا کہ ذیل میں مثالیں ہیں۔ designs، contrive، handiwork جیسے الفاظ صنع کے مفہوم کو محدود کردیتے ہیں۔ deeds اور اس کے ہم معنی الفاظ زیادہ مناسب ہیں۔

(۱) وَأَلْقِ مَا فِی یَمِینِکَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا إِنَّمَا صَنَعُوا کَیْدُ سَاحِرٍ۔ (طہ: 69)

”اور ڈال جو تیرے داہنے ہاتھ میں ہے کہ نگل جاوے جو انھوں نے بنایا ان کا بنایا تو فریب ہے“۔ (شاہ عبدالقادر)

”پھینک جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے، ابھی اِن کی ساری بناوٹی چیزوں کو نگلے جاتا ہے یہ جو کچھ بنا کر لائے ہیں یہ تو جادوگر کا فریب ہے“۔ (سید مودودی)

”اور ڈال تو دے جو تیرے داہنے ہاتھ میں ہے اور ان کی بناوٹوں کو نگل جائے گا، وہ جو بناکر لائے ہیں وہ تو جادوگر کا فریب ہے“۔ (احمد رضا خان)

”اور جو چیز (یعنی لاٹھی) تمہارے داہنے ہاتھ میں ہے اسے ڈال دو کہ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے اس کو نگل جائے گی۔ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے (یہ تو) جادوگروں کے ہتھکنڈے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور تیرے دائیں ہاتھ میں جو ہے اسے ڈال دے کہ ان کی تمام کاریگری کووہ نگل جائے، انہوں نے جو کچھ بنایا ہے یہ صرف جادوگروں کے کرتب ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

قابل غور بات یہ ہے کہ وہ کچھ بناکر نہیں لائے تھے، اور نہ وہیں انھوں نے کچھ بنایا تھا۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی إِنَّمَا صَنَعُوا کَیْدُ سَاحِرٍ کا ترجمہ کرتے ہیں:

”جوکچھ انھوں نے کیا ہے یہ تو جادوگر کا کرتب ہے۔“

(۲) وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِیہَا وَبَاطِلٌ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ۔ (ہود: 16)

”اور مٹ گیا جو کیا تھا اس جگہ اور خراب ہوا جو کماتے تھے“۔ (شاہ عبد القادر)

”(وہاں معلوم ہو جائے گا کہ) جو کچھ انہوں نے دنیا میں بنایا وہ سب ملیامیٹ ہو گیا اور اب ان کا سارا کیا دھرا محض باطل ہے“۔ (سید مودودی، دنیا میں بنایا نہیں بلکہ کیا)

”اور اکارت گیا جو کچھ وہاں کرتے تھے اور نابود ہوئے جو ان کے عمل تھے“۔ (احمد رضا خان)

Vain are the designs they frame therein, (Yusuf Ali)
Their deeds in the world have come to naught (Maududi)

اردو میں بنایا ہے انگریزی میں deeds  کردیاہے، انگریزی والا درست ہے۔

(All) that they contrive here is vain (Pickthall)

(۳) وَلَذِکْرُ اللَّہِ أَکْبَرُ وَاللَّہُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ۔ (العنکبوت: 45)

”اور اللہ کا ذکر اس سے بھی زیادہ بڑی چیز ہے اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کرتے ہو“۔ (سید مودودی)

”اور اللہ جانتا ہے جو کچھ کرتے ہو تم“۔ (شاہ رفیع الدین)

(۴) وَسَوْفَ یُنَبِّئُہُمُ اللَّہُ بِمَا کَانُوا یَصْنَعُونَ۔ (المائدۃ: 14)

”اور آخر جتادے گا ان کو اللہ جو کچھ کرتے تھے“۔(شاہ عبدالقادر)

”اور جو کچھ وہ کرتے رہے خدا عنقریب ان کو اس سے آگاہ کرے گا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور ضرور ایک وقت آئے گا جب اللہ انہیں بتائے گا کہ وہ دنیا میں کیا بناتے رہے ہیں“۔ (سید مودودی، کرتے رہے نہ کہ بناتے رہے)

And ultimately Allah will tell them what they had contrived (Maududi)
Allah will inform them of their handiwork. (Pickthall)

(۵) وَضَرَبَ اللَّہُ مَثَلًا قَرْیَةً کَانَتْ آمِنَةً مُطْمَئِنَّةً یَأْتِیہَا رِزْقُہَا رَغَدًا مِنْ کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّہِ فَأَذَاقَہَا اللَّہُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا کَانُوا یَصْنَعُونَ۔ (النحل: 112)

”اللہ ایک بستی کی مثال دیتا ہے وہ امن و اطمینان کی زندگی بسر کر رہی تھی اور ہر طرف سے اس کو بفراغت رزق پہنچ رہا تھا کہ اُس نے اللہ کی نعمتوں کا کفران شروع کر دیا تب اللہ نے اس کے باشندوں کو اُن کے کرتوتوں کا یہ مزا چکھایا کہ بھوک اور خوف کی مصیبتیں ان پر چھا گئیں“۔ (سید مودودی)

(۶) لَبِئْسَ مَا کَانُوا یَصْنَعُونَ۔ (المائدۃ: 63)

”یقینا بہت ہی برا کارنامہ زندگی ہے جو وہ تیار کر رہے ہیں“۔ (سید مودودی، تیار کرنا موزوں نہیں ہے)

”بے شک برا کام ہے جو یہ کر رہے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”کیا برے عمل ہیں جو کررہے ہیں“۔ (شاہ عبدالقادر)

”واقعی ان کی یہ عادت بری ہے“۔ (اشرف علی تھانوی، عادت ترجمہ کرنا درست نہیں ہے)

Indeed they have been contriving evil. (Maududi)
Verily evil is their handiwork (Pickthall)

(۶) قُلْ لِلْمُؤْمِنِینَ یَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوا فُرُوجَہُمْ ذَلِکَ أَزْکَی لَہُمْ إِنَّ اللَّہَ خَبِیرٌ بِمَا یَصْنَعُونَ۔ (النور: 30)

”اے نبیؐ، مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ اُن کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اُس سے باخبر رہتا ہے“۔ (سید مودودی)

”اللہ کو خبر ہے جو کرتے ہیں“۔ (شاہ عبدالقادر)

(۷) إِنَّ اللَّہَ عَلِیمٌ بِمَا یَصْنَعُونَ۔ (فاطر: 8)

”جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اُس کو خوب جانتا ہے“۔ (سید مودودی)

”اللہ کو معلوم ہے جو کرتے ہیں“۔ (شاہ عبدالقادر)

(352) أَیُّنَا أَشَدُّ عَذَابًا وَأَبْقَی

وَلَتَعْلَمُنَّ أَیُّنَا أَشَدُّ عَذَابًا وَأَبْقَی۔ (طہ: 71)

اس جملے میں دو تعبیریں غور طلب ہیں، ایک ہے أَیُّنَا أَشَدُّ عَذَابًا، اور دوسری ہے أَبْقَی۔ أَیُّنَا أَشَدُّ عَذَابًا کا مطلب یہ ہے کہ فرعون اور موسی کے رب میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت ہے۔ کیوں کہ موسی خود عذاب دینے کے دعوے دار تو تھے نہیں، وہ تو اللہ کے عذاب سے ڈرا رہے تھے جب کہ دوسری طرف فرعون خود عذاب دینے کا دعوے دار تھا۔ اس لیے جملے کا یہ مطلب درست نہیں ہوگا کہ موسی اور فرعون میں سے کون زیادہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ درست مطلب یہ ہوگا کہ اللہ اور فرعون میں سے کون زیادہ سخت عذاب دینے والا ہے۔

اس آیت میں أَبْقَی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ اور فرعون میں سے کون زیادہ دیر تک باقی رہنے والا ہے، کیوں کہ یہ مسئلہ نہ تو زیر بحث تھا اور نہ ہی اسے ثابت کیا جاسکتا تھا۔ یہ تو فرعون کی طرف سے دھمکی تھی کہ اس کا عذاب بہت سخت اور دیرپا ہوگا۔ یہاں أَبْقَی معطوف ہے أَشَدُّ عَذَابًا پر۔ گویا أَیُّنَا أَشَدُّ عَذَابًا کی طرح أَیُّنَا أَبْقَی عَذَابًا ہے۔

اس وضاحت کی روشنی میں درج ذیل ترجمے دیکھیں:

”پھر تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم دونوں میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیر پا ہے (یعنی میں تمہیں زیادہ سخت سزا دے سکتا ہوں یا موسیٰؑ)“۔ (سید مودودی، موسی نہیں بلکہ موسی کا رب مراد ہے)

”پھر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ ہم (دونوں) میں اور موسیٰ میں سے کس کا عذاب سخت اور دیرپا ہے؟“۔ (محمد حسین نجفی)

”اور ضرور تم جان جاؤ گے کہ ہم میں کس کا عذاب سخت اور دیرپا ہے“۔ (احمد رضا خان)

”اور تمہیں خوب معلوم ہوجائے گا کہ زیادہ سخت عذاب کرنے والا اور دیر تک رہنے والا کون ہے“۔ (ذیشان جوادی، یہاں عذاب کے دیرپا ہونے کی بات ہے)

”اور البتہ جانو گے تم کون سا ہم میں سے اشد ہے عذاب میں اور بہت باقی رہنے والا ہے“۔ (شاہ رفیع الدین، أبقی کا ترجمہ درست نہیں ہے)

”اور جان لوگے ہم میں کس کی مار سخت ہے اور دیر تک رہتی ہے“۔(شاہ عبدالقادر)


قرآن / علوم قرآن

(اگست ۲۰۲۲ء)

تلاش کریں

Flag Counter